اہم خبریں

جمعیت کے وکیل نے این پی آراورسی اے اے پر فوری عمل درآمد کو موخرکرنے کی اپیل کی

سپریم کورٹ نے سی اے اے پر دستوری بینچ تشکیل دینے کو قبول کیا

جمعیۃ علماہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی طرف سے راجیو دھون نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ معاملہ دستوری بنچ کے حوالے کیا جائے اور این پی آر، سی اے اے پر فوری عمل درآمد کو موخر کیا جائے
عدالت نے دستوری بنچ تشکیل دینے کو قبول کیا
موخر کرنے پر فی الحال فیصلہ نہیں

نئی دہلی۔22/جنوری 2020
شہریت ترمیمی ایکٹ، این آرسی اور این پی آر جیسے اہم معاملات پر جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی سمیت سو سے زائد کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ نے مرکزسے چار ہفتے کے اندر جواب طلب کیا ہے،چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس عبدالنظیر اور سنجیو کھناکی بنچ نے سبھی فریقوں کی عرضیوں کی سماعت کے بعد یہ حکم جاری کیا۔عدالت میں بدھ کی صبح ہی ان معاملات کی سماعت شروع ہوئی، اہم فریق جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی کی طرف سے سینئر وکیل راجیو دھو ن نے اپنا موقف رکھا۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ یہ معاملہ دستوری بنچ کے حوالے کیا جائے اور این پی آر، سی اے اے پر فوری عمل درآمد کو موخر کیا جائے کیوں کہ ان سے جو نتائج برآمد ہوں گے ان کو قانوناً بدلا نہیں جا سکے گا۔ بعض وکیلوں کی طرف سے عدالت سے یہ درخواست کی گئی کہ بالخصوص شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے تحت اقدامات کو عارضی طور پر تین ماہ کے لیے ملتوی کردیا جائے۔ لیکن عدالت نے اسے منظور کرنے سے معذرت ظاہر کی، چیف جسٹس نے اس سلسلے میں کہا کہ تا حال تمام عرضیوں پر مرکز کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے، اس لیے یک طرفہ آرڈ ر جاری نہیں کیا جاسکتا۔

دستوری بنچ میں ریفر کیے جانے سے متعلق عدالت نے وضاحت کی کہ دستور بنچ تشکیل نہیں پائی ہے، اس لیے سردست ریفر کرنے کا کوئی سوال نہیں ہوسکتا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو اسے ریفر کیا جاسکتا ہے۔ان چار ہفتوں میں دستور ی بنچ تشکیل دی جاسکتی ہے، اس کے بعد عارضی طور پر این آرپی کو موخر کیے جانے کی عرضیوں پر دستوری بنچ میں ہی فیصلہ ہو گا۔

مزید یہ کہ عدالت نے تمام ہائی کورٹس پر روک لگادی ہے کہ وہ اس سلسلے کی کوئی سماعت نہ کرے، ایسی جو بھی عرضیاں آئیں ان کو سپریم کورٹ بھیج دیا جائے۔ساتھی ہی عدالت نے عرضیوں کی بہتات کا بھی نوٹس لیا اور آسانی کے لیے ان کو تین کٹیگریوں میں الگ الگ کرنے کا حکم دیا:(۱) آسام اور تری پورہ سے متعلق (۲) سی اے اے متعلق (۳) خالص این پی آر سے متعلق۔ عدالت نے اس پر بات بھی اتفاق کیا کہ آسام اور تری پورسے متعلق عرضیوں پر الگ سے سماعت ہوگی۔

عدالت کی آج کی کارروائی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مولانا محمو د مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء ہند نے کہا کہ ہماری جماعت نے 16/دسمبر 2019کو اپنی عرضی داخل کی تھی جس میں بنیادی طور سے سی اے اے کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی تھی کیوں کہ یہ ایکٹ دستور ہند کی دفعہ (14)اور(21) کے منافی ہے:اس ایکٹ میں ’غیر قانونی مہاجر‘ کی تعریف میں مذہب کی بنیاد پر تفریق برتی گئی ہے اور اس کا اطلاق صرف مسلمانوں پر کیا گیا ہے جب کہ ہندو، سکھ، بدھشٹ، جین اور پارسی کو ’غیر قانونی مہاجر‘ کے دائرہ سے خارج کردیا گیا ہے، نیزاین آرسی کے نفاذ کے تناظر میں یہ ایکٹ مسلمانوں کے ساتھ بڑی عصبیت اور امتیاز کا موجب ہو گا۔واضح ہو کہ مولانا مدنی نے اپنی طرف سے سینئر وکیل راجیو دھون کی خدمت حاصل کی ہے، جب کہ آج عدالت میں ان کے علاوہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ شکیل احمد سید، ایڈوکیٹ نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند) ایڈوکیٹ دانش سید، ایڈوکیٹ پرویز دباس اور ایڈوکیٹ عظمی جمیل بھی حاضر رہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: