مضامین

جناب ماسٹربیچوصاحب بسوارہ،رحمتہ اللہ علیہ

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

ولادت 1910ء ……وفات1965……میٹرک پاس

موصوف1910ء کے اردگردمیں دنیائے رنگ وبوسے روشناس ہوئے،ابتدائی تعلیم مہگاواں اسکول میں پائی اورمیٹرک تک کامیاب ہوسکے،تعلیم کی کمیابی کی وجہ سے اس زمانے میں یہ عہدہ بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا،فراغت کے بعدآپنے پرسامڈل اسکول میں مدرسی اختیارکی اورآخیر عمرتک اسی سے وابستہ رہے،تعلیم وتربیت کے علاوہ پرساہائی اسکول کی تعمیرمیں آپکی جانی ومالی قربانی کی فہرست بہت طویل ہے۔آپ شب وروز،صبح وشام تعمیری کاموں میں جٹے رہتے،اینٹ اٹھانے کی ضرورت پڑتی توخوداٹھانے لگتے،طلبہ یہ منظردیکھ کرچیونٹی کی طرح اسکواٹھانے میں لگ جاتے اورآن کے آن میں اینٹوں کاانبارلگ جاتا،میرے والدمحمدجمال الدین صاحب کی خدمات کااعتراف بڑے بلنک پایہ الفاظ سے کیاہے اورانکاشکریہ اداکیاہے۔
یہ دل سوزی وجہد پہم کسی کرسی کی یافت تاطمع میں نہیں تھی بلکہ صرف رضائے الٰہی کی تمنامیں تھی،یہی وجہ ہے کہ انہون نے نہ کوئی عہدہ قبول فرمایااورنہ کسی صلہ کوپسندکیا۔
آپکی فروتنی وانکساری،فراخ دلی وخندہ پیشانی تحمل وبرداشت اورمحنت ولگن کی داستانیں خواص وعوام میں ضرب المثل ہیں،آپکے انتقال کے بعد اس بزم میں سناٹا چھاگیا اور یہ میکدہ برسوں کے لئے سنسان وویرانہ ہوگیا ؎
سونا پڑا ہے میکدہ خم و ساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہارکے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: