اہم خبریں

جوس سے مدارس کے طلبہ ہوں‌گے پرجوش: مولانا محمود مدنی کا انقلابی قدم

مدارس اسلامیہ میں تاریخی دور کا آغاز:جمعیۃ اوپن اسکول کے زیر نگرانی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم حاصل کریں گے
جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں منعقد پر وگرام میں مولانا محمود مدنی نے بنیادی عصر ی تعلیم کو سماج کی بہتر خدمت کے لیے ضروری بتایا،کہا کہ مدار س میں سرکاری مداخلت منظور نہیں، عصری تعلیم کے لیے ہم نے اپنی راہ منتخب کی ہے۔ ماہرین تعلیم نے مدارس اسلامیہ کے پہل کی ستائش کی۔
نئی دہلی۱۹/ فروری
مدارس اسلامیہ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو نے جارہے، اب مدارس کے طلبہ، سکینڈری سطح کی عصری تعلیم سے آراستہ ہوں گے۔ اس کے لیے جمعیۃ علماء ہند نے اکابر علمائے دین اور مدارس کے ذمہ داروں کی ہم آہنگی سے ’جمعیۃ اوپن اسکول‘ قائم کیا ہے جواین آئی او ایس کے تحت طلبہ کو دسویں کی تعلیم اور امتحان دلائے گا۔ اس کے تحت آئندہ پانچ سالوں میں پچاس ہزار طلبہ کو دسویں پاس کرنے کا پروجیکٹ ہے۔اس سلسلے میں آج جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں ایک تعارفی و تربیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مغربی یوپی اور دہلی کے ایک سو مدارس کے ذمہ داران،مہتمم حضرات اور مدرسہ کوآرڈینیٹر شریک ہوئے۔پروگرام میں اس تحریک کے روح رواں وڈائریکٹر مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ کئی ماہرین تعلیم نے شرکت کی اور خطاب کیا۔
اس تاریخی موقع پر مولانا محمود مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے اکابر نے سرکاری مدرسہ بورڈ کی مخالفت کی تھی، وقت نے یہ ثابت کردیا کہ انھوں نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا، وہ حرف بحرف ثابت درست ہو رہے ہیں۔مولانا مدنی نے اس سلسلے میں آسام سرکار کے حالیہ رویہ کو بطور مثال پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں دینی مدار س میں سرکاری مداخلت منظور نہیں ہے، ہم نے آج عصری تعلیم کے لیے اپنی را ہ منتخب کی ہے،اس سے ہماری ضرورت بھی پوری ہورہی ہے اور مدار س کے معمولات میں ذرہ بھی مداخلت نہیں ہے۔آج کے بدلتے حالات میں ہمیں معلم کے ساتھ ایک اچھا مبلغ کی ضرورت ہے، ہرسال ہزاروں مسلم نوجوان مختلف اسلامی مراکزعلم سے فارغ ہو تے ہیں جہاں وہ روایتی اسلامی علوم میں گہرا شعور بھی حاصل کرتے ہیں تاہم وہ عصر حاضر کی سیکولر تعلیم سے نابلدی یا مرکزی دھارے میں شامل علوم سے ناواقفیت کی وجہ سے اپنے سماج میں کلیدی کردار ادا کرنے سے قاصر ہو تے ہیں۔ اس لیے یہ ہمارا ہدف ہے کہ جمعیۃ اوپن اسکول کے ذریعہ معیاری تعلیم فراہم کی جائے تاکہ طلبہ عصری علوم کے میدان میں بھی ترقی کرسکیں۔مولانا مدنی نے مدارس کے ذمہ دا روں کو متوجہ کیا کہ آپ لوگوں نے اسے کرنے کو ٹھانا ہے تو امید ہے کہ اس کا رزلٹ بھی اچھا ہو گا، انھوں نے کہا مدارس میں کافی زمانے سے عصری تعلیم چل رہا ہے، بہت سارے مدارس میں پرائمری اسکول کا نظام ہے، جمعیۃ علماء ہند نے اس سلسلے میں ستر کی دہائی میں ایک تجویز منظور کی تھی کہ مدارس کے ساتھ عصری تعلیم کا ادارہ بھی چلایا جائے، اس پر عمل بھی ہوا اور کئی مدارس میں یہ نظام بخوبی چلایا جارہا ہے۔
اس موقع پر این آئی او ایس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جناب ڈاکٹر شعیب رضا خاں نے اپنے خطاب میں جمعیۃ علماء ہند اور ارباب مدارس کے اس مشترکہ اقدام کو پاتھ بریکنگ قرار دیا اور کہا کہ این آئی اوایس اس تحریک میں ہر طرح کے تعاون دینے کو تیار ہے۔ان کے علاوہ مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے صدر پروفیسر اخترالواسع، جناب کمال فاروقی (یہ دونوں حضرات جمعیۃ اوپن اسکول کے مرکزی تعلیمی کونسل کے رکن بھی ہیں) جناب اکرام رضوی، جناب ایم اے خاں، جناب مجتبی فاروق، ایڈوکیٹ ایم آرشمشادنے خصوصی خطاب کیا۔جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری اور اس تحریک کی مرکزی شخصیت مولانا نیاز احمد فاروقی نے کلمات استقبالیہ پیش کیے او رکہا کہ اب تک ایک سو مدارس کو منتخب کیا ہے، جس میں دو ہزار طلبہ عصری تعلیم سے ا ستفادہ کریں گے۔ اسی کے تحت کل سے پونہ کے اعظم کیمپس میں ان مدارس کے کو آرڈینیٹر س اور مدرسہ ٹیچروں کے لیے ۰۲ روزہ تربیتی کیمپ شروع ہونے جارہا ہے۔پروجیکٹ انچار ج محسن علوی نے جمعیۃ اوپن اسکول کا تعارف اور عبدالماجد علوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ بزرگ عالم دین مولانا قاری شوکت علی مہتمم جامعہ اعزازالعلوم ویٹ کی دعاء پر پروگرام اختتام پذیر ہوا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: