مضامین

جو خود نہ تھے کبھی راہ پر وہی آج رہبر بن گئے

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانیؒ،نیرل ۔ مہاراشٹر

یہ ایک معمولی سمجھ رکھنے والا انسان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی فن میں مہارت حاصل کئے بغیر اس کی تعلیم دینا فائدہ بخش ہونے کے بجائے مضرت رساں ہوگی ، یہی صورتحال اصلاح وارشاد کی بھی ہے ، جب ایک انسان صالح بنے بغیر مصلح کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا یہ عمل کہیں نہ کہیں قوم وملت کے حق میں نقصان دہ زیادہ اور فائدہ مند کم ثابت ہوتا ہے ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آئے دن ایسے بیانات اور اقدامات سے سامنا پڑتاہے کہ سر مارے شرم کے زمین میں دھنس جاتا ہے ، اپنے متبعین میں تبدیلی لانے کے لئے خود کو بدلنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ تحریروں اور تقریروں سے کبھی انقلاب نہیں آیا کرتا اور نہ ہی انہیں تاریخ میں جگہ دی جاتی ہے ، اگر ایسا ہوتا تو ہر گھرمیں ایک تاریخی کتب خانہ نظر آتا ۔

تاریخ انسانی کے جھرونکوں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی قیادت اور رہبری کا فریضہ ایسے شخص نے انجام دیا ،جس کے پاس صرف باتیں ہی باتیں ہوں اور اس کے کردار میں ان باتوں کا اثر نہ رہا ہو تو اس قو م کا مقدر تباہی کے سوا اور کچھ نہ رہا الا یہ کہ قوم نے خود اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیا اور کسی قیادت کا انتظار کئے بغیر حوادثات دہر کا مقابلہ کرنا شروع کردیا ، اور یہ ایک فطری امر ہے کہ قائد جب گفتار کا غازی اور کردار میں کورا ہو تو اس کے پیچھے چلنے والوں میں ایسی پستی اور بے ثباتی جنم لیتی ہے کہ پھر وہ قوم صدیوں ابھرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہے ، جیسا کہ ایک موقع پر سید الطائفۃ سید سلیمان ندوی ؒکہا تھا کہ اگر قوم کا قائد اور رہبر کوئی منصوبہ پیش کرتا ہے خواہ کتنا ہی چھوٹا اور معمولی کیوں نہ ہو ،اور خو دبڑھ کر اس پر عمل کرتا ہے تو اس کے ماننے والوںمیں وہ بلند ہمتی پیدا ہوتی ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کرسکتی ،جبکہ دوسری جانب اگر کوئی قائد بڑی بڑی باتیں کرتا ہے اور بلند بانگ دعوے کرتا ہے ، مگر اس کو عملی شکل نہیں دیتا یا اس میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کے ماننے والوں وہ کم ہمتی پیدا ہوتی ہے جسے صدیوں محنت کے بعد بھی ابھارا نہیں جا سکتا ہے ۔

آج ہماری جو صورتحال ہے اور پستی و کم ہمتی کا جو عالم ہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری قیادت ورہبری کا دم بھرنے والے اور خود کو ہمارا قائد بتانے والے کہتے تو بہت کچھ ہیں ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پل بھر میں دنیا کا نقشہ بدل جائے گا ، اور یکا یک پوری دنیا میں تبدیلی کی لہر دوڑ جائے گی ، مگر جب ہم عملی طور پر اس کو یکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو سخت رسوائی اور رنج وغم ہاتھ آتا ہے ، اور قول وعمل میں ایسا بھیانک تضاد نظر آتا ہے کہ بس خدا کی پناہ ، اور ستم بالائے ستم یہ کہ تجزیہ نگاروں کو جو کہیں نہ کہیں قوم وملت کے تئیں فکر مند ہیں اور حالات حاضرہ سے لوگوں کو واقف کرانا چاہتے ہیں ان پر "خطائے بزرگاں گرفتن خطا است "کا نامناسب قاعدہ منطبق کرتے ہیں ۔

بس آخری بات یہ کہ خود بدلے بغیر بدلنے کی دعوت دینا اور صالح بنے بغیر اصلاح کا فریضہ انجام دینا قوم وملت کے تئیں نقصاندہ ثابت ہوگا ، جس کی تلافی ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے ، اللہ ہمیں بہتر سمجھ عطا فرمائے اور صلاحیت کے ساتھ صالحیت کی نعمت بھی نوازے ۔ آمین یا رب

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: