اہم خبریں

جمعیت کا 34 واں اجلاس عام اور ہمارا اور آپ کا فرض منصبی

محمد یاسین جہازی 9891737350


جمعیت کا 34 واں اجلاس عام اور ہمارا اور آپ کا فرض منصبی
محمد یاسین جہازی
9891737350
اگر یہ سوال کیا جائے کہ دنیا میں سب سے طاقت ور چیز کیا ہے؟ تو ہرشخص کے مبلغ فکر کے اعتبار سے جوابات مختلف ہوسکتے ہیں؛ لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا کی سب سے مضبوط ترین چیز ہے : انسان کا نظریہ اور اس کا عقیدہ ؛ کیوں کہ یہ نظریہ ہی ہوتا ہے، جو انسان کو اس کی غلامی کااحساس دلاکر اس سے آزادی کے لیے لڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ نظریہ ہی ہوتا ہے، جو اسے اچھا عمل یا برا عمل کرنے پر آمادہ ہے۔نظریہ ایسا طاقت ور ہتھیار ہوتا ہے، جسے کبھی فنا نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ اس کا تعلق براہ راست روح سے ہوتا ہے اور جسم فنا ہوتا ہے ؛ لیکن روح نہیں۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو اکبر الٰہ آبادی یوں بیان کرگئے ہیں کہ
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
جمعیت: جماعت اور اجتماعیت کا مرادف ہے۔ اور صرف لفظی نہیں؛ بلکہ اس کا عملی کردار بھی اس سے مختلف نہیں ہے، جس کی صراحت جمعیت علمائے ہند کے دستور اساسی کی دفعہ 74 میں موجود ہے۔ اس دفعہ کے مطابق جمعیت علمائے ہند چار طرح کے اجتماع و اجلاس کرتی ہے: 1۔اجلاس عام۔2۔اجلاس مجلس منتظمہ۔ 3۔اجلاس مجلس عاملہ۔4۔مجلس قائمہ، یا سب کمیٹی کے جلسے۔
مجلس عاملہ مجلس شوریٰ ہوتی ہے، جس میں ملک و ملت کے سلگتے اور اہم مسائل پر مختلف شعبہ ہائے حیات کے ماہرین پر مشتمل افراد باہمی بحث و گفتگو کرتے ہیں اور کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مرکزی جمعیت کی مجلس منتظمہ میں پورے ملک کی سبھی ریاستوں کی مجالس منتظمہ کے ایک تہائی ارکان ہوتے ہیں ۔ مجلس عاملہ کے لیے گئے فیصلوں کو مجلس منتظمہ میں پیش کیا جاتا ہے، جن کی ترمیم وتائید کے بعد جمعیت اپنے کھلے اجلاس یعنی’’ اجلاس عام‘‘ میں پیش کرتی ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ جمعیت نے ان اجلاسوں میں، ملک و ملت کو درپیش مسائل و حالات کے مطابق ایسی ایسی تجاویزپاس کی ہیں اور ایسے ایسے فیصلےلیے ہیں، جن سے انقلاب کی تاریخیں رقم ہوئی ہیں۔
10؍فروری 2023 ء کو مجلس عاملہ کا،11؍ فروری 2023ء کو مجلس منتظمہ کا اور 12؍ فروری2023ء کو 34واں اجلاس عام ہونے جارہا ہے۔
چوں کہ اس حقیقت سے آپ بہ خوبی واقف ہیں کہ نظریہ سازی اور فکری رہ نمائی سب سے بڑا انقلاب ہوتی ہے، جس کے اثرات نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں، جمعیت اپنے اس 34ویں اجلاس عام کے ذریعہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر امت مسلمہ کے سامنے ایسے نظریے اور فکری رہ نمائیاں پیش کرنے جارہی ہے،جن سے ملت مسلمہ کو حالات کے کاؤنٹر کرنے اور ناگفتہ بہ حالات میں مایوس اور گھبرانے کے بجائے عزم و حوصلے کے ساتھ جینے اور ظالم و جابر حکمراں کے سامنے اپنے زندہ قوم ہونے کے عملی مظاہر پیش کرنے کے سامان بہم پہنچیں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس لیے ہمارا وطنی فریضہ ہے کہ ہر ملی تنظیموں کی آواز پر اور سردست جمعیت علمائے ہند کی اس آواز پرہمیں لبیک کہتے ہوئے جمہوریت اور امن و سلامتی کے دشمنوں اور نفرت و عداوت کے پجاریوں کو یہ بتادیں کہ ہم ’’مسلمان‘‘ ہیں اور’’ زندہ‘‘ ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close