مضامین

جمعیۃ علماء ہند کاقیام جمعیۃ علماء بہار-خدمات اورسرگرمیاں

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

جمعیۃ علماء بہار-جمعیۃ علماء ہندکی خشت اولین
غرض حضرت مولاناسجادصاحبؒ نےجس دورمیں” جمعیۃ علماء بہار”کی داغ بیل ڈالی وہ پورے ہندوستان میں اپنی فکرونوعیت اوراغراض ومقاصدکےلحاظ سےپہلی”جمعیۃعلماء” تھی،جس کوفکری اورعملی دونوں اعتبارسےجمعیۃعلماءہندکی خشت اول کہنازیادہ مناسب ہے، جمعیۃ علماء ہندکی تعمیراسی نقش اول کی روشنی میں ہوئی ہے۔
یہ اسی جمعیۃ علماء ہندکی سنگ بنیادتھی جس کاخواب مولاناابوالکلام آزادؒالہلال کے اجراء( ۱۹۱۱؁ء)کےوقت ہی سےدیکھ رہےتھے،اورجس کوجمعیۃ علماء ہندکےتیسرے اجلاس عام(لاہور)کےخطبۂ صدارت میں انہوں نے”عالم اسلامی کاپہلااجتماع علماء” قراردیاتھا، دیکھئےخطبۂ صدارت لاہورمیں ان کی تصویردرد:
"آپ کی یہ مقدس ومبارک جمعیۃ العلماءجس مقصدکی جستجومیں منعقد
ہوئی ہےمیں آپ کویقین دلاناچاہتاہوں،کہ یہ وہی یوسف مقصودہے
جس کےفراق میں ۱۹۱۱؁ء سےمتصل وااسفاعلیٰ یوسف کی فغاں
سنجی کررہاہوں،اورجس کےلئےمیں نےالہلال مرحوم کےصفحوں کو
کبھی اپنےچشم خونیں کےآنسوؤں سےرنگاہے،اورکبھی اس کےسوادو
حروف کےاوپراپنےدل وجگرکےٹکڑے بچھادئیےہیں ،۱۹۱۱؁ء سےلے
کرآج تک یہ مقصد میرےدل کی تمناؤں اورآرزؤں کامطلوب اورمیری
روح کی عشق وشیفتگی کامحبوب رہاہے،خداکی کوئی صبح مجھ پرایسی طلوع نہیں
ہوئی اس مقصد کی طلب سے میرادل خالی ہواہو،اورکوئی شام مجھ پرایسی
نہیں گذری،جب میں نےاس کی تمنامیں اپنےبسترغم واندوہ پربے قراری
کی کروٹیں نہ بدلی ہوں میں نےاپنی آزادی کی تمام فرصت اسی کے عشق
میں بسرکی،اورنظربندی وقیدکےچار(۴)سال اسی کےفراق میں کاٹے۔
پس اے بزرگان ملت ! اگرآج علماء امت کی یہ نہضت مبارکہ جمعیۃالعلماء
کی شکل میں طالع ونظر افروزہوئی ہےتومجھے کہنےدیجئےکہ یہ میرے دہ
سالہ سوالوں کاجواب ہے ،میری تمناؤں اورآرزوؤں کاظہورہے،میری
فریادوں اورالتجاؤں کی قبولیت ہے،میرے لئے ماتشتہیہ الانفس و
تلذ الاعین اوریقیناً میری امیدوں کےقدیم خواب کی تعبیرہےھذا
تاویل رویای من قبل قدجعلھاربی حقا
کار زلف تست مشک افشنی اماعاشقاں
مصلحت راتہمت برآہوئےچیں بستہ اند
حضرات !یقیناًمیں نےیہ عرض کرنےمیں آپ تمام مجمع علم وبصیرت کے
آراء ومعتقدات کی ترجمانی کی ہےکہ جمعیۃ العلماء کےاعمال دعوت کے لئے
قاعدۂ اساسی یہی مسلک ہےاسی مقصد کوسامنےرکھ کروہ موجودہ عہدغربت
اسلام میں منصب نیابت وشہادت حق کےفرائض انجام دینےکےلئےمستعد
کار ہوئی ہےاوربلاخوف ردکہاجاسکتاہےکہ مسلک اصلاح دینی کی بناپرعالم
اسلامی کایہ سب سےپہلااجتماع علماء ہےجواس وسعت واتحاداورجمعیۃ اقوام
کےساتھ مجتمع ہواہے،جوکام اس وقت تک تمام بلاد اسلامیہ کی طلب وسعی
سے بروئے کارنہ آسکااورجس کی توفیق موجودہ عہدکی اسلامی حکومتوں کوبھی
نہ ملی،اورتمام مصلحین عہداس کی تمنائیں اپنےساتھ لےگئے،آج وہ آپ
کی سعی وہمت سےفعل ووجودتک پہونچ چکاہےاورعمل واقدام کی شاہراہ
آپ کےآگےبازہے”
خودحضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ نےبھی بہارکےعلماء ومشائخ کےنام اپنے ایک مکتوب میں اس بات کاذکرکیاہے،تحریرفرماتے ہیں :
"غالباًآپ کومعلوم ہوگاجس زمانہ میں جمعیۃ علماء بہار جن اغراض ومقاصد
کولے کرقائم ہوئی وہ سرزمین ہندمیں اس جہت سے پہلی جمعیۃ تھی ،اس
وقت علماء کرام اس اقدام سے گھبراتے تھےحتیٰ کہ خود ہمارے صوبہ کے
بہتیرےعلماء پس وپیش میں مبتلاتھےمگرآپ نے دیکھاکہ آپ کےاقدام
وجرأت کاکیانتیجہ برآمدہوا،کہ آخراس تین سال میں انہی مقاصدکولے
کر تقریباًتمام صوبوں میں جمعیۃعلماء قائم ہوگئی ” ۔
حضرت علامہ مناظراحسن گیلانیؒ جوان دنوں خانقاہ رحمانی مونگیرمیں مصروف
خدمت تھے،جب حضرت ابوالمحاسن مولاناسجادصاحبؒ اس فکرکولےکرمونگیرتشریف لے گئےتھے،تواس منظرکےعینی شاہدتھے،اورپھرخانقاہ رحمانی کی طرف سےجمعیۃ علماء بہار کے پہلےاجلاس میں شریک بھی ہوئےتھے،ان کابیان ہےکہ:
"ابھی (مونگیرمیں مولاناگیلانی ؒکےقیام کو)چندمہینے ہوئے تھے،کہ وہی
استھاواں کاالکن خطیب مونگیراسی غرض سےآیاہواتھاکہ علماء کی منتشر
اور پراگندہ جماعت کوایک نقطہ پرخاص سیاسی خیالات کےساتھ جمع کیا
جائے،اس وقت تک دلی کی جمعیۃ العلماء کاخواب بھی نہ دیکھاگیاتھا،طے
ہوا کہ صوبۂ بہارکےعلماء کوپہلےایک نقطہ پرمتحدکیاجائے پھربتدریج
اس کادائرہ بڑھایا جائے”
اورایک بڑی عینی شہادت امیرشریعت ثانی حضرت مولاناشاہ محی الدین پھلواروی ؒ کی ہےجن کےساتھ عرصۂ درازتک حضرت مولاناسجادؒ کوکام کرنےکاموقعہ ملا،اورجوسفر وحضرمیں بھی حضرت مولاناؒ کےرفیق رہے،شاہ صاحبؒ تحریرفرماتے ہیں:
"جمعیۃ علماء ہندکےقیام کےلئےہندوستان کےاکثرصوبوں میں سفرکرکے
علماء میں اس کی تبلیغ کی،اورلوگوں کوآمادہ کیا،لیکن عمل کی طرف پہلا
قدم مولاناؒ کاتھا،اورپہلااجلاس ہندوستان میں جمعیۃ کابنام انجمن علماء بہار
شہر بہار میں بزمانۂ عرس حضرت مخدوم الملکؒ منعقد ہوا،اس کےبعد
جمعیۃ علماء ہندقائم ہوئی،اوراس کےبعدمختلف صوبوں میں شاخیں قائم
ہوئیں ،اور پھرعلماء نےمستعدہوکرکام شروع کردیا،اورالحمدللہ کہ آج
ہندوستان کےہرصوبہ میں جمعیۃ علماء قائم ہے” ۔
پرآشوب دور
یہ دور ملک وملت کےلئےانتہائی پرآشوب اورنازک تھا،حضرت شیخ الہندمولانا محمودحسن دیوبندیؒ(ولادت:۱۲۶۸؁ھ /۱۸۵۱؁ء- وفات:۱۲۳۹؁ھ /۱۹۲۰؁ء)اورشیخ الاسلام حضرت مولاناسیدحسین احمدمدنیؒ (ولادت :۱۲۹۶؁ھ/۱۸۷۹؁ء- وفات:۱۳۷۷؁ھ /۱۹۵۷؁ء) وغیرہ مالٹامیں قیدتھے،اور”علی برادران (مولانا محمد علی جوہرؒ(ولادت:۱۸۷۸؁ء/۱۲۹۶؁ھ-وفات:۱۹۳۱؁ء/۱۳۵۰؁ھ) اورمولاناشوکت علیؒ(ولادت :۱۸۷۳؁ء /۱۲۹۰؁ء-وفات:۱۹۳۸؁ء/ ۱۳۵۷؁ھ)وغیرہ)،مولاناابوالکلام آزاد ؒ(ولادت:۱۳۰۶؁ھ/۱۸۸۸؁ء-وفات:۱۳۷۷؁ھ/۱۹۵۸؁ء ) اوربہت سے ہندومسلم زعماء وقائدین بھی ڈیفنس آف انڈیاایکٹ کےتحت گرفتاراورنظربند تھے،کیونکہ اتحادیوں (انگریز، اٹلی،یونان ، امریکا اورفرانس) کی صف سےروس کے نکل جانےکی وجہ سےحکومت برطانیہ کو خطرہ ہوگیاتھاکہ ان کےدشمن ترکوں کوقوت حاصل ہوجائے گی ۔
انجمن علماء بہارکاپہلااجلاس -روئیداداورکاروائیاں
قیام انجمن کےبعدحضرت مولاناسجادؒنےاس کوعملی صورت دینےکےلئےباقاعدہ ایک اجلاس عام منعقد کرنےکافیصلہ کیااوراس کےلئے مسلمانوں کےمشہورتاریخی شہربہار شریف کاانتخاب فرمایا،حضرت مخدوم الملک شاہ شرف الدین احمدمنیری قدس سرہ کے عرس کی مناسبت سے۵، ۶/شوال ۱۳۳۶؁ھ مطابق ۱۴، ۱۵/جولائی ۱۹۱۸؁ء کی تاریخ طے کی گئی، حضرت مولاناؒکی خواہش کےمطابق جناب سیدمحمدقاسم صاحب ؒ متولی صغریٰ وقف اسٹیٹ بہار شریف نے مدرسہ عزیزیہ بہارشریف میں جلسہ کرنےکی اجازت دی،استقبالیہ کمیٹی کے صدرآپ کےتلمیذارشدمولانااصغرحسین بہاریؒ مقررہوئے،اس کےبعدصوبۂبہارکےتمام
ہی مقتدرعلماء ومشائخ اوردینی اداروں کودعوت نامےارسال کئےگئے،طوطیٔ ہندوستان حضرت مولاناشاہ سلیمان پھلواروی ؒ اس پہلےاجلاس کےصدرقرارپائے۔
اکثرعلمی اورملی حلقوں میں اس دعوت کوپذیرائی ملی، مقررہ تاریخ پریہ اجلاس نہایت تزک واحتشام کےساتھ مدرسہ عزیزیہ کےوسیع وعریض صحن میں منعقد ہواجس میں ہرمکتب فکر کےعلماء کی نمائندگی شامل تھی،تقریباًپچاس(۵۰) ممتازعلماء وصوفیاء وقائدین ملت نےشرکت کی،علاوہ عوام وخواص کاایک جم غفیرتھاجوحدنگاہ پھیلے ہوئے شامیانوں کےاندر اورباہرپھیلاہواتھا،شایدغلام ہندوستان میں حضرت مخدوم ؒ کے شہربہار شریف کی سرزمین پر ایسااجتماع پہلی باردیکھنےکوملاتھا،حضرت مولاناشاہ سلیمان پھلواروی ؒ اپنےصاحبزادے شاہ حسین میاں صاحبؒ کےساتھ تشریف لائے،اورمسماۃ بی بی صغریٰ مرحومہ وقف اسٹیٹ کےمکان میں جلوہ افروزہوئے،اس اجلاس میں شاہ حسین میاں صاحب ؒنےاپنی پرسوزآواز
اوردلگدازترنم کےساتھ ایسی نظمیں پڑھیں کہ مجمع پر بے خودی طاری ہوگئی ، عرصۂ درازتک لوگ اس صدا ئے دلنوازکی بازگشت فراموش نہیں کرسکے ۔
حضرت شیخ الہندؒ کےمطالبۂ رہائی کی تجویز
حضرت شاہ سلیمان پھلواروی ؒ اس اجلاس میں کلیدی شخصیت کےحامل تھے،مجلس قائمہ میں تجاویزکی منظوری کےوقت ان کوبعض جزئیات سےاختلاف ہوا(بقول علامہ گیلانیؒ ) غالباًحضرت شیخ الہند مولانامحمودحسن دیوبندی ؒکی رہائی کےمطالبہ کی تجویزسےان کواتفاق نہیں تھا(جوان دنوں مالٹامیں قید تھے)۔
لیکن اس کاسبب کوئی مسلکی اختلاف نہیں بلکہ حکومت وقت کاخوف تھا،دراصل حضرت شیخ الہندؒ حکومت برطانیہ کے نزدیک انتہائی خطرناک مجرمین میں شمارکئےجاتے تھے، ان پرملک سے بغاوت اورغداری کاالزام تھا،ان کانام لینابھی اس وقت جرم عظیم تصورکیا جاتا تھا،اسی لئےکسی بڑی سےبڑی سیاسی پارٹی نے بھی اب تک یہ جرأت نہیں کی تھی کہ ان کانام لےکررہائی کامطالبہ کرے، یہاں تک کہ خودکانگریس حضرت شیخ الہندؒ جس کےحامی تھے، اس نے بھی اپنی تجاویزمیں حضرتؒ کانام لینے سے گریزکیا تھا ۔۔۔
شاہ صاحب ؒ انتہائی اخلاص کےساتھ یہ سمجھتے تھےکہ پہلے ہی اجلاس میں کسی خطرناک تجویزکوشامل کرناجمعیۃ کے مفادمیں نہ ہوگا،ابھی تنظیم کانقطۂ آغازہے ،یہ ایک ننھی سی کلی ہے ، خدانخواستہ کھلنےسےپہلےہی کچل نہ دی جائے۔
لیکن حضرت مولاناسجادؒکی نگاہ بہت دوررس تھی،وہ اس تجویز کوہرحال میں شامل کرناچاہتے تھے،اس لئےکہ حضرت شیخ الہندؒ ہندوستان کی نہایت قدآورشخصیت کےمالک تھے،علم حدیث میں ان کاپایہ بےحدبلندتھا،ان کی عظمت کامشاہدہ انہوں نے دیوبندمیں پڑھنے کے زمانے میں کیاتھا،ملک میں ان کےہزاروں شاگرداورلاکھوں معتقدین موجودتھے ، ان کی رہائی کےمطالبہ کونظر اندازکرناپورےحلقۂ دیوبندکی حمایت سےمحروم رہنے کے مترادف تھا۔
مگرشاہ صاحبؒ کوبھی اپنی رائےپراصرارتھا،آخراچانک عین وقت پراجلاس کی صدارت سےمعذرت کردی،اورمعاملہ نازک صورت حال اختیارکرگیا،مولاناگیلانی ؒ کابیان ہےکہ :
"ہم لوگ حضرت مولاناسجاد صاحبؒ کی رفاقت میں شاہ صاحبؒ کی خدمت
میں حاضر ہوئے،یادہے اس وقت کافقرہ اس لئے ذکرکردیا،علماء اس وقت
تک حکومت مسلطہ سےکس درجہ خوف زدہ کردئیےگئےتھے،شاہ صاحبؒ
نے فرمایا کہ بھائی تم لوگوں کوکیا،آزادہوجوچاہوکہولیکن اولڈھم(شایدپٹنہ
کےکسی انگریزکمشنر کانام تھا)کی گرم نگاہوں کا مقابلہ تومجھے کرناپڑتاہے،
مگر ہم لوگوں کی منت وسماجت سے شاہ صاحبؒ راضی ہوگئے، جلسہ میں
تشریف لائےاورخطبۂ صدارت بجائے تحریرکےتقریرکےذریعہ سےپڑھا
گیا، خاکسار کے شباب کا زمانہ تھا،جوش وخروش میں خوب دھواں دھار
تقریریں کی گئیں ”
جلسہ بہت کامیاب رہا،حضرت مولاناسجادؒ نےرودادمیں اس اجلاس کاتذکرہ ان الفاظ میں کیاہے:
"انجمن علماء بہارکےپہلےاجلاس کی تاریخ ۵، ۶ /شوال ۱۳۳۶؁ھ مقرر
کی گئی تھی،اخبارات میں کئی ہفتےپہلےسےاطلاع شائع ہوچکی تھی،پھر
مطبوعہ خطوط اوراشتہارات کےذریعہ صوبہ بہارواڑیسہ کےعلماء کرام
کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، قصبۂ بہار میں اجلاس اول کے
انعقادکا انتظام کیاگیاتھا،مدرسہ عزیزیہ کے وسیع احاطہ میں شامیانہ
نصب کیاگیاتھا،حاضرین کی نشست کے لئے شامیانہ کےنیچےتخت
بچھائےگئےتھے،جوبالکل سادگی مگرخوبصورتی کےساتھ فرش وفروش
سےآراستہ کئےگئےتھے، متعدد کمرے اورایک طویل وعریض ہال
علماء کرام کےقیام وآرام کےلئےمخصوص کردئیےگئےتھے،حاضرین
کی معقول تعدادسےجگہ معمورہوجایاکرتی تھی”
علماء اورمہمانوں کی پرتکلف ضیافت کاانتظام وقف اسٹیٹ کی جانب سے کیاگیاتھا ۔
منظورشدہ تجاویز
اس اجلاس میں کل انیس(۱۹)تجویزیں منظورکی گئیں،ابتدائی چھ نمبرات تک کی تجاویزمولاناعبدالصمدرحمانی ؒ نے تاریخ امارت میں نقل کی ہیں جن سے اس اجلاس کی معنویت اورہمہ گیری کااندازہ ہوتاہے، تاریخ امارت ہی سے یہ تجاویزپیش ہیں:
"۱-انجمن علماء بہارنہایت زورکےساتھ اعلان کرتی ہےکہ بہارکاطبقۂ علماء
اپنےمناصب کااحساس کرتے ہوئےجمیع فرائض منصبی کےاداکےلئےہمہ
تن آمادہ وتیارہوجائیں،بالخصوص امربالمعروف ونہی عن المنکرکےقدرتی
منصب پربلاخوف وبلالحاظ لومۃ لائم کھڑاہوجائے،اور اظہار صداقت میں
کسی خطرہ کی پرواہ نہ کرے۔
۲-یہ انجمن ایک قومی بیت المال کےقیام کی تحریک پیش کرتی ہے،جس
کی آمدنی دوامی چندہ علماء وغیرعلماء اورعام عطیات وغیرہ سے حاصل ہو،
اورتکمیل مقاصد انجمن علماء بہاراوردیگرمذہبی وقومی ضرورتوں میں صرف
ہو۔
۳-یہ انجمن تجویزکرتی ہےکہ حضرت شیخ الہندمولانامحمودالحسن صاحب
کی پاک زندگانی ہمیشہ باامن اوربےلوث رہی ہے،ان کی نظربندی سے
علماء بہارکوسخت بےچینی ہے،اورحکومت ہند سے چاہتی ہےکہ ان کی
آزادی سےتمام مسلمانوں کومستفیدہونےکاموقعہ دیاجائے۔
۴-انجمن علماء بہاراعلان کرتی ہےکہ اضحیہ بقر شعائراسلام وسنت نبویہ
ہے،یہ ہمیشہ حسب دستوربرقرارو جاری رہے گی،اورمواضعات میں
مخالفین اسلام کےدباؤسےترک اضحیہ بقرپر جو مصالحت کی گئی ہے،
وہ بالکل باطل اورناجائزہے، اور ایسے عقد مصالحت کا نقض واجب
ہے۔
۵-مولاناابوالکلام،مسٹرمحمدعلی ، مسٹر شوکت علی،ودیگرنظربندان
اسلام کی آزادگی کےبھی ہم لوگ متمنی ہیں،اوراپنےسیاسی اوربالخصوص
جدیداصلاحات ہندپرغوروفکرکرنےکےلئےان کی آزادی بےحدضروری
خیال کرتے ہیں۔
۶-یہ انجمن متولیان اوقاف صوبہ بہارسےجائدادموقوفہ کےوقف نامہ کی
نقل طلب کرتی ہےاورپھرمتولیوں سےدریافت کرتی ہےکہ اس کاعمل
درآمد ٹھیک ہےیانہیں؟”
ان کےعلاوہ اوربھی کئی اہم تجاویزمنظورہوئیں ۔
ان تجاویزپرتبصرہ کرتے ہوئےمولاناعبدالصمدرحمانی صاحب رقمطراز ہیں:
"ان چندتجاویزکی ہمہ گیری ،اس کالب ولہجہ ،اس کاوزن،معاملات پرنظر
، دین و سیاست کا کھلا امتزاج،بیت المال کاقیام،ایسےتمام موادسےیہ
اندازہ کیاجاسکتاہےکہ فکرونظرکی خلوت گاہ میں مولاناابوالمحاسن محمدسجاد
کامفکردماغ کیاکچھ سوچ رہاتھا،اورکس طرح قدرت نےاس نئے دورکے
اندر تجدیدی خدمات کےلئےتیارکیاتھا،نیزیہ کہ آئینی دورکایہ امام کن
جذبات کولےکرمیدان عمل میں اتراتھااورکیاتمنائیں تھیں جواس کے
پہلومیں تڑپ رہی تھیں”
انجمن علماء بہار کادوسرااجلاس
انجمن علماء بہار کادوسراسالانہ اجلاس نسبتاًزیادہ بڑے پیمانہ پرپھلواری شریف پٹنہ میں۲۵/شعبان المعظم ۱۳۳۸؁ھ مطابق ۱۴/مئی ۱۹۲۰؁ءکومنعقد ہوا،جس کوحضرت شاہ سلیمان پھلوارویؒ کی راست سرپرستی حاصل رہی،اس میں ہندوستان کےمشہورخطیب مولانا آزادسبحانیؒ(متوفیٰ ۲۴/جون ۱۹۵۷؁ء م ذی الحجہ۱۳۷۷؁ھ) بھی تشریف لائے،مولاناسبحانیؒ کی سحرانگیزخطابت نے حاضرین میں نیاجوش وولولہ بھردیا ،جلسہ نہایت کامیاب رہااور کوئی شبہ نہیں کہ اس کامیابی میں حضرت شاہ سلیمان پھلواروی ؒ کی دلچسپی کابڑاحصہ تھا ۔
تجویزدارالقضاء
اس اجلاس میں بھی کئی اہم تجاویز منظور کی گئیں ،جن میں ایک اہم تجویز نمبر۵
دارالقضاء کےقیام سے متعلق تھی ،جوحسب ذیل الفاظ میں باتفاق رائےمنظورہوئی:
"یہ جلسہ انجمن علماء بہار تجویزکرتاہےکہ مسلمانوں کےباہمی مالی و
مذہبی نزاعات کے انفصال کے لئےصوبۂ بہارکےتمام اضلاع اور
قصبات میں دارالقضاقائم کیاجائےجس کےقاضی کاانتخاب منجانب
ارکان انجمن علماء بہارہواورتمام علماء ومشائخ کوچاہئےکہ اپنےحلقہ
میں تمام مسلمانوں اورمریدوں کو نہایت شدت کےساتھ ہدایت
کریں کہ وہ اس دارالقضاء کی طرف رجوع کریں "۔
پھر اس اجلاس کے جلسۂ انتظامیہ میں یہ تفصیلی تجویزمنظورکی گئی :
"ارکان انتظامیہ کی یہ مجلس تجویزکرتی ہےکہ حسب تجویزنمبر ۵
اجلاس دوئم منعقدہ ۲۵/شعبان ۱۳۳۸؁ھ ایک دارالقضاء پھلواری
شریف میں قائم کیا جائے، جس کے قاضی جناب مولانا نورالحسن
صاحب ہوں،اورایک دارالقضاء پٹنہ میں قائم کیا جائے ،جس کے
قاضی جناب مولاناشاہ حبیب الحق صاحب ہوں، اورایک دارالقضاء
بانکی پورمیں قائم کیاجائے،جس کے قاضی مولانااعتمادحسین صاحب
ہوں،اورایک دارالقضاء مونگیرمیں قائم کیا جائے ، جس کے قاضی
مولانامحمد عمرصاحب ہوں ،اورایک دارالقضاء سہسرام میں قائم کیا
جائےجس کےقاضی مولانافرخندعلی صاحب ہوں ،اورایک دارالقضاء
آرہ میں قائم کیاجائےجس کےقاضی جناب مولاناعبدالوہاب صاحب
ہوں”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: