اسلامیات

جہاد کا مقصد ظلم کا خاتمہ یا کفر کا؟

(۱) شمع فروزاں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

تیسرا قابل توجہ مسئلہ یہ ہے کہ جہاد کے جائز ہونے کا مقصد اور اس کی علت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں قرآن وحدیث سے جو بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کا مقصد کسی خطہ سے کافروں کا خاتمہ کر دینا اور کفر کو مٹا دینا نہیں ہے، خود قرآن مجید کی آیات سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے، اس سلسلہ میں چند آیات کا نقل کرنا مناسب ہوگا:
(۱) لا إکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغي فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لاانفصام لھا، واللہ سمیع علیم (البقرہ: ۶۵۲)
دین میں زبردستی کی گنجائش نہیں، گمراہی کے مقابلہ ہدایت آشکارا ہو چکی ہے، تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا، اس نے مضبوط ڈوری تھام لی، جو ٹوٹ نہیں سکتی، اور اللہ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔
اس آیت میں قرآن مجید نے مذہب کے بارے میں ایک بنیادی اصول پر روشنی ڈالی ہے، اور وہ یہ کہ دین کے معاملہ میں کوئی جبرواکراہ نہیں ہے، اگر کسی شخص کو ایمان کی توفیق نہ ہو تو اس کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جب مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تو ان سے کفر کی وجہ سے قتال کی اجازت کیسے ہوگی؟
(۲) اُذن للّذین یقاتلون بأنھم ظلموا وإن اللہ علی نصرھم لقدیر (الحج: ۹۳)
جن لوگوں سے جنگ کی جاتی ہے، ان کو بھی قتال کی اجازت اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ مظلوم ہیں، اور یقیناََ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قادر ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ قتال کی اجازت کے سلسلہ میں نازل ہونے والی یہ پہلی آیت ہے (سنن نسائی، باب وجوب الجھاد: ۵۳۰۳، ترمذی، حدیث نمبر: ۵۹۰۳) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ چوں کہ مشرکین مسلمانوں سے جنگ کے درپے تھے اور ان پر حملہ کر رہے تھے، اس بنیاد پر مسلمانوں کو ان سے جہاد کی اجازت دی گئی، گویا جہاد کا مقصد کفر کو، کافروں کو یا ان کے اقتدار کو ختم کرنا نہیں تھا؛ بلکہ ظلم کو روکنا مقصود تھا:
(۳) وقاتلوا في سبیل اللہ الذین یقاتلونکم ولا تعتدوا، إن اللہ لا یحب المعتدین، واقتلوھم حیث ثقفتموھم وأخرجوھم من حیث أخرجوکم والفتنۃ أشد من القتل (البقرہ: ۰۹۱–۱۹۱)
اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سے قتال کرو، جو تم سے قتال کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے، جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ ہو، تم ان سے لڑو، اور جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، تم بھی ان کو وہاں سے نکالو (اس لئے کہ قتل اگرچہ برا فعل ہے؛ مگر) فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے۔
اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں سے لڑائی کرتے ہوں، ان سے جہاد کرنے کا حکم ہے، اور اس آیت میں ہی اس بات کا بھی اشارہ موجود ہے کہ اگر دوسرے فریق کی طرف سے اس طرح کی بات پیش نہیں آئے، تب ان پر حملہ کرنا زیادتی میں شامل ہے، اور زیادتی سے بچنا ضروری ہے، ہاں، اپنے قومی وجود کے تقاضوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جو گروہ آمادہئ جنگ ہو، جہاں کہیں بھی ان کا سامنا ہو، ان کا مقابلہ کرو۔
(۴) ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام حتیٰ یقاتلوکم فیہ، فإن قاتلوکم فاقتلوھم، کذالک جزاء الکافرین (البقرہ: ۱۹۱)
مسجد حرام کے پاس ان سے جنگ نہ کرو، سوائے اس کے کہ وہ تم سے وہاں جنگ کریں، تو اگر وہ تم سے قتال کریں تو تم بھی ان کو قتل کرو، یہی ہے ایسے کافروں کی سزا۔
حدود حرم میں جنگ کی ممانعت تھی، اور عرب بھی اس روایت کے پاسدار تھے؛ چنانچہ اس آیت میں مسلمانوں کو واضح ہدایت دی گئی ہے کہ حدودِ حرم میں جب تک دشمن تم پر حملہ آور نہ ہو اور حملہ نہ کرے تم اپنے ہاتھ کو روکے رکھو۔
حرام مہینوں میں بھی خاص طور پر جنگ کی ممانعت تھی؛ اس لئے قرآن مجید نے ایک دوسرے موقع پر ہدایت دی کہ ان مہینوں میں خاص طور پر اس کا خیال رکھا جائے کہ مسلمان حملہ کرنے میں پہل نہیں کریں؛ البتہ اگر دوسرا فریق حملہ آور ہو تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے:
الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمات قصاص (البقرہ: ۴۹۱)
حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینہ کے بدلہ ہے، اور ادب وحرمت کا پاس رکھنے میں بھی برابری ہے۔
اس ہدایت میں یہی اصول مقرر کیا گیا ہے کہ قتال کے معاملہ میں مساویانہ طرز عمل ہونا چاہئے، یہ نہ ہونا چاہئے کہ دشمن تو ہم پر حملہ آور ہو، وہ وقت اور مقام کی حرمت کا کوئی لحاظ نہ کرے اور ہم یک طرفہ طورپر اس کا لحاظ کریں۔
(۵) وقاتلوھم حتیٰ لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ، فإن انتھوا فإن اللہ بما یعملون بصیر (الانفال: ۹۳)
اور مشرکین سے قتال کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لئے ہو جائے۔
فتنہ سے مراد ہے مسلمانوں کو ان کے دین سے روکنا، حضرت عروہ بن زبیرؓ اور دیگر علماء سے یہی منقول ہے:
…….. أي حتی لا یفتن مؤمن عن دینہ (تفسیر القرآن العظیم لابن أبی حاتم، قولہ تعالیٰ: وقاتلوھم حتیٰ لا تکون فتنۃ (۵/۱۰۷۱)
یہی بات صاحب تفسیر خازن نے لکھی ہے:
یعنی لا یفتن مؤمن عن دینہ (تفسیر خازن المسمی لباب التاویل فی معانی التنزیل، سورۃ الانفال: ۳/۲۳)
علامہ ابن کثیرؒ نے بھی حضرت عروہ بن زبیرؓ اور دیگر اہل علم کا یہی نقطہئ نظر نقل کیا ہے:
……. حتیٰ لا یفتن مسلم عن دینہ (تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر، سورۃ الانفال، رقم الآیۃ ۸۳/الیٰ ۰۴: ۴/۴۸)
علامہ فخرالدین رازیؒ نے حضرت عروہ بن زبیرؓ ہی کے حوالہ سے اس کی تفصیلی وضاحت کی ہے:
کان المؤمنون في مبدأ الدعوۃ یفتنون عن دین اللہ، فافتتن من المسلمین بعضھم وأمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المسلمین أن یخرجوا الیٰ الحبشۃ، وفتنۃ ثانیۃ وھو أنہ لما بایعت الأنصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم بیعۃ العقبۃ، توامرت قریش أن یفتنوا المؤمنین بمکۃ عن دینھم، فأصاب المؤمنین جھد شدید، فھذا ھو المراد من الفتنۃ فأمر اللہ تعالیٰ بقتالھم حتیٰ تزول ھذہ الفتنۃ (التفسیر الکبیر لفخر الدین الرازی، سورۃ الانفال، آیت نمبر:۱۴/ ۵۱/ ۳۸۴-۴۸۴)
دعوت کے ابتدائی دنوں میں مسلمانوں کو اللہ کے دین سے ہٹانے کے لئے تنگ کیا جاتا تھا، بعض مسلمان اس آزمائش کا شکار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم فرمایا، دوسرا فتنہ اس وقت پیدا ہوا جب انصار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں پر بیعت عقبہ کی، تو قریش نے باہم مشورہ کیا کہ مسلمانوں کو مکہ میں ان کے دین سے ہٹنے پر مجبور کر دیا جائے؛ چنانچہ مسلمانوں کو بڑی تکلیف پہنچائی گئی؛ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان سے قتال کا حکم دیا؛ تاکہ مسلمان اس فتنہ سے محفوظ ہو جائیں۔
غرض کہ مقصد یہ نہیں ہے تمام کافروں سے دنیا خالی کر دی جائے؛بلکہ مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کے اپنے دین پر عمل کرنے میں جو رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے، اس رکاوٹ کا خاتمہ کر دیا جائے۔
(۶) إلا الذین یصلون إلی قوم بینکم وبینھم میثاق أو جاؤوکم حصرت صدورھم أن یقاتلوکم أو یقاتلوا قومھم ولو شاء اللہ لسلطھم علیکم فلقاتلوکم فإن اعتزلوکم فلم یقاتلوکم وألقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا، ستجدون آخرین یریدون أن یأمنوکم ویأمنوا قومھم، کلما ردوا إلی الفتنہ أرکسوا فیھا فإن لم یعتزلوکم ویلقوا إلیکم السلم ویکفوا أیدیھم فخذوھم واقتلوھم حیث ثقفتموھم، وأولائکم جعلنا لکم علیھم سلطانا مبینا (النساء: ۰۹–۱۹)
……. سوائے ان لوگوں کے جو ایسی قوم کے ساتھ جا ملیں کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو، یا تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ تم سے جنگ کا حوصلہ نہ پاتے ہوں، ان کے دل تم سے یا خود اپنی قوم سے جنگ کرنے سے تنگ ہوں اور اللہ چاہتے تو ان کو تم پر مسلط کر دیتے؛ چنانچہ وہ تم سے جنگ کرتے؛ لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں، جنگ نہ کریں اور تم سے صلح کی پیشکش کریں تو اللہ نے ان کے خلاف تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں رکھی ہے، اب تم کچھ اور لوگوں کو دیکھوگے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، (لیکن) جب بھی ان کو فساد کی طرف بلایا جاتا ہے تو الٹے منھ اس میں پلٹ پڑتے ہیں، تو اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) باز نہ رہیں، تم سے صلح کی پیشکش نہ کریں اور اپنے ہاتھ روکے نہ رکھیں تو تم بھی ان کو پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کردو، اور یہ وہ لوگ ہیں، جن کے خلاف ہم نے تمہارے لئے کھلی ہوئی دلیل فراہم کر دی ہے۔
یہ آیت صاف بتلاتی ہے کہ جو اہل کفر مسلمانوں سے جنگ کے درپے نہ ہوں، صلح کر لیں، یا صلح چاہتے ہوں، یا الگ تھلگ اور غیر جانب دار ہوں، ان سے قتال کا حکم نہیں ہے، ہاں، اگر وہ صلح کے لئے اور پرُامن طور پر رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور مسلمانوں سے آمادہئ جنگ ہیں، تو ان سے قتال کا حکم دیا گیا ہے، یہ بات جو اس آیت میں فرمائی گئی ہے کہ مشرکین کو جہاں پاؤ، گرفتار کرو اور قتل کرو، آیت نے اس بات کو بے غبار کر دیا ہے کہ یہ حکم تمام کفار ومشرکین کے لئے نہیں ہے، ان لوگوں کے لئے ہے، جو مسلمانوں سے برسرِپیکار ہیں۔
(۷) لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروھم وتقسطوا إلیھم، إن اللہ یحب المقسطین (الممتحنہ: ۸)
اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتے، جنھوں نے دین کے معاملہ میں تم سے لڑائی نہیں کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، یقیناََ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ جو لوگ مسلمانوں سے درپئے قتال نہ ہوں اور ان کو ان کے وطن سے بے وطن نہ کریں، ان سے قتال کا حکم نہیں ہے، قتال کا حکم ان لوگوں سے ہے، جن کا طرز عمل اس کے برعکس ہو، یعنی وہ مسلمانوں سے قتال کرنے کے درپے ہوں۔
(۸) ألا تقاتلون قوماََ نکثوا أیمانھم وھموا بإخراج الرسول وھم بدؤکم أوّل مرّۃ (التوبہ: ۳۱)
کیا تم ان لوگوں سے جنگ نہیں کروگے، جو خود اپنی قسموں کو توڑ چکے ہیں،ا ور جنھوں نے رسول کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تھا، اور انھوں نے خود تم سے چھیڑ خانی میں پہل کی ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور مسلمانوں کو بے وطن کر دیا، ان کفارومشرکین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، دوسری جگہوں پر جہاں مطلقاََ مشرکین سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے، اس سے بھی وہی لوگ مراد ہیں، جنھوں نے اپنے عہد کو توڑ دیا، اور مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا، علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں: المراد بالمشرکین فی قولہ سبحانہ ”فاقتلوا المشرکین“ الناکثون (روح المعانی:۷/۶۵۱)
(۹) وما لکم لا تقاتلون في سبیل اللہ والمستضعفین من الرجال والنساء والوالدان الذین یقولون ربنا أخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم أھلھا، واجعل لنا من لدنک ولیا، واجعل لنا من لدنک نصیرا (النساء: ۵۷)
اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پا کر دبا لئے گئے، جو فریادودعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال دیجئے، جہاں کے لوگ بڑے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی ومددگار پیدا کر دے!
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کچھ رفقاء کے ساتھ ہجرت فرمائی تو مشرکین مکہ نے بہت سے لوگوں کو زبردستی روک لیا، جن میں جوان تو کم تھے، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کی بڑی تعداد تھی، یہ ان کے ظلم وستم کا شکار تھے، اور اتنے بے بس تھے کہ سوائے دعاء کے ان کے پاس کوئی اور سہارا نہیں تھا، اس موقع پر مسلمانوں کوحکم دیا گیا کہ وہ ان مظلوموں کو ظالموں کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے ان سے جہاد کریں —— ظاہر ہے یہاں بھی مظلوموں کو ظلم سے بچانے کے لئے قتال کا حکم دیا گیا ہے (تفسیر خازن: ۱/۸۹۳–۹۹۳) (جاری)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: