اسلامیات

جنت اور دوزخ کیا ہیں؟

ہزرائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد

اپنا اعمال نامہ پڑھ۔ آج تم ہی اپنا حساب لینے کے لئے کافی ہو۔
(الاسراء 14 : 17 )۔
روح الٰہی اور جسم انسانی کے اتصال سے انسان کے وجودکا آغاز ہوا۔ جسم بنیادی طور پر مٹی کا ہے اور مادہ منویہ کے ذریعہ یہ توالد اور تناسل کا سلسلہ قائم رکھتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
خدائے واحد نے ہر چیز خوب بنائی اور انسان کی پیدائش کی ابتداء گارے سے کی پر اس میں اپنی ایک جان پھونکی اور تمہارے لئے کان، آنکھیں اور دل بنائے مگر تم شکر ادا کم کرتے ہو۔ (السجدہ 7-9 : 32 )۔
پھر موت کے ذریعہ اللہ ہماری روح کو ہمارے بدن سے جدا کرتا ہے اور اس دنیا سے رخصتی ہوتی ہے۔ روح باقی رہ جاتی ہے اور اللہ کی جانب مراجعت کرتی ہے:
جس طرح اللہ تم کو وجود میں لایا اسی طرح تم اس کے پاس واپس ہوگے۔ (الاعراف 29 : 7 )
آخرت کے مختلف مراحل میں جنت اور دوزخ شامل ہیں اور مراجعت کے بعد انسان کو ان کا سامنا کرنا ہوگا۔ قرآن میں متعدد مقامات پر جنت اور دوزخ کا بیان ہے وہاں کیا احساسات ہوں گے اس کا بھی ذکر ملتا ہے۔ جنت حد درجہ حسین اور دلکش ہے اس کے برخلاف دوزخ ہیبت ناک اور باعث اذیت ہے۔ جنت اور دوزخ کیا ہیں؟
جنت اور دوزخ برحق ہیں یہ معروضی حقیقتیں ہیں۔ اللہ فرماتا ہے:
جب وہ دن آئے گا تو کوئی جاندار اللہ کے حکم کے بغیر بات نہ کرسکے گا۔ لوگوں میں سے کچھ بدبخت ہیں اور کچھ خوش بخت۔ جو لوگ بدبخت ہیں وہ آگ میں ہوں گے اور ان کو وہاں چیخنا اور پکارنا ہے، جب تک زمین اور آسمان رہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس کے کہ تیرا رب جو چاہے۔ بے شک تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اور جو لوگ نیک بخت ہیں وہ جنت میں ہوں گے جب تک زمین اور آسمان رہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے سوائے اس کے کہ تیرا رب جو چاہے۔ تیرے رب کی بخشش بے انتہا ہے۔ (ھود 105-108 : 11 )
جنت اور دوزخ حقائق ہیں آخرت میں لوگ اپنا حساب خود لیں گے۔ اللہ کا قول ہے:
اور ہم نے انسان کی بری قسمت اس کی گردن سے لگادی ہے اور قیامت کے دن ہم اس کو ایک کتاب نکال کر دکھائیں گے کہ پڑھ لے وہ کھلی ہوئی کتاب۔ آج کے دن تو ہی اپنا حساب لینے کے لئے کافی ہے۔ (الاسراء13-14 : 17 )۔
غرضیکہ جنت اور دوزخ معروضی بھی ہیں اور غیر معروضی بھی۔ یوم آخرت برحق ہے اور معروضی بھی۔ لیکن انسان اپنا احتساب خود بھی کرے گا۔ باطنی حساب بھی ہوگا۔ یہ احتساب ضمیر کرے گا۔ قرآن میں ضمیر کو خود ملامت کرنے والی روح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ضمیر ملامت کرتا ہے۔ اللہ نے انسانی ضمیر اور یوم آخرت کی اس طرح قسم کھائی ہے:

قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی اور قسم کھاتا ہوں نفس کی جو بُرائی پر ملامت کرے۔ (القیامہ1-2 : 75 )۔
جنت اور دوزخ صرف اللہ کے فیصلے کے باعث نہیں ہیں بلکہ انسان میں خود بھی احتسابی مادہ ہے۔ یہ خارجی اور اندرونی دونوں لحاظ سے ہے۔ مذکورہ بالا آیات سے ظاہر ہے کہ یوم آخرت اور اس دن کے مختلف مراحل میں نسبت ہے۔ اسی طرح انسان کی روح اور اس کی قوتوں اور کیفیات میں بھی تعلق ہے۔ یوم آخرت ایک نوع کا آفاقی ضمیر ہے اور ضمیر انسانی یوم آخرت کا پرتَو ہے۔ نبی اکرم ؐ کے عم زاد اور داماد علی ابن ابی طالب اپنے دیوان کی ایک نظم میں رقمطراز ہیں:
تمہارا علاج تمہارے اندرون میں ہے لیکن تم مریض نہیں ہو۔ تمہارا علاج تمہارے اندرون میں ہے لیکن تم کو اس کا ادراک نہیں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم محض ایک حقیر جسم ہو؟ تمہارے اندرون میں ایک جہان اکبر مستور ہے۔
اخروی زندگی میں ہمارا اندرون نمودار ہوجائے گا۔ اللہ فرماتا ہے:
جس نے ذرہ برابر بھی خیر کیا وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی شر کیا وہ اسے دیکھ لے گا۔ (الزلزال 7-8 : 99 )۔
درحقیقت قرآن میں اللہ نےیہ کہیں نہیں فرمایا کہ وہ انسان کو اس کے اعمال کے مساوی سزا یا انعام دے گا۔ اس کا قول ہے کہ وہ انسان کو اس کے اعمال کی نسبت سے جزا و سزا دے گا۔ انسان کے اعمال خود اس کو سزا دیں گے۔ مثال کے طور پر اللہ کا قول ہے:
ہر نفس کو اس کے اعمال کے پیش نظر مکمل بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ ان کے اعمال سے بخوبی واقف ہے۔ (الزمر70 : 39 )۔
ہمارے اعمال کا ریکارڈ ہمارے اندرون میں محفوظ ہے اور وہی اعمال ہم پر حاوی ہوں گے۔ ہم نے جو خیر و شر کیا وہ ہماری مراجعت کرے گا اور ہماری مسرت یا اذیت کا باعث ہوگا۔ ہمارے اعمال ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ہم اپنے اعمال کا تجزیہ کریں گے۔ اللہ کا قول ہے کہ انسان اپنے اعمال کو حاضر پائے گا (الکھف 49 : 18)۔ ہم دوسروں کے ساتھ جیسا سلوک کرتے ہیں وہ درحقیقت ہم اپنے نفس کے ساتھ سفر کرتے ہیں گو کہ ہم اس کو دیکھ یا سمجھ نہ پائیں۔ اللہ فرماتا ہے:
اور ڈرو اس دن سے جب تم اللہ کے پاس لوٹائے جاؤگے اور ہر شخص نے جو کمایا اللہ اسے پورا بدلہ دے گا اور تم پر ظلم نہ ہوگا (البقرہ 281 : 2 )
اپنی زندگی میں جب ہم اپنا احتساب کرتے ہیں ہم اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے ہیں۔ ہم اپنا حساب بہت آسان کرتے ہیں۔ اپنی غلطیوں کے باوصف ہم اپنے لئے عذر تراشتے ہیں۔ اللہ کا قول ہے:
‘‘انسان اپنے واسطے آپ دلیل ہے گو اس کے لئے وہ خواہ کتنے ہی بہانے بنائے’’۔ (القیامہ 14-15- : 75 )۔
بعض اوقات ہمارا رویہ ایسا ہوتا ہے گویا ہم کو روز آخرت پر یقین ہی نہیں۔ یوم آخرت کا تصور کرتے ہی ہم اپنے آپ کو تسلی دیتے ہیں کہ فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ قرآن میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جو یہ خیال کرتا تھا:
میں نہیں سمجھتا تھا کہ قیامت آنے والی ہے اور اگر کبھی میں اپنے رب کے پاس پہنچا دیا گیا تو وہاں پہنچ کر اس سے بہتر پاؤں گا۔ (الکھف 36 : 18 )
البتہ اخروی دنیا میں انسان اپنا احتساب ایسے نہیں کرے گا۔ چونکہ موت جسم سے روح کی جدائی اور دنیا سے رخصتی کا باعث ہوگی۔ اخروی زندگی میں جسم اور دنیا کی ترغیبات نہیں ہوں گی۔ وہاں ہر شخص روحانی بصیرت کا حامل ہوگا اور یہ بصیرت شدید ہوگی۔
تم اس سے یقیناً غافل تھے۔ اب ہم نے تمہارے پردے ہٹادئےے ہیں اور آج تمہاری نظر بلاشبہ بہت تیز ہے۔ (ق 22 : 50 )
بالآخر حق ظاہر ہوگا۔ آخرت برحق ہے۔ آخرت عالم حقائق ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
وہ تم سے دریافت کریں گے کہ کیا یہ حق ہے؟ کہئے: میرے رب کی قسم یہ برحق ہے اور تم کو اس سے مفر نہیں۔ (یونس 53 : 10 )۔
اس کے باوجود اسلام میں ناامیدی کی گنجائش نہیں۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ اللہ نے انسانوں کی تخلیق اپنی رحمت کے لئے کی ہے۔ بالفاظ دیگر، اللہ معاف کرتا ہے، اسے معاف کرنا پسند ہے۔ جب لوگ توبہ کرتے ہیں وہ ان کے بے شمار گناہ معاف کردیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے:
کہیے: اے میرے جنھوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے وہ اللہ کی مہربانی سے ناامید نہ ہوں بے شک اللہ سب گناہ بخشتا ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا، مہربان، اور اپنے رب کی جانب رجوع ہوجاؤ اور اس کی فرمانبرداری کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے۔ اس وقت پھر کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔ (الزمر 53-54 : 39)۔
مختصراً اللہ انسان کے ان تمام گناہوں کو معاف کرسکتا ہے جن پر وہ نادم ہے صرف اللہ ہی انسان کی مغفرت کرسکتا ہے۔ یہ روایت ہے کہ عظیم مسلم عالم ابو حامد الغزالی (م 505ھ / 1111ء) کے انتقال کے بعد ان کے تکیے کے نیچے سے یہ نظم برآمد ہوئی:
جب میرے بھائی مجھے مردہ دیکھیں اور میری وفات پر آہ و بکا کریں تو ان سے دریافت کرنا کہ کیا میں وہ لاش ہوں جسے وہ دفن کررہے ہیں بخدا یہ متوفی شخص میں نہیں ہوں۔ میں تو روح ہوں اور یہ جسم میری عارضی رہائش تھی اور ایک معینہ وقت تک کے لئے میرا پیراہن۔میں تو ایک خزانہ ہوں جو یک مشت خاک کے پس پردہ ہوں اور بدن کے قفس میں میں پریشان رہا۔ میں تو صدف ہوں جو ایک سیپ میں گرفتار رہا۔ وفات کے بعد میں ان سب آزمائشوں سے آزاد ہوگیا ہوں۔ میں تو ایک طائر ہوں یہ بدن میرا پنجرہ تھا لیکن میں اب آزاد محو پرواز ہوں اور بدن کو محض ایک نشانی کے طور پر ترک کردیا ہے۔ میں حمد کرتا ہوں اللہ کی جس نے مجھے آزاد کیا اور آسمان کی رفعتوں پر میرا ٹھکانہ بنایا اس سے قبل میں تمہارے درمیان ایک مردہ شخص تھا لیکن اب میں زندہ ہوگیا ہوں اور اپنے کفن کو چھوڑ چکا ہوں۔
ان سب کا علم کیوں ضروری ہے؟
یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ہمارے گناہ کرنے کے باوصف بھی اللہ ہم کو معاف کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ اس نے ہماری تخلیق اپنی رحمت کے باعث کی ہے۔ انسان کی امید کا دارو مدار اس کی رحمت پر ہے۔ اس علم اور اس رجائیت کے بغیر وجود انسانی ایک تلخ حقیقت اور تاریک مستقبل کا شکار رہے گا۔
البتہ یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ فیصلۂ الٰہی معروضی ہے۔ ہم اس کو تبدیل نہیں کرسکتے۔ اپنے آپ کو بچانے کے لئے کوئی گفتگو یا دلیل کا سہارا نہیں لے سکتے۔ ہم کو اس باب میں یقیناً خوفزدہ ہونا چاہئے لیکن یہ خوف ایجابی ہے، سلبی نہیں۔ اس کے باعث ہم تساہل نہیں برت سکتے بلکہ ہمیں مستقلاً اس سے نجات پانے کے لئے سعی کرنا چاہئے۔ اپنے بہترین عمل کے ذریعہ ہمیں کوشش کرنا چاہئے اور دوسروں کے ساتھ بہترین سلوک کرنا چاہئے۔ یہ خوف جسم میں درد کی مانند ہے اس سے تکلیف بلا شبہ ہوتی ہے لیکن یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا نہ کریں اور ہمیں دفاع کا سبق بھی ملتا ہے۔ یہی تقدیری سبب ہے جسمانی تکلیف اور خوف کا۔
اسی طرح یہ علم بھی ضروری ہے کہ فیصلہ الٰہی غیر معروضی بھی ہے ہم اپنی جائز سزا کے لئے اللہ کو مورد الزام نہیں قرار دے سکتے۔ اللہ نے ہماری تخلیق رحمت کے لئے کی ہے لیکن اس نے ہم کو آزادی بھی بخشی ہے۔ اللہ نے ہمیں متنبہ کیا اور ہمیں ہدایت دی۔ لہٰذا اپنی مرضی سے کئے ہوئے اپنے گناہوں کے لئے اللہ کو الزام نہیں دے سکتے۔ اپنے افعال کے لئے ہم اللہ کی قدرت کاملہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اللہ فرماتا ہے:
اور مشرک کہتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی اور چیز کو نہیں پوجتے اور نہ ہمارے باپ اور بغیر اس کے حکم کے ہم کسی چیز کو حرام نہیں ٹھہرالیتے۔ اسی طرح کیا ان سے قبل کے لوگوں نے بھی، لہٰذا رسولوں کے ذمہ صرف صاف صاف پیغام رسانی ہے۔ (النحل 35 : 16 )
دوسروں کے ساتھ ہماری بدسلوکی کے لئے اللہ ذمہ دار نہیں ہے۔ ہم نے اپنی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے یہ عمل کیا جبکہ ہم کو خبردار کیا گیا تھا کہ ہم ایسا نہ کریں۔ غرضیکہ ہماری سزا ہماری اپنی غلطیوں کے باعث ہے۔ ہم اپنے افعال کے لئے ذمہ دار ہیں۔ اللہ نے نہیں بلکہ خود ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔ اللہ فرماتا ہے:
درحقیقت اللہ کسی بھی طرح لوگوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔ (یونس 44 : 10 )۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: