اہم خبریں

جمعیۃ علماء ضلع گڈا کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

قاری عثمان صاحب رح کا انتقال ملک و ملت کے لئے ایک عظیم سانحہ

گڈا جھارکھنڈ

جمعیۃ علماء ضلع گڈا کے زیر اہتمام ایک تعزیتی نشست جامعہ حسنیہ ملکی ہنوارہ کی مسجد میں 6جون کو دس بجے دن منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا عبدالعزیز صاحب قاسمی نے فرمائی اور نظامت کے فرائض مفتی سفیان ظفر قاسمی نے انجام دیئے، پرو گرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس مولانا عبدالعزیز العزیز صاحب قاسمی مہتمم جامعہ حسنیہ ملکی نے فرمایا کہ امیر الہند، صدر جمعیۃ علماء ہند، دار العلوم دیوبند کے کار گزار مہتمم اور سینکڑوں اداروں کے سر پرست حضرت مولانا سید محمد عثمان منصور پوری رحمہ اللہ کا انتقال ملک و ملت کے لئے عظیم سانحہ ہے، وہ بڑی شخصیت کے مالک تھے، اپنے کمالات، امتیازات، عظیم خدمات اور اہم اداروں کے سربراہ ہونے کے با وجود ان کے اندر تواضع اور انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، حضرت قاری عثمان صاحب رح جعلی نبوت کا پردہ فاش کرنے کے لئے ہمہ وقت شمشیر برہنہ رہتے، دار العلوم دیوبند میں وہ شعبہ تحفظ ختم نبوت کے ذمہ دار بھی تھے اور ان کی کوشش رہتی کہ کوئی مسلمان مرزائیوں کے جال میں نہ پھنسے

جمعیۃ علماء ضلع گڈا کے ناظم اعلیٰ جناب ماسٹر عبد الحفیظ صاحب نے حضرت قاری صاحب سے اپنے گہرے تعلقات کا اظہار کیا، انھوں نے کہا کہ اس طرح بلند اخلاق کے حامل کم ہی لوگ نظر آتے ہیں، اپنائیت اتنی کہ لگتے تھے گھر کے ایک فرد ہیں اور رعب بھی اتنا تھا کہ بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی.

حافظ زین العابدین صاحب مہتمم مدرسہ بحر العلوم خیر گر، کھیرا ٹیکر نے کہا کہ حضرت کے انتقال کی جب خبر سنی تو مجھے بے حد صدمہ ہوا اور مجھے لگا کہ قوم نے اپنا ایک ہیرا اور قیمتی شخصیت کو کھو دیا ہے اور ملت آج یتیم ہو چکی ہے.

حافظ شکیل صاحب بھانجپور نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی عظیم شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے،

مفتی سفیان ظفر قاسمی گڈاوی نے کہا کہ حضرت والا سے کئی کتابیں دار العلوم دیوبند میں میں نے پڑھی ہیں، سبق پڑھاتے ہوءے لگتا تھا کہ علم کے گوہر لٹا رہے ہیں، شیریں آواز اور نرم کلام کے عادی تھے لیکن کبھی غصہ ہوتے تو نرمی کے باوجود لرزہ طاری ہو جاتا.

پروگرام کا آغاز قاری انعام الحق صاحب کی تلاوت سے ہوا. حافظ محمد ذیشان گڈاوی نے نعت پڑھی اور حضرت قاری صاحب کی یاد میں ایک پر سوز مرثیہ پڑھا جس کو سن کر تمام سامعین آبدیدہ ہو گئے حافظ شکیل کی دعا پر مجلس کا اختتام ہوا، اس پروگرام میں اسلام صاحب، محمد مبارک بکوا چک ، مولانا محمد مبارک کملا چک، محمد آفتاب سندر چک، مولانا محمد اعجاز اور محمد منصور وغیرہ وغیرہ شامل تھے.

اخیر میں ایک تعزیتی قراد پاس ہوئی، جو اس طرح ہے ” امیر الہند، صدر جمعیۃ علماء ہند اور دار العلوم دیوبند کے کارگزار مہتمم حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری کی رحلت پر جمعیۃ علماء ضلع گڈا انتہائی غم و صدمہ سے دو چار ہے، ان کی رحلت بلا شبہ ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہ ہے، ان کی خدمات لا زوال ہیں اور ان کی زندگی بلا شبہ ہم سب لوگوں کے لئے اور بطور خاص نئی نسل کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند فرماءے اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: