مضامین

جمعیۃ علماء ہنداورحضرت ابوالمحاسنؒ-منزل بمنزل

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

جمعیۃ علماہندکاپہلااجلاس
جمعیۃ علماء ہند کاپہلااجلاس مولاناابوالوفاءثناء اللہ امرتسری اورمولاناسیدمحمدداؤد کی دعوت پرامرتسرمیں ہوا،جس کی پہلی نشست بتاریخ۵/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۲۸/ دسمبر ۱۹۱۹؁ء بعدنمازعصرامرتسراسلامیہ ہائی اسکول کےوسیع ہال میں ہوئی،اس میں تقریباً باون(۵۲)علماء شریک ہوئے، اجلاس کی صدارت حضرت مولانا عبد الباری فرنگی محلی ؒ نے فرمائی ،جس کی تحریک مفتی کفایت اللہ صاحبؒ نے پیش کی اوراس کی تائید قاضی حبیب اللہ صاحبؒ اورمولانافاخرالٰہ آبادیؒ نے کی ۔۔۔
اوردوسری نشست ۸/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق۳۱/دسمبر۱۹۱۹؁ءزیرصدارت حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ منعقدہوئی،جس میں مختلف مسلک ومشرب کےتیس (۳۰) علماء شریک ہوئے اورکئی تجاویزمنظورکی گئیں۔
تیسری نشست ۹/ربیع الثانی ۱۳۳۸؁ھ مطابق یکم جنوری ۱۹۲۰؁ء ہوئی اور اس کی صدارت بھی حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب نےہی فرمائی،جس میں چوبیس (۲۴)علماء شریک ہوئے،اس نشست میں جمعیۃ کادستوراساسی پیش کیاگیا،اورمجلس منتظمہ کی تشکیل کی گئی ۔
اسی موقعہ پرخلافت کمیٹی کااجلاس بھی ہوا،جس کی صدارت مولاناشوکت علی ؒ نے کی ،انڈین نیشنل کانفرنس کابھی اجلاس ہوا،جس کی صدارت پنڈت موتی لال نہرو نے کی ،اور مسلم لیگ کااجلاس بھی ہوا،جس کی صدارت مسیح الملک حکیم اجمل خان صاحب نے کی ۔
حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجاد صاحب ؒ نےبھی اس میں قائدانہ شرکت فرمائی، اورمجمع کواپنے افکارعالیہ سے مستفیدفرمایا،حضرت مولانااحمد سعیددہلوی ؒ لکھتے ہیں :
"جمعیۃ علماء کےاس پہلےاجلاس میں بھی حضرت مولاناابوالمحاسن محمد
سجاد مرحوم شریک ہوئے،اورانہوں نےاپنےخیالات کاپھراعادہ
فرمایا ۔
اس اجلاس میں حضرت شیخ الہندمولانامحمودالحسن دیوبندیؒ کی رہائی سے متعلق بھی ایک تجویزمنظورکی گئی،اسی اجلاس میں جمعیۃ علماء کادستوراساسی بھی پیش کیاگیا،طے پایاکہ علماء کی رائے عامہ معلوم کرنےکےلئے دستورکوشائع کردیاجائے ،اورآئندہ سال (۱۹۲۰؁ء) دہلی میں اجلاس عام ہواوراس میں لوگوں کی آراء کےساتھ یہ دستور پیش کیاجائے،اسی اجلاس کےموقعہ پرجمعیۃ علماءکی ایک مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی ،جس میں مختلف علاقوں اورحلقوں کےلحاظ سےدرج حضرات کےاسماء گرامی شامل کئےگئے:
دہلی :- مفتی کفایت اللہ ،مولانااحمدسعید،حکیم اجمل خان ۔
یوپی :-مولاناعبدالماجدبدایونی،مولاناسیدمحمدفاخرالٰہ آبادی ،مولاناسلامت
اللہ،مولاناحسرت موہانی ،مولانامظہرالدین۔
بنگال :-مولانامحمداکرم خان (کلکتہ)،مولانامنیرالزماں اسلام آبادی(چاٹگام)
بہار:-مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ،مولانارکن الدین صاحب دانا،مولاناخدابخش مظفرپوریؒ۔
سندھ :- پیرتراب علی ،مولاناعبداللہ ،مولانامحمدصادق۔
پنجاب :- مولاناثناء اللہ امرتسری،مولاناسیدمحمدداؤد،مولانامحمدابراہیم
سیالکوٹی۔
بمبئی :- مولاناعبداللہ،مولاناعبدالمنعم ،مولاناسیف الدین ،حکیم یوسف
اصفہانی ۔
اجلاس اول کےبعدماحول سازی پرخصوصی توجہ
جمعیۃعلماء ہندکےاجلاس اول کےبعدحضرت مولاناسجادؒخاموش نہیں بیٹھ گئے، ابھی بہت کام باقی تھے،اور سب سے اہم کام جمعیۃ علماء کےتعلق سےماحول سازی،غلط فہمیوں کاازالہ اورنفرت وتعصب کاخاتمہ تھا،اوروہ کام حضرت مولاناسجادؒہی کررہےتھےاورکرسکتے تھے،چنانچہ مولانا عبدالصمد رحمانیؒ نے روئیدادجمعیۃ کےحوالےسےنقل کیاہے:
"جمعیۃ کازیادہ وقت اجتماع علماء میں صرف کیاگیا،بچھڑوں کو ملانا، روٹھے
ہوؤں کومنانا،اس غرض کےلئےسفرکرنا،مکالمہ،مراسلہ،مذاکرہ ،غرض
امکانی ذرائع استعمال کئےگئے،جب جاکرجمعیۃ علماء ہند ان موانع پرغالب
آئی جوعلماء کی مقدس جماعت کےساتھ مخصوص ہیں”
کلکتہ میں جمعیۃ علماء ہندکااجلاس خاص
دہلی کےاجلاس عام کی تاریخ۷تا۹/ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ مطابق۱۹تا۲۱/نومبر ۱۹۲۰؁ء مقرر کی گئی تھی ،مگراس سے قبل جمعیۃ علماء ہندکاایک خصوصی اجلاس۲۲/ذی الحجہ ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۶/ستمبر۱۹۲۰؁ء کوکلکتہ میں زیرصدارت حضرت مولاناسیدتاج محمودصاحب سندھی منعقد ہوا،جس میں پورے ملک سےتقریباًدو(۲۰۰)سوعلماء کرام نےشرکت فرمائی ،حضرت مولاناسجادبھی شریک تھے ،اس اجلاس سے قریب دوماہ پیشتر کئی سال کی اسارت کےبعد حضرت شیخ الہندؒ رہاہوکرہندوستان واپس تشریف لائے،آپ بمبئی سے۷/ذی قعدہ ۱۳۴۳؁ھ(۳۰/مئی۱۹۲۵؁ء)حجازکےلئےروانہ ہوئےتھے،پھر۲۴/صفرالمظفر ۱۳۳۵؁ھ مطابق ۲۰/دسمبر ۱۹۱۶؁ء کومکہ مکرمہ سے گرفتارکئے گئے،اورتقریباًتین (۳)برس سات مہینےکی قیدوبندکےبعدرہاہوکر ۲۱/ رمضان المبارک ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۸/جون ۱۹۲۰؁ء کوہندوستان واپس تشریف لائے،یعنی ہندوستان سےغیرحاضری کی کل مدت چار(۴)سال دس(۱۰) ماہ
رہی ۔
مسلمانان ہندبالخصوص آپ کےتلامذہ اورمتعلقین میں خوشی کی لہردوڑگئی،مگر ہندوستان پہونچےتوان کےمرض الموت کاآغازہوچکاتھا ،اس لئےسیاسی کاموں یاپروگراموں میں زیادہ شرکت کا تحمل نہیں فرماسکتے تھے، لیکن جب آپ کو جمعیۃ علماء ہند کےقیام کی اطلاع ملی توبڑی مسرت کااظہار فرمایا ،اوراپنے تلامذہ کو ہدایت کی کہ وہ اس جماعت میں شریک ہوں،چنانچہ کلکتہ کےاجلاس میں آپ کےتلامذہ میں مولاناسیدمرتضیٰ حسنؒ،اورمولانا عزیز گل صاحب شریک ہوئے ،اس سے قبل حضرت کےتلامذہ میں سوائے حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کےکوئی شریک نہیں ہوتا تھا،حضرت شیخ الہندؒکی ترغیب اوردوسرے اجلاس عام کی صدارت قبول کرنے کےبعدرفتہ رفتہ جمعیۃ علماء میں علماء دیوبندکی تعدادبڑھتی چلی گئی۔
تجویزترک موالات
اس اجلاس کی دوتجویزیں بڑی اہم تھیں :
(۱)مولاناابوالکلام آزادبھی پہلی بارجمعیۃکےاس اجلاس میں شریک ہوئے، انہوں نےترک موالات کی حمایت میں تجویز پیش کی،جس کی تائیدمولاناعبدالصمدبدایونی ، مولانامظہرالدین ،اورمولانامحمدعبدالقیوم عرف نوراحمدصاحب نے کی ،اور باتفاق رائےیہ تجویزمنظورکی گئی ۔اس کےبعدپانچ سو(۵۰۰)علماء کےدستخطوں سےترک موالات کافتویٰ شائع ہوا،یہ فتویٰ یعنی جواب استفتاء حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ نائب امیرالشریعۃ بہار نے تحریرفرمایاتھا ۔
ترک موالات کامنشایہ تھاکہ سرکاری تقریبات میں حصہ نہ لیاجائے،سرکاری ملازمتیں قبول نہ کی جائیں ،خطابات واپس کردئیےجائیں،سرکاری اسکول اورکالج چھوڑدئیے جائیں،اوراپنےقومی اسکول اورکالج میں تعلیم حاصل کی جائے،برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ کیاجائے،اورکوئی انگریزی چیزاستعمال نہ کی جائے۔
اس سے قبل خلافت کانفرنس میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب نے سرکاری جشن فتح کےمقاطعہ کی تجویزپیش کی تھی ،جس کی تائیدمولاناشاہ ولایت حسین ،حاجی موسیٰ خان شیروانی،مولانامحمدداؤد امرتسری ،جناب محمدحسین بیرسٹرمیرٹھ،مولاناسیدمحمدفاخرالٰہ آبادی ؒ، سیٹھ چھوٹانی بمبئی ،قاری عباس حسین ایڈیٹر قوم ،اورگاندھی جی نےکی تھی۔
جشن فتح کےبائیکاٹ کےلئےایک فتویٰ بھی شائع کیاگیاتھا،جوحضرت مفتی کفایت اللہ صاحب نےتحریرفرمایاتھا اوراس پرمولانااحمدسعید،محمدانیس نگرامی ،خواجہ غلام نظام الدین قادری ،مفتی بدایونی ،مولاناسیدفاخر الٰہ آبادی،سید کمال الدین احمدجعفری الٰہ آبادی،محمد قدیربخش، مولاناسیدتاج محمود امروٹ،مولانامحمدابراہیم انجمن اسلامیہ دربھنگہ،مولانا خدابخش مظفرپوریؒ،مولانامحمدسلامت اللہ فرنگی محلی، محمدامام صاحبزادہ پیرصاحب العلم سندھ ،اسداللہ حسینی سندھی،مولانابخش مدرسہ تقویۃ الاسلام امرتسر،ابراہیم سیالکوٹی ،مولانا عبدالحکیم اوگانوی ؒ مدرس دوم مدرسہ انوارالعلوم گیا،مولانامحمد صادق کراچوی، مولاناسید محمد داؤدغزنوی ،سیدمحمداسماعیل غزنویؒ امرتسر،مولاناثناء اللہ امرتسری،اورمحمد عبداللہ نے دستخط کئے تھے ۔
تجویزصدارت اجلاس
(۲)کلکتہ کانفرنس کی دوسری تجویز-جونمبرکےلحاظ سے تجویزنمبر۶ تھی -یہ تھی کہ:
"جمعیۃ علماء ہندکایہ اجلاس تجویزکرتاہےکہ جمعیۃ کاآئندہ اجلاس دہلی میں
منعقدکیاجائےاوراس کی صدارت کےمتعلق شیخ الہندحضرت مولانامحمود
حسن قبلہ سےدرخواست کی جائےکہ وہ صدارت منظورفرمائیں”
چنانچہ اس تجویزکےمطابق حضرت شیخ الہندؒ سے منظوری حاصل کی گئی ۔
جمعیۃ علماء ہندکادوسرااجلاس عام دہلی
جمعیۃ علماء ہندکادوسراسالانہ اجلاس عام دہلی میں(نورگنج یعنی پل بنگش اورباڑہ ہندوراؤکےدرمیان)بتاریخ ۷تا۹/ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹تا۲۱ نومبر۱۹۲۰؁ءزیر صدارت حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی ؒ منعقد ہوا،مجلس استقبالیہ کےصدرحکیم اجمل خان صاحب تھے ،اس اجلاس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں پورے ملک سے علماء کی نمائندگی شامل تھی ،بقول مولانااحمدسعیددہلویؒ "ہندوستان کاکوئی گوشہ ایسانہ تھا،جہاں سے علماءتشریف نہ لائے ہوں ۔پانچ سو(۵۰۰) سے زائد علماء شریک ہوئے۔خودجمعیۃ کی روداد میں اس اجلاس کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاگیاہے:
"جمعیۃ علماء ہندکادوسراسالانہ اجلاس ۷، ۸، ۹/ربیع الاول ۱۳۳۹؁ھ کودہلی
میں منعقد ہوا،اورخداکےفضل وکرم سے جس شان وشوکت اورامن و
اطمینان سےہوا،وہ دیکھنےوالوں کے دل خوب جانتے ہونگےہندوستان ،
بنگال ،سندھ ،صوبہ سرحد غرض کہ ہرگوشۂ ملک کے نمائندےعلماء
کرام موجود تھے،پانچ سو سے زیادہ صرف حضرات علماء شریک جلسہ
ہوئے” ۔
حضرت شیخ الہندؒ کاقیام ڈاکٹرشوکت انصاری صاحب کی کوٹھی پرتھا،حضرت شیخ الہندؒبہت زیادہ بیمارتھے،اس لئے آپ براہ راست شریک اجلاس نہ ہوسکے اورآپ کی صدارت کی نیابت حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب نےانجام دی،خطبۂ صدارت بھی آپ کےایماء پر
مفتی صاحب ؒنے ہی تحریرفرمایاتھا،اورانہوں نے ہی اجلاس میں پڑھ کرسنایا ۔
حضرت شیخ الہندؒ مستقل صدرجمعیۃ علماء ہند
اس جلسہ میں یہ طے پایاکہ حضرت شیخ الہندجمعیۃ کےمستقل صدرہونگے،اور مفتی کفایت اللہ صاحبؒ نائب صدر،اورمولانااحمدسعیدصاحب ؒ مستقل ناظم۔
لیکن اجلاس کےتقریباًایک ہفتہ کےبعدہی۱۷/ربیع الاول۱۳۳۹؁ھ مطابق ۳۰/ نومبر ۱۹۲۰؁ء کوحضرت شیخ الہندؒ کاانتقال ہوگیا،اور مفتی کفایت اللہ صاحب قائم مقام صدرکی حیثیت سےکام کرتے رہے،یہاں تک کہ ۶/ستمبر۱۹۲۱؁ء (۳/محرم الحرام ۱۳۴۰؁ھ) کولکھنؤ میں تیسرے سالانہ اجلاس تک کےلئےمجلس منتظمہ نےآپ کوصدرمقررکردیا،پھرتیسرے سالانہ اجلاس(مقام لاہور، منعقدہ ۱۸تا۲۰/نومبر ۱۹۲۱؁ء)کوآئندہ کےلئے بھی آپ کی توسیع کردی گئی،اورآپ ۱۹۴۰؁ء تک جمعیۃ علماء ہند کےمسلسل صدررہے ۔
ترک موالات پرمتفقہ فتویٰ علماء ہند
اس اجلاس میں برطانوی حکومت کےخلاف عدم تعاون کی تجویزبھی منظور ہوئی،جس کوحضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒنےمرتب کیاتھا،مولانااحمدسعیددہلوی ؒ لکھتے ہیں:
"عدم تعاون کی تجویز کےسلسلےمیں جوفتویٰ مرتب کیاگیا،اورجس کا
نام آگے چل کرپانچ سو(۵۰۰)علماء کامتفقہ فتویٰ ہواوہ حضرت مولانا
ابوالمحاسن محمدسجادصاحب ؒ کامرتب کیاہواتھا،۔۔۔اس فتوی
ٰ سے مولانا
کےاس تبحرعلمی کاپتہ چلتاہے،جومولاناکو قدرت کی جانب سے عطاہوا
تھا ۔
مولاناشاہ محمدعثمانی صاحبؒ کابیان ہےکہ:
"اس فتویٰ سےعام مسلمان جوش سےبھرگئے،برطانوی مالوں کامقاطعہ ہوا، اسکول
اورکالج چھوڑدئیےگئے،لیکن سرکاری ملازمتوں سےکم لوگ دستبردارہوئے،جیسا کہ اکبرؔ الٰہ آبادی ؒ نےلکھاہے:
؎ کوچۂ سروس انگلش میں رہے ہم ساکن
جاہ و زر ہی کی تمنا میں کٹے زیست کےدن
وعظ گاندھی میں بدل سکتےہیں کیوں کرباطن
عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مؤمن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
سرکاری خطابات بھی بہت کم لوگوں نےواپس کئے،جیساکہ اکبرؔنےطنز کیا ہے:
مذہب واپس خیال جنت واپس
مذہب کاوہ حق وہ نذر دعوت واپس
حضرت نےصاف کہدیاسب کہ میں
کرنے کانہیں خطاب و خلعت واپس
دراصل بڑے بڑے زمینداروں کےبچے اوربڑے بڑے سرکاری عہدہ دارتحریک سےکم متأثرہوئے،چنانچہ ہماراغیورشاعرلکھتاہے:
بہت ایسےہیں جوترک تعاون کےبھی قائل ہیں
مگر اونچے جو ہیں اکثر خوف انگلش کے مائل ہیں
یہ لوگ تحریک کی مخالفت کرنےلگےاورکہاکہ یہ ہندؤں کی سازش ہےاورمولانا لوگ نہیں سمجھتے،ان کےخیال کی تردیداکبرؔ نےیوں کی ہے:
نہ مولانامیں لغزش ہےنہ سازش کی ہےگاندھی نے
چلایا ایک رخ کو فقط مغرب کی آندھی نے
یعنی مغرب کی مسلم دشمنی اورایشیاکوغلام بنانےکی کوشش نےہندؤں اور مسلمانوں کوایک کردیا،سودیشی تحریک پراکبرؔیہ کہتے ہیں :
تحریک سودیشی پر مجھے وجد ہے اکبرؔ
کیاخوب یہ نغمہ ہےچھڑادیس کی دھن میں
مولاناسجادؒکی تقریربےنظیر
٭یہ جمعیۃ علماء ہندکاایک تاریخی بلکہ تاریخ سازاجلاس تھا،جوملک کی آزادی اور
مسلمانوں کی حیات ملی کےلئےسنگ میل ثابت ہوا،حضرت مولانامحمدسجادصاحب جواجلاس کےروح رواں اورجمعیۃ کادماغ تھےان کی فکری اورعملی صلاحیتوں کےجوہر بھی اس موقعہ پر خوب کھلے،یقیناًاجلاس عام میں بھی آپ نےاظہارخیال فرمایاہوگا،لیکن مولانااحمدسعید صاحب ؒ تحریرفرماتےہیں کہ :
"جمعیۃ علماء کےاس تاریخی اجلاس کی سبجیکٹ کمیٹی میں بھی مولانانے
ایک تقریرفرمائی تھی،اوروہ تقریراپنی آپ ہی نظیرتھی” ۔
امیرالہندکی تجویز
٭حضرت مولاناسجادؒکی کوشش تھی کہ اسی اجلاس میں نصب امیرکامسئلہ بھی حل کرلیا جائے،اورامیرالہندمنتخب کرلیاجائے،وہ اس کواس اجتماع کانصب العین بناناچاہتے تھے،اس لئے کہ آئندہ علماء کی اتنی بڑی تعداد کاجمع ہونا ممکن ہویانہ ہو۔علاوہ حضرت شیخ الہندؒ جیسی مغتنم شخصیت ابھی موجودتھی ،ان کی امارت پر اتفاق رائے کاقوی امکان تھا،بعد میں کسی دوسری شخصیت پریہ اتفاق پیداہوسکے یانہ ہوسکے ،بعض روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نے دیوبندیادہلی جاکر حضرت شیخ الہندؒ سے ملاقات بھی کی تھی ،اور حضرت شیخ الہندؒانتخاب امیر کی تجویز پر راضی بھی ہوگئے تھے،بلکہ ان کواس پراصراربھی تھااورانہوں نےبھی اپنی فراست سےاس کومحسوس کرلیاتھاکہ جوآج ہوجائےگا وہ کل نہیں ہوسکےگا،مولاناعبدالصمدرحمانیؒ لکھتے ہیں:
"وہ لوگ جواس اجلاس میں شریک تھے،جانتے ہیں،کہ اس وقت
حضرت شیخ الہندؒ ایسے ناسازتھے کہ حیات کےبالکل آخری دورسے
گذررہےتھے،نقل وحرکت کی بالکل طاقت نہ تھی ،لیکن باوجود اس
کے ان کو اصرار تھا،کہ اس نمائندہ اجتماع میں جب کہ تمام اسلامی
ہندکےذمہ داراورارباب حل وعقدجمع ہیں،امیرالہندکاانتخاب کرلیا
جائےاورمیری چارپائی کواٹھاکرجلسہ گاہ میں لےجایاجائےپہلاشخص
میں ہوں گا جواس امیر کےہاتھ پربیعت کرے گا،مگر نزاکت حال
کودیکھ کرطبیب وڈاکٹراورخدام و مخلصین کی اس وقت رائے ہوئی،
کہ حضرت شیخ الہندؒ کی صحت پر اٹھاکر رکھاجائے،تاکہ پورے
اطمینان اور انشراح صدرکےساتھ اس کوعمل میں لایاجائے ۔
تیسرےاجلاس میں امارت شرعیہ فی الہندکی تجویزمنظور
اس طرح اس اجلاس میں امیرالہندؒ کاانتخاب نہ ہوسکا یہاں تک کہ ایک ہفتہ کے بعد ہی حضرت شیخ الہندؒ کاانتقال ہوگیا۔
اس کےاگلےسال(۲۰/نومبر۱۹۲۱؁ء مطابق ۱۹/ربیع الاول ۱۳۴۰؁ھ کوبمقام لاہور )مولاناابوالکلام آزادکی صدارت میں جمعیۃ علماء ہندکاتیسرا اجلاس منعقدہوا ،اس میں حضرت مولاناسجادکی کوشش سے امارت شرعیہ فی الہندکی تجویزباتفاق رائے منظور کی گئی ، مولانااحمدسعیدصاحب رقمطرازہیں :
"جمعیۃ علماء نےجوتجویزامارت شرعیہ کےسلسلےمیں پاس کی تھی،وہ بھی
انہی کی سعی کانتیجہ تھا” ۔
امیرالہندکےانتخاب میں دشواریاں
لیکن امیرالہندکےلئے کسی شخصیت پراتفاق رائےاس اجلاس میں بھی نہ ہوسکا،اور امارت ہندکامسئلہ معرض التوامیں چلاگیا،اس کےبعد کی تفصیل خودحضرت مولانا محمدسجاد صاحبؒ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
"انہوں نے(یعنی ارباب حل و عقد جمعیۃ علماء ہند)اجلاس جمعیۃ ۱۹۲۱؁ء
میں امارت شرعیہ فی الہندکی تجویزمنظورکی،جوزیرصدارت حضرت علامہ
ابوالکلام صاحب آزاد منعقد ہواتھا وراسی اجلاس میں امیرشریعت کے
اصول کو منضبط کرنےاوربعض امورکی تشریحات کےلئے ایک مجلس
بنائی گئی اور اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایاکہ ایک ماہ بعد فوراًایک
دوسراخصوصی اجلاس اس مسودہ کی منظوری اورانتخاب امیرالہندکے
لئےمنعقد کیاجائےمگرجس ہفتہ اجلاس خصوصی تھاوہی وقت حکومت
کےجبرو استبدادکے کامل مظاہرہ اورقوم کےدلیرانہ مقابلہ کاتھا،اور
مولانا ابوالکلام آزادصاحب اوردوسرے علماء وغیرہ بھی گرفتارہوئے
اور شاید دشمنان اسلامکیطرف سےجابجامختلف عنوانوں سےمشہور
کیاگیا کہ اجلاس ملتوی ہوگیا ،بات بھی لگتی ہوئی تھی ،کیونکہ خاص
خاص مراکزمیں گرفتاریاں عام تھیں ،جن اراکین کےکانوں تک
التواء کیغلطآوازپہونچی،انہوں نےقرائن پرقیاس کرکے صحیح سمجھا
،جس کانتیجہ یہ ہواکہ اتنے ارکان نہ پہونچ سکے ، جن کی موجودگی
میں اجلاس منعقد ہوسکتا،مگرپھر بھی بعض حضرات علماء اکابروبعض
ارکان زعمائے ہندپہونچ گئے تھے،مثلاً مسیح الملک حکیم اجمل خان
صاحب ،مولوی احمدصاحب سیکریٹری آل انڈیامسلم لیگ وغیرہ ۔
آخران حضرات کاباہمی مشورہ ہوااوراسمجلس نےجوترتیب مشورہ
کےلئےمرتب ہوئی تھی مسودہ مرتب کیا۔
بعدہ کچھ ایسے واقعات وحوادث پیش آئے کہ اس مسودہ پرمجلس
منتظمہ کوغورکرنے کا موقعہ نہیں ملا،اس بناپر جمعیۃ علمائے ہندکے
اجلاس اجمیر میں یہ غور کیا گیا کہ امارت شرعیہ ہندکےقیام میں
چونکہ بہ ہمہ وجوہ متعددہ تعویق ہے اس لئے جب تک صوبہ وار
امارت شرعیہ قائم کی جائےاوراس کےلئےجمعیۃ علماء ہندنےصوبہ وار
جمعیتوں کومخاطب کرتےہوئےایک تجویزکےذریعہ سےان کوہدایت
دی،کہ جلدازجلدصوبہ وار امارت شرعیہ قائم کریں مگراکثرصوبوں
کےناظمین اس دورمیں اپنےصوبہ کےکاموں کےذمہ دارتھے،اس
لئے غالباًاس تجویزپرعمل نہ کرسکے،پھرفروری ۱۹۲۲؁ء میں بمقام دہلی
جلسۂ منتظمہ میں مسودہ فرائض واختیارامیرشریعت اورنظام نامہ امارت
شرعیہ فی الہندطبع کراکرتمام ارکان انتظامیہ جمعیۃ علماء ہنداوردیگراہل
الرائےکی خدمت میں بھیجنےکی تجویزمنظورہوئی،چنانچہ اس تجویزکے
مطابق عمل بھی ہوا،۔۔۔
شاید اس تعویق اورتاخیرمیں یہ مصلحت ہوکہ اس وقت ہندوستان
کےبہت سےارباب حل وعقدوغیرہ قیدخانوں میں محبوس تھے،اس
لئےامارت کےقیام واستحکام کےلئےان اصحاب کے باہر آجانےکی
ضرورت تھی تاکہ تمام یااکثرارباب حل وعقد علماء وغیرعلماء غوروفکر
کےبعدایک مضبوط بنیادپراس کوقائم کریں” ۔
مسودۂ فرائض واختیارات امیرشریعت
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ نےاپنےخطبہ میں امیرشریعت کےلئےجمعیۃ علماء ہندکےتیارکردہ جن مسودات کاذکرکیاہے،ان میں "مسودۂ فرائض واختیارات امیرالشریعۃ فی الہند”کوجمعیۃ علماء ہندکی ایک سب کمیٹی اورکچھ علماء نےمرتب کیاتھا،سب کمیٹی کےارکان درج ذیل حضرات تھے:
٭مولانامفتی کفایت اللہ صدرجمعیۃ علماء ہند۔
٭مولاناسبحان اللہ صاحب
٭مولاناسیدمرتضیٰ حسن صاحب
٭مولانامحمدفاخرالٰہ آبادی صاحب
٭مولاناعبدالماجدصاحب
٭مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحب
٭اورمولاناعبدالحلیم صاحب صدیقی نائب ناظم جمعیۃ علماء ہند۔
ارکان کمیٹی کےعلاوہ مولاناسیدسلیمان ندوی ؒ،مولانافرخندعلیؒ وغیرہ تیرہ(۱۳)علماء اوربھی شامل تھے،اس مجلس نے ۲۰/نومبر ۱۹۲۱؁ء (۱۹/ربیع الاول ۱۳۴۰؁ھ)کولاہورمیں یہ مسودہ تیارکیا،یہ کل چار(۴) صفحات پرمشتمل مسودہ ہے ،جس میں ایک صفحہ پرشرکاء کےنام اورتین(۳) صفحات پرتجاویزہیں۔

نظام نامۂ امیرشریعت
جب کہ "مسودہ نظامنامۂ امیرالشریعۃ فی الہند”کوحضرت مولانامحمدسجاد صاحب نےتنہامرتب فرمایاتھا،یہ دس(۱۰) صفحات پرمشتمل ہےاورمسودۂ فرائض کےمقابلے میں یہ زیادہ مفصل اور جامع ہے۔
ان دونوں مسودات کامجموعہ اسی زمانہ میں جمعیۃ علماء ہندنے حمیدیہ پریس دہلی سےچھپواکر شائع کیاتھا۔
گیامیں جمعیۃ علماء ہند کا چوتھااِجلاسِ عام
گیا(بہار) میں جمعیۃ علماء ہند کاچوتھااِجلاس عام ربیع الثانی ۱۳۴۱؁ھ /دسمبر ۱۹۲۲؁ءمیں حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادصاحبؒ کی نگرانی میں پوری شان وشوکت کےساتھ منعقدہوا،جس کی صدارت حضرت مولاناحبیب الرحمن عثمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند نے فرمائی،اوراس وقت کےعام دستورکےمطابق خلافت کانفرنس کےساتھ ہی جمعیۃ کانفرنس بھی رکھی گئی ۔
اِس اِجلاس کاذکرکرتے ہوئےحضرت مولانا سیدمناظر اَحسن گیلانی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں کہ:
” حالاں کہ اُس وقت کانفرنسوں کابڑا زورتھا،لیکن
گیاکےمیدانوں میں آکر دنیا نے تماشا کیا کہ جس جمعیۃ کی بنیاد
”بہار“ میں رکھی گئی تھی، وہ ایک خالص ہندو شہر اور بودھسٹ
مرکز میں تھی،ایسےروشن چراغ کو اپنےہاتھ میں لئےہوئےتھی
کہ اُس کےسامنےکانگریس کاآفتاب اور خلافت کا ماہتاب بھی
شرمانےلگا،اوراِس کااعتراف اپنےاورغیروں سب نےکیا۔ اِسی کا
اعتراف نہیں،بلکہ اس کابھی کہ سارے ہندوستان کاسب سے
نمایاں اجلاس”جمعیۃعلماءگیا“ کا اِجلاس تھا، اور جمعیۃ علماء گیا کا
اجلاس صرف اُس واحد شخصیت (حضرت مولانا سجادؒ)کی عملی
قوتوں کامظہرتھاجس کےمعنی یہی ہوئےکہ اُس وقت سارے
ہندوستان کی بڑی نمایاں ہستی حضرت مولانامحمدسجادؒ کی تھی،
جمعیۃعلماءاُس کےبعدبھی بڑھتی رہی، چمکتی رہی،لیکن جاننے
والےجانتےہیں کہ گیاکا اجلاس نہیں،بلکہ جمعیۃ کےجتنےاجلاس
ہوتےرہے ،اُس کی بولنے والی روح اور خاموش زبان وہ تھی،
جوزندگی میں بھی خاموش رہنےکےباوجودسب سےزیادہ بولنے
والی تھی ، اور اِن شاء اللہ اُس کی خاموش بولیاں اَبد تک نہ
چپ ہونے والی بولیاں ہیں“ ۔
باقی اجلاس کی کاروائی ،منظرکشی اوردیگرتفصیلات جناب راغب احسن صاحب سیکریٹری مسلم لیگ کلکتہ کےحوالےسےتحریک خلافت کےباب میں گذرچکی ہیں ۔
اجلاس جمعیۃ علماء ہندمرادآبادکی صدارت
٭ جمعیۃ علماء ہندکے پانچویں اجلاس عام(۱۵/جمادی الثانیۃ۱۳۴۳؁ھ مطابق ۱۱/ جنوری۱۹۲۵؁ء-مرادآباد)کی آپ نے صدارت فرمائی،جمعیۃ کے اراکین و ذمہ داران اس پر اس قدر مسروراور جذبۂ امتنان سے لبریز تھے کہ اجلاس عام میں باضابطہ آپ کے لیے تجویز شکریہ منظور کی گئی ،جو کہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔چنانچہ اجلاس کی تجویز نمبر۲۹ اس طرح ہے۔
”جمعیۃ علمائے ہند کا یہ اجلاس حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب
نائب امیر شریعت صوبہ بہار و اڑیسہ صدر اجلاس جمعیت علمائے ہند
مرادآباد کی خدمت میں اپنا مخلصانہ شکریہ پیش کرتا ہے کہ حضرت
ممدوح نے اجلاس کی صدارت و رہنمائی فرما کر اس کو عزت بخشی، حق
تعالی مولانا کو اجر جزیل عطا فرمائے“
اسی موقعہ پرآپ نےاپناوہ تاریخی خطبۂ صدارت پیش فرمایاجس کو کانفرنسوں کی تاریخ میں ہمیشہ یادرکھاجائےگا،آپ نے عالمی اورملکی مسائل،سیاست کی شرعی اورتاریخی حیثیت،سیاست سےعلماء کی بےاعتنائی پرتنبیہ اوراس کےاسباب وعوامل،خطرات اورسدباب اورمختلف اداروں اورتحریکات کےلئےمنصوبے،تجاویزاورطریق کارپرایسی مبصرانہ ،محققانہ اورناقدانہ روشنی ڈالی جس نےعلم اوراسلامی سیاست کی لائبریری میں (مجاہدملت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ کےالفاظ میں )ایک اصولی انسائیکلوپیڈیاکااضافہ کیا، اسی موقعہ پرمولانا سجادؒنےجمعیۃ علماء کی ہمہ گیری،اہداف ومقاصد،اورافادیت واہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے ارشادفرمایا:
"مجھ کواس کےبانیین کےاس حسن تدبرسے بے حدمسرت ہوتی ہےکہ
انہوں نےعلماء وغیرعلماء کی خلیج کوپاٹنےکے لئے ایک بہترصورت پیدا
کردی ہے،اس کےعلاوہ چونکہ علمائے جانبین نے جمعیۃکےمقاصدمیں
سیاست کوبھی داخل کیاہےجوایک مناسب اورضروری امرتھا،اس لئے
بھی ضرورت تھی کہ جو حضرات سیاست مغربیہ سےزائدواقفیت رکھتے
ہوں ان کومشورہ میں شریک کیاجائے،اورسیاست مغربیہ کی چال بازیوں
کوسیاسی حضرات سےمعلوم کیاجائے،اورادھرسیاسی حضرات علماء ربانیین
سے شریعت کے اس اسلحہ کومعلوم کریں جس سے سیاسیات مغربیہ کی
چالبازیوں کاخاتمہ کیاجاسکتاہے،یاسیاسیات مغربیہ کےاسلحہ خانوں سےجو
اسلحہ وہ خودحاصل کریں اس کوعلماء شریعت کے سامنے پیش کرکےاس
کاقابل استعمال من جہۃ الشرع ہونامعلوم کریں ،اوریہ علماء کی کثرت ہی
سےہوسکتاہے۔
پس جس طرح سےیہ حقیقت جمعیت کی صورت نوعیہ پرتصویب کی مہر
لگاتی ہےاسی طرح اس حقیقت پر بھی روشنی ڈالتی ہے،کہ اگرآج
ہندوستان کی سرزمین میں سب سے زیادہ کسی جمعیت کی ضرورت
ہےتووہ جمعیۃ علماء ہندکی ہے،اس لئےتمام علماء ہندو زعماء ہند وعوام
الناس کااولین فرض ہےکہ اس کومضبوط کریں ،اوراس کی مضبوطی
قلوب میں اس کوجگہ دینےاورپھراس کےخزانہ کومعمورکرنےسے
ہوسکتی ہے۔۔۔
میرے اس کلام سےیہ خیال نہ ہوناچاہئےکہ میں ہندوستان کی دوسری
قومی مجالس کولغواوربیکارمحض سمجھتاہوں،بلکہ ان کو بھی میں ایک
مفیدشےسمجھتاہوں ،ہاں یہ ضرورہےکہ میں جمعیۃ علماء کوباعتبارضرورت
واہمیت اولیت کامرتبہ دیتاہوں اوربقیہ مجالس کوثانویت وثالثیت کے
مراتب میں خیال کرتاہوں”
ادارۂ حربیہ کےسربراہ
۱۹۲۹؁ء میں انگریزوں کےخلاف کانگریس کی سول نافرمانی کی تحریک شروع ہوئی تو جمعیۃ علماء ہندنےبھی اپنےاجلاس مجلس عاملہ (۱۱، ۱۲/اگست ۱۹۲۹؁ء مرادآباد)میں سول نافرمانی کاپروگرام منظورکیا،اس جرم میں مولانامفتی کفایت اللہ اورمولانااحمدسعیددہلوی ؒ ۱۷ /جمادی الاولیٰ ۱۳۴۹؁ھ مطابق ۱۱/اکتوبر۱۹۳۰؁ء کوگرفتارکرلئے گئےاورانہیں چھ (۶)ماہ قیدبا مشقت کی سزاہوئی ۔پھرجمعیۃ علماء ہندنےاپنےدسویں اجلاس عام (۳۱/مارچ تایکم اپریل ۱۹۳۱؁ء کراچی)میں ایک تجویزکےذریعہ سول نافرمانی کی تحریک کو جاری رکھنے اوررضاکاروں کی بھرتی کاپروگرام منظورکیا،سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ جو لوگ سول نافرمانی کی تحریک میں گرفتار ہوتے تھے،جیل کی سزاکےساتھ ان کی جائدادبھی ضبط کرلی جاتی تھی،اوربڑے بڑے جرمانے عائدکئےجاتےتھے،جس کی وصولی کےلئےان کی جائیدادوں کونیلام کردیا جاتا تھا ،اس لئے اس بار تحریک چلاناسخت دشوارمعلوم ہورہاتھا،پورےملک میں اس تحریک کوچلانے کے لئے ایک مستقل نظام کی ضرورت تھی،چنانچہ جمعیۃ علماء ہند نے اس کےلئےایک خفیہ ادارہ "ادارۂ حربیہ”قائم کیا،کانگریس نے اس کے لئے "جنگی کونسل”قائم کیاتھا،اس نظام کے سربراہ کو جمعیۃ اورکانگریس دونوں جگہ "ڈکٹیٹر” کہاجاتاتھا،اوریہ اصطلاح اس لئے اختیارکی گئی تھی ،کہ ملک میں سخت بےچینی کےحالات تھے،کانگریس غیرقانونی جماعت قراردی جاچکی تھی،اس کےتمام مراکزپرچھاپہ ماری کی جارہی تھی،جمعیۃ علماء ہندگوکہ غیرقانونی کے دائرےمیں نہیں آئی تھی،لیکن کانگریس سے نظریاتی قربت کی بناپراس کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھا جاتا تھا،اس کےقائدین کی گرفتاریاں بھی جہاں تہاں جاری تھیں ،کس کی گرفتاری کب اورکہاں ہوجائےگی،کچھ معلوم نہیں ہوتاتھا،صدراورناظم وغیرہ کےانتخاب کےلئےمجلس عاملہ یا مجلس عمومی کی نششتوں کی ضرورت ہوتی ہے،جس کااس زمانہ میں کوئی موقعہ نہیں تھا،اسی لئے ایک سرکلرکےذریعہ تمام عہدے ختم کرکےڈکٹیٹر شپ قائم کردی گئی تھی،اورڈکٹیٹرہی نظام چلاتاتھا،اوراس کی ایک خفیہ ترتیب بھی قائم کردی گئی تھی ، مرکزی اورصوبائی دونوں سطحوں پریہی ترتیب بنائی گئی تھی ،تاکہ ایک گرفتار ہوتواپنی جگہ دوسرے کونامزد کردے،یہ بالکل جنگی صورت حال تھی ،اس لئے جنگی حکمت عملی سے واقف حضرات ہی کو اس میں شامل کیا گیا تھا،چونکہ ثبوت اورچھاپہ ماری سےبچنےکےلئےیہ تمام کاروائی تحریری ریکارڈمیں نہیں لائی جاتی تھی ،اس لئے اس کی حتمی ترتیب معلوم نہیں ہے،البتہ مولانامحمد میاں صاحبؒ نے حافظہ سے بعض ڈکٹیٹروں کے نام بیان کئے ہیں کہ وہ کس نمبرپرتھے ؟مثلاً: مفتی کفایت اللہ صاحب ؒڈکٹیٹراول ، مولاناسید حسین احمدمدنیؒ ڈکٹیٹر دوم ،اورمولانا احمدسعیددہلویؒ ڈکٹیٹر سوم تھے،اپنےبارے میں انہوں نےبتایاکہ کہ وہ نویں نمبرکےڈکٹیٹر تھے،البتہ ادارۂ حربیہ کےپورےنظام کےکلیدبرداراورقائدحضرت مولانامحمد سجادؒتھے،مولانا محمدمیاں صاحبؒ کے الفاظ میں :
"جمعیۃ علماء ہندکےصدرمفتی اعظم حضرت مولانامحمدکفایت اللہ صاحب
اورناظم اعلیٰ سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعیدصاحب تھے،مگروہ ڈاکٹر
جس کوبہت سے انجکشن دئیے گئے تھے، ابوالمحاسن مولاناسجادصاحب (
نائب امیرشریعت صوبہ بہار)تھے،رحمہم اللہ ،ادارۂ حربیہ کےکلیدبردار
یہی حضرت تھے۔
جمعیۃ علماء ہندکےدفترسےعلٰحدہ محلہ بلی ماران کی ایک تاریک گلی میں ایک
مکان لےلیاگیاتھا حضرت مولاناسجادصاحب کاقیام اسی مکان میں رہتاتھا
جس کا علم دفتر کے لوگوں میں سےبھی غالباًصرف قاضی اکرام الحق
صاحب کوتھاجماعت کےجوحضرات اسی ادارہ کی ضرورت سے حضرت
موصوف سے ملاقات کرناچاہتے تھے،توقاضی اکرام الحق صاحب ہی ان
کےرہبربنتے تھے۔
مولاناسجادصاحب کےدست راست اورنفس ناطقہ مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ
تھے،جن کونظام رضا کاران کاناظم اعلیٰ یاکمانڈربنایاگیاتھا،اوران کاکام یہ
تھاکہ ملک میں گھوم پھرکرتحریک کاجائزہ لیں اوراس نظام کوکامیاب بنائیں ۔
۔۔اور احقر(مولانامحمدمیاں صاحب )کےلئے موصوف (حضرت سجادؒ )
کی ہدایت یہ تھی ،کہ ہرہفتہ جمعہ کی صبح کو مرادآبادسےچل کردہلی پہونچا
کرے اورنمازجمعہ کےبعدجامع مسجدمیں تقریرکرکےواپس ہوجایاکرے
(اسی ضمن میں مولانامیاں صاحب نےاپنی گرفتاری کا قصہ بھی بیان کیاہے
جس سےمولاناسجادصاحب کی بصیرت اورحالات سے آگہی کاپتہ چلتاہے،
مولانامیاں صاحب کاخیال ہے کہ اگرحضرت مولاناسجادؒکی ہدایات کی
پاسداری میں غفلت نہ برتی گئی ہوتی تووہ گرفتاری سے بچ سکتے تھے )
مولاناعبدالصمدرحمانی بھی اس نظام میں حضرت مولاناسجادؒ کےمعاون تھے ، پورے ملک سےہزاروں کی تعدادمیں رضاکارآتے تھے،اورنافرمانی کامظاہرہ کرکےگرفتار ہوتےتھے،حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ نے بڑی حکمت عملی کےساتھ اس مہم کوسرانجام دیا،بلکہ جب بھی جمعیۃ علماء نے یہ نظام قائم کیا،مولانامحمدسجادؒ ہی اس کےسربراہ رہے ،اور دلچسپ بات یہ ہےکہ سب کچھ کرنے کےباوجودآپ کبھی گرفتارنہیں ہوئے،آپ کے شریک کار اوراس نظام میں آپ کےدست راست مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒلکھتے ہیں:
"جمعیۃ علماء ہندنےاس اکیس سالہ سیاسی دورمیں ہندوستان کےاندراسلام
کی سربلندی اورملک ووطن کی آزادی کےلئےبرٹش حکومت کےمقابلہ
میں جب بھی "دائرۂ حربیہ” قائم کرکےسول نافرمانی کاآغازکیا،توہمیشہ
مولانائےموصوف ہی اس ادارہ کےامیریا انچارج مقررہوئےاورمولانا
نےاس بےسروسامان مجلس کےجھنڈےکےنیچےہندوستان کے مختلف
صوبوں کے ہزاروں مسلمانوں کی بہترین قیادت انجام دی اوردائرۂ حربیہ
کےکام کواس خوبی سےانجام دیا کہ اس سےبہتراس اہم اورمشکل مہم کو
انجام دینادوسروں کےلئےبہت مشکل تھا”
شارداایکٹ کے خلاف احتجاج
٭ملک میں جب شارداایکٹ(تحدیدعمرازدواج اورسول میرج قانون) نافذہوا، جس میں لڑکوں اورلڑکیوں کےلئے شادی کی عمرکی تحدیدکی گئی تھی،توحضرت مولاناسجادؒنے الجمعیۃاورجریدۂامارت میں اس کےخلاف مضامین لکھے ،اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ اگر حکومت ان کامطالبہ تسلیم نہ کرے تواس قانون کی نافرمانی کریں ،چنانچہ جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کے اجلاس(۱۱ ،۱۲/اگست ۱۹۲۹؁ء مرادآباد)میں اس کےخلاف زبردست احتجاج کیاگیا۔ اوراس کو مذہب میں مداخلت کےہم معنیٰ قراردیا،پھر جمعیۃ علماء ہندکےنویں اجلاس عام (۳تا۶/مئی ۱۹۳۰؁ء امروہہ)میں شارداایکٹ کےخلاف سخت تجویزمنظورکی گئی ۔
جمعیۃ علماء کےاس فیصلہ کےبعدحضرت مولاناسجادصاحب کےایماپرگیامیں قانون
شکنی کےعنوان سےایک”متحدہ کانفرنس”ہوئی،جس میں علی الاعلان قانون شکنی کے مظاہرےکیے گیے،جس میں خود مولاناسجادؒ بھی بہ نفس نفیس شریک ہوئے،مولاناشاہ محمدعثمانی صاحب نےاس اجلاس کاآنکھوں دیکھاحال نقل کیاہےکہ :
"چندنوجوان ایسی لڑکیوں سےشادی کرناچاہتے تھے،جن کی عمریں
قانون کی مقررکردہ حدسےکم تھیں،لیکن وہ یتیم لڑکیاں تھیں ان
کی دیکھ بھال کرنےوالاکوئی نہتھامولانانے ان کانکاح پڑھایااورمطبوعہ
فارم پر یہ لکھ کر کہ "ہم نےقانون کی خلاف ورزی کی ہے،کیوں
کہ ہم انگریزی حکومت کواس کاحق دینانہیں چاہتے کہوہمسلمانوں
کے معاملہ میں دخل دے،اوریہ کہ نکاح مولانامحمدسجادنےپڑھایا
ہے۔حکومت ہندکوبھیج دیاگیا” ۔
مدح صحابہ ایجی ٹیشن کی قیادت
٭لکھنؤمیں مدح صحابہ ایجی ٹیشن(۱۹۳۸؁ء) بھی جمعیۃ علماء ہندکی اسی پالیسی کاحصہ
تھا،جس میں سول نافرمانی کرکےاہل سنت کی طرف سےگرفتاریاں پیش کی جاتی تھیں ،جس کی
قیادت حضرت شیخ الاسلام مدنی ؒ اورحضرت ابوالمحاسن محمدسجادؒ نےکی ۔
مجلس تحفظ ناموس شریعت کےسربراہ
٭شارداایکٹ (تحدیدعمرازدواج اورسول میرج قانون)کے پاس ہونے کےبعد
جمعیۃ علماء ہندنے آئندہ کےخطرات کےانسدادکےلئے”مجلس تحفظ ناموس شریعت”قائم کی، اوراس کاناظم حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کوبنایاگیا،آپ نےاس مجلس کےذریعہ دیگربہت سے کاموں کےعلاوہ دہلی کی وہ مساجداوراوقاف کی جائیدادیں جومرکزی یاصوبائی حکومتوں کےقبضے میں چلی گئی تھیں ،ان کی واگذاری کی تحریک چلائی ،اورسینکڑوں مساجداوراوقاف کو آزاد کرایا۔
آپ نےمساجدواوقاف کےمتعلق مرکزی اسمبلی میں سوال کرایاتو معلوم ہواکہ حکومت ہندکےقبضہ میں تقریباًپانچ سو(۵۰۰)مساجد ہیں ،اوقاف کےمتعلق کوئی جواب نہیں ملا ۔
آزادہندوستان کادستوراساسی
٭۳/اگست ۱۹۳۱؁ء(۱۸/ربیع الاول ۱۳۵۰؁ھ)کوجمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کےاجلاس سہارن پورمیں آزادہندوستان کےدستوراساسی کامسودہ "جمعیۃ علماء کافارمولہ” کے نام سےپیش کیاگیا ،جس میں تمام مذاہب کی مکمل آزادی،مسلم پرسنل لاء کی حفاظت، اورمسلمانوں کے مخصوص مقدمات مسلم قاضیوں سےفیصل کرائے جانے کی وضاحتیں شامل
تھیں،یہ فارمولہ حضرت مولاناسجاد صاحب کی دماغی کاوشوں کانتیجہ تھا ۔
سیاسی انتخابات میں شرکت کی تجویز
٭جمعیۃ علماء ہندکے پلیٹ فارم سے ترک موالات کافتویٰ آپ نے ہی مرتب کیاتھا ،
اس میں مجالس مقننہ کابھی مقاطعہ کیاگیاتھااوراس کی روشنی میں پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کی شرکت ممنوع تھی۔۔۔لیکن اس کےبعدایسے ارکان منتخب ہوکرمجالس قانون سازمیں پہونچے جن کواپنے دین وملت اورملک وقوم کی کوئی پرواہ نہیں تھی ،اس سے ملت کوسخت نقصانات پہونچے،جس کی وجہ سےکئی لوگ ضرورت محسوس کرنےلگےتھےکہ اس مقاطعہ کاخاتمہ ہونا چاہئے ،تاکہ ملک وملت سے محبت کرنے والے لوگ مجالس مقننہ میں پہونچ سکیں،اس کی پوری روئیدادمولانامحمد عثمان غنی صاحب ؒ کےقلم سےملاحظہ فرمائیں:
"حضرت مولانانے فرمایاکہ جب تک جمعیۃ علماء ہندمقاطعہ کی تجویزواپس نہ لے لےاس وقت تک ہم لوگ کس طرح کسی کی تائید یاحمایت کرسکتے ہیں،میں نے عرض کیاکہ مجالس مقننہ کےارکان کی جوروش ہےاس کودیکھتے ہوئے مقاطعہ کوقائم رکھناجائزقرار نہیں دیاجاسکتا،”اذا ابتلی ببلیتین فاختراھونھما”پرعمل کرناچاہئے،مثال میں ہم نے قاضی احمدحسین صاحب کےوقف بل کی ناکامیابی کوبیان کیاکہ صرف مسلمان ارکان کی حکومت پرستی نےاس مفیدبل کوناکام بنادیا،نیزمرکزی اسمبلی کےبعض ارکان جیسی حرکتیں کررہےتھے،اس کوعرض کیا۔
حضرت مولانانےفرمایاکہ تم جریدۂ امارت میں لکھو،اگرجمعیۃ علماء ہنداپنی عائدکردہ
پابندی ہٹالےتوپھرآئندہ حصہ لیاجائے گا،چنانچہ راقم الحروف نےجریدۂ امارت میں مضامین لکھناشروع کردئیے،اس کےبعدنقیب میں بھی کچھ مضامین لکھے۔
حضرت مولاناکی عادت تھی ،کہ جس معاملہ میں ان کاقلب مطمئن ہوجاتاتھا،پھر اس کوجلدسےجلدانجام دینے کی کوشش کرتے تھے،چنانچہ اس معاملہ میں بھی جب ان کا قلب مطمئن ہوگیا،توانہوں نےجمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ کےاجلاس (منعقدہ۱۴تا۱۶ / جنوری ۱۹۳۴؁ء مرادآباد)میں مجالس مقننہ میں شرکت کی تجویزپیش کردی جومنظورہوگئی،
اس کےبعدربیع الاول ۱۳۵۳؁ھ میں امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ میں بھی حضرت مولانانے اس تجویزکومنظورکرالیااوراسی تجویزکی بنیادپرامارت بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی اور
امارت شرعیہ نےپہلی بارانتخاب میں حصہ لیا” ۔
چھپرہ میں حضرت مولاناسجادؒکےزیرقیادت جمعیۃکی صوبائی کانفرنس
اس موقعہ پر ۱۹۳۸؁ء (۱۳۵۷؁ھ)میں چھپرہ میں جمعیۃ علماء ہندکی صوبائی کانفرنس کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتاہےجوحضرت مولانامحمد سجادؒکے زیرقیادت منعقدہوئی تھی ،یہ کانفرنس کئی اعتبارسےبےحداہمیت کی حامل ہے،حضرت مولاناسجادصاحب چھپرہ تشریف لائے اور مدرسہ وارث العلوم چھپرہ میں قیام پذیرہوئے،حضرت مولانامفتی محمدظفیرالدین مفتاحی ؒسابق مفتی دارالعلوم دیوبندان دنوں اسی مدرسہ میں زیرتعلیم تھے،مفتی صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں:
"۱۹۳۸؁ء میں جمعیۃ العلماء بہار کی صوبائی کانفرنس کے سلسلہ میں مولانا
محمد سجاد صاحبؒ مدرسہ وارث العلوم چھپرہ میں تشریف فرماتھے۔اس
زمانہ میں مسلم لیگ کا دور شباب تھا اور وہ جمعیۃ کی صوبائی کانفرنس کے
سخت مخالف تھے ۔ ہم طلبہ سمجھتے تھے کہ یہ کانفرنس کامیاب شاید نہ ہو
سکے گی، ہم لوگ شہر میں اشتہار تقسیم کر کے واپس ہو تے تھے تو حضرت
مولانا محمد سجاد صاحب ؒ بلا کر پوچھتے تھے عوام اور مسلم رضا کاروں کاتمہارے
ساتھ کیا برتاؤ رہا ۔ ہم بتاتے تھے کہ گالیاں دی گئیں، کہیں علماء کرام
کے خلاف زبان درازیاں ہوئیں ۔ مولانا ان تمام تفصیلات کو غور سے سنتے
تھے اور پھر تشفی کے جملے فرماتے تھے اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے اور
فرماتے تھے کہ ہمت نہ ہارو !کانفرنس کامیاب ہو کر رہے گی، چنانچہ اس
سخت مخالفانہ ماحول میں مولانا کی تدبیروں سے کانفرنس کامیاب رہی،
بڑا خوبصورت پنڈال تیار کرایا گیا ۔ جمعیۃ کا جھنڈا کالاسفید اسی وقت تیار
کرایا اور اس کو بڑے اچھے انداز میں نمایاں کر کے لہرایا، مخالفین پنڈال
اور جھنڈے دیکھنے آتے تھے۔
جس بلڈنگ میں علماء کرام کا قیام تھا وہاں سے لے کر پنڈال تک سڑک
کے دونوں طرف لیگی کالے جھنڈے لے کر کھڑے رہتے تھے اور
مخالف نعرہ لگاتے تھے، یہی حال اس وقت ہو تا تھا جب ہم اسٹیشن سے
مہمانوں کو لے کر قیام گاہ پہنچاتے تھے ، بڑا سخت وقت تھا ، مگر حضرت
پر کبھی کو ئی اثر نہیں دیکھا۔ ہمارے اساتذہ بھی میدان میں جمے ہو ئے
تھے ۔
یوم فلسطین کی تجویز
٭خلافت عثمانیہ کےزوال کےبعدفلسطین کامسئلہ پیچیدہ ہوگیا،اعلان بالفور کے ذریعہ فلسطین میں ایک نئی یہودی مملکت قائم کرنے کامنصوبہ سامنے آیاتویہ مسئلہ اوربھی زیادہ حساس ہوگیا،ان حالات میں ۳/اگست ۱۹۳۸؁ء (۶/جمادی الثانیۃ ۱۳۵۷؁ھ)کو جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ نے سول نافرمانی کی تجویزمنظورکی،جودراصل حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ کی تحریک پرپیش کی گئی تھی ،مولانانے امارت شرعیہ کی طرف سے بھی پورے صوبے میں اس کے خلاف احتجاجی جلوس نکالنے کی ہدایت جاری فرمائی ،جمعہ ۳/ستمبر۱۹۳۷؁ء (۲۶/جمادی الثانیۃ ۱۳۵۶؁ھ)کویوم فلسطین منایاگیا ۔
نظارت امورشرعیہ کامسودہ
٭جمعیۃعلماء ہندنے۱۳۵۸؁ھ مطابق ۱۹۳۹؁ء میں نظارت امورشرعیہ کا منصوبہ پیش کیاجس میں حکومت سے ایک ناظراموراسلامی کےعہدہ کی بحالی کامطالبہ کیاگیاتھا،یہ تجویز دراصل حضرت مولاناسجادصاحبؒ کی تھی ،اور انہوں نےہی اس کامسودہ بھی تیارکیاتھا،بعد میں اس پرغوروخوض کرنے کےلئےجوسب کمیٹی بنائی گئی اس کےروح رواں اورداعی بھی حضرت مولاناسجادصاحب ؒہی تھے،یہ اسکیم مولانا نےدوسال پیشتر۱۹۳۷؁ء(۱۳۵۶؁ھ) ہی میں پیش فرمائی تھی، جیساکہ قانونی مسودےپردرج تاریخ سے معلوم ہوتاہے،جو۱۹۳۹؁ء کے اجلاس میں منظورہوئی،یہ پورا مسودہ مولانامحمدمیاں صاحب کی کتاب "جمعیۃ علماء کیاہے؟
اورحضرت مولاناسجادؒ کےقانونی مسودات کا مجموعہ "قانونی مسودے "میں موجودہے ۔
واردھاتعلیمی اسکیم کاجائزہ
٭اسی اجلاس میں حکومت کی واردھاتعلیمی اسکیم پربھی غورکیاگیا اوراس کے نقائص کا جائزہ لیتےہوئےایک جامع رپورٹ تیارکی گئی ،یہ رپورٹ بھی حضرت مولانا محمدسجادؒ
ہی نےتیارکی تھی،اورآپ کی فکروفن کی شاہکارہے ۔
نہرورپورٹ کابائیکاٹ
٭لندن پارلیامنٹ میں برطانوی وزیراعظم نےتقریرکی جس میں ہندوستانیوں کی غیرت کوچیلنج کیاگیاکہ اگرہندوستان آزادی کامطالبہ کرتاہےتوچاہئےکہ وہ ایک دستوربناکر پیش کرے،ہم اس کومنظورکرلیں گے،اس چیلنج کےجواب میں موتی لال نہروکی سرکردگی میں ایک کمیٹی بنائی گئی،جس نےایک دستوری خاکہ مرتب کیا،جونہرورپورٹ کےنام سے مشہورہوا،بدقسمتی سے اس رپورٹ میں خالص ہندو ذہنیت کی عکاسی تھی،مسلمانوں کے حقوق کی رعایت ملحوظ نہیں رکھی گئی تھی،اس لئےجمعیۃ علماء ہندکےلئےاس کی تائیدممکن نہیں تھی،کانگریس نےنہرورپورٹ پرغوروخوض اوراس کی منظوری کےلئےلکھنؤ میں ۱۹۲۸؁ء (۱۳۴۶؁ھ) کےآخر میں آل پارٹیزکانفرنس بلائی،جمعیۃ علماء ہندکوبھی دعوت ملی،جمعیۃ نےاپنا ایک نمائندہ وفدکانفرنس میں شرکت کےلئے روانہ کیا،جس میں حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب ؒ ،حضرت مولاناحسین احمدمدنیؒ ،حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ،مولانا احمدسعید دہلویؒ،مولاناعبدالحلیم صدیقی،مولاناحسرت موہانیؒ،مولاناحبیب الرحمن لدھیانویؒ، مولانا محمد شفیع فرنگی محلیؒ،مولانامحمدعرفان ؒ،اورمولاناریاست حسین ؒ شامل تھے،جمعیۃ علماء ہند کے نزدیک نہرورپورٹ میں گیارہ(۱۱)بنیادی خامیاں تھیں،جن سے مسلمانوں کی حق تلفی ہوتی تھی، ارکان وفدنے ان خامیوں کواجاگرکیا،اورنہرورپورٹ سے اپنی بیزاری کااعلان کیا،اس موقعہ پرحضرت مولاناسجاد صاحب ؒکی آئین شناشی کےجوہرکھل کرسامنے آئے،اور آپ نے
جمعیۃعلماء بلکہ تمام مسلمانان ہند کی مضبوط نمائندگی فرمائی ۔
جمعیۃ علماء ہندکی قیادت کامسئلہ
٭ہرمشکل وقت میں آپ کی شخصیت جمعیۃعلماء ہند کےلئےمضبوط ڈھال تھی، آپ کی دلیلوں اور حکمت عملی کاکوئی جواب نہیں تھا،ایک موقعہ پرجمعیۃ علماءہند میں مسٹر اور مولاناکی جنگ چھڑگئی ، کچھ لوگ چاہتے تھے کہ جمعیۃ پرسےعلماء کاغلبہ ختم کیاجائے اورقیادت میں انگریزی داں طبقہ کوبھی شامل کیاجائے،مولانامحمدعلی جوہرؒجوحضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒ کے فیض توجہ وارادت سےمسٹرسےمولاناہو گئے تھے،کچھ لوگ ان کوجمعیۃ علماء ہندکا صدربناناچاہتے تھے،اس موقعہ پرمفتی کفایت اللہ ؒ،مولانامحمدسجادؒاورعلامہ انورشاہ کشمیری ؒ وغیرہ نےشدت کے ساتھ ان کوششوں کی مخالفت کی،ان حضرات کی ہمیشہ یہ رائے رہی کہ یہ علماء کی جماعت ہے،اس کےکلیدی عہدوں پرصرف علماء فائز ہوسکتے ہیں ،حضرت مولانا سجاد صاحبؒ کواس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی،ان کےبہت سے قریب ترین لوگ دشمن بن
گئے،لیکن مولاناکےپائے استقامت میں فرق نہیں آیا ۔
بےلوث خدمات
غرض جمعیۃ علماء ہندکےپلیٹ فارم سےحضرت مولاناسجادؒنےبےشماردینی ،ملی وقومی خدمات انجام دیں ،اورکبھی کسی صلہ یاستائش وتحسین کےطلبگارنہیں ہوئے،بے لوث خدمات کاوہ ریکارڈقائم کیاکہ شایدتنظیموں اورجماعتوں کی تاریخ میں ایک دوہی ایسی مثال مل سکےگی ، ہرطرح کےاستحقاق اورلوگوں کےاصرارکےباوجودکبھی اپنےلئےکوئی عہدہ قبول نہیں فرمایا، لیکن کسی عہدہ کےبغیربھی جماعت کی روح رواں بنےرہے،ذمہ دارقائدین گرفتار ہوجاتے تو ان کی ذمہ داریاں بھی آپ اٹھاتےتھے،کئی بارجمعیۃ علماء ہندکےناظم اعلیٰ کے فرائض انجام دئیے،مولانااحمد سعیددہلوی جب بھی گرفتارہوکرجیل گئے توحضرت مولاناابوالمحاسن سجادؒہی قائم مقام ناظم عمومی بنائے گئے
بحیثیت ناظم اعلیٰ جمعیۃعلماء ہند
لیکن جمعیۃ علماء ہندکےبارھویں اجلاس عام (منعقدہ جونپور۲۸، ۲۹/ربیع الثانی ویکم جمادی الاولیٰ ۱۳۵۹؁ھ مطابق۷، ۸، ۹/ جون ۱۹۴۰؁ء) میں جمعیۃ علماء ہندکےجدیددستورالعمل کےپیش نظر جب حضرت شیخ الاسلام مدنیؒ صدرمنتخب کئےگئے ،توحضرت مدنی ؒنےناظم عمومی کےعہدہ کےلئےحضرت مولاناسجاد ؒ کانام یہ کہتے ہوئےپیش فرمایاکہ :”بھائی !جمعیۃ علماء کے سارے کام تومولاناسجادصاحب ؒہی کرتے ہیں ،ان ہی کوناظم عمومی بنایاجائے”،آپ نےہرچند انکارکیا ،امارت شرعیہ ،جمعیۃ علماء بہاراوردیگرمصروفیات کاعذرپیش فرمایا،لیکن ورکنگ کمیٹی کےبے حداصرارپربالآخرقبول کرناپڑا،اس کےبعدتا حیات (۱۷/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ مطابق۱۸/ نومبر ۱۹۴۰؁ء) اس عہدہ پر فائز رہے ۔
"تذکرہ جمعیۃعلماء ہند”کی تصنیف
مگررسمی نظامت کےعہدہ پرفائزہونےکےبعدحیات مستعارکےصرف چندماہ باقی رہ گئے تھے،بمشکل پانچ(۵) ماہ زندہ رہے،اس دوران بحیثیت ناظم اعلیٰ جمعیۃ کےمعمول کی خدمات(اندرونی تنظیم اوربیرونی نشرواشاعت )کے علاوہ آپ نےبڑاکام یہ کیاکہ (مولانااحمدسعیددہلویؒ کےالفاظ میں):
"صرف دودن میں انہوں نےجمعیۃ علماء کی بیس (۲۰)سالہ زندگی کی
ایک مختصر تاریخ لکھ دی”
مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ نےاس تاریخی اوردستاویزی کتاب کاتعارف ان الفاظ میں کرایاہے:
جمعیۃ علماء کی بیس(۲۰)سالہ تبلیغی ،دینی،سیاسی ،اجتماعی خدمات اورعملی
جدوجہدکاایک مرقع تالیف فرمایا،جو”تذکرہ جمعیۃ علماء ہند”کےنام سے
معنون کیاگیا، اور یہ عجیب بات پیش آئی کہ باوجوداس امرکےکہ اس ”
تذکرہ "میں جمعیۃ علماء ہند کی گذشتہ خدمات کی فہرست مرتب کرنے
اورمسلمانان ہندکےسامنےان خدمات کی تفصیل کویکجا کرکےان کی توجہ
کوجمعیۃ علماء ہندکی طرف زیادہ متوجہ کرنےکےسوائےاور کچھ نہ تھا مگر
حکومت دہلی اس کوبھی برداشت نہ کرسکی،اورفوراً اس کوضبط کرلیا،اور
دفتر کی تلاشی لیکراس کی تمام کاپیاں حاصل کرلیں،اورساتھ ہی حضرت
مولانا سید حسین احمد صاحب کاوہ معر کۃ الآراء خطبۂ صدارت بھی ضبط
کرلیاجوجون پورکےاجلاس کی بہترین یادگارہے” ۔
افسوس اس دستاویزی کتاب کی ایک کاپی بھی شایدآج محفوظ نہیں ہے،اگر یہ تذکرہ محفوظ رہتاتوجمعیۃ علماء ہندکی سب سےمستندتاریخ ہونےکےعلاوہ فن تاریخ نویسی کا بھی شاہکارہوتا۔لکن قدراللہ ماشاء۔
البتہ اس کتاب کےبعض اقتباسات حضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ اورحضرت حکیم
الاسلام قاری محمدطیب صاحبؒ نےنقل کئےہیں،جن سےاس تذکرہ کےعلمی وتاریخی رنگ
وآہنگ کااندازہ ہوتاہے، بطورنمونہ چنداقتباسات پیش کئےجاتےہیں:
"اس موقع پرہم اس حقیقت کااظہارکرناضروری سمجھتےہیں،کہ ہندوستان
میں قیام امارت اورنظام شرعی کی ضرورت واہمیت اس موقع پر محسوس
ہونےلگی تھی،جب کہ اسلامی حکومت کا چراغ گل ہورہا تھا ،حضرت
مولاناشاہ عبدالعزیزؒنے اپنےوقت میں قیام امارت کےوجوب کافتویٰ دیا
تھا،چنانچہ اس فتویٰ پرسب سےپہلےاس وقت عمل کیاگیاجب کہ حضرت
سیداحمد بریلوی شہیدؒ کوامام وامیرمنتخب کیاگیا،لیکن اس انقلاب عظیم کے
بعد حالات ناسازگارہوگئے،زبان وقلم پر جبروتی مہریں لگادی گئیں ،مگر
ہمارےاکابر کےدل ودماغ اس تخیل سےکبھی غافل نہیں رہے،اورمقصد
عظیم کی مبادیات میں مشغول رہ کراس وقت کاانتظارکرتےرہے،جب کہ
حالات سازگار ہوں،اوراسلامی نظام جماعتی و شرعی اصول وضوابط سے
قائم کرنا ممکن ہوجائے”(چندسطروں کےبعد) اور جب یہ حالت پیدا
ہوچکی ہےتوضرورت ہےکہ مرکزی نظام شرعی اورقیام امارت فی الہند
کی تجویزکوعملی شکل دی جائے”
پھرآگے چل کرص ۳۴پرارشادفرماتے ہیں:
"مسلمانوں کویقین کرلیناچاہئےکہ ہندوستانی سیاست اور حکومت خواہ
کوئی شکل وصورت اختیارکرےاس کےاندراسلامی سیاست کی رعایت
کوملحوظ رکھنا،پھراسلامی اجتماعی اصول واحکام کوبروئےکارلانابغیراس کے
ناممکن ہے،کہ ایک طرف مسلمانان ہندجمعیۃ علماء ہنداوراس کی شاخوں کو
مضبوط بنائیں،اوراس کی ہرآوازپرلبیک کہیں،اوراس کےدفتراورکاموں
کےلئے بقدروسعت وہمت مال وزرسےاعانت کرتے رہیں۔
دوسری طرف وہ جمعیۃ کی امارت کی اسکیم شرعی اورنظام سیاسی کودل وجان
سے زیادہ عزیزرکھیں،اورتمام ہندوستان میں اس نظام کوقائم کرنےمیں
جمعیۃعلماء ہندکاہاتھ بٹائیں”
واضح رہےکہ اس کتاب پردرج ذیل بزرگوں کےدستخط ثبت تھے:
٭ شیخ الاسلام حضرت مولاناحسین احمدمدنیؒ،مفتی اعظم حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحبؒ،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ،حضرت مولاناعبدالحلیم صدیقیؒ،اور حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ ۔
جمعیۃ علماء ہندکےلئےنئی منصوبہ بندی
٭نظامت اعلیٰ کےعہدہ پرفائزہونےکےبعدآپ نےجماعت کےلئےنئی اسکیم اور نئے خطوط وضع فرمائے،آپ چاہتے تھےکہ نئے حالات میں طوروطریق بدلنےاور نئے مسائل کےلئےنئےاسلحوں سےلیس ہونےکی ضرورت ہے،اس کےلئےانہوں نےایک جامع خاکہ مرتب کیاتھا،اورعملی اقدامات شروع ہی کئےتھے،کہ رب العالمین کی طرف سے بلاواآگیا ،حضرت مولاناسجادؒ کےاولین تذکرہ نگارمولاناعظمت اللہ ملیح آبادیؒ رقمطرازہیں:
"مولانانےجمعیۃ علماء ہندکےتوسیعی نظام کےسلسلےمیں ایک مستقل
پروگرام بنایاتھا،وہ عام مسلمانوں کوجمعیۃ علماء سےوابستہ کرناچاہتے
تھے،اس مشغولیت میں مولاناکی بصارت اورعام صحت کمزورہوگئی
،مگرہمت اوراولوالعزمیوں میں رفعت اوربلندی ہوتی گئی” ۔
آپ کےتلمیذرشیداورتحریکی کاموں میں آپ کےشریک مولانااصغرحسین
صاحب سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ تحریرفرماتے ہیں:
"امسال (۱۹۴۰؁ء)حضرت نائب امیرشریعت کوجمعیۃ علماء ہندنےناظم اعلیٰ
مقررکیاتھا،اوراگرچہ آپ کی ذات اس عہدہ سےپیشتربھی جمعیۃ کےلئے
روح رواں تھی ،لیکن جب ارکان جمعیۃ کےاصرار سےاس عہدۂ نظامت
کی باگ ہاتھ میں لی توایک جدیداسکیم کےماتحت نئے اسلوب سے جمعیۃ کے
چلانےکاکام شروع کردیاتھا،کہ ایسےنازک وقت میں ایثاروعزم کایہ پیکر
مجسم ہمیشہ کےلئےہم سےرخصت ہوگیا ۔
مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ رقمطرازہیں:
"جمعیۃ علماء ہندکی نظامت اعلیٰ کو سنبھالے ہوئے ابھی چندہی مہینےہوئے
تھےاورجمعیۃ علماء کےنظام میں اپنےعہدہ کےپیش نظرتھوڑاہی قدم بڑھایا
تھاکہ پیغام اجل آپہونچااور اس مردحق نےاپنےرفقاء کارکوماہیٔ بےآب
کی طرح تڑپتاہواچھوڑدیا”
بڑے غورسے سن رہاتھا زمانہ
تم ہی سوگئےداستاں کہتےکہتے
جمعیۃ علماء ہند کےدماغ
٭اس طرح حضرت مولاناسجادصاحب جمعیۃ علماء بہار(۱۹۱۷؁ء)سے جمعیۃ علماء ہند(۱۹۱۹؁ء)تک اورپھراس کےبعدسےتاحیات (۱۹۴۰؁ء)تقریباًتئیس (۲۳)سالوں تک جمعیۃ علماء ہندکےروح رواں رہے،بناءسے قیام واستحکام اورزلف وگیسوکی آراستگی تک ہرہرجزومیں مولانا سجادؒکاسوزدماغ اورخون جگرشامل رہا،درحقیقت وہ جمعیۃ علماء ہندکےدماغ اورمرکز اعصاب تھے،مولاناامین احسن اصلاحی لکھتے ہیں :
"میں ہمیشہ سناکرتاتھاکہ مولاناجمعیۃ علماء کےدماغ ہیں ”
٭جمعیۃ علماء ہندکی اکثرتجاویز،منصوبےاورفارمولےحضرت مولاناسجادؒہی کے مرتب کردہ ہیں ۔
ع خدارحمت کندایں عاشقان پاک طینت را
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: