اہم خبریں

جمعیت کا ممبر کیسے بنیں ……؟

محمد یاسین جہازی

بھارت میں بے شمار مذاہب، ایک مذہب میں کئی کئی فرقے، فرقوں میں مختلف مسالک، اسی طرح زبان کی تنوع اورکلچر کی رنگا رنگی کی بنیاد پر اتحاد کا کوئی مرکزی پوائنٹ موجود نہیں ہے؛ البتہ اس سلسلے میں مسلمانوں کے لیے ملی اعتبار سے اتحاد قائم کرنے کے لیے ”جمعیت علمائے ہند“ ایک موزوں پلیٹ فارم ہے، کیوں کہ یہ ماضی میں سبھی مسلکوں کی نمائندہ تنظیم رہ چکی ہے اور آج بھی یہ مسلک و مشرب کے اختلاف سے بے نیاز ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی یہ سنہری تاریخ اور حالیہ روشن کردارہمارے اس سوال کا فیصلہ کن جواب ہے کہ ’ہم جمعیت کا ممبر کیوں بنیں‘ اور یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم مسلکی تحفظات سے اوپر اٹھ کراس کا ممبر بنیں اور بھارت میں ملی تشخصات کے تحفظ اور مسلمانوں کے حقوق کی بحالی کے لیے اس کے وسیع نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں۔
جمعیت کی ممبری اہلیت
جمعیت کے دستور کی دفعہ (11) میں اس کے ممبر بننے کی اہلیت کو بیان کیا گیا ہے، جس کے مطابق اس کے لیے پانچ شرطیں ہیں:
(1)مسلمان ہو، غیر مسلم نہ ہو۔
(2) عاقل ہو، پاگل و مجنون نہ ہو۔
(3) بالغ ہو، بچہ اوربے شعور نہ ہو۔
(4)جمعیت کے مقاصد و اغراض سے اتفاق رکھتا ہو۔
(5) ممبری فارم پر دستخظ کرے، جو اس کی رضامندی کی علامت ہوگی۔
ممبر بننے کا طریقہ
جمعیت کا ممبر بننے کاطریقہ بالکل آسان ہے۔اگر آپ کے علاقے میں مقامی جمعیت موجود ہے، تو اس کے ذمہ دار سے رابطہ کریں۔ مقامی ذمہ دار نہیں ہے، تو ضلعی جمعیت سے رابطہ کریں اور ان سے کہیں کہ آپ ہمیں جمعیت کا ممبر بنائیں۔چنانچہ وہ آپ کو جمعیت کا ممبر بنانے کے عہد بند ہیں۔ ممبر بناتے وقت وہ آپ کانام و پتہ پوچھیں گے، کچھ ضروری معلومات کے ساتھ ایک ممبری رسید بنائیں گے اور اس کے عوض آپ کو ابتدائی ممبری فیس دس روپے ادا کرنا ہوگا۔ رسید کی ایک کاپی آپ کو دی جائے گی، جب کہ اس کی دوسری کاپی مرکزی جمعیت کے لیے محفوظ کرلی جائے گی۔
یاد رکھیے جمعیت علمائے ہند کا ممبری بننے کی آخری تاریخ 31/ دسمبر 2019ہے۔ اس کے بعد آپ ممبر نہیں بن سکتے۔ یہاں ایک بات عرض کرتا چلوں کہ جب سے ناچیز نے اس ممبر سازی کی مہم چھیڑی ہے، تبھی سے سوشل میڈیا کے توسط سے ممبر بننے والے افراد کی یہ شکایت رہی ہے کہ ابھی تک رسید ہی نہیں آئی ہے، تو کیسے ممبر بنیں یا بنائیں، تو اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ مرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند سے ملی پختہ جان کاری کے مطابق اس مرتبہ یہ طے کیا گیا ہے کہ ریاستی جمعیت خود رسید چھپواکر اپنے ذمہ داران تک پہنچائیں گے، تو اگر آپ ابتدائی ممبر بننا چاہتے ہیں، تو اپنے ضلعی ذمہ داران سے رابطہ کر کے رسید کا مطالبہ کریں۔ اور اگر آپ ضلعی ذمہ دار ہیں، تو اپنے ریاستی صدور و نظما سے رابطہ کرکے رسید بھیجنے کی گذارش کریں، کیوں کہ یہ آپ کا بنیادی حق ہے۔ اسی طرح ریاستی ذمہ داران سے ناچیز گذارش کرتا ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کی بڑی تعداد جمعیت کا ممبر بننے کی آرزو مند ہے، تو آپ جلد از جلد رسید چھپواکر ضلعی و مقامی ذمہ داران تک پہنچائیں، تاکہ لوگ آسانی سے جمعیت کا ممبر بن سکیں اور ملی اتحاد کے سمت میں ایک انقلابی دور کا آغاز ہوجائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد پیدا کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔ آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: