مضامین

جمعیۃ علماء ہند کاقیام تصور،تحریک اورپس منظر

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادصاحبؒ غیراسلامی ہندوستان میں نصب امیر کومسلمانوں کاملی فریضہ تصورفرماتے تھے(اس لئےکہ خلافت اسلامی کےزوال اورحکومت اسلامی کےخاتمہ کےبعدمسلمانوں کی حیات اجتماعی وملی کےلئےاس کے سواچارۂ کارنہیں تھا)مگراس کےلئے علماء کااتحادضروری تھا،امیرکوعلماء کی حمایت حاصل نہ ہوتواس کومطلوبہ طاقت اورعوامی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی تھی،چنانچہ ۱۹۱۷؁ء(۱۳۳۶؁ھ) سےقبل ہی مولاناؒنے جمعیۃ علماء ہند کی تاسیس کاپروگرام بنایا ،علماء کوخطوط لکھے،اورملک کےمختلف حصوں کےدورےکئے،اور اس تعلق سے پیداہونے والے سوالات کےجوابات دئیے۔۔۔۔۔ان مراسلات واسفارکے اخراجات آپ کےخصوصی مسترشداورشہرگیاکی متمول شخصیت مولاناقاضی احمدحسین صاحب ؒنے برداشت کئےتھے،مگرعلماء کےمسلکی اورفکری اختلافات کی بناپرکافی دشواریوں کاسامناہوا، مختلف الخیال اورمختلف المشرب علماء کوایک جگہ جمع کرناآسان نہیں تھا ،علاوہ اکثر علماء سیاست کےنام سےبھی گھبراتے تھے،بعض حلقوں میں تواس کو شجرممنوعہ قراردیا گیا تھا،اورعلماء کی شان کے منافی تصورکیاجاتاتھا،۔۔۔
مولاناشاہ محمدعثمانی ؒ لکھتے ہیں کہ :
"مولاناسجادکی کوششوں اورافہام وتفہیم سےضرورت توبہت علماء محسوس
کرنے لگے تھے ، لیکن قابل عمل نہیں سمجھتے تھے،کئی چھوٹے چھوٹے
اجتماعات مختلف مقامات پر ہو تےرہے،لیکن ان میں بجزمفتی کفایت اللہ
صاحب کےخودعلماء دیوبندبھی شریک نہ ہوئے ”
انجمن علماء بہارکی تاسیس
آخرایک روزحضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒنےقاضی احمدحسین صاحب ؒ سےکہا کہ :
"علماء ہند کوجمعیۃ علماء کےقیام پرانشراح نہیں ہےاس لئے میں چاہتاہوں کہ
گیامیں علماء بہارکاجلسہ بلاؤں ”
قاضی صاحب نےاتفاق کیا،اوراجلاس کےانعقادمیں اپناپوراتعاون پیش کیا،چنانچہ ۳۰/صفرالمظفر۱۳۳۶؁ھ مطابق ۱۵/دسمبر ۱۹۱۷؁ء کومدرسہ انوارالعلوم گیاکےسالانہ اجلاس کےموقعہ پر”جمعیۃ علماء بہار” کی بنیادپڑی،اوراس کاصدرمقام مدرسہ انوارالعلوم قرارپایا،اس کاابتدائی نام” انجمن علماء بہار”رکھاگیا ۔
اس کی ضرورت اورمقاصدکی طرف حضرت مولاناسجادؒنےروئیدادمیں ان الفاظ میں اشارہ کیاہے:
"۳۰/صفر۱۳۳۶؁ھ بوقت شب مدرسہ انوارالعلوم میں ان علماء بہارکاجو
بتقریب جلسہ سالانہ مدرسہ انوارالعلوم (گیا)مجتمع تھے،ایک خاص اجتماع
اس غرض سےہواکہ مسلمانوں کےمذہبی وملکی مصائب اورمشکلات حاضرہ
کےاسباب اوران کےرفع کرنےکےذرائع ووسائل پرغورکرے
مولاناعبدالصمدرحمانی صاحب تحریرفرماتےہیں:
"جمعیۃ کے اغراض ومقاصد میں صرف دوچیز جامع رکھی گئی تھی ایک
دعوت اسلامیہ ،اوردوسرےحفاظت حقوق ملیہ”
اس پس منظرسےاندازہ ہوتاہےکہ حضرت مولاناسجادؒکی”انجمن علماء بہار”محض مقامی مسائل کے لئےاچانک قائم نہیں کردی گئی تھی،بلکہ پورےملک کےدورےکےبعد ملک گیرمقاصد کےپیش نظربطورنمونہ قائم کی گئی تھی،جس کادائرۂ کارسردست صوبۂ بہارتھا ،اورقیام کےمقاصدمیں ملت کی دینی وسیاسی قیادت،نظام قضاکاقیام اورجمعیۃ علماء ہنداورامارت شرعیہ ہندکےلئےذہن سازی بھی شامل تھی ۔چنانچہ حضرت مولاناسجادؒنے سب سے اول دارالقضاء کانظام اسی انجمن علماء بہارکے ماتحت قائم فرمایاتھا،جس کی شاخیں پورےبہارمیں پھیلی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔۔یوں لغوی مفہوم کے اعتبارسے انجمن ،جمعیۃ اورتنظیم سب مترادف الفاظ ہیں۔
ندوۃ العلماء کانپور
بلاشبہ اس سےقبل حضرت مولانامحمدعلی مونگیریؒ کی تحریک پرکانپورمیں "ندوۃ العلماء”کےنام سے علماء ہندکی ایک انجمن قائم ہوچکی تھی،جوغالباًاس ملک میں انگریزی تسلط کےبعدعلماء کی پہلی انجمن تھی ،ملک میں اس کےکئی پرجوش پروگرام ہوچکے تھےاوراس کےزیرانتظام ایک دارالعلوم بھی لکھنؤمیں جاری ہوچکاتھا،جواپنی امتیازی خصوصیات کےساتھ آج تک جاری ہے،لیکن اس انجمن کامقصد خالص علمی تھا،مسلمانوں کےملی اورسیاسی مسائل سے اس کو سروکار نہ تھا۔
جمعیۃ الانصاردیوبند
دیوبند میں جمعیۃ الانصارکا قیام بھی انہی کوششوں میں سے ایک تھا،لیکن اس کانصب العین بھی سیاسی نہیں تھا،بلکہ بہت محدودمقاصد کےلئےقائم کیاگیاتھا،دیوبندمیں "ثمرۃ التربیۃ”نامی انجمن ختم ہونےکےبعدیہ جمعیۃ قائم ہوئی تھی ،مولاناحفیظ الرحمن واصفؔ خلف الرشیدمفتی اعظم ہندحضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب شاہجہاں پوریؒ کی اطلاع کے مطابق یہ دراصل فضلائےمدرسہ دیوبندکی ایک انجمن تھی،جس کامقصد مدرسہ کی تعلیمی خدمات کی تشہیراورمسلمانوں کومدرسہ کی امدادکی طرف توجہ دلاناتھا،اس کےناظم اعلیٰ حضرت مولاناعبیداللہ سندھیؒ تھے،اس کےاغراض ومقاصدخودمولاناسندھی ؒکی زبانی ملاحظہ فرمائیں:
"جمعیۃ الانصارمدرسہ عربی دیوبندکےفارغ التحصیل طلبہ کی اس مددگار
جماعت کانام ہےجومخصوص شرائط کی پابندہوکرمدرسےکی ہمدردی میں
ہرطرح پرحصہ لےیابالفاظ دیگرسرپرستان مدرسہ دیوبندکےدست وبازو
بن کرکام کرے،اس جمعیۃ کی غرض مدرسےکےمقاصدکی تائیدوحمایت
اوراس کےپاک اثرکی ترویج واشاعت ہے،ملکی معاملات سےاس کاکوئی
تعلق نہیں ،اس جماعت کےارکان مدرسہ عالیہ دیوبندکےسابق تعلیم یافتہ
حضرات ہیں جن میں سےہرایک کافرض ہےکہ مدرسہ کی تعلیمی،انتظامی
اورمالی ترقی میں انتہائی کوشش کرے”
پھراس کےپہلےاجلاس مرادآبادمنعقدہ ۱۵تا۱۷اپریل ۱۹۱۱؁ء(۱۵/ربیع الثانی ۱۳۲۹؁ھ) کی پانچویں نشست میں جوسات(۷) خالص دینی وتعلیمی تجاویزپاس ہوئیں،ان میں سےایک یہ ہےکہ:
"ایسےچھوٹےچھوٹےرسائل بکثرت شائع کرناجن میں عقائداسلام کی
تعلیم فرقہ آریہ کےجوابات اوروفاداریٔ گورنمنٹ کی ہدایات ہوں”
مؤتمرالانصارکا دوسرا اجلاس میرٹھ میں ۶،۷ ،۸/اپریل ۱۹۱۲؁ء جمعیۃ
الانصار اہل علم و صلاح کی وہ جماعت ہےجس نےدارالعلوم دیوبندکی
تکمیل کےضمن میں مسلمانوں کی مذہبی ضروریات پوراکرنےکاتہیہ کرلیا
ہے،الانصارنےاپنےمقصد کی تکمیل کےذرائع ووسائل میں مشورہ لینے
اورمسلمانوں کےمذہبی مقتداؤں کےاتفاق سےمذہبی تعلیم کاراستہ معین
کرنےکےلئےایک سالانہ جلسہ قراردیاہے ۔
بعدمیں غالباًاس میں توسیع کردی گئی تھی ،اورفضلاء دیوبندیاعلماء کی کوئی تخصیص باقی نہیں رہی تھی،اورملت اسلامیہ کی خدمت ونصرت کےلئےہرشخص کےلئے اس کا دروازہ کھول دیاگیاتھا۔۔۔لیکن اس کےباوجوداس کی کوششیں زیادہ بارآورنہ ہوسکیں۔بقول مولانا ابوالکلام آزادؒ:
"افسوس ہے کہ اس وقت تک کوئی سعی وتدبیربھی سودمنداورکامیاب
نہیں ہوئی”
انجمن علماء بنگال-تعارف اور پس منظر
اسی طرح بنگال میں مولانامنیرالزماں اسلام آبادی ؒ نےبھی ایک”انجمن علماء بنگال”قائم کی تھی،جس کےایک اجلاس(منعقدہ ۱۱،۱۲ربیع الاول ۱۳۳۶؁ھ مطابق ۲۵،۲۶/ دسمبر۱۹۱۷؁ء)کی صدارت علامہ سیدسلیمان ندوی ؒ نےکی تھی،اس کاذکرخودعلامہ ندویؒ نے اپنےخطبۂ صدارت کلکتہ میں کیاہے ،لیکن وہ بھی یہ ایک غیرسیاسی،اورمحض تبلیغی و اصلاحی نوعیت کی تنظیم تھی ، کیوں کہ بنگال میں تشددپسندوں کی وجہ سے صوبائی حکومت بہت حساس تھی،اور مولانامنیرالزماں اسلام آبادی تھے توانقلابی قسم کےآدمی ،لیکن ان کواندیشہ تھاکہ سیاست کی شمولیت سےبہت سے علماء اس میں شریک ہونےسے گھبرائیں گے، اسی لئے انہوں نےانجمن کےمقاصد تبلیغ واصلاح تک محدود رکھےتھے ۔
علاوہ یہ انجمن عیسائی مشنریوں کے حملوں کے دفاع میں قائم ہوئی تھی ،اس لئے بھی اس کے مقاصد مذہبی اوردعوتی حدودسے متجاوزنہیں ہوسکے ۔
حضرت مولاناسجادؒ نے اپنےخطبۂ صدارت(مرادآباد)میں اس انجمن کاذکرکیا ہے اوراس کے قیام کےپس منظر کی طرف بھی اشارہ کیاہے، مولاناؒکےمطابق انجمن علماء بنگال کے قیام کاپس منظر اس مذہبی ارتدادکاخاتمہ تھاجو عیسائی مشنریوں نےبنگال میں پھیلارکھاتھا،جب کہ انجمن علماء بہارایک جامع المقاصدتنظیم کے طورپرقائم ہوئی تھی،اس کےقیام کےمقاصد میں ملت کی دینی وسیاسی قیادت ،نظام قضاکاقیام ،جمعیۃ علماء ہنداورامارت شرعیہ ہندکے لئےزمین کی تیاری بھی شامل تھی،اوراس کےپس منظر میں علمی زوال اورمذہبی فتنوں کے علاوہ وہ خونریز جنگیں بھی تھیں جوملک وبیرون ملک اسلام اورملت اسلامیہ کےخلاف لڑی جارہی تھیں ، حضرت ابوالمحاسنؒ کےالفاظ میں:
"بنگال میں عیسائی مشنریوں کےحملہ نےعلماء بنگال کومتنبہ کیا،کہ وہ جمعیۃ
علماء بنگالہ قائم کریں ،اورپھراس کے بعد اندرون ہند وبیرون ہندکے
محاربۂ عظیمہ کودیکھتے ہوئےعلماء بہارکوتنبہ ہوا،لہٰذاانہوں نے ۱۳۳۵؁ھ
میں انتظامی زندگی کےتمام مقاصد کوپیش نظررکھ کرجمعیۃ علماء بہارقائم
کی ” ۔
اسی لئےانجمن علماء بنگال کادائرۂ کاربہت محدودرہااوررفتہ رفتہ وہ بے اثرہوکرختم ہوگئی،بعدمیں مولانامنیرالزماں اسلام آبادی ؒ حضرت مولاناسجادصاحبؒ کےساتھ جمعیۃ علماء ہندکی کل ہندتحریک میں شامل ہوگئےاور اس کےبانی قائدین میں شمارکئے گئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: