اسلامیات

جہاد کا مقصد ظلم کا خاتمہ یا کفر کا؟

(۲) شمع فروزاں مولانا خالد سیف اللہ رحمان

(۰۱) فإذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتیٰ اذا أثخنتموھم فشدوا الوثاق، فإما منا بعد وإما فداء حتی تضع الحرب أوزارھا (محمد:۴)
تو جب تمہار امقابلہ ایمان نہ لانے والوں سے ہو جائے (یعنی وہ تمہارے مقابلہ پر آجائیں) تو ان کی گردنیں مارو، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل ڈالو تو پھر مضبوطی کے ساتھ قید کر لو، اب اس کے بعد یا تو احسان کرو (یعنی بلا معاوضہ چھوڑ دو) یا معاوضہ لے کر رہا کردو، جب تک لڑنے والے ہتھیار نہ ڈال دیں۔
اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ جب کسی گروہ سے جنگ کی نوبت آہی جائے تو اول تو اس کی اچھی طرح سرکوبی کی جائے؛ تاکہ پھر ان کو سر اُٹھانے کی ہمت نہ ہو، اس کے بعد جب وہ سپر اندازہو جائیں تو ان کو قید کر لیا جائے، قید کرنے کے بعد اصولی طور پر ان کے ساتھ دو طرح کا رویہ اختیار کیا جا سکتا ہے، ایک یہ کہ انہیں یوں ہی چھوڑ دیا جائے، دوسری صورت یہ ہے کہ ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا جائے اور فدیہ لینے کے بعد رہا کر دیا جائے، اگر قتال کا مقصد کفر کو یا کافروں کو ختم کر دینا ہوتا تو قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جاتا نہ کہ فدیہ لے کر یا فدیہ لیے بغیر رہا کر دینے کا۔
(۱۱) من أجل ذالک کتبنا علیٰ بنی اسرائیل أنہ من قتل نفسا بغیر نفس أو فساد في الأرض فکأنما قتل الناس جمیعا، ومن أحیاھا فکأنما أحیا الناس جمیعا (المائدہ: ۲۳)
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ بات لکھ دی ہے کہ جس نے کسی کو —کسی شخص کے قتل یا زمین میں فساد مچانے کے جرم کے بغیر— قتل کر دیا؛ گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا، اور جس نے ایک جان کی زندگی بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔
یہ آیت اس بات کو بتاتی ہے کہ کسی شخص کا قتل دو ہی صورتوں میں جائز ہو سکتا ہے، یا تو اس نے کسی کو بلا وجہ ظلماََ قتل کر دیا ہو، یا اس نے زمین میں فساد مچایا ہو، فساد ایسے فعل کو کہتے ہیں، جس سے دوسرے لوگ متأثر ہوں، جیسے وہ ڈاکہ ڈالتا ہو، بے قصور لوگوں پر حملہ کرتا ہو، معاشرہ کے امن کو پامال کرتا ہو، وہ گناہ جس کا اثر خود اس کی ذات سے متعلق ہو، دوسروں کو اس کا ضرر نہیں پہنچتا ہو، یہ فسادمیں شامل نہیں ہے، کفر بھی ایسے ہی گناہوں میں ہے، جس کا تعلق اس کی ذات سے ہے اور جس کی سزا اس کو آخرت میں ملے گی۔
(۲۱) وقاتلوا المشرکین کافۃ یقاتلونکم کافۃ (التوبہ: ۶۳)
جس طرح مشرکین تم سبھوں سے جنگ کرتے ہیں، اسی طرح تم بھی ان تمام مشرکین سے قتال کرو۔
یہ آیت بھی واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کا حکم دشمنوں کے جنگی اقدام کے جواب میں ہے۔
اس کے علاوہ متعدد آیات ہیں، جن میں آمادہئ جنگ لوگوں (محاربین) اور ظلم کرنے والوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، نہ کہ ان لوگوں سے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوں اور غیر جانبدار رہیں، اس کے علاوہ جس غیر مسلم علاقہ پر فتح حاصل کی جائے، ان سے جزیہ پر اکتفاء کرنے کی اجازت دی گئی ہے(التوبہ: ۹۲) اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے، اگر اسلام کا مقصد اہل کفر کو صفحہئ ہستی سے مٹا دینا ہوتا تو ظاہر ہے کہ یہ احکام نہیں دیے جاتے۔
قرآن مجید کے بعد احکام شرعیہ کا دوسرا ماخذ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال ہیں، جہاں تک آپ کے ارشادات کی بات ہے تو آپ نے مجاہدین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
انطلقوا باسم اللہ، وباللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ ولا تقتلوا شیخا فانیا ولا طفلا صغیرا ولا امرأۃ (ابوداؤد عن انس، حدیث نمبر:۴۱۶۲)
اللہ کے نام سے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملت پر(جہاد کے لئے) جاؤ، کسی بوڑھے آدمی کو قتل نہ کرنا، نہ چھوٹے بچہ کو قتل کرنا، اور نہ کسی عورت کو قتل کرنا۔
اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجھزن علی جریح ولا یتبعن مدبر ولا یقتلن أسیر ومن أغلق بابہ فھو آمن (فتوح البلدان: ۱/۹۴)
کسی زخمی پر حملہ نہ کیا جائے، نہ بھاگنے والے کا پیچھا کیا جائے اور نہ قیدی کو قتل کیا جائے، نیز جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے وہ مامون ہے۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذہبی پیشواؤں کو بھی قتل کرنے سے منع فرمایا: چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں:
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا بعث جیوشہ قال: أخرجوا باسم اللہ، تقاتلون في سبیل اللہ من کفر باللہ، لا تغدروا، ولا تغلوا، ولا تمثلوا، ولا تقتلوا الولدان ولا أصحاب الصوامع (مسند احمد، حدیث نمبر: ۸۲۷۲)
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کو بھیجتے تو کافروں سے اللہ کے راستہ میں قتال کرو، نہ دھوکہ دو، نہ خیانت کرو،: نہ مثلہ کرو، نہ بچوں کو قتل کرو اور نہ ہی صوامع والوں (مذہبی پیشواؤں) کو قتل کرو“
یہ اور اسی طرح کے اور بھی فرامین نبوی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مشرک وکافر کو قتل کردینا اسلام کا منشاء نہیں ہے، قتال کا مقصد کفر یا کافروں کو ختم کرنا نہیں؛ بلکہ فتنہئ وفساد اور ظلم وعناد کو روکنا ہے۔
اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو دیکھا جائے تو اس میں بھی صاف طور پر اسی اصول کی جھلک نظر آتی ہے؛ چنانچہ غزوہئ بدر میں (۰۷) مشرکین قید کئے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فدیہ لے کر یا بلا فدیہ رہا فرما دیا، سنہ ۶/ھ میں آپ عمرہ کے لئے اپنے رفقاء کے ساتھ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، سارے مسلمان احرام کے لباس میں تھے، اور عرب کی روایت تھی کہ کوئی شخص عمرہ کرنے کے لئے آتا تو اسے روکا نہیں جاتا؛ لیکن اہل مکہ نے اس روایت کے برخلاف مسلمانوں کو روک دیا، اس وقت مسلمان ان سے دو دو ہاتھ ہاتھ کرنے کے موقف میں تھے، صحابہؓ قتال کرنا چاہتے تھے، اور ان کو احساس تھا کہ یہاں تک آکر واپس ہو جانا مسلمانوں کی تذلیل ہے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال سے بچنے کے لئے اہل مکہ کی شرطوں پر صلح کر لی، جب مکہ فتح ہوا تو تمام مشرکین مکہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں پیش پیش تھے، آپ کے سامنے تھے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے لئے عفو عام کا اعلان کر دیا، جو انسانی تاریخ کا ایک بے نظیر واقعہ ہے؛ حالاں کہ اگر آپ چاہتے تو ان میں ایک ایک شخص کو مسلمان موت کے گھاٹ اُتار دیتے اور انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہ ان کے قتل کا پورا پورا جواز فراہم کر رہا تھا۔
مدینہ میں یہودیوں کے تین بڑے قبائل تھے، آپ نے ان سب سے امن کا معاہدہ کیا تھا، سب سے پہلے بنو قینقاع نے عہد شکنی کی، مسلمانوں نے ان پر قابو حاصل کر لیا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قتال سے بچتے ہوئے ان کو شام کی طرف جلا وطن فرما دیا، پھر بنو نضیر نے عہد شکنی کی، مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا، آپ چاہتے تو ان پر قتل عام کا حکم جاری کر دیتے؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا؛ البتہ ان کے شر سے بچنے کے لئے انہیں خیبر کو جلا وطن کر دیا، سب سے بدترین رویہ بنو قریظہ نے اختیار کیا، جنھوں نے عین حالت جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ عہد شکنی کی، اور مشرکین کے ساتھ جا ملے، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ان کے قتل کا فیصلہ نہیں فرمایا؛ بلکہ فرمایا کہ وہ کسی کو حَکَم بنا لیں، حَکَم جو فیصلہ کرے، اس کو دونوں فریق تسلیم کر لیں، انھوں نے اپنے حلیف حضرت سعد بن معاذؓ کو حَکَم بنایا، ان کے فیصلہ کے مطابق عورتیں اور بچے گرفتار کر لئے گئے، اور فوجی قتل کر دیے گئے۔
قبیلہئ بنو حنیفہ کے ایک شخص ثمامہ بن اثال جو مشرک تھے، گرفتار کئے گئے اور قید ہو کر آئے، نہ آپ نے ان کو ایمان لانے پر مجبور کیا، نہ ان کے قتل کا حکم جاری فرمایا؛ بلکہ ان کو رہا کر دیا۔
صفوان بن امیہ فتح مکہ کے موقع پر ایمان نہیں لائے اور غزوہئ حنین میں آپ کے ساتھ حاضر ہوئے (مؤطا امام مالک، النکاح، حدیث نمبر: ۱۰۰۲) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسلمان ہونے پر مجبور کر سکتے تھے؛ لیکن آپ نے انہیں مجبور نہیں کیا، بالآخر وہ خود مسلمان ہوگئے، غیر مسلم عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ یہی رویہ اختیار کیا کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے، غرض کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی سلوک دونوں اس بات پر شاہد ہیں کہ قتال کا مقصد کفر کو اور کافروں کو ختم کرنا نہیں ہے؛ بلکہ ظلم وجبر کو روکنا ہے۔
اسی لئے سلف صالحین نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے کہ قتال کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہر کافر کو تہِ تیغ کر دیا جائے، علامہ طبریؒ فرماتے ہیں:
وإن مالوا إلی مسالمتک ومتارکتک الحرب، إما بالدخول في الإسلام، وإما بإعطاء الجزیۃ، وإما بموادعۃ، ونحو ذالک من أسباب السلام والصلح، فاجنح لھا، یقول: فمل إلیھا وابذل لھم ما مالوا إلیہ من ذالک وسألوک (تفسیر طبری: ۴۱/ ۰۴)
اگر وہ (دشمن) تمہارے ساتھ صلح اور جنگ بندی پر آمادہ ہو جائیں، چاہے اسلام قبول کر کے، یا جزیہ دے کر،یا صلح کر کے، چاہے وہ کسی قسم کی اور کسی انداز کی بھی صلح ہو تو تم بھی صلح پسندی کا ثبوت دینا اور جو چاہیں وہ کر دینا اور دے دینا۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ جمہور کا مسلک یہی ہے کہ جب کفار کی طرف سے جنگ وفساد کا ارتکاب ہو تب ان سے جنگ کی جائے:
الکفار إنما یقاتلون بشرط الحراب، کما ذھب إلیہ جمھور العلماء، وکما دل علیہ الکتاب والسنۃ (النبوء ات: ۰۴۱)
کفار سے جنگ اسی شرط پر کی جائے گی کہ وہ محاربہ کریں، جیسا کہ جمہور علماء کا مسلک ہے اور اسی پر کتاب وسنت کی دلیل قائم ہے۔
اسی طرح اپنی ایک تالیف ”الصارم المسلول“ میں لکھتے ہیں:
فأمر بقتال الذین یقاتلون فعلم أن شرط القتال کون المقاتل مقاتلا (الصارم المسلول: ۲۸۲)
اللہ نے جنگ کرنے والوں سے قتال کرنے کا حکم دیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قتال کے لئے یہ شرط ہے کہ جس کے خلاف جنگ چھیڑی جائے، وہ جنگ کر رہا ہو۔
علامہ ابن تیمیہؒ کے تلمیذ رشید علامہ ابن قیمؒ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
إنما کان (صلی اللہ علیہ وسلم) یقاتل من یحاربہ، وأما من سالمہ وھادنہ فلم یقاتلہ (ہدیۃ الحیاری: ۷۳۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی سے جنگ کرتے تھے، جو خود جنگ کرتا تھا، جو صلح کرتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے جنگ نہیں کرتے تھے۔
آیات واحادیث، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہئ حسنہ اور اس پر مبنی معتبر اہل علم کی رائے اس بات کو دوپہر کی دھوپ کی طرح واضح کر دیتی ہے کہ جہاد کا مقصد زور زبردستی سے لوگوں کو مسلمان بنانا، کفر اور اہل کفر کا دنیا سے خاتمہ کر دینا اور طاقت کے زور پر سبھوں کو مسلمان بنا لینا ہرگز نہیں ہے، قرآن نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ ادیان ومذاہب کا اختلاف مشیت الٰہی کا حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء ہی نہیں ہے کہ اس دنیا میں صرف مسلمان رہیں:
ولو شاء ربک لآمن من فی الأرض کلھم جمیعا، أفأنت تکرہ الناس حتیٰ یکونوا مؤمنین (یونس: ۹۹)
اگر آپ کے پروردگار کو منظور ہوتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں، سب ایمان لے آتے، تو کیا آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کر دیں گے؟
تو پھر صرف کفر کیسے قتال کا سبب ہو سکتا ہے؟ اس لئے یہ ایک نفرت انگیز پروپیگنڈہ ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ہر کافر سے جنگ کرنا ہے اور جنگ کے جواز کے لئے کفر کا وجود کافی ہے۔

٭ ٭ ٭

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: