اہم خبریں

جھارکھنڈ کے مسلمان قابل مبارکباد

محمد سفیان قاسمی ،گڈا جھارکھنڈ

جھارکھنڈ میں فرقہ پرست پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے مسلمانوں نے جس دور اندیشی اور حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اس کے لئے وہ قابل مبارکباد ہیں، حالانکہ فرقہ پرست پارٹی کو ناکام بنانا تنہا مسلمانوں کے لئے ممکن نہیں، اور نہ ہی تنہا مسلمانوں کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ کسی پارٹی کو اقتدار میں لے آئیں کیوں جھارکھنڈ میں مسلمانوں کی کل آبادی دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق 14 فیصد ہے جبکہ ہندو 67 فیصد ہیں باقی عیسائی، بدھ جین، سکھ وغیرہ ہیں. چنانچہ جب مسلمانوں کی آبادی پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں حتی کہ جھارکھنڈ میں کوئی ایک حلقہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی پچاس فیصد سے زائد ہو ایسے میں جب تک سیکولر مزاج کے ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ مل کر فرقہ پرست کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے کوشش نہیں کریں گے تب تک کامیابی نہیں مل سکتی، اس لحاظ سے جھارکھنڈ کے تمام سیکولر مزاج کے ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی وغیرہ قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے فرقہ پرستوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا لیکن سیکولر پارٹیوں کی اس کامیابی کے لیے مسلمان بطور خاص اس وجہ سے قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے اپنے ووٹوں کو منتشر ہونے سے محفوظ رکھا، کیوں کہ مسلمانوں کا ووٹ منتشر ہونے سے فرقہ پرست پارٹی آرام سے کامیاب ہو جاتی ہے، اگر ان کا ووٹ مختلف سیکولر پارٹیوں میں تقسیم ہو جاتا تو پھر الیکشن کا موجودہ بہتر ریزلٹ جو سامنے آیا وہ نہ آتا، حالانکہ کافی سیٹوں سے ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی، مسلم لیگ، اور مجلس اتحاد المسلمین نے بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے مگر یہاں کے مسلمانوں نے مہاراشٹر سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنے ووٹوں کو ضائع ہونے سے بچا لیا، بلاشبہ فرقہ پرستوں کو ناکام بنانے کیلئے جھارکھنڈ کے مسلمانوں کی یہ حکمت عملی دوسری ریاست کے مسلمانوں کے لئے قابل تقلید ہے.

تاہم سیکولر پارٹیوں سے بہت زیادہ توقعات رکھنا بھی درست نہیں، بس اتنا ہے کہ فرقہ پرست پارٹیوں کے مقابلے میں ان سے نقصانات کم ہوں گے اور فرقہ پرست حکمرانوں نے حوصلہ پاکر جو اقلیتوں کے لئے پریشان کن پالیسی اور قوانین بنانے شروع کر دیئے تھے ان کے حوصلے پست ہوں گے، وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گے اور وہ کسی طبقہ کو پریشان کرنے کی پالیسی سے باز آئیں گے.

بہر حال سیکولر پارٹیوں کی فتح یابی پر مسلمانوں کو زیادہ جشن منانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ حکمت عملی کے خلاف ہوگا کہ مسلمان خوشی کے اظہار کے لئے دوسروں کو تکلیف پہنچانے والا طریقہ اختیار کریں، اس سے فرقہ پرست پارٹیوں کو اکثریتی طبقہ کے لوگوں کو ورغلانے کا موقع ملے گا ، اس لئے نوجوانوں سے بالخصوص گزارش ہے کہ وہ فیس بک، ٹویٹر اور دیگر شوشل میڈیا پر زیادہ خوشی کا اظہار نہ کریں اور نہ ہی دوسروں کو چوٹ پہنچانے والا کمینٹ کریں، جس طرح فرقہ پرست کو ناکام بنانے کے لئے حکمت عملی اختیار کی گئی اسی طرح یہ بھی حکمت عملی کا حصہ ہے کہ زیادہ خوشیوں کا اظہار کرکے فرقہ پرستوں کو خوراک مہیا نہ کریں

Tags

Related Articles

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: