مضامین

جمعیۃ علماء ہند کاقیام بہارجمعیۃسےکل ہندجمعیۃ کی طرف -اقدامات اورمساعی

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادصاحبؒ جمعیۃ کوصرف بہارکی حدتک محدود رکھنانہیں چاہتے تھے ،بہار میں عملی نمونہ اس لئےقائم کیاگیاکہ ملک کےدوسرے حصوں کے لئے باعث ترغیب ہو، وہ اس فکرکی دعوت کئی سال پیشتر سےعلماء ہندکوخطوط کےذریعہ دے رہے تھے،بلکہ اس کے لئے انہوں نےہندوستان کےاکثرصوبوں کادورہ بھی کیاتھا،اور اپنی فکر ،پس منظر اورآنے والے ہندوستان میں اس کی ضرورت واہمیت کے دلائل بھی پیش کئے تھے،جس کے زیراثر علماء کی ایک خاصی تعداد فکری طور پر مولاناؒکی ہم نوا ہوچکی تھی ،لیکن بعض جماعتی اوروقتی مفادات ومصالح ان کوآگےبڑھنےسے روکتے تھے،بہار میں جمعیۃ علماء کے قیام اور اس کے مثبت اثرات کے مشاہدے کے بعد ملک میں ایک نئی ہلچل محسوس کی جانے لگی،اورجو علماء خطوط اور ملاقاتوں کے ذریعہ مولاناؒکے ہم خیال ہوچکے تھے وہ بھی اس دائرہ کو وسیع کرنے کی ضرورت محسوس کرنے لگے ،۔۔۔۔۔چنانچہ حضرت مولاناسجاد صاحب ؒنےجمعیۃ علماء بہار کے پہلےاجلاس کے بعد ہی پھر مختلف صوبوں کےمقتدرعلماء کوخطوط اورزبانی پیغامات کے ذریعہ سلسلہ جنبانی شروع کی،بنگال (چاٹ گام )میں مولانا منیرالزماں اسلام آبادی ؒ(جو پہلے سے بھی اس کاعملی تجربہ رکھتے تھے)،پنجاب میں مولانا ثناء اللہ امرتسری،کلکتہ میں مولانا محمداکرم خان ایڈیٹرروزنامہ آزاد بنگلہ اورلکھنؤ میں حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒ وغیرہ سب سے دوبارہ روابط قائم کئےاورخطوط لکھے،تقریباًسب ہی لوگوں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا،ان میں سب سے اہم ترین شخصیت حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ کی تھی، ہندوستان میں اس وقت انہی کی ایک شخصیت تھی ،جو ہرمکتب فکرونظرکےعلماء اورمشائخ کے لئےمرکزاتفاق بن سکتی تھی، مولانا فرنگی محلیؒ ایک جامع النسبت اورجامع الکمالات شخصیت کےمالک تھے۔
حضرت مولاناعبدالباری ؒ کوپیش قدمی کی دعوت
حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےحضرت مولاناعبدالباری صاحبؒ کوبھی ایک خط لکھا تھا،اوروہ مولاناسجادؒکے خیالات سے متفق تھے،لیکن اب تک ان کاکوئی تحریری جواب موصول نہیں ہوا تھا،اس لئے مولاناؒکوسخت اضطراب تھا،مولاناکاخیال تھاکہ ملکی سطح پر اگرمولانافرنگی محلیؒ اس تحریک میں پیش قدمی کریں تو جمعیۃ علماء ہندکےلئےراہ آسان ہوجائے گی،اوراس کےمطلوبہ مقاصد کی تکمیل کےامکانات روشن ہوجائیں گے۔۔۔۔اسی زمانہ کی بات ہےکہ:
"قاضی احمدحسین صاحب ؒ کسی غرض سےلکھنؤ جارہے تھے،مولاناسجادصاحب نے ان سےکہاکہ وہ مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒسے مل کرتبادلۂ خیال کریں،اورجمعیۃ علماء ہند کے قیام کےلئےآگےبڑھنےپران کوآمادہ کریں ،مولاناؒنے قاضی صاحب کوبتایاکہ میں نےان کواس سلسلےمیں ایک خط بھی لکھاہے،قاضی صاحب لکھنؤ سے واپس ہوئے توانہوں نے مولاناکو رپورٹ دی،کہ مولاناعبدالباری صاحب ؒبھی ذہنی طورپر بالکل تیارہیں،اورخودبھی جمعیۃعلماء ہندکے قیام کے لئےبےچین ہیں ،لیکن ان کوڈرہے کہ تمام علماء کااتفاق ممکن نہ ہوگا،قاضی صاحب نے عرض کیاکہ حضرت !تمام علماء کس زمانےمیں کسی بات پر متفق ہوئے ہیں ،اگرسب متفق ہوجاتے تو حنفی ،مالکی ،شافعی ،حنبلی الگ الگ مسلک کیوں بنتے؟شیعہ سنی محاذ کیوں کھلتے؟بریلوی ،دیوبندی اوراہل حدیث کی صفیں کیوں بنتیں ؟ ابتدائے تاریخ اسلام سے اختلافات توہوتے رہے ہیں ، اورمکمل اتفاق کبھی نہیں ہوا،اگر اختلافات کوبنیادبناکرکچھ نہ کرنے کافیصلہ کیاجائے،تو مسلمانوں کاکوئی کام ہی نہیں ہوگا، اورنہ سابق میں کبھی ہوسکتاتھا ، اس کاحل تویہی ہےکہ جتنے لوگ ساتھ دےسکیں ان کوساتھ لیا جائے”
قاضی صاحب کی مدلل گفتگوسےحضرت مولاناعبدالباری صاحبؒ بالکل مطمئن ہوگئے،اوران کی تائید سےحضرت مولاناسجاد صاحبؒ کی مشکلات آسان ہوگئیں،غالباًاس کےبعدہی مولانا عبدالباری صاحب نے مولاناسجادصاحب کوایک خط تحریرفرمایا،جس میں جمعیۃ علماء ہندکےقیام سے اتفاق کرتے ہوئے مقام اجلاس نیزداعیان کی فہرست میں مولانا سجادؒکانام شامل کرنے کی اجازت وغیرہ چند امور کے بارےمیں انہوں نے مولاناسجاد صاحبؒ سےمشورہ طلب کیاتھا۔
مولاناسجادؒ کاخط مولاناعبدالباری ؒ کےنام
اس خط کے جواب میں حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےان کودرج ذیل خط تحریر فرمایا:
"ازدفترانجمن علماء بہاربمکان مدرسہ انوارالعلوم شہرگیامورخہ ۱۵/جمادی
الاولیٰ ۱۳۳۷؁ھ مطابق ۱۶/فروری ۱۹۱۹؁ء ۔
تجویزاجتماع علماء ہندنہایت اہم اور ضروری تجویز ہے، بلاریب ایساہی ہونا
چاہئے ،اور اظہار صداقت میں کسی تردد کوسامنے نہ آنے دیناچاہئےعرصہ
ہواکہ ایک مرتبہ اسی کےمتعلق جناب سے بذریعہ عریضہ میں نےعرض بھی
کیاتھامگراب تواس وقت سے بڑھ کرحالت نازک ہوگئی ہےغرض میں نہایت
صدق دل سےخوشی کےساتھ لبیک کہتاہوں ،اور اجازت دیتاہوں کہ اس
ناچیزکانام داعی کی فہرست میں درج فرمالیں،لیکن مقام جلسہ بلحاظ وسط لکھنؤ
زیادہ مناسب ہےتاکہ علماء بنگالہ کوبھی شرکت میں سہولت ہواگروائسرائے
بہادر کاقیام جلسےتک دہلی میں ہوتووفدکےفوری پیش ہونےکےلحاظ سےدہلی
انسب ہے(ازیادداشت مخطوطہ حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ) ۔
داعیان کی فہرست میں مولاناسجادؒکانام شامل کرنے کی اجازت لیناتحریک میں مولانا سجادؒکےکلیدی کردارکی علامت ہے، خودمولاناعبدالباری صاحبؒ کوبھی اس بات کااحساس تھا کہ مولاناسجادؒ ہندوستان میں اس فکرکے اولین داعی ہیں،جمعیۃ علماء بہارکےقیام (۱۹۱۷؁ء) سے قبل ہی مولاناسجادؒ نےعلماء اورمشائخ کواپنےخطوط اوراسفارکے ذریعہ اس جانب توجہ دلائی تھی ،پھرمولانامحمدسجادصاحبؒ نےاس جانب عملی پیش رفت بھی کردی تھی،یہ تمام چیزیں مولانا فرنگی محلیؒ کےعلم میں تھیں،اس لئے جب انہوں نےاس جانب عملی اقدامات کاارادہ کیا تواس فکرکےاولین داعی ونقیب سےمراجعت فرمائی،اور ان کانام داعیان کی فہرست میں شامل کرنا ضروری سمجھا۔
نیزحضرت مولاناسجادؒکےجواب سےمعلوم ہوتاہےکہ حضرت مولاناعبدالباریؒ کےاقدام وتحریک سےبہت پیشترہی حضرت مولاناسجادؒنےان کواس تحریک کی دعوت دی تھی-علاوہ دیگرعلماء کوبھی آپ نےلکھاہوگا-اورمولاناعبدالباری صاحب کا یہ اقدام دراصل اسی کاعملی جواب تھا۔
مقام اجلاس کےبارے میں مولاناسجادؒکی رائے
حضرت مولاناسجادؒکےخط میں جس وائسرائےبہادرکاذکر ہے،اس سے مراد غالباً لارڈ مانٹیگوچیمیفورڈ کی شخصیت ہے،جو ۱۹۱۸؁ء میں ہندوستان آیاتھا ،اوراس کاقیام شاید ۱۹۱۹؁ء تک ہندوستان میں رہا،مولانا عبدالباریؒ نےغالباًلکھاتھا کہ قیام جمعیۃ کےبعد بصورت وفد وائسرائے سے ملاقات بھی مفید ہوگی،اسی لئے مولاناسجادؒ نے مقام اجلاس کے بارے میں دونوں پہلوؤں کوسامنے رکھ کر اپنی رائے پیش کی کہ:-
” لوگوں کی شرکت اورنمائندگی کےلحاظ سےلکھنؤمفیدہےاوراگروائسرائے سے فوری ملاقات ضروری ہوتوپھردہلی زیادہ مناسب ہے”
علماء دیوبندکی حمایت کاحصول-حضرت ابوالمحاسن ؒکی بڑی حکمت عملی
دوسری جانب انجمن علماء بہار کےپہلے ہی اجلاس میں حضرت شیخ الہندؒ کی تجویزرہائی کی منظوری سےعلماء دیوبند کاحلقہ بھی حضرت مولاناسجادؒسے قریب ہوگیاتھا،بلکہ ان میں قیام جمعیۃ کے تعلق سےیکگونہ غیرت پیداہوگئی تھی،اس باب میں حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی ؒ کانام سب سے آگےہے،وہ اس فکر کےسب سےبڑے مؤیدتھے،بلکہ اپنے متعلقین کی ایک ٹیم اس کےلئے استعمال کرناچاہتے تھے ،تاکہ اس پلیٹ فارم سے پوری قوت کےساتھ حضرت شیخ الہندؒ کی رہائی کامطالبہ کیاجاسکے،جیساکہ حضرت مولانااحمدسعیددہلوی ؒ کے اس بیان سے ظاہر ہوتاہے:
"حضرت مفتی صاحب نےمجھ کوحکم دیاتھاکہ میں علماء سے ملوں اورایک
مشاورتی اجتماع کی دعوت دے دوں،حضرت مفتی صاحب مولاناعبدالباری
اورمولاناثناء اللہ کواس معاملہ میں اپناہم خیال بناچکے تھےکہ علماء کوعلٰحدہ اپنی
تنظیم قائم کرنی چاہئےاورایک وسیع ترجماعت بنانی چاہئےمفتی صاحب کی یہ
رائےاس وقت سےتھی ،جب کہ وہ ۱۹۱۸؁ء میں حضرت شیخ الہندؒکےحالات
پرایک کتاب تصنیف فرمارہے تھےاس کتاب کی تصنیف کامقصد یہ تھاکہ
حضرت شیخ الہندؒ کی اوران کےرفقاء کی بےگناہی ظاہرہوجائےاورگورنمنٹ
پریہ واضح ہوجائےکہ مسلمانوں کےدلوں میں حضرت کی کس قدرعظمت
وعقیدت ہےاوران کی نظربندی سےکس قدرمضطرب ہیں،لہٰذاحکومت
ان کورہاکرکےمسلمانوں کےمجروح جذبات کےلئےتسکین کا سامان بہم
پہونچائے، مفتی صاحب فرماتے تھےکہ حضرت کی رہائی کےلئے علماء کی
طرف سےمتفقہ مطالبہ ہوناچاہئےاورایسی ہی ضروریات کےلئے تمام علماء
کواپنی علٰحدہ تنظیم قائم کرنی چاہئے،یہ خیال ۱۹۱۸؁ء سے مفتی صاحب کے
دماغ میں موجزن تھااوراکثراحباب سےاس کاتذکرہ فرمایاکرتےتھے ۔
اس بیان سے ایک طرف حضرت شیخ الہندؒ کی رہائی کےتعلق سے علماء دیوبند کی حساسیت اوراضطراب کااندازہ ہوتاہے،دوسری طرف یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ علماء دیوبند میں اس فکرکےاولین نقیب حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب تھے،اوران کےذہن میں یہ خیال ۱۹۱۸؁ء میں پیداہوا۔۔۔۔
اس سے حضرت مولاناسجاد صاحبؒ کی گہری بصیرت اوردوراندیشی کاثبوت ملتاہے کہ انہوں نےعلماء دیوبندکی اس بےچینی کوقبل ازوقت محسوس کیا،اوراس کواپنی جماعتی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔
مولانااحمدسعیدصاحب دہلویؒ کےبیان سےمعلوم ہوتاہےکہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کےذہن میں علماء کی تنظیم کاخیال ۱۹۱۸؁ء میں پیداہوا،جبکہ حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےقیام جمعیۃ کی عملی کوششیں ۱۹۱۷؁ء سےقبل ہی شروع کردی تھیں،علماء ہند کو دعوت فکر بھی دی تھی اوراس کا عملی نمونہ بھی بہارمیں قائم کردیاتھا،بلکہ حضرت شیخ الہندؒکی رہائی کی تجویزبھی جمعیۃعلماء بہارکےپہلےاجلاس(۱۹۱۷؁ء) ہی میں انہوں نےمنظورکرالی تھی ،جب کہ حلقۂ دیوبند میں اس کاخیال بھی پیدانہیں ہواتھا۔۔۔۔۔اس سے حضرت مولانا سجادؒ کی سابقیت کاپتہ چلتاہے۔۔۔۔۔
حضرت مولانااحمدسعیددہلوی ؒکےبیان سےایک بات اوربھی صاف ہوجاتی ہےکہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ کےذہن میں جس جمعیۃ علماء کاتصورتھاوہ حضرت شیخ الہندؒکی رہائی جیسےمقصدتک محدودتھا،جب کہ حضرت مولاناسجادؒنےجس جمعیۃ کی تحریک وتاسیس کی تھی وہ اسیران فرنگ کی رہائی کےعلاوہ وسیع البنیان مقاصدپرمبنی تھی،چنانچہ جب جمعیۃ علماء ہندکی تشکیل ہوئی تووہ انہی خطوط پرہوئی جوحضرت مولانا سجادؒ نےپہلےہی کھینچ دئیے تھے ، اس سےحضرت مولاناسجادؒکی فکری جامعیت وسابقیت اورجمعیۃعلماء ہندکےاصل سرچشمۂ فکر کا سراغ ملتاہے۔
لکھنؤمیں تحریک جمعیۃ کا پہلامشاورتی اجلاس
غرض پورے ملک میں جمعیۃ علماء ہندکےلئےماحول سازی اورزمین کی تیاری میں حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کےبنیادی اوراولین کردارکاانکارنہیں کیاجاسکتا ،ان کے ذہن میں جمعیۃعلماء کا ایک مکمل خاکہ موجودتھا،جس میں رنگ بھرنے کےلئےعلماء کےاتحادکی ضرورت تھی،اوراس کے لئے کسی جامع اور معتدل شخصیت کی انہیں تلاش تھی،جوحضرت مولاناعبدالباری صاحبؒ کی صورت میں انہیں مل گئی،چنانچہ مولاناعبدالباری صاحب نے انجمن مؤیدالاسلام لکھنؤ کی جانب سے ہندوستان کےممتازاورمعروف علماء ومشائخ کے نام دعوت نامہ جاری فرمایااورحضرت مولانا محمدسجادصاحبؒ کے مشورہ کےمطابق شرکاء کی سہولت کے پیش نظرمقام اجلاس لکھنؤ مقرر کیاگیا ،یہ ملکی سطح پراس سلسلہ کاپہلاباقاعدہ اجلاس تھا،اس میں مولانامفتی کفایت اللہ صاحب ،مولاناثناء اللہ امرتسری ؒ،اور مولانا عبدالقادربدایونی صاحب ؒوغیرہ ہرمکتب فکر کے مشاہیرعلماء واعیان تشریف لائے،شیعہ علماء بھی شریک ہوئے،حضرت مولاناسجاد صاحبؒ اس پروگرام کے داعیوں میں تھے،جیساکہ مولاناسجاد صاحب کےمذکورہ بالاخط کےحوالےسے اوپرذکرکیاگیا ۔
مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒمرکزاتفاق قرارپائے
اس اجلاس میں ایک ناخوشگواربات یہ پیش آئی کہ فروعی اورجماعتی اختلافات کو لیکرصدرجلسہ کے انتخاب میں تھوڑی تلخی پیدا ہوگئی،دیوبندی علماء بریلوی کی صدارت کواور بریلوی علماء دیوبندی کی صدارت کومنظور کرنےپرآمادہ نہ تھے،بالآخر مولاناثناء اللہ امرتسری اورمولانا عبدالقادر بدایونی ؒوغیرہ نے خودمولاناعبدالباری صاحب ؒسے صدارت قبول کرنے کی درخواست کی ،مولاناؒنے اپنے داعی ہونے کاعذرپیش کیا،لیکن لوگوں نے اصرارکیاکہ اگر آپ صدارت قبول نہ کریں گےتواندیشہ ہےکہ جلسہ ناکام ہوجائے،غرض کافی اصرارکے بعد آپ نے صدارت قبول فرمائی،پھرجلسہ ہوا،اورکئی اہم مسائل پربات ہوئی ،لیکن جمعیۃ علماء ہند کی تشکیل نہ ہوسکی ۔
دہلی کی عظیم الشان خلافت کانفرنس اورجمعیۃ علماء ہندکی تاسیس
لکھنؤکےاس اجلاس میں گوکہ جمعیۃ علماء ہند کی تشکیل نہ ہوسکی ،لیکن اس نےملک میں جمعیۃ کےلئے ماحول بنانے میں بڑاکرداراداکیا، حضرت مولاناعبد الباری صاحبؒ اور حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ وغیرہ اب بھی پرامیدتھے،حسن اتفاق۲۹/صفرالمظفر ۱۳۳۸؁ھ مطابق۲۳/نومبر ۱۹۱۹؁ء کو دہلی میں جشن صلح کےموقعہ پر خلافت کانفرنس ہونےوالی تھی، جس میں ہرمکتب فکرونظرکےافرادبڑی تعدادمیں شریک ہورہےتھے،مولاناعبدالباری صاحب ؒاورمولانامحمدسجادصاحبؒ تحریک خلافت کےبنیادی لوگوں میں تھےان حضرات نےفیصلہ کیا کہ اس موقعہ پر الگ سےکوئی نشست کرکےجمعیۃ علماءہند کی عملی تشکیل کی کوشش کی جائے گی ۔
۲۳/نومبر۱۹۱۹؁ء کو دہلی میں خلافت کمیٹی کی پہلی کانفرنس زیرصدارت شیربنگال جناب فضل الحق صاحب منعقد ہوئی ،اس اجلاس میں اس قدرہجوم تھاکہ چاندنی چوک سے جامع مسجدتک کاراستہ طے کرنے میں دوگھنٹے صرف ہوجاتےتھے،اجلاس میں تمام صوبوں سے صرف خلافت کمیٹی کےقائم مقام حضرات شریک ہوئےتھے،اس میں گاندھی جی اور کئی غیرمسلم قائدین نے بھی شرکت کی تھی ،یہ ہندومسلم اتحاد کاشاندارمظاہرہ تھا،چنانچہ یہ تحریک خلافت بعد میں تحریک آزادی میں تبدیل ہوگئی ۔
درگاہ حضرت حسن رسول نماؒ پرچندعلماء امت کاخفیہ اجتماع
اس کانفرنس میں بہار سےصوبائی ذمہ دارکی حیثیت سےحضرت مولانامحمدسجادؒ بھی شریک ہوئے،کانفرنس کےاختتام پرچندمخصوص علماء کاخفیہ اجتماع بوقت صبح دہلی کےمشہور بزرگ سیدحسن رسول نماؒ کی درگاہ پرحضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ کےزیر قیادت منعقد ہوا ،تمام حاضرین نے جن کی تعداد دس بارہ(۱۲)سے زیادہ نہ تھی جمعیۃ کےقیام سے اتفاق کیا،جلسہ کاآغازمولاناابوالوفاءثناء اللہ امرتسری کی تحریک اورمولانامنیرالزماں اسلام آبادی وغیرہ کی تائید سے ہوا ، سبھی حضرات نے اپنےاپنےخیالات پیش کئے،حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجادؒنے بھی ایک مختصرتقریرفرمائی،سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعید صاحب ؒکےالفاظ میں:
"اس تقریرکاایک ایک لفظ مولاناؒکےجذبات ایمان کا ترجمان تھا،
حاضرین کی تعداداگرچہ دس بارہ آدمیوں سےزیادہ نہ تھی،لیکن کوئی
آنکھ اور کوئی دل ایسانہ تھاجس نے اثرقبول نہ کیاہو” ۔
آخرمیں صدرمجلس حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ نےتمام حاضرین سے حسب ذیل عہدوپیمان لیا:
"ہم سب دہلی کےمشہورومقدس بزرگ کےمزارکےسامنےاللہ کو
حاضروناظر جان کریہ عہدکر تے ہیں کہ مشترک قومی وملی مسائل
میں ہم سب آپس میں متحد ومتفق رہیں گےاور فروعی واختلافی
مسائل کی وجہ سےاپنے درمیان کوئی اختلاف پیدانہ ہونےدیں گے
،نیزقومی وملی جدوجہدکےسلسلہ میں گورنمنٹ کی طرف سے ہم پرجو
سختی اور تشدد ہوگااس کوصبرورضاکےساتھ برداشت کریں گےاور
ثابت قدم رہیں گےجماعت کےمعاملےمیں پوری راز داری اورامانت
سے کام لیں گے ۔

مولانااحمدسعیددہلویؒ کابیان ہے جوخوداس مجلس میں موجود تھے:
"یہ مجلس دوگھنٹے سے زیادہ کی نہ تھی،ایک گھنٹہ بحث و مباحثہ میں
خرچ ہوااورایک گھنٹہ عہدوپیمان میں صرف ہوا،لیکن اسی جلسہ کا
یہ اثرتھاکہ جمعیۃ علماء ہند قائم ہوئی” ۔
درگاہ حضرت حسن رسول نماؒ کےانتخاب کی وجہ
البتہ یہاں ایک سوال کاجواب مجھےکسی تذکرہ وتاریخ میں نہیں ملاکہ دہلی میں مزارات ،درگاہوں ،مساجد اورتاریخی مقامات کی کمی نہیں تھی،پھرآخرخفیہ میٹنگ اورعہد و پیمان کےلئےدرگاہ حسن رسول نماؒ کےانتخاب کی کیاوجہ تھی؟
٭اس کاایک جواب تویہ ممکن ہےکہ یہ درگاہ عام نظروں سے دورایک گھنی آبادی کےعلاقےمیں واقع ہے،اس لئےخفیہ میٹنگ کےلئےاس کومناسب خیال کیاگیا۔
٭لیکن اس کی اصل وجہ یہ معلوم ہوتی ہےکہ حضرت حسن رسول نماؒ حضرت سید عبدالصمدخدانماؒ(متوفیٰ ۱۱۰۹؁ھ م ۱۶۹۷؁ء-مقام احمدآبادگجرات)کےخاص دوستوں میں تھے، اورعلماء فرنگی محل کےپیرو مرشدحضرت شاہ عبدالرزاق بےکمربانسویؒ (ولادت :۱۰۴۸؁ھ م ۱۶۳۸؁ء،وفات :۱۱۳۶؁ھ م ۱۷۲۴؁ء-مقام بانسہ شریف ضلع بارہ بنکی یوپی)کونعمت ولایت حضرت سیدعبدالصمدخدانماؒ سے حاصل ہوئی تھی،اوران کےواقعات میں موجودہےکہ جب شاہ سیدعبدالرزاق صاحب ؒ حضرت سیدعبدالصمدخدانماؒ سےاجازت وخلافت سےسرفرازہوکر احمدآبادسےرخصت ہونےلگےتوپیرومرشدنےان کوہدایت کی کہ:
” ہمارے دوست حضرت سیدحسن رسول نماؒ دہلی میں قیام رکھتے ہیں،ان
سے ملتے ہوئےجانا(شایدمعرفت کی کوئی منزل وہاں سےوابستہ رہی ہو)
اسی حکم کی تعمیل میں حضرت شاہ عبدالرزاق صاحبؒ گجرات سےسیدھے
دہلی حضرت سیدحسن رسول نماؒ کی خدمت میں حاضرہوئے،اوراستفادۂ
باطنی کیا،چلتےوقت حضرت رسول نماؒ نے ارشاد فرمایا کہ "جاتے ہوتو
آرام سےراتیں نہ بسرکرنا،فقیرکونہ بدنام کرنا "یہ ارشادپیر ومرشدکے
دوست کادل میں ایسااثرکیاکہ آخروقت تک رات کوآرام نہ کیا”
حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒبھی اپنےاسی خاندانی سلسلۂ رزاقیہ سے وابستہ
تھے،اورپابندی کےساتھ آستانۂ بانسہ پرحاضری دیتے تھے،اوروہاں کےخانقاہی پروگراموں
کی سرپرستی بھی فرماتےتھے،جیساکہ آپ کی کتاب "عرس حضرت بانسہؒ”سے ظاہرہوتا ہے ۔
حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒاپنی ایک دوسری تصنیف میں لکھتے ہیں:
"مجھ پرخودنسبت قادریہ کاغلبہ ہے،گونقشبندی بھی ہوں اورچشتی ہونےکی
نسبت پرفخرکرتاہوں ،اس وجہ سے حضرت شاہ عبدالرزاق قدس اللہ سرہ
العزیزکےسلوک کومقدم سمجھتاہوں ”
اس لئےمولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒکودہلی میں حضرت حسن رسول نماؒسےجو عقیدت ومحبت ہوسکتی تھی اوروہاں قول وقرارپرجواطمینان ہوسکتاتھا،وہ کہیں اورنہیں ہوسکتا تھا۔
حضرت مولاناسجادصاحبؒ کوبھی حضرت مولاناعبدالباری صاحب اورخاندان فرنگی محل سےجو عقیدت ووابستگی تھی اس میں علاوہ دوسری باتوں کےایک بڑی نسبت الٰہ آبادکی تھی،انہوں نےتمام علوم وفنون کی تکمیل الٰہ آبادہی میں کی تھی ،اس لئےوہاں کےاکابرومشائخ کی خاک پابھی ان کےلئےسرمۂ عقیدت کادرجہ رکھتی تھی ،علماء فرنگی محل کےجداعلیٰ حضرت ملاقطب الدین شہیدقدس سرہ سہالویؒ(متوفیٰ۱۱۰۳؁ھ م ۱۶۹۲؁ء) حضرت ملامحب اللہ الٰہ آبادی ؒ (متوفیٰ ۱۰۵۸؁ھ م ۱۶۴۸؁ء)کے سلسلہ ٔچشتیہ صابریہ میں بواسطۂ حضرت قاضی گھاسی الٰہ آبادیؒ مریدتھے،ملاقطب الدینؒ کےدوبڑےفرزندملاسعیدؒوملااسعدؒاپنےوالدبزرگوارکی شہادت سےقبل اپنے والدہی سے بیعت ہوچکےتھے،لیکن چھوٹےدونوں فرزندملانظام الدینؒ اورملا محمدرضاؒ کم سنی کی وجہ سےداخل سلسلہ نہ ہوسکےتھے،یہ دونوں صاحبزادگان والدکی شہادت کےبعد حضرت سیدعبدالرزاق بانسویؒ سےوابستہ ہوئے ۔
اس پس منظرکی روشنی میں غالباًدرگاہ حضرت حسن رسول نماؒ کےانتخاب میں حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒ کی عقیدت ورجحان اورحضرت مولاناسجادصاحب ؒ کی رائےکا دخل رہاہوگا،کیوں کہ اس خفیہ اجتماع کی قیادت حضرت مولاناعبدالباری صاحب ؒ ہی فرمارہے تھےاوران حضرات کےلئےیہ محض درگاہ نہیں تھی،بلکہ مرکزعقیدت بھی تھی۔
تاسیس جمعیۃ علماء ہند
بہرحال اس خفیہ عہدوپیمان کےبعد اسی دن شام میں جمعیۃ علماء ہندکی باقاعدہ تشکیل کےلئےعلماء کااجتماع ہواجس کوہم اس پروگرام کی دوسری نشست کہہ سکتے ہیں ،اس میں نسبتاً زیادہ لوگ شریک ہوئے ،اس میں تقریباً چھبیس(۲۶) علماء شریک ہوئے، جن کے اسماء گرامی یہ ہیں :
۱-مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحبؒ۔
۲-مولاناقیام الدین عبدالباری فرنگی محلی ؒ۔
۳-مولاناابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری ؒ ۔
۴-مولاناسلامت اللہ فرنگی محلی لکھنویؒ ۔
۵-مولاناپیرمحمدامام سندھیؒ ۔
۶ –مولانااسداللہ سندھیؒ۔
۷-مولاناسیدمحمدفاخرمیاں بےخودالٰہ آبادیؒ(عرف راشدمیاں) ۔
۸-مولانامحمدانیس صاحب نگرامی ؒ ۔
۹-مولاناخواجہ غلام نظام الدین ؒ ۔
۱۰-مولانامفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ۔
۱۱-مولانامحمدابراہیم سیالکوٹیؒ ۔
۱۲-مولاناحافظ احمدسعیددہلوی ؒ ۔
۱۳-مولاناسیدکمال الدینؒ۔
۱۴-مولانامحمدقدیربخش بدایونیؒ ۔
۱۵-مولاناسیدتاج محمودصاحب سندھیؒ ۔
۱۶-مولانامحمدابراہیم دربھنگوی ؒ ۔
۱۷-مولاناخدابخش مظفرپوریؒ ۔
۱۸-مولانامولیٰ بخش امرتسریؒ۔
۱۹-مولاناعبدالحکیم گیاویؒ ۔
۲۰-مولانامحمداکرام خان کلکتویؒ ۔
۲۱۔مولانامنیرالزماں اسلام آبادیؒ۔
۲۲-مولانامفتی محمدصادق صاحب کراچویؒ ۔
۲۳-مولاناسیدمحمدداؤدصاحب غزنویؒ ۔
۲۴۔مولاناسیدمحمداسماعیل صاحب غزنویؒ ۔
۲۵-مولاناآزادسبحانیؒ۔
۲۶-مولانامحمدعبداللہ صاحب ؒ ۔

مجلس تاسیس میں حضرت مولانامحمدسجادؒ کی شرکت کامعاملہ
یہ فہرست(حضرت مولانامحمدسجادؒ کااستثناء کرکے)سحبان الہندحضرت مولانااحمد سعیددہلویؒ کی مرتب کردہ رپورٹ”مختصرحالات انعقادجمعیۃ علمائےہند”سےلی گئی ہے،مولانا شاہ محمدعثمانی ؒ کی کتاب”حسن حیات” اور مولاناحفیظ الرحمن واصف دہلویؒ خلف الرشید حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ کی کتاب "جمعیۃ علماء ہند پرتاریخی تبصرہ”میں بھی یہ فہرست اسی طرح موجودہے ،اوران حضرات نےبھی یہ فہرست مولانااحمدسعیددہلویؒ کی مذکورہ بالاکتاب ہی سے لی ہے، ۔
یہاں قابل ذکربات یہ ہےکہ اس رپورٹ میں شرکاء کی جو فہرست دی گئی ہےاس میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کانام موجودنہیں ہے،اوراسی بناپریہ خیال پیداہواکہ مولانا سجاد صاحبؒ اس اجلاس میں شریک نہیں تھے ،جیساکہ مولاناحفیظ الرحمن واصف لکھتے ہیں کہ:
"مختصرحالات انعقاد”میں جن علماء کرام کی موجودگی ظاہرکی گئی ہےان
کی تعدادپچیس (۲۵)ہےلیکن ان کےعلاوہ دوحضرات ایسےبھی ہیں جن
سےہم کسی طرح صرف نظرنہیں کرسکتے،ایک مولوی مظہرالدین ایڈیٹر
الامان ،دوسرےحضرت ابوالمحاسن مولانامحمد سجادقدس سرہ (نائب امیر
الشریعۃ صوبہ بہار)
حضرت مولانامحمدسجادصاحب قدس سرہ المتوفی ۱۸/شوال
المکرم ۱۳۵۹؁ھ بمقام پھلواری شریفگرچہاس موقعہ پردہلی تشریف
نہیں لاسکےمولاناعبدالحکیم گیاوی جوان کےخاص شاگرداورمعتمدرفیق کار
تھے،ان کے نمائندے اورقائم مقام کی حیثیت سےخلافت کانفرنس کی
شرکت کے لئے دہلی تشریف لائے تھےاورجمعیۃ کی تاسیس والےاجتماع
میں بھی شریک ہوئے تھے،لیکن ابتدائی تخیل میں مولاناسجادؒ کاعظیم
الشان کردارہے ۔
مولاناحفیظ الرحمن واصف صاحب ایک دوسری جگہ اس کی توجیہ کرتے ہوئےلکھتے ہیں:
"۱۹۱۹؁ء میں جب علماء کے اجتماع بمقام دہلی کامنصوبہ طےپایا،توحضرت
مولاناسجادصاحب بہارکےسیاسی معاملات میں ایسےالجھےہوئےتھے،کہ
ایک دن کےلئےبھی باہرنہیں جاسکتےتھےمجبوراًاپنی جگہ پرمولاناعبدالحکیم
صاحب کواپناپیام اورمشورہ دےکربھیجااس کے بعد آخری دم تک جمعیۃ
علماء ہندکےہراہم معاملےمیں حضرت مولاناؒخودشریک ہوتےرہے”
مولاناواصف صاحب ؒنےاس کی تائیدمیں سحبان الہندمولانااحمدسعیددہلوی صاحبؒ
کاایک بیان بھی نقل کیاہےکہ:
"دہلی میں اس وقت خلافت کانفرنس کی شرکت کے لئے اگرچہ
بہت علماء آئے تھےمگرہماری میٹنگ میں صرف اتنےہی علماء شریک
ہوئے،جتنےرپورٹ مطبوعہ میں درج ہیں ۔

حضرت سحبان الہندمولانااحمدسعیددہلویؒ کی شہادت
لیکن حضرت سحبان الہندؒ کایہ بیان خودانہی کےایک مضمون سےجس کاذکراوپر "حیات سجاد”کے حوالےسےآیاہے،شک کےدائرہ میں آجاتاہے،یہ مضمون انہوں نے حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کی وفات پرتحریرفرمایا تھاجس میں انہوں نےبڑی وضاحت کےساتھ اسی خلافت کانفرنس میں حضرت مولاناسجادؒسےاپنی ملاقات کاذکرکیاہےبلکہ جمعیۃ کی اس تاسیسی نشست میں حضرت مولاناؒکی تقریراوراس کی اثرانگیزی کابھی حوالہ دیاہے،کہ کوئی آنکھ اورکوئی دل نہیں تھاجس نےاس تقریرکااثر قبول نہ کیاہو،اورغالباًاسی لئےیہ ملاقات ان کےلئےناقابل فراموش بن گئی تھی،مولانا احمدسعید صاحبؒ رقمطرازہیں کہ:
"مولانامرحوم سے سب سے پہلی ملاقات جہاں تک مجھے یادہے،
خلافت کانفرنس میں ہوئی یہ خلافت کانفرنس دہلی میں منعقدہوئی
تھی اسی خلافت کانفرنس میں بعض اہل علم نے یہ مشورہ کیاکہ
ہندوستان کےعلماء کی تنظیم ہونی چاہئے،۔۔۔چنانچہ علماء کی ایک
مختصراورمخصوص جماعت کاخفیہ اجتماع دہلی کےمشہوربزرگ
سیدحسن رسول نماؒ کی درگاہ پر منعقدہوااس میں تمام حضرات
نےاپنےاپنے خیالات کااظہارکیا،حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ
نے اس جلسہ میں ایک مختصرتقریرفرمائی تھی،اس تقریرکاایک
ایک لفظ مولاناؒ کے جذبات ایمان کا ترجمان تھا،حاضرین کی
تعداداگرچہ دس بارہ آدمیوں سے زیادہ نہ تھی ،لیکن کوئی آنکھ
اورکوئی دل ایسانہ تھاجس نےاثرقبول نہ کیاہو ”
اسی طرح جمعیۃ علماء ہندکےپہلےاجلاس امرتسرکےبارےمیں لکھتےہیں:
"اس کاپہلاجلسہ امرتسرمیں خلافت کانفرنس کےساتھ منعقد ہوا،۔۔
جمعیۃ کےاس پہلےاجلاس میں بھی حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجاد
مرحوم شریک ہوئےاور انہوں نےاپنےخیالات کاپھراعادہ فرمایا”
بلاشبہ مولانااحمدسعیددہلوی ؒ کومولاناسجادؒ کے ساتھ جو گہری وابستگی تھی اوراس دن کی لذت تقریر کاجس اندازمیں انہوں نےذکرکیاہے اس کےپیش نظرکم امکان ہےکہ اس بیان میں مولاناؒسےسہوہواہو،اسی مضمون میں مولانااحمدسعیدصاحبؒ حضرت مولاناسجادؒسے اپنی بےپناہ عقیدت ومحبت اوروسیع تعلقات کاذکرکرتےہوئےلکھتےہیں:
"حضرت مولانامحمدسجادمرحوم سےجیساکہ میں نےعرض کیا،۱۹۲۰؁ء
سے میرے تعلقات وسیع ہوئےاوران تعلقات نے اتنی محبت اور
وسعت پیداکرلی ،کہ بلا شبہ اگران تعلقات کوباپ بیٹے کےتعلقات
سمجھاجائے تومبالغہ نہ ہوگا،مولاناؒ مجھ سے اپنی اولادکی طرح محبت
کرتےتھےاورمیں بھی ان کی عزت اوران کااحترام باپ کی طرح
کرتاتھا،اوربعض جلسوں میں میں نے ان کی موجودگی میں ان
تعلقات کااظہاربھی کیاتھااورمیں سمجھتاہوں کہ ان کےخدام میں
مجھ سےزیادہ کوئی ان کارازدارنہ ہوگا،سفروحضرمیں مولاناسےصدہا
بارتبادلۂ خیالات کاموقعہ میسر آیاہے” ۔
٭اس کانفرنس میں حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒکے شریک نہ ہونے کی بات اس لئے بھی غلط معلوم ہوتی ہےکہ یہ پہلی خلافت کانفرنس تھی ،جس میں ہرصوبہ کےذمہ دار شریک ہوئے تھے،اور تحریک خلافت کی بناء وقیام میں حضرت مولاناسجادؒ کاجوبنیادی کردار رہاہے،وہ صوبہ کے ذمہ داربھی تھے ،اس کےپیش نظرناممکن ہے کہ وہ اس اہم ترین بنیادی مجلس سےغیرحاضررہے ہوں۔
٭جہاں تک مولاناحفیظ الرحمن واصفؔ کےاس خیال کاتعلق ہےکہ”حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ بہارکےسیاسی معاملات میں اس قدرالجھےہوئےتھےکہ خودتشریف نہ لاسکے”-بظاہراس خیال میں کوئی معنویت نظرنہیں آتی کیونکہ اس وقت تک بہارمیں نہ امارت شرعیہ قائم ہوئی تھی اورنہ مسلم ا نڈی پنڈنٹ پارٹی ،ان دنوں مولاناکی تمامترمصروفیات تحریک خلافت یاانجمن علماء بہارکےگردمرکوزتھیں ،ان کی ساری توانائی انہی کی ترقی وتوسیع کےلئےصرف ہورہی تھی ،اس لئےیہ بات ہرگزقرین قیاس نہیں کہ دہلی میں انہی دونوں (خلافت کانفرنس اورمجلس تاسیس جمعیۃ)کےمرکزی پروگرام ہوں اورآپ ان میں شریک نہ ہوں۔
رپورٹ "مختصرحالات انعقادجمعیۃ علماء ہند”-پرایک نظر
جہاں تک اس مطبوعہ رپورٹ کی بات ہےجومولانااحمدسعیددہلویؒ ہی کے قلم سے "مختصرحالات انعقاد جمعیۃ علماء ہند”کے نام سےجمعیۃ علماء کےابتدائی دنوں میں شائع ہوئی تھی،توامکان ہےکہ نام کےاندراج میں سہوہواہو،اس لئے کہ ساری کاروائی خفیہ اورزبانی تھی ،یہاں تک کہ دعوت نامہ بھی تحریری نہیں تھا،مولاناحفیظ الرحمن واصف ؔ نےخودحضرت
مولانااحمدسعید صاحب ؒ کابیان نقل کیاہے کہ :
"یہ سب کاروائی زبانی اورپرائیوٹ تھی کوئی تحریری دعوت نامہ نہیں تھا
۔۔ اس عہدوپیمان میں کون کون حضرات شریک تھےاب سب کےنام
یادنہیں ہیں ہاں مولاناعبدالباری ،مولانامنیرالزماں ،مولاناآزادسبحانی کی
موجودگی تویادہے،۔۔۔احتیاط اس قدرمدنظرتھی کہ کسی صاحب نے
اثنائےگفتگومیں انگریزوں کےخلاف کوئی بات کہی تومولاناثناء اللہ نے
فرمایا،بھئی ذراآہستہ بولئے”دیوارہم گوش دارد”
اس سےصاف ظاہرہےکہ اس پہلی میٹنگ کاکوئی تحریری ریکارڈتیارہی نہیں کیاگیاتھا،اورمذکورہ بالامطبوعہ رپورٹ محض حافظہ کی بنیادپربعدمیں تیارکی گئی تھی،اس لئے سہوونسیان کاپوراامکان موجودہے،اوروہ بھی جب کہ اکثرغیرشناشاچہروں سےسامناہو،تو نسیان کااندیشہ زیادہ ہوجاتا ہے۔
٭اس رپورٹ کانقص اس سے بھی ظاہر ہوتاہےکہ جمعیۃ علماء ہندکےپہلےاجلاس امرتسرکےشرکاء کی جوفہرست اس میں دی گئی ہےاس میں بھی حضرت مولاناسجادؒکانام موجودنہیں ہے، حالانکہ اسی رپورٹ میں جمعیۃ علماء ہندکی پہلی مجلس منتظمہ کی فہرست میں صوبہ بہارکی طرف سےحضرت مولاناسجادکااسم گرامی شامل کیاگیاہے،حیرت کی بات ہےکہ جو شخص نہ پہلی مجلس تاسیس میں شریک ہواورنہ جمعیۃ کےاجلاس اول میں موجودہو،مگراس کانام جمعیۃ کی سب سےپہلی،بنیادی اوراہم ترین مرکزی مجلس منتظمہ میں شامل کرلیاجائے؟۔۔۔
یہ اس بات کی علامت ہےکہ یہ رپورٹ نقص اور سہوسےپاک نہیں ہے۔
٭اس رپورٹ کےنقص کاایک اورمظہریہ ہےکہ اس میں شرکاء اجلاس امرتسر (بتاریخ ۲۸/دسمبر۱۹۱۹؁ء جلسۂ اول)کی جوفہرست”اسماء حاضرین”کےعنوان سے دی گئی ہے اس میں خودحضرت مولانااحمدسعیددہلوی کےہم وطن حاذق الملک حکیم محمداجمل خان صاحب جیسی مشہورزمانہ شخصیت کانام بھی شامل نہیں ہے ۔۔۔۔۔جب کہ حکیم صاحب امرتسرمیں موجودتھے اورآپ نےمسلم لیگ کےاجلاس کی صدارت بھی کی تھی ۔اورجمعیۃ علماء ہندکےاجلاس میں بھی شریک رہے،اوران کوحلقہ دہلی سےپہلی مجلس منتظمہ کارکن منتخب کیاگیا،خود اسی رپورٹ میں آگےجلسہ کی کاروائی کی تفصیل کےضمن میں شق نمبر ۹ کےتحت لکھاگیاہے:
"مولانامحمدکفایت اللہ صاحب نےاغراض ومقاصدکااجمالی خاکہ پیش کیا
،اس کےبعدجناب حاذق الملک حکیم حافظ محمداجمل خان صاحب جلسے
میں تشریف لائےاورآپ نےانعقادجمعیۃ سےاپنادلی اتفاق ظاہرکرتے
ہوئے فرمایاکہ”میں جمعیۃ علماء کےانعقادسےبہت خوش ہواہوں”۔۔
۔۔۔ (مغرب کےوقت یہ جلسہ ختم ہوا)
یہاں یہ تاویل درست نہ ہوگی کہ حکیم صاحب دیرسےتشریف لائےتھے،اس لئےکہ حکیم صاحب اس دن کےجلسہ کی کاروائی میں شریک رہے،اوریہ رپورٹ توبعدمیں شائع ہوئی،اسماء حاضرین کی فہرست میں حکیم صاحب کا نام اندراج سےرہ جانایقیناًاس رپورٹ کاایک نقص ہےجس کوسہواورتسامح ہی پرمحمول کیاجاسکتاہے۔
٭نیزمرتب رپورٹ حضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ جب خود وضاحت کےساتھ دہلی اورامرتسردونوں جگہوں پرحضرت مولاناسجادؒ کی شرکت کااعتراف کرتے ہیں ،بلکہ آپ کی تقریروں کےحوالےبھی دیتےہیں،توپچھلی رپورٹ کی غلطی خوداس کےمرتب ہی کےقلم سے ثابت ہوجاتی ہے،اورچونکہ حضرت مولانااحمدسعیدصاحبؒ کا مضمون تاریخی لحاظ سےاس رپورٹ سےمتأخرہےاس لئےاصول کےمطابق یہ اس رپورٹ میں یک گونہ اضافہ اور سابقہ غلطی کی اصلاح تصورکی جائےگی۔
٭علاوہ اصول تاریخ وروایت کےمطابق کسی شےکاذکراوراثبات اس کے بارے میں سکوت پرمقدم ہوتاہے،اس لئےکہ سکوت میں جس طرح عدم کااحتمال ہےاسی طرح یہ بھی شبہہ ہےکہ اندراج سےرہ گیاہو،عدم ذکرسےعدم وجودلازم نہیں آتا،جب کہ اثبات میں اس طرح کاکوئی شبہہ نہیں ہوتا۔۔۔گوکہ حضرت مولاناسجادؒجیسی اہم ترین شخصیت کانام اندراج سےرہ جانابجائےخودحیرت انگیزامرہے،لیکن بہرحال کہیں نہ کہیں حضرت مولانا احمدسعیددہلویؒ کےقلم سےسہوضرورہواہے،لیکن عام اصول ردوقبول اوردیگرتاریخی شواہد کےمطابق وجودکوعدم پراورذکرکوعدم ذکرپرترجیح دی جائےگی۔
جمعیۃ علماء ہندکی تشکیل اورعہدیداران کاانتخاب
بہرحال اسی اجتماع میں جمعیۃ علماء ہند کی تشکیل عمل میں آئی اورعہدیداران کابھی عارضی انتخاب ہوا،جمعیۃ کاصدردفترمدرسہ امینیہ دہلی میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب کا کمرہ مقرر کیاگیا،حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی ؒ عارضی صدراورحضرت مولانا احمدسعیددہلوی ؒ عارضی ناظم بنائے گئے،جمعیۃ کی دستورسازی کاکام مفتی کفایت اللہ صاحب اورمولانامحمداکرام خان کلکتہ کے سپرد کیاگیا،اورجمعیۃ علماء ہندکاپہلااجلاس مولاناابوالوفاثناء اللہ امرتسری اورمولاناسیدمحمدداؤدصاحبان کی دعوت پراسی سال دسمبرکےمہینےمیں بمقام امرتسر کرنامنظورکیاگیا جس کی صدارت کےلئےحضرت مولاناعبدالباری صاحب فرنگی محلیؒ کا اسم گرامی تجویزکیاگیا،اورجمعیۃ کےدستور اساسی کامسودہ تیارکرنے کی ذمہ داری مولانامحمد اکرام خان ایڈیٹراخبارمحمدی کلکتہ اورمولانامحمدکفایت اللہ دہلوی کودی گئی اوریہ بھی طے ہواکہ اسی جلسہ میں یہ دستوراساسی بھی غوروخوض کےلئےپیش کیاجائے،ان تجاویزکی منظوری کے ساتھ جمعیۃ علماء ہندکایہ تاسیسی اجتماع اختتام پذیرہوا ۔
حسن انتخاب
عہدوں کی یہ تقسیم میرے خیال میں بڑی حکمتوں پرمبنی تھی،جمعیۃ کے صدراور ناظم دونوں حلقۂ دیوبند سے مقرر کئے گئے،حضرت مولاناعبدالباری صاحبؒ اور حضرت مولانامحمد سجادصاحبؒ گوکہ اس تحریک کے سب سے قدیم رکن تھےلیکن ان حضرات نے کوئی عہدہ قبول نہیں کیا،غالباً:ایک توحلقۂ دیوبند کی قوت عمل اوردائرۂ اثرکی بنیادپر۔۔۔ دیوبند اور تحریک شیخ الہندؒ کاپوراپس منظران حضرات کےسامنےتھا،اورتمام ترفروعی اختلافات کے باوجودشرکاء مجلس کویقین تھاکہ اگرعلماء دیوبندکسی تحریک کےلئےسرگرم ہوجائیں تواس کی کامیابی کےامکانات زیادہ ہیں ،یہ علماء دیوبندکو تحریک سے جوڑنے کی حکمت عملی کابھی حصہ تھا
٭دوسرا بڑاسبب یہ بھی ہوسکتاہےکہ دہلی میں دفتر کےلئے کوئی اپنی جگہ نہیں تھی ،اور نہ اتناسرمایہ کہ جس سے دفتر کی جگہ حاصل کی جاسکے،جب کہ حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب شاہجہاں پوری ثم دہلوی ؒ اورحضرت مولانااحمدسعیددہلویؒ دونوں دہلی ہی میں رہتے تھے ،اس لئےیہ حضرات اپنی جگہوں پررہتے ہوئے بغیرکسی بڑے خرچ کے جمعیۃ کے کاموں کوآگےبڑھا سکتے تھے،چنانچہ مدرسہ امینیہ دہلی میں حضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب ؒ کا کمرہ ایک عرصہ تک جمعیۃ کےدفترکےطورپراستعمال ہوتارہااورصدرعالی قدراپنےکمرہ کی چٹائیوں پربیٹھ کردفتری سرگرمیاں انجام دیتےرہے ،مولانااحمد سعیدصاحب گوکہ جوان العمرتھے،لیکن صدر صاحب کی نگرانی میں امورنظامت بخوبی انجام دےسکتے تھے،ناظم کا ذہنی طورپرصدرسے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوتاہے ورنہ بہت سی تنظیمی مشکلات پیداہوسکتی ہیں،مولانااحمدسعید صاحب صدرمحترم کےہم مسلک بھی تھے،اورشاگردبھی ،اس لئے حسن استواری کےساتھ تنظیم کاکام آگے بڑھ سکتاتھا،چنانچہ ایساہی ہوا،مسلسل بیس (۲۰) سال تک دونوں بزرگوں کےعہدوں کی یہ رفاقت برقرار رہی ، اورجمعیۃ تیزرفتارترقی کے ساتھ آگےبڑھتی رہی۔۔۔اس لئے میرے نزدیک اکابرجمعیۃکایہ انتخاب "حسن انتخاب” کا مصداق تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: