مضامین

جمعیت کا تعلیمی طریقہ

محمد یاسین جہازی 9891737350

بچوں کی تعلیم، نصاب، تدریسی اصول اور نفسیات کے حوالے سے کئی مفکرین نے تخلیقی و تجدیدی کارنامے انجام دیے ہیں۔ ابرہم میسلوAbraham Maslow، پیاجےJean Piaget، وائے گوسکی Lev Vygotsky، کول برگ Lawrence Kohlberg، نوم چومسکی Noam Chomsky، بلوم ٹیکسونومی Bloom’s taxonomy، وین ہیلی Van Hiele، برونر Jerome Bruner، تھورناڈائیک Edward Thorndike، اسیکنر B. F. Skinner، جون ڈوئی John Dewey، گارڈنر Howard Gardner، یوری برونر Urie Bronfenbrenner ، جے بی واٹسنJohn B. Watson ، ای رکسن Erikson، پاؤلو Ivan Pavlov، سگمن فرائڈ Sigmund Freud، ویلیم اسٹرن William Stern، گیسٹالٹ Gestalt، کولہر
Kohler، بنڈورا Albert Bandura، اسپرمین Charles Spearman ، تھرسٹن Thurstone، گل فرڈ J. P. Guilford، جنگ Carl Jung، گاندھی جی Mahatma Gandhi ، ارسطو Aristotle اور ان جیسے دیگر ایسے ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم ہیں، جن کی نظریات پر آج تقریبا پوری دنیا میں تعلیمی نظام قائم ہے۔ اگر کوئی ادارہ ان نظریات سے محروم ہے، تو مدارس اسلامیہ ہیں، جہاں تعلیم و نفسیات کے کسی نظریہ کے رد و قبول کا کوئی نمونہ نظر نہیں آتا۔ اسی طرح دنیائے اسلام میں اس حوالے سے کوئی مفکر تلاش کرتے ہیں، تو ناچیز کی ناقص معلومات کے مطابق کوئی نام سامنے نہیں آتا۔ البتہ یہ کسی قدر خوش آئند بات ہے کہ بچوں کی اردو کی تعلیم کے حوالے سے مولوی محمد اسماعیل خاں میرٹھی ؒ اور بچوں کی بنیادی دینی تعلیم و نفسیات اور نصاب کے حوالے سے سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندیؒ کا نام نمایاں نظر آتا ہے۔
ذیل کی سطروں میں سید الملت نور اللہ مرقدہ کے تعلیمی نظریات، تدریسی اصول، نصابی کتاب اور تعلیمی نظام کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: