مضامین

جمعیۃ علماء ہند-تفکیر سے تاسیس تک حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒاس کاروان قدس کےپہلےمسافر

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒاس کاروان قدس کےپہلےمسافر
آگےبڑھنےسے پہلےذراایک نظراب تک کےپس منظرپرڈال لیں،یہ پوراپس منظر بتاتاہےکہ جوخواب حضرت مولانامحمدسجادؒنے ۱۹۱۷؁ء سےقبل دیکھاتھا اس کی تکمیل جہد مسلسل کےبعد۱۹۱۹؁ء میں ہوئی ،اورجس”جمعیۃ علماء "کی سنگ بنیادبہارمیں ڈالی گئی تھی ،اسی کی توسیع دو(۲) سال کے بعد جمعیۃ علماء ہند کی شکل میں دہلی میں ہوئی ،اگرجہد مسلسل کے ساتھ ابتدائی فکروتخیل اورعملی آغازکوبھی ہم رشتہ کیاجائے،اور جس طرح حضرت مولاناسجاد صاحبؒ عرصہ تک کل ہندسطح پراس کے قیام کےلئے کوشاں رہے،لوگوں سے مراسلتیں کیں،ہندوستان کے اکثربڑے شہروں کے اسفارکئے،ملک کی اکثر سرکردہ شخصیتوں سے بلا امتیازمسلک ومشرب رابطے کئے،طرح طرح کےسوالات وجوابات کاسامناکیا،توحضرت مولاناسجادؒجمعیۃ علماء کے بانیوں کی صف اول میں نہیں بلکہ بانی اول اورمحرک اول نظرآتے ہیں،یہ آپ ہی کی شخصیت تھی جن کی قوت انجذاب اور علمی وعملی طاقت نے ملک کےمختلف المشرب اورمتنوع الخیال علماء ،مشائخ ، دانشوروں،اور اداروں کوایک مرکزاتفاق پرجمع کردیا تھا،ورنہ حالات اور مسائل نےشخصیتوں ،علمی مراکز، دینی اداروں اورروحانی خانقاہوں کے درمیان اتنےفاصلے پیداکردئیےتھے، کہ ان کوپاٹنا،دوریوں کونزدیکیوں میں تبدیل کرنااور اختلافات کوختم کئے بغیرمحض کلمہ کی بنیاد پر اتفاق قائم کرناآسان نہ تھا،یہ حضرت ابوالمحاسنؒ ہی کی شخصیت تھی جن کومن جانب اللہ یہ توفیق میسر ہوئی،جواس ہمالیائی چوٹی کوسرکرنےمیں کامیاب ہوئے،اورجنہوں نےیہ کانٹوں بھرا تاج اپنےسرپررکھا،انہوں نےایک ایک ساتھی کوآوازلگائی اورجب کہیں سےکوئی جواب نہ ملاتو رفقاء سفرکی پرواہ کئےبغیرتنہااس راہ پرخار پر
چل پڑے،اورپھر۔۔۔۔کارواں بنتاگیا،بقول شاعر
؎ میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ ہوتے گئےاورکارواں بنتاگیا
جمعیۃ علماء ہندکااصل بانی کون ؟-تحقیق وتنقیح
دراصل یہ سوال پچھلی کئی دہائیوں سے متجسس دماغوں میں گردش کررہاہےکہ اس
کاروان قدس کااولین علمبردارکون تھا؟یہ ایک فطری سوال ہے،جوتاریخ کےطالب علم کے سامنےرہ رہ کرکھڑاہوتاہے،مولاناحفیظ الرحمن واصف ؔصاحب نے بھی یہ سوال اٹھایاہے، لکھتےہیں:
"اب سوال یہ پیداہوتاہےکہ جمعیۃ کاقیام یاانعقادجن پچیس علماء کی موجودگی
میں ہواکیایہ سب کےسب اس کےبانی ہیں،بانی تودراصل ایک ہی ہوتاہے
یہ بات ناممکن نہ سہی لیکن عام تجربہ اورمشاہدہ کےتوخلاف ہے،کہ ایک
خیال اتنے کثیراشخاص کےدماغ میں بیک وقت پیداہوجائے،اورسب کے
سب ایک ہی خیال کولےکربیک وقت ایک جگہ مجتمع ہوجائیں۔۔۔۔یہ ایک
قدرتی سوال تھاجوراقم الحروف کے دل میں بھی پیداہواتھااوراس وقت
حضرت والدماجدؒوفات پاچکےتھے”
ظاہرہےکہ اس سوال کاصحیح جواب تواسی وقت مل سکتاتھاجب ابتدائی دنوں اس کی رپورٹ شائع ہوئی تھی،اس وقت تمام اصحاب معاملہ اورعینی مشاہدین موجودتھے،مگر ان دنوں مصلحت کی چادراتنی دبیزاورحالات اس قدرنازک تھےکہ کسی ایک شخص کےسراس اقدام کی ذمہ داری ڈالی نہیں جاسکتی تھی،اس لئےمولانااحمدسعیددہلوی ؒ کی پہلی مطبوعہ رپورٹ میں اس اقدام کوپوری جماعت کی طرف منسوب کردیاگیاتاکہ کوئی ایک شخص کسی آزمائش کا شکارنہ ہواوراجتماعی طاقت کےساتھ یہ کام آگےبڑھ سکے،یہ مصلحت خودحضرت مولانا احمد سعیددہلوی ؒ کےحوالےسےمولاناواصف صاحب نےنقل کی ہے، لکھتے ہیں:
"مختصرحالات انعقاد”۔میں کسی شخص واحدکانام ظاہرنہیں کیاگیابس اتنا
لکھا ہےکہ "تمام علماء موجودین نےایک جلسہ منعقدکیاجس میں صرف
حضرات علماء ہی شریک ہوئے” یہ نہیں ظاہرکیاگیاکہ کس کی دعوت پر
یہ جلسہ منعقد ہوا تھایاخودبخودایک ہی جگہ ایک ہی مقصدلےکرسب
اکٹھے ہوگئےتھے۔۔۔
راقم الحروف نے ( مولانااحمدسعیددہلویؒ سے)سوال کیاکہ آپ نےجو
انعقاد جمعیۃ کےمختصرحالات شائع کئےتھےاس میں یہ تفصیل کیوں نہیں
دی گئی ہے؟فرمایا،میاں!دکھانایہی تھاکہ یہ جمعیۃ کسی شخص واحدنےنہیں
بنائی بلکہ بہت سے مختلف الخیال علماء نےمل کراپنی متفقہ رائےسےبنائی
ہے،اوربھئی عہدوپیمان والی بات توویسےبھی کھولنےوالی بات نہیں تھی
یعنی رپورٹ کایہ اندازاس وقت کےحالات کےتناظرمیں مصلحتاًمحض دکھانے کے
لئےاختیارکیاگیاتھا،ورنہ حقیقت میں اس فکرکااولین داعی کوئی نہ کوئی شخص واحدضرور تھا ،جس کواس وقت ظاہرنہیں کیاجاسکتا تھا ،لیکن وہ شخصیت کون تھی؟جس نےساری زندگی اپنےآپ کوپردۂ رازمیں رکھا،مولاناواصف صاحب کےالفاظ میں:
"اصل بانی ومؤسس جوکوئی بھی تھاوہ معاملےکی پیچیدگی اور علماء کی
نازک مزاجی کوسمجھتاتھا،اوروہ اس جماعت کو مسلمانوں کی ایک متحدہ
طاقت بناناچاہتاتھاوہ نہیں چاہتاتھاکہ یہ جماعت کسی ایک گروہ کی طرف
منسوب ہوکررہ جائےورنہ دوسرےمکاتیب خیال کےعلماء ذوق وشوق
کےساتھ جماعت میں شامل نہیں ہونگے،ان وجوہ کی بناپربانی نےعمر
بھر اپنےآپ کوظاہرنہیں ہونےدیا،اوراپنےنام کاپروپیگنڈہ نہیں کیا،
ظرف کی یہ گنجائش کیاقابل دادنہیں ہے؟
مشکل یہ ہےکہ جب اس سوال کاجواب دینےوالےاصل لوگ موجودتھےتو حالات مناسب نہیں تھےاورجب حالات معمول پرآئےتووہ لوگ رخصت ہوگئے،اس لئے بعدکےادوارمیں اس سوال کاصحیح جواب نہیں دیاجاسکا،مختلف حلقوں کی جانب سےمختلف قیاسات اوردعاوی پیش کئےگئے، مثلاً:
مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحبؒ ؟
٭مولاناواصف صاحب نےبعض رپورٹوں اوربیانات کی بنیادپریہ خیال پیش کیا ہےکہ اس جماعت کےاصل داعی اوربانی ان کےوالدماجدمفتی اعظم حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ ہیں ۔
حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ ؟
٭فرنگی محل حلقہ سےمولاناعنایت اللہ فرنگی محلی ؒتلمیذرشیدحضرت مولانا
عبدالباری فرنگی محلی ؒ اورمولاناقطب الدین عبدالوالی فرنگی محلی ؒکا(بھی تقریباً)دعویٰ یہ ہےکہ
"حضرت مولاناعبدالباری ؒنےخدام کعبہ ، خلافت کمیٹی اورجمعیۃ علماء
کاسنگ بنیادرکھااوریہ ذرابھی مبالغہ نہیں ہےکہ جمعیۃ العلماء اورخدام
کعبہ کےبانی اورمؤسس حضرت استاذہی تھے
نیزحسرۃ الآفاق میں لکھتےہیں:
"امرتسرپہونچ کرمولاناموصوف(حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ)
نےان علماء سےجوتمام ہندوستان سےوہاں جمع ہوئےتھے،مشورہ کیااور
پہلےپہل علماء کی سیاسی انجمن "جمعیۃ علماء” قائم ہوئی”
مولاناابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری؟
٭حلقۂ اہل حدیث مولاناابوالوفاثناء اللہ امرتسری ؒ کی ایک تحریرکی بنیادپرمولانا امرتسری کواس کابانی تصورکرتاہے،مولاناثناء اللہ امرتسری صاحب ؒ کا ایک مضمون اخباراہل حدیث میں شائع ہواتھا،اس میں وہ لکھتے ہیں:
"دہلی میں ایک تبلیغی جلسہ ہواجس میں میں بھی شریک تھا،بعدفراغت
خاص احباب کی مجلس میں میں نےیہ تحریک کی کہ ہمیشہ کےلئےعلماء کی
ایک جماعت منظم ہونی چاہئے،اس جلسہ میں مولاناابراہیم سیالکوٹی کے
علاوہ اورکئی اصحاب میرے ہم رائےشریک تھےانہوں نےمیری تائید
کی،جس کانتیجہ یہ ہواکہ جمعیۃ العلماء کاایک خام ساڈھانچہ تیارہوگیاجس
کےصدرمولاناکفایت اللہ صاحب اورناظم مولوی احمدسعیدصاحب مقرر
ہوئے ۔۔۔یہ تھی جمعیۃالعلماء کی پہلی میٹنگ اورپہلاریزولیشن جودراصل
آئندہ کےلئےایک بنیادی پتھرتھا”
اس طرح تین حلقوں سےتین مختلف دعاوی سامنےآگئے،اس کی تطبیق مولانا واصف صاحب نےیہ پیش کی ہےکہ ان بزرگوں نےاپنےاپنےحلقےمیں یہ تحریک چلائی اور قیام جمعیۃ کےلئےاس کوہموارکیا:
"بظاہران تینوں بیانوں میں تعارض معلوم ہوتاہےاوروجہ توافق ان میں
یہ ہے کہ ایک طبقے کوحضرت مولاناعبدالباریؒ نےہموارکیا،اورایک
طبقہ کومولاناثناء اللہ نے سنبھالا اور خلوص وللہیت کےساتھ سب کو
ایک پلیٹ فارم پرجمع کردیا”
مولاناواصف صاحبؒ نےتین میں سےصرف دوحلقوں کاذکرکیاہے، تیسرا طبقہ "حلقۂ دیوبند”ہےجس کی قیادت ابتداسےحضرت مفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کررہےتھے،اس طرح مولاناواصف صاحب کےتجزیہ کےمطابق حلقہ وارتین (۳)الگ الگ بانی قرارپاتےہیں ، لیکن وہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہےکہ اس تخیل کااولین داعی کون ہےجس نےان طبقات سےبالاترہوکرسب سےپہلےاس فکرکی تخم ریزی کی؟
مفکراسلام ابوالمحاسن حضرت مولانامحمدسجادؒ-بانی اول
انجمن علماء بہار(جمعیۃ علماء بہار)کےقیام (۱۹۱۷؁ء)کےپس منظرسے لےکرجمعیۃ علماء
ہندکی تاسیس (۱۹۱۹؁ء)تک کی جوتفصیل تاریخی حوالوں اورعینی مشاہدین کےبیانات کی روشنی میں پہلےآچکی ہےاس کی روشنی میں حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒ کےاسم گرامی کے علاوہ اس سوال کاکوئی دوسراجواب نہیں ہوسکتا۔۔تاریخی اعتبارسے اس تنظیم کاپہلا تصور، پھر تحریک ودعوت اورپھرپہلاعملی اقدام صرف حضرت مولاناسجادؒ کےیہاں ملتاہے،۔۔۔ حضرت مولانااحمدسعیددہلوی ؒ کےبیان کےمطابق حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب کو یہ خیال سب سےپہلے ۱۹۱۸؁ء میں پیداہوا ،مولاناقطب الدین عبدالولی فرنگی محلی ؒ کے مطابق حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی ؒکی اس فکرکاسررشتہ اجلاس انجمن مؤیدالاسلام لکھنؤ (۱۹۱۸ء؁)سےملتاہے ،اورمولاناثناء اللہ امرتسری ؒ کی تحریک اجلاس دہلی (نومبر ۱۹۱۹؁ء) سےوابستہ ہے ۔۔جبکہ حضرت مولاناسجادؒکےیہاں یہ تخیل ۱۹۱۷؁ء سےبھی قبل سےپایا جاتاہے،اورایسانہیں تھاکہ مولاناؒکےذہن میں صرف علماءبہارکی تنظیم کامحدودتصورتھا،بلکہ پیچھے تفصیل گذرچکی ہےکہ مولاناؒنے۱۹۱۷؁ء سےقبل پہلےپورےملک کادورہ کیاتھا،علماء اور مشائخ سےانفرادی اوراجتماعی ملاقاتیں کی تھیں،اوران کوعلماء کی کل ہندتنظیم قائم کرنےکی دعوت دی تھی،اورپھرانجمن علماءبہارکی صورت میں پہلاعملی نمونہ بھی قائم کردیاتھا،مولاناؒ نےانجمن علماء بہارکےجلسوں میں پورےملک سےنمائندہ شخصیتوں کوبلایا ،اس طرح مولاناکی یہ تحریک پورے ملک میں بہت جلدمتعارف ہوگئی اورکل ہندجمعیۃ کےقیام کےلئےراہ ہموارہو گئی ۔
پھر جب کل ہندجمعیۃ علماء ہندکی تاسیس ہوئی توراجح قول کےمطابق اس جلسہ میں
بھی خودبنفس نفیس تشریف لےگئےاورتحریک وعمل میں پیش پیش رہے،اوراگر بالفرض مولاناؒکی خودشرکت کسی مجبوری کی بناپرنہ بھی ہوسکی ہو(جیساکہ بعض حضرات کاخیال ہے)توآپ نےمولاناعبدالحکیم صاحب کواپناقائم مقام بناکراورپیام دےکربھیج دیاتھا، علاوہ انجمن علماء بہارکےدیگرممبران بھی شریک ہوئےتھےحضرت مولاناؒکی نمائندگی اورابتدائی تخیل میں توکسی صاحب علم کوکلام نہیں ہے،مولانا واصف صاحب ؒ لکھتےہیں۔
"حضرت مولانامحمدسجادقدس سرہ (المتوفیٰ ۱۸/شوال ۱۳۵۹؁ھ بمقام پھلواری
شریف)اگرچہ اس موقع پردہلی تشریف نہیں لاسکے،مولاناعبدالحکیم گیاوی
جوان کےخاص شاگرداورمعتمدرفیق کارتھےان کےنمائندے اورقائم مقام
کی حیثیت سےخلافت کانفرنس کی شرکت کےلئےدہلی تشریف لائےتھے
،اور جمعیۃ کی تاسیس والےاجتماع میں بھی شریک ہوئےتھے، لیکن ابتدائی
تخیل میں مولاناسجادؒ کابھی عظیم الشان کردارہے”
تاریخی طورپرحضرت مولاناسجادؒسےقبل ہندوستان کےکسی بھی خطہ وحلقہ میں اس فکرودعوت کی بازگشت سنائی نہیں دیتی ،پس مولاناسجادؒہی حقیقت میں جمعیۃ علماء ہند کےاولین داعی وبانی قرارپاتےہیں۔
مکتوب سجادؒسےرہنمائی
اس کی سب سے بڑی سندخودصاحب واقعہ حضرت مولانامحمدسجادؒ کاوہ مکتوب گرامی ہےجوانہوں نےامارت شرعیہ کی تشکیل وتحریک کےموقعہ پرعلماء ومشائخ بہارکےنام لکھا تھا ، جس میں انہوں نےاپنےدل کادرد کھول کررکھ دیاہے،مکتوب میں اپنےماضی کےتجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئےقیام جمعیۃ کےاس مشکل اوردشوارترین سفرکاحوالہ دیاہے،جو امارت شرعیہ کی اگلی منزل کےلئےنظیربن سکتاتھا،مولاناؒنےاس میں یہ خیال پیش فرمایا ہے کہ جس طرح جمعیۃ علماء ہندجمعیۃ علماء بہارکےپس منظرسےنکل کروجودمیں آئی،اسی طرح ان شاء اللہ امارت شرعیہ بہارکےبطن سے آئندہ امارت شرعیہ ہندبھی جنم لے گی،حضرت مولانا کےمکتوب کایہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے،اوران سطورکےپس منظرمیں ڈوب کرپورےتاریخی منظرنامہ کودھیان میں رکھئے:
” غالباً آپ کو معلوم ہوگاکہ جس زمانہ میں جمعیۃ علماء بہارجن
اغراض ومقاصدکولےکرقائم ہوئی ،وہ سرزمین ہندمیں اس جہت سےپہلی
جمعیۃ تھی،اس وقت علماء کرام اقدام سےگھبراتے تھےحتی کہ خودہمارے
صوبہ کےبہتیرےعلماء کرام پس وپیش میں مبتلاتھے،مگرآپ نےدیکھا کہ
آپ کےاقدام وجرأت کاکیانتیجہ برآمدہواکہ آخرمیں اس تین سال میں
انہی مقاصد کولےکرتقریباًتمام صوبوں میں جمعیۃ علماء قائم ہوگئی،اوروہی
فروعی اختلافات کاپہاڑجوہمیشہ اس راہ میں حائل تھا،کس طرح کافور ہوگیا
،پس اسی طرح بہت ممکن ہےکہ بلکہ ظن غالب ہےکہ صوبہ بہارمیں اسی
کام کے انجام پانے کےبعدان شاء اللہ تعالیٰ تمام صوبوں میں امیروں کا
انتخاب جلداز جلد عمل میں آئے گا،اورجس طرح جمعیۃ علماء ہندبعدمیں
قائم ہوئی اسی طرح امیرالہندبھی آخر نہایت آسانی کےساتھ منتخب
ہوجائے گا” ۔
اس مکتوب سےصاف معلوم ہوتاہےکہ حضرت مولاناسجادصاحبؒ کےنزدیک جمعیۃ علماء بہارہی جمعیۃ علماء ہندکانقطۂ آغاز تھی،اورظاہرہےکہ مولاناسجادصاحب ؒکےغلط کہنےکی کوئی وجہ نہیں ہے،اس لئےکہ جس شخص نےہرجگہ اپنےآپ کومٹایااوردوسروں کو بڑھایا، اور جس کےصدق واخلاص کی دشمنوں نےبھی قسمیں کھائیں،ظاہرہےکہ وہ خلاف واقعہ اتنا بڑا دعویٰ نہیں کرسکتےتھے۔
علماء اوردانشوروں کی شہادتیں
علاوہ اس کی شہادت وقت کےدیگراکابراورحالات اورپس منظرسےبراہ راست واقفیت رکھنےوالےعلماء اوردانشوروں نےبھی دی ہے،جن میں اکثرشنیدہ نہیں دیدہ کی حیثیت رکھتی ہیں،ان میں بعض صراحت کےساتھ ہےاوربعض اشاراتی زبان میں،مثلاً:
٭حضرت علامہ مناظراحسن گیلانیؒ جوجمعیۃ علماءکےپورےپس منظرسے نہ صرف واقف تھے ، بلکہ اس کےابتدائی پروگراموں میں شریک بھی رہےتھے،تحریرفرماتے ہیں:
"اس وقت تک دلی کی جمعیۃ العلماء کا خواب بھی نہ دیکھاگیاتھا،طے
ہواکہ صوبۂ بہارکےعلماء کوپہلےایک نقطہ پرمتحدکیاجائے،پھربتدریج
اس کادائرہ بڑھایاجائے۔۔۔۔۔دلی میں بہاروالی جمعیۃ ،جمعیۃ العلماء ہند
کے نام سے چمکی،اورایسی چمکی کہ ایک زمانہ تک کم ازکم مسلمانوں کی
سیاسی جدوجہدکاوہ ایساممتازادارہ رہاجس کامقابلہ مدت تک کوئی اسلامی
سیاسی ادارہ نہ کرسکا،حالانکہ خلافت کانفرنس کابڑازور تھا،لیکن گیاکے
میدانوں میں آکردنیانےتماشاکیاکہجس جمعیۃ کی بنیادبہارمیں رکھی گئی
تھی،وہبھی ایک خالص ہندوشہراوربودھشٹ مرکزمیں ،ایک ایسے روشن
چراغ کواپنے ہاتھ میں لئے ہوئی تھی، کہ اس کے سامنے کانگریس کا
آفتاب ،اورخلافت کاماہتاب بھی شرمانے لگا،اوراس کااعتراف اپنوں ،
غیروں سبھوں نےکیااسی کااعتراف نہیں،بلکہ اس کا بھی کہ سارے
ہندوستان کاسب سےنمایاں اجلاس جمعیۃ علماء گیاکااجلاس تھا،اورجمعیۃ
علماء گیاکااجلاس صرف ایک واحدشخصیت(حضرت مولاناسجادؒ)کیعملی
قوتوں کامظہرتھاجس کےمعنیٰ یہی ہوئےکہ اس وقت سارےہندوستان
کی بڑی نمایاں ہستی حضرت مولانا محمدسجادؒکی تھی ، جمعیۃ علماء اس کے
بعدبھی بڑھتی رہی ،چمکتی رہی ،لیکن جاننےوالےجانتے ہیں کہ صرف
گیاکا اجلاس نہیں ،بلکہ جمعیۃ کےجتنےاجلاس ہوتے رہےاس کی بولنے
والی روح وہی خاموش زبان تھی ،جوزندگی میں بھی خاموش رہنے کے
باوجود سب سے زیادہ بولنےوالی تھی” ۔
٭مولاناشاہ محمدعثمانیؒ گیاکےرہنےوالےتھے،ان کاپوراخاندان حضرت مولانا سجاد صاحبؒ اورجمعیۃ علماء ہندسے وابستہ تھا،بڑی حدتک انہوں نے اس زمانہ کے منظرکو یادرکھا تھا، وہ لکھتے ہیں:
"مولانانےجمعیۃ علماء ہندکی طرح کل ہندامارت شرعیہ کےقیام کی
کوشش کی،اورجس طرح ان کوجمعیۃ علماء بہارقائم کرنی پڑی،اسی
طرح ان کوپہلےامارت شرعیہ بہارواڑیسہ کانظام قائم کرناپڑا،گویا
مولانا ابوالمحاسن سجادجمعیۃ علماء اورامارت شرعیہ دونوں کےبانی ہیں،
یعنی ان ہی کی فکرکی بنیادپردونوں جماعتوں کاظہورہوا ۔
٭حضرت مولاناسعیداحمداکبرآبادی ؒ نےبرہان میں حضرت مولاناسجادؒکی وفات پرایک زبردست مضمون لکھاتھا،بہت کم اہل علم کواس مضمون کی خبرہے،اس میں تحریر فرماتےہیں کہ :
"۱۵؁ءمیں حضرت شیخ الہندؒاپنےچندخادموں سمیت مکہ معظمہ چلےگئے
اوروہاں سےگرفتارکرکےمالٹامیں نظربندکردئیےگئےتومولاناابوالمحاسنؒ
نےہندوستان کےمختلف مقامات کادورہ کرکےعلماء وصوفیاء اورتعلیم
یافتہ لوگوں کوان کی ذمہ داریاں یاددلائیں اور ان کوتحریک آزادی
میں شریک ہونےپرآمادہ کیا، ۱۷؁ء میں مدرسہ انوارالعلوم کےسالانہ
جلسہ کےموقع پرآپ نےجمعیۃ علماء بہارکی طرح ڈالی ،آپ کےاتباع
میں دوسرےصوبہ کےعلماء نےبھی اس طرف توجہ کی اور صوبائی
جمعیۃ العلماء قائم کرکےاپنی تنظیمی جدوجہدکاآغازکردیا”
ظاہرہےکہ جس کی اتباع کی جائےگی وہی اس کااصل بانی قرارپائےگا۔
حضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ امارت شرعیہ کےپس منظرکےضمن میں لکھتے ہیں:
"آپ کےاولوالعزمانہ قوت فیصلہ نےآپ کےقلب میں اس ارادہ
کوراسخ کردیا،کہ علماء کی جمعیۃ کی طرح بغیرکسی انتظار وتعویق کے
امارت کےمسئلہ کی بنیادبھی پہلےصوبہ بہارہی میں رکھی جائے”
٭اوراس سلسلہ کی ایک اہم ترین داخلی شہادت مولاناعظمت اللہ ملیح آبادی کی ہے، جس کوخوددفترجمعیۃ علماء ہندکی توثیق حاصل ہے،اس لئےکہ مولاناعظمت اللہ ملیح آبادی ؒ کی کتاب "حیات سجاد”(مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہندنائب امیرشریعت کےمختصر حالات)”مولانا عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیۃ علماء ہند کےحسب ارشادشائع ہوئی تھی، اس کتاب کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ حضرت مولاناسجادؒپرلکھی جانے والی دستیاب تحریرات میں یہ سب سےقدیم ترین تحریرہے،یہ پہلے مضمون کی صورت میں حضرت مولانا سجادؒکےوصال کےمعاً بعداخبار”مدینہ ” میں شائع ہوئی تھی،بعدمیں اس کوکتابی شکل دی گئی، اور خودناظم جمعیۃ علماء ہند مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نےاسے اہتمام کے ساتھ شائع کرایا ،مولانامسعودعالم ندوی کی کتاب”محاسن سجاد” اس کےبعد شائع ہوئی ،اس کی دلیل یہ ہےکہ محاسن سجادمیں مولانا عبدالحکیم اوگانوی ؒکےمضمون میں اس مضمون کا حوالہ دیاگیاہے ۔
مولاناعظمت اللہ صاحب ملیح آبادی ؒ نےنہ صرف حضرت مولانامحمدسجادؒکوجمعیۃ علماء ہندکےبانیوں میں شمارکیاہے،بلکہ آپ کوواضح الفاظ میں "بانی اول” قرار دیاہے،مولاناعظمت اللہ ملیح آبادی کے مختصرکتابچہ کےیہ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :
"یہ وہ زمانہ تھاکہ ملک میں یا خیر خواہی اوروفاداری تھی یاخاموشی تھی یا
گوشہ نشینی تھی،مولانانےہندوستان کے مختلف مقامات کادورہ کیا،علماء
صوفیاءاورتعلیم یافتہ لوگوں کوان کی ذمہ داریاں یاددلائیں،لوگ آپ کے
مخلصانہ جذبات اورفداکارانہ عمل کو دیکھ کر تحریک حریت میں شریک
ہوئے۔۔۔۔اس وقت تک ہندوستان میں علماء کاکوئی باقاعدہ نظام نہ تھا،نہ
علماء میں جماعتی زندگی کااحساس تھاپوری فضائے ہندتنظیم علماء کی تحریک
سےخاموش تھی،مولاناکوعلماء کی جماعتی زندگی کاخیال آیا،اور۱۹۱۷؁ء میں
مدرسہ انوارالعلوم کےسالانہ اجلاس کےموقعہ پرجمعیۃالعلماء بہارکی طرح
ڈالی،اس کےدیکھادیکھی دوسرے صوبوں میں بھی جمعیۃ علماء قائم کرنے
کی ضرورت محسوس ہونےلگی ۔۔۔۔۔۱۹۱۹؁ء میں ہندوستان کی فضاتحریک
آزادی کی پکارسےگونج رہی تھی،عام سیاسی حالات جلدجلدبدل رہےتھے
،قومی حقوق کےتحفظ اورملک کی آزادی کاسوال اہمیت اختیار کررہا تھا،
انفرادی اورشخصی رائے کی کوئی حیثیت نہ رہی تھی،ان ہنگامہ خیزحالات اور
حریت پرورفضامیں علماء نےاپنی مرکزیت اوراجتماعی زندگی کی ضرورت کو
محسوس کیا،مولانا جواس تحریک کےبانی اول تھےان نازک حالات میں
جمعیۃعلماء ہندکےقائم کرنےمیں کامیاب ہوگئے،اس طرح ہندوستان کے
تمام علماء نےایک مرکزپرجمع ہوکرملک وملت کی خدمت کاتجدیدعہدکیا،
ہندوستان کے مسلمانوں کی توجہ عام طورپراب جمعیۃ علماء کی طرف
ہوگئی،لوگ جمعیۃ علماء کےفیصلوں کےمنتظر رہنےلگے۱۹۲۰؁ء میں جمعیۃ
علماء ہندکااجلاس دہلی میں ہواجلسہ کےصدر حضرت شیخ الہندتھے،اس
جلسہ میں ہندوستان بھرسےبہت بڑی تعدادمیں علماء شریک ہوئےتھے” ۔
٭نیزاس بات کابرملااعتراف جمعیۃ علماءہندکےاس تاریخی اجلاس میں بھی کیاگیا جس میں امارت شرعیہ کاقیام عمل میں آیا،اور جس کی صدارت مولاناابوالکلام آزادؒ نے کی تھی ،اورجس میں جمعیۃ علماءہنداورملک کی ذمہ دارہستیاں موجودتھیں،اس اہم اورتاریخ ساز اجلاس میں صدرمجلس استقبالیہ مولاناسیدشاہ حافظ حبیب الحق سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ منگل تالاب پٹنہ نے اپنے خطبۂ استقبالیہ کاآغاز ان الفاظ سے کیا:
"سب سے پہلےاسی صوبہ کےعلماء چونکہ غفلت سے ہوشیارہوئے،اورجمعیۃ
علماءکی بنیادڈالی،بکھرے ہوئے شیرازہ کااستحکام شروع کیا،ہماری اصلاح کی
طرف مخاطب ہوئے، حالات موجودہ پرغوروفکرکی تدبیریں نکالیں ،اس
طرح اب امیرشریعت کے لئے بھی سب سے پہلے یہی صوبہ آگے بڑھا،خدا
اسے کامیاب کرے ”
ظاہرہےکہ بہارمیں جمعیۃعلماءکی بنیادحضرت مولانامحمدسجادؒنےہی ڈالی تھی،یہ گویا پورےمجمع کی طرف سےحضرت مولاناسجادؒکےبانی جمعیۃ ہونے پرخاموش اجتماعی شہادت تھی۔
٭مولوی سیدمجتبیٰ آرگنائزرمحکمۂ دیہات سدھاربہارلکھتے ہیں:
"جمعیۃ علماء ہندکی تاریخ امارت شرعیہ سےاس طرح وابستہ ہےجیسے
دوتوأم ہستیاں،اوراس رشتۂ اتحادخیال وعمل میں بھی صرف ایک
واحدروح سرایت کررہی تھی۔۔ان تمام شئون ماضیہ میں بس ایک
روح جلوہ فرماتھی،اوروہ روح سجادؒتھی ”
٭حضرت علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ لکھتے ہیں :
"یہ مولاناؒ ہی کی قوت جاذبہ تھی جومختلف الخیال علماء اورمختلف الرائے
سیاسی رہنماؤں اور قومی کارکنوں کوایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پرجمع
کئےاورایک شیرازہ میں باندھے ہوئی تھی” ۔
٭حضرت مولاناسجاد صاحبؒ کو انسانوں کی منتشرصلاحیتوں کوسمیٹنے میں کیساکمال حاصل تھا،اورسب کولےکر چلنے کی ان میں کیسی صلاحیت تھی ؟اورکس طرح مختلف المزاج اصحاب کمال کو انہوں نےجمعیۃ سے وابستہ کیا،اور جمعیۃ کےخلاف کوئی طوفان اٹھاتومضبوط چٹان بن کراس کے سامنےسینہ سپرہوگئے،جمعیۃ کےپروگراموں میں شریک ہونےوالے مولاناامین احسن اصلاحی سےاس کی تفصیل سنئے:
"دوسری خوبی جواس صحبت میں سمجھ میں آئی،وہ ان کی رواداری
اورفیاضی تھی،میں ان کوایک مخصوص جماعت کاآدمی سجھتاتھا،
لیکن اس ملاقات میں میں نےمحسوس کیاکہ ان کےدماغ کی طرح
ان کادل بھی بہت کشادہ ہے،وہ کسی خاص دائرہ کےاندربندنہیں
ہیں ،وہ سب کےساتھ اورسب سےالگ ہیں،۔۔۔ان کی اس خوبی
نےمیرےدل کوجیت لیااورمیں نےیقین کرلیاکہ اسی چیزکےاندر
ان کی تنظیمی قابلیت کارازمضمرہے۔۔۔
جمعیۃ علماء کےجوجلسےگذشتہ چندسالوں کےاندرہوئے ہیں،ان میں
سےبعض میں مولاناہی کی دعوت پرمیں شریک ہوا،ان جلسوں کی
مخالفت میں جوہنگامےاٹھےان کےتصورسےرونگٹےکھڑےہوتے
ہیں،بعض مرتبہ تومخالفین کی خوش تمیزیاں ایسی ہولناک شکل اختیار
کرلیتی تھیں،کہ آدمی کےہاتھ سےدامن صبرچھوٹ جائےیا دامن
امید،اورظاہرہےکہ ان تمام یورشوں کااصلی نشانہ کم ازکم صوبۂ بہار
میں مولاناہی کی ذات تھی،مگر میں نےکبھی نہیں دیکھا،کہ مولاناان
ہنگاموں سےایک لمحہ کےلئےبھی بےحوصلہ یابےصبر ہوئے ہوں،
ان کادماغ ہمیشہ پرسکون اوردل ہرحالت میں مطمئن رہتاتھا ۔
٭اورتکوینی طورپرایک بڑی دلیل یہ بھی محسوس ہوتی ہےکہ جب حضرت مولانا سجادؒکاوصال(۱۸/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ)ہواتوجمعیۃ علماء ہندکی طرف سےایک سےزائدبار تجاویزتعزیت منظور کی گئیں،اورسب سےاہم بات یہ ہےکہ جمعیۃعلماء ہندکی اپیل پرپورے ملک میں۲۸/شوال المکرم ۱۳۵۹؁ھ مطابق۲۹/نومبر۱۹۴۰؁ء کو”یوم سجاد”منایاگیا ۔
یہ وہ اہم خصوصیت ہےجو حضرت مولاناسجادؒکےعلاوہ اکابرجمعیۃمیں سے کسی شخصیت کوحاصل نہیں ۔۔۔قدرت کی طرف سےیہ امتیازمولاناکےاصل بانی جماعت ہونےکی طرف مشیرہے۔
٭ اوراسی لئےتعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب نے ارشادفرمایا:
” کہ جمعیۃ علماء کی خدمات در اصل مولانا سجادؒ کی خدمات ہیں”
علما ء دیوبندکی نمائندگی
کوئی شبہ نہیں کہ علماء دیوبندنے جمعیۃ علماء ہندکی سب سےزیادہ طویل مدت تک اورسب سےمؤثرقیادت کی ہے،لیکن ابتدائی دورمیں ان کی نمائندگی برائے نام تھی،شروع میں کئی چھوٹے بڑے اجتماعات ہوئےلیکن ان میں سوائےحضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کےعلماء دیوبند میں سے کوئی شریک نہیں ہوا،بقول مولاناحفیظ الرحمن واصفؔ صاحب خلف رشیدحضرت مولانامفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ:
"یہ امرخاص طورپریادرکھنےکےقابل ہےکہ جس اجتماع میں جمعیۃ
کی تاسیس ہوئی،اس میں دیوبندی گروپ میں کوئی صاحب شامل
نہیں ہوئےپھرامرتسرمیں جوپہلااجلاس بصدارت حضرت مولانا
عبدالباری فرنگی محلی ؒ منعقد ہوااس میں بھی کوئی صاحب شریک
نہیں ہوئےاس جلسےمیں حضرت شیخ الہندؒ کی عدم رہائی پراضطراب
کااظہارکیاگیا،اوروائسرائےکواس مقصد سےتاردیاگیا۔
پھر ۶/ستمبر ۱۹۲۰؁ء کوکلکتہ میں خاص اجلاس بصدارت حضرت مولانا
تاج محمودصاحب سندھی منعقدہوا،جس میں دوسو(۲۰۰)علماء شریک
تھے،اس میں مولاناسیدمرتضیٰ حسن صاحب اورمولاناعزیزگل صاحب
شریک ہوئے،حضرت مولاناحسین احمدصاحب مدنیؒ باوجودیکہ مالٹا
سےواپس آچکےتھےمگراس جلسہ میں شریک نہ تھےاورمولاناموصوف
توحضرت شیخ الہندؒکی خفیہ تحریک میں بھی شریک نہ تھے،(نقش حیات
ج دوم ص ۲۱۵) حضرت اقدس ؒکےساتھ عقیدت و محبت اوران کی
خدمت کی آرزوآپ کی اسیری کاسبب بنی، ( سفرنامۂ اسیر مالٹامطبوعہ
اسٹارپریس دہلی ص ۴۱ اورحیات شیخ الہندمطبوعہ قاسمی ص ۴۹،اوررسالہ
شیخ الہندمؤلفہ مفتی اعظم مولاناکفایت اللہ صاحبؒ ص ۲۴)اس خاص
اجلاس میں ترک موالات کی تجویزاوردہلی میں ہونےوالےدوسرے
اجلاس جمعیۃ کےلئےحضرت شیخ الہندؒکی صدارت کی تجویزپاس ہوئی،
(اخبارزمانہ کلکتہ شمارہ ۵۷ مورخہ ۸/ستمبر۱۹۲۰؁ء)
غرض کہ حضرت شیخ الہندؒکی تشریف آوری سےقبل دیوبندی گروپ
کوجمعیۃ علماء ہندسےکوئی دلچسپی نہ تھی،حالانکہ جمعیۃ کوئی خفیہ یاباغیانہ
تحریک نہ تھی،اوراس کی رکنیت میں کوئی خطرہ نہ تھا،لیکن یہ حضرات
حضرت شیخ ؒکی گرفتاری کےبعدسےشایدبہت زیادہ محتاط ہوگئے تھے،
جب حضرت رہاہوکرتشریف لائے، اور اس وقت کے تمام بڑے
بڑےہندو مسلم لیڈروں نےبمبئی میں آپ کا استقبال کیاتوآپ کو
ہندوستان کے سیاسی حالات اورتحریک خلافت کاعلم ہوا(نقش حیات
ج ۲ ص ۲۴۷)اورجب آپ کوبتایاگیاکہ علماء نےبھی جمعیۃ علماء ہند
کے نام سے اپنی ایک تنظیم قائم کی ہےتوآپ نےبےانتہامسرت
اورقلبی توجہ وشغف کااظہارفرمایا،اورارکان جمعیۃ کی تحسین اورحوصلہ
افزائی فرمائی،اورحضرت کےبعض شاگردجن کی مقبولیت وشہرت
کی وجہ سےجمعیۃ علماء کوخاص تقویت کی امیدتھی،جب بالکل یکسوئی
اوربےتعلقی کے ساتھ شرکت سےعلٰحدہ اورمجتنب رہےتوآپ کو
نہایت حسرت ہوئی،اورغایت افسوس کے ساتھ اپنےایک ہمنام
الٰہ آبادی کی زبان سےگویایہ فرمایا:
کسی کامیری بزم غم سےاےمحمودؔیوں اٹھ کر
قیامت ہے شریک محفل اغیار ہوجانا
(حیات شیخ الہندمؤلفہ حضرت مولاناسیداصغرحسین صاحب ص۱۲۳)” ۔
اس سےظاہرہوتاہےکہ کلکتہ کےاجلاس خصوصی سےقبل حضرت شیخ الہندؒ کے تلامذہ میں سوائے حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کےکوئی شریک نہیں ہوتاتھا،حضرت شیخ الہندؒکی ترغیب اوردوسرے اجلاس عام کی صدارت قبول کرنے کےبعدرفتہ رفتہ جمعیۃ علماءہند میں علماء دیوبندکی تعدادبڑھتی چلی گئی،اورپھر وہی غالب ہوگئے۔
ہندوستان کی ملی تحریکات کافکرشیخ الہندؒسے رشتہ
البتہ اس موقعہ پراس تاریخی حقیقت کااعتراف بھی کیاجاناچاہئےکہ جمعیۃ علماء ہند جن عظیم مقاصد کےتحت قائم ہوئی،ان مقاصدپرصرف ہندوستان نہیں بلکہ عالمی سطح پر حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندی ؒ کی مساعی جمیلہ برسوں قبل سے جاری تھیں، حضرت شیخ الہندؒکی خفیہ تحریک ریشمی رومال کےمقاصدمیں خلافت اسلامیہ کااحیاء،مقامات مقدسہ کاتحفظ اورہندوستان کوبرطانوی تسلط سےآزادکراناشامل تھا،اورحضرت کی یہ تحریک عالمی پیمانہ کی حامل تھی،اگریہ تحریک کامیاب ہوجاتی توخودانگریزوں کےبقول”سمندربھی کسی انگریزکوپناہ نہیں دے سکتاتھا” لیکن قبل ازوقت رازفاش ہوجانے کی بناپرتمام منصوبے بکھرگئےاوراسی جرم کی پاداش میں آپ کواورآپ کےرفقاء کوگرفتارکرکےکالاپانی بھیج دیاگیا۔
اس لحاظ سےفکرجمعیۃ کی جڑوں میں حضرت شیخ الہندؒ کےفکروعمل کی حرارت محسوس ہوتی ہے،اسی لئے جب حضرت شیخ الہندؒکواسارت مالٹاسےواپسی پرقیام جمعیۃ کی اطلاع ملی اورآپ نےاپنے تلامذہ ومعتقدین کوجمعیۃ سے وابستگی کی تلقین فرمائی توان حضرات کو محسوس ہواکہ جمعیۃ علماء ہندبھی گویافکرشیخ الہندؒ ہی کاعکس جمیل ہو ،چنانچہ جمعیۃ علماء ہندگیا کےاجلاس چہارم (جمادی الاولیٰ ۱۳۴۱؁ھ مطابق دسمبر ۱۹۲۲؁ء)میں حضرت مولانا حبیب الرحمان عثمانی دیوبندی ؒ نےاپنےخطبۂ صدارت میں حضرت شیخ الہندؒ کاتذکرہ ان الفاظ میں کیا:
"حضرات علماء کرام وامناء اسلام !علماء کےاندراس حرکت کےبانی مبانی قافلہ
سالارعلماء راسخین وسرخیل فقراء زاہدین شیخ الہند حضرت مولانامحمودحسن
قدس سرہ کی ذات بابرکات رہی،ہندوستان میں جس قدر مذہبی سرگرمی ہے
اس کےمحرک اول حضرت مولاناعلیہ الرحمۃ تھے،یہ جوکچھ ہورہاہےمولاناکی
تخم ریزی کےثمرات ہیں،اس کے علاوہ مولاناکےفیوض علمی وعملی سے دنیا
مالامال ہے،علماء کی کوئی مجلس ایسی نہیں جس میں حضرت مولاناکےتلامیذ
ومستفیدین کی بڑی جماعت موجودنہ ہو” ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: