مضامین

جناب پرنسپل عرفان صاحب چکنتھوؒ

پیدائش1940ء P.H.D

شہرسے دوردیہات جس میں تعلیم اور آلات تعلیم کافقدان اساتذہ کی کمیابی ،وسائل آمدورفت ناپیدااوراسکے علاوہ پورے علاقے پر فقر وفاقہ کی حکمرانی ایسے ہمت شکن وصبر آزماحالات میں ملت کالج پر ساکی بنیاد رکھنااسکی عمارت تعمیرکروانااوراسپرعلم کا جھنڈاگاڑنا مرد میدان ہی کاکام ہے،پرنسپل عرفان صاحب کانام تاریخ کے صفحات پر ایسے ہی خوش نصیبوں کی صفت میں لیا جائے گاجن پر ”جنگل میں منگل منانے“کامحا ورہ کلی طور پر صادق آتاہے۔
آپ ابتداء سے ملت کالج پر سا کی روح رواں اورپرنسپل رہے ہیں،آپ ہی کے زورقلم سے کالج بی،اے B .Aتک منظور ہوااورنو کمروں پرمشتمل فلک بوس بلڈنگ تعمیرہوئی،آپکی جہاندید گی اور جانفشانی سے یہ برادری ایک کالج سے شرفیاب ہوئی
1986ء میں کالج کے عملہ،انکے سر پر ستوں اورعلاقائی مسلمانوں کے درمیان یہ کشمکش شروع ہوئی کہ کالج کوگورنمنٹ کے یہاں سے اقلیتی منظور کروا یا جائے یا ہندو مسلم دونوں کے لئے جنرل رکھاجائے،اقلیتی منظور کروانے میں مسلمانوں کافائدہ زیادہ تھا کہ کالج کاتمام نظم ونسق انکے ہاتھ میں ہو تا،جبکہ جنرل منظور ہونے میں کالج مکمل طور پر ہندو گورنمنٹ کے ہاتھ میں چلاجاتاالبتہ عملہ کامالی فائدہ زیادہ تھا اور انکے لئے سہولتیں زیادہ تھیں۔اس کشمکش نے کئی سال تک طول پکڑااورمعاملہ کورٹ تک پہنچ گیا اورآخرمسلمانوں کے خون سے تعمیرشدہ کالج انکے ہاتھوں سے نکل کر جنرل منظورہوگیا۔
اقلیتی منظورکروانے میں پرنسپل صاحب کاکرداراورانکی جدوجہدبہت اہمیت کاحامل تھا لیکن انہوں نے اس طرف کماحقہ توجہ نہیں دی،کاش کہ پرنسپل صاحب کالج کواقلیتی منظور کروانے کے لئے ابتداء سے مخلصانہ جدوجہدکرتے اورجنرل منظورہونے کی راہ میں کوہ گراں بنکرکھڑے ہوجاتے تودنیا انکومجاہد کے نام سے یادکرتی،اہل علاقہ انکیاحسان سے گرانبارہوتے ہم نیازمند اشکبار ہونے کے بجائے عقیدت کے پھول چڑھاتے اوررب کریم کی میزان میں آپکی یہ قربانی ہزارریاضتوں سے ثقیل ووزنی ہوتی۔
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: