مضامین

جہاز قطعہ میں‌ادارے اور کمیٹیاں

محمد یاسین جہازی

(اقتباس از : تاریخ‌جہاز قطعہ غیر مطبوعہ)
گاوں کی تاریخ میں ہمیں مختلف اداروں اور کمیٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی کمیٹی ”ادارہ تنظیم ملت“ کے نام سے بنائی گئی ہے، جس کے روح رواں حضرت مولانا محمد اسلام مظاہری صاحب ؒ تھے۔ ہم ذیل میں اس کمیٹی کے پس منظر اور اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالنے والی انھیں کی تحریر پیش کر رہے ہیں۔ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) ادارہ تنظیم ملت
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العٰالمین والصلاۃ والسلام علیٰ رحمۃ للعٰالمین، اما بعد۔
جمعہ کی رات(شب اول) سہانی، خوشگوار پرفضا چاند کی کوثر تسنیم میں دہلی ہوئی چاندنی اور اس پرہولے ہولے جھکولے کھاتی ہوا، کتنا پرسکون ہوتا ہے اور پھر اس پر سونے پر سہاگہ کیوں نہ ہوجائے، جب کہ ایسی حالت میں دوست اور یار غار آجائے!۔
ا س پر فضا ماحول میں ہم بیٹھے ہوئے تھے، بعد نماز مغرب کے آدھ گھنٹے گفتگو میں گذر جانے کے بعد اچانک دروازے کی جانب سے السلام علیکم کی آواز آئی۔ سر اٹھا کر دیکھا، آواز جانی پہچانی تھی۔ خوشی دوبالا ہوگئی۔ رات گفتگو میں گذری۔
صبح کو بعد ناشتہ جب مہمان اپنے میزبان کے ساتھ تنہا تھے، نہایت سنجیدگی کے ساتھ یہ بات پیش کی:
”مولوی اسلام! آپ سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں، اکثر چاہا، مگر بھول جاتا ہوں۔ ابھی پھر خیال آیا، دیکھیے آج ہماری، آپ کی اور نہ جانے کتنے لوگوں کی حالت یہ ہے کہ نہ وہ گھر کا گنا جاتا ہے اور نہ باہر کا۔ اور ان میں سے اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں، جو مدارس نظامیہ سے تعلیم حاصل کرکے آتے ہیں اور معمولی سی تنخواہ میں بچوں کو تعلیم دینا شروع کردیتے ہیں۔ اول پیسے کی کمی۔ دوئم وقت سے فراغت کم ہونے کی وجہ سے وہ گھر کے کسی اور کام کو انجام دے نہیں پاتا۔ اور گھر سے ایک قسم کی بے تعلقی ہوجاتی ہے۔ اور پھر گھر والے اس کو علاحدہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ”دھوبی کا کتا نہ گھر کا گھاٹ کا“ والی مثال ہوجاتی ہے۔ ایسے عالم میں وہ جاہل مزدور سے بھی گیا گذرا ہوجاتا ہے، جو روزانہ کم از کم دو سیر مزدوری کرلیتا ہے۔ لوگ اس کی حالت دیکھ کر ہنستے ہیں اور تماشائی بنتے ہیں۔
آج ہمیں ضرورت ہے کہ ایک ایسی انجمن ہو، جس کی کچھ مالی حیثیت ہو اور وہ ایسے لوگوں نیز اور دوسرے غربا و مفلسوں کی وقتی امداد کرسکے اور جب فراغت ہوجائے، وہ شخص اس قرض حسنہ کو ادا کردے۔ میں اس چیز کی اہمیت کو شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہوں۔ تم کیا کہتے ہو؟؟!“۔
اور محمد اسلام نے
اپنے دوست کو اپنا دلی ترجمان دیکھ ہاں کہہ کر اپنا وہ منصوبہ پیش کردیا جو ایک مدت سے اپنے دل میں پال رکھا تھا۔ اور۔۔۔
اسی وقت ان دونوں ”میزبان اور مہمان“ نے
ایک انجمن کی داغ بیل ڈال دی! خدا کرے ان دو دوستوں کی دلی تمنا پوری ہو۔ اور دونوں کی کوشش بار آور ہو!!!!۔
یہ جمعہ کا دن ۰۱/بجے کا وقت تھا تاریخ ۱۱/ربیع الآخر۹۸۳۱ھ مطابق یکم جون۹۶۹۱ء تھی۔
محمد اسلام ساجدؔ مظہری
۲۱/ربیع الآخر۹۸۳۱ ھ (۲/ جون۹۶۹۱) ہفتہ
نوٹ جن اصحاب کو خواہش ہو کہ محمد اسلام کا منصوبہ معلوم کرے تو وہ بصد شوق ”مقاصد تنظیم ملت“ ملاحظہ کرسکتا ہے۔
محمد اسلام ساجد مظہری
اس کے بعد اس تنظیم کے ممبران کے لیے اصول درج کیے گئے ہیں، جو من و عن پیش کیا جارہا ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس انجمن کے ممبران پر فی الحال مندرجہ ذیل قوانین کا پابند ہوجا ضروری ہے۔
(۱) ہر ماہ مبلغ خلوص دل سے حلال کمائی سے داخل کرے۔ اگر اس کے علاوہ اپنی خوشی میں سے زائد عطیات انجمن میں داخل کرنا چاہے، تو داخل کرسکتا ہے، مگر یہ چندہ ممبری سے علاحدہ ہوگا۔اگر چند ماہ کے چندے ایکبارگی داخل کرنا چاہے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔
(۲) اس بات کو یعنی انجمن کی آواز کو ابھی بالکل پوشیدہ رکھے۔ اسی طرح پوشیدہ ہو کہ اگر دل کی بات ہے تو جگر اس علم سے بے بہرہ ہو اگر زبان اس کا سناشا ہے، تو ہونت اس سے ناآشنا ہو۔ اس کے لیے ہر ممبر سے حلفیہ اقرار ہو!۔
(۳) اس انجمن کے رقوم کو بالکل معطل نہ رکھا جائے، بلکہ اس کو فورا کسی نفع بخش تجارتی صورت میں لگادیا جائے تاکہ اس سے ترقی ہوسکے۔
(۴) اس انجمن کی ترقی کے لیے ہر دوماہ میں دوسرے ماہ کے آخری جمعہ کی شب اول سے جمعہ کی شب تک کسی وقت کمیٹی ہونی ضروری ہے۔
آگاہ! کمیٹی کہاں ہوگی اس کا فیصلہ اس سے قبل کی کمیٹی میں مقرر ہوجانا چاہیے۔
۵۔ کمیٹی میں ہر ممبر کو حاضر ہونا ضروری ہے، اگر کوئی ممبر حاضر نہ ہوسکتا ہو، تو اپنا عذر بصورت تحریر پیش کرے۔ فی الحال اپنی کفالت کمیٹی ہر ممبر اپنے سر رکھے!۔
۶۔ کمیٹی ایسی جگہ ہو اور ایسے مقام پر ہو کہ ممبران و اراکین کے علاوہ کسی فرد بشر کو اس کا علم نہ ہو اور نہ یہ سمجھ سکے کہ کیا بات ہوسکتی ہے۔
۷۔ اگر کسی ممبر کا رویہ کسی ممبر کی نظر میں برا معلوم اور صحیح معنی میں اخلاقی، قانونی اور انجمن کے لیے نقصان دہ رویہ ہو تو اول وہ اس ممبر کو آگاہ کرے، ورنہ دوسرے ممبران کو خبر دے کر اس سے بچاؤ کی صورت پیدا کرے۔
لیکن اصول و مقاصد کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے اس تنظیم کو کبھی ادارہ النظام کا نام دیاگیا تھا اور اسی نام سے اصول و مقاصد تحریر کیے گئے تھے، لیکن بعد میں اس کا بدل کر ادارہ تنظیم ملت کردیا گیا تھا۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مولانا محمد اسلام صاحب مظاہری نے اصول پہلے ہی لکھ دیے تھے پھر بعد میں اپنے احباب کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تھا۔کیوں کہ اصول و مقاصد پر تاریخ پہلے کی ہے جب کہ ابتدایہ مضمون پر تاریخ بعد کی لکھی ہوئی ہے۔ بہرحال اصول و مقاصد پر مشتمل طویل تحریر درج ہے۔ تحریر گرچہ طویل ہے، لیکن اکابر کے نوادرات کے تحفظ کے پیش نظر پوری تحریر قارئین کی نذر کی جارہی ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فہرست موضوع
ملت کے لیے
پریس و صحافت۔ تمدن و زبان۔ طلبا۔ الغربا۔ المظلومین۔ طبی امداد۔ معاشرت۔ اقتصادیات۔ امورات عامہ۔ ضروریات۔
تعلیم کے لیے
مدارس اسلامیہ۔ طلبا۔ تعلیمی کتب خانہ۔ علم طب۔ علم جدید۔ سیکولر اسکولس
دین کے لیے
مدارس دینیہ۔ لائبریریاں۔ تبلیغ۔ اجرائے احکامات شرعیہ۔ تعلقات مذاہب۔ احیاء کتب العلمیہ۔
(دینی دعوت کے لیے)
دعوت عامہ۔ تبلیغ۔ تعلقات مذاہب۔
وطن کے لیے
سیکولر اسکولس۔ طبی امداد۔ وطن دوستی۔ العالم۔ علم جدید۔ تعلقات عامہ۔ النظام امورات عامہ
دنیا کے لیے
علم جدید۔ العالم۔ النظام امورات عامہ
تفصیل
اشارات اسمائے شعبہ جات ادارہ النظام
۱۔ پریس و صحافت۔ آئے دن اقوام مخالف کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر اعتراضات و الزامات لگائے جاتے ہیں۔ صحافت ہی ایک ایسی طاقت ہے، جس کے ذریعے سے مسلم عوام سے ہم کلا ہوسکتا ہے۔
۲۔ مدارس دینیہ۔ مسلم عوام کے لیے دینی تعلیم میں جو دشواریاں پیدا ہورہی ہیں، ان دشواریوں کو دور کرنا اور تعلیم میں سہولت پیدا کرنا۔ دینی مدرسوں کی امداد۔
۳۔ سیکولر اسکولس۔ آج گورنمنٹ اسکول کا جو نصاب تعلیم ہے، وہ مذہب اسلام اور مسلم بچوں کے لیے بالکل تباہ کن ہے، ان معصوم بچوں کا اسلام و ایمان خطرے میں پڑجاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ ایسے اسکول تعمیل میں لایا جائے جو گورنمنٹ کے دوسرے نصاب بھی ہورا کرے اور اس میں اسلامی ضروریات و اسلامی عقائد بھی بچوں کو سکھایا جائے۔ اس طرح بچوں کا ایمان محفوظ رہ سکتا ہے!۔
۴۔ طلبا۔ بہت شے غریب طلبا مجبوری کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے ہیں، اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے، یا کسی چیز کے (مرض و مجبوری) لاحق ہونے کی وجہ سے۔ اس میں ضرورت ہے کہ ایسے مجبور طلبا کی کسی قدر حوصلہ افزائی کی جائے اور حتیٰ الامکان امداد کی جائے۔
۵۔ تمدن و زبان آج ہندستان ہی کیا، غیر ہند ملکوں میں بھی مسلم زندگی اجیرن ہوتی جاتی ہے۔ ان کی شہری زندگی کے حقوق سلب کیے جارہے ہیں، ان کی زبان کو پس پشت ان کی آزادی کو غلامی میں تبدیلی ان کی روشنی کو اندھیر ان کی آواز کو گونگ میں بدل دینا چاہتا ہے۔ ضرورت ہے کہ آج ان کی زندگی و زبان آزادی و امان کے لیے برحق کو کشش کی جائے۔
۶۔ تعلیمی کتب خانے۔ اس کے ذریعے سے تعلیم میں دیگر سہولتوں کے، یہ سہولت بھی عام کرنا ہے۔ آج طلبا کو عام دشواریوں کے ساتھ نصابی کتابوں کے مہیا کرنے میں بہت سخت دشواری پیش آتی ہے۔
۷۔ دینی لائبریری۔ آج مسلمانوں کی زندگی تین چیزوں کے ساتھ گذزری ہے۔ اگر بے چارہ دیہات کا ہے تو اپنے کام سے فارغ ہوکر حقہ کے ساتھ یا دنیا کی گپیں ہانکنے میں گذرتی ہے اور اگر کچھ علم حاصل کرسکا ہے تو فحش اور مخرب اخلاق پرچے رسالے اور کتابیں دیکھنے میں۔ اور اگر شہری ماحول میں زندگی گذار رہا ہے، تو اپنے کام سے فراغت پر ٹی اسٹال (چائے کی دکان) کی تپائی پر اور کچھ ہوا خواہ ہے، تو پارکوں میں اور اگر کچھ اور زیادہ اپنے کو تہذیب و تمدن والا سمجھتا ہے، تو کلبوں میں یا سینما کے پیکچرون کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔ضرورت ہے کہ ہر شہر، ہر جگہ میں کچھ ترغیبی اور ترہیبی کتابوں کا مجمع ہو اور ان کو مفت مطالعہ کے لیے دیا جائے تاکہ ان کے ذریعے کچھ اپنی زندگی سدھار سکے!۔
۸۔ مساجد و موقف۔ آج مہابھارت میں مختلف شہروں میں ہزاروں مسجدیں ویرانی کی حالت میں امت محمدیہ ﷺ پر رو رہی ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کی بحالی میں حتی الممکن کوشش کی جائے۔
موقف بھی جس کو وقف کرنے والوں نے جس چیز کے لیے کیا ہے، یا تو اس کے خلاف ہورہا ہے، یا متولیوں کے پیٹ کی آگ کی ایندھن ہورہا ہے۔ ضرورت اس کے لیے بھی سمجھا جائے کہ اسے بہتر سے بہتر راستے میں صرف کیا جائے۔!
۹۔ شعبہئ تبلیغ۔ حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نہج پر جو تبلیغ کی اشاعت ہے، اس کو اور بلند کرنا، اس کی امداد میں ہمت جانی و مالی دونوں طریقہ معلوم ہونا چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف جانی مجاہدہ ہی نہیں، بلکہ مالی حیثیت سے بھی مجاہدوں میں نمایاں کارنامے دکھلائے ہیں، ان شاء اللہ آگے اس کے لیے ایک مضمون نوشت کروں گا،!
۰۱۔ دعوت عامہ۔ دعوت نبوی ﷺ کو امت دعوت کی طرف باشارہئ قرآنیہ ”بالحکمۃ“ کے ساتھ لے جانا، یہ بھی ایک فرائض میں سے اہم فریضہ ہے۔
۱۱۔ اجرائے احکامات شرعیہ۔ ابوالمحاسن حضرت،مولانا سجاد حسین صاحب بہاری کی امارت شرعیہ کو عام کرنا، صرف بہار ہی نہیں؛ بلکہ ہندستان و بیرون ہند میں اس کی اہم ہونا شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے۔
۲۱۔ الغربا۔ ناداروں، یتیموں، بیواوں، بے کسوں کی وقتی بہ وقتی امداد۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے بہت سے لوگوں کو فقط تنگ روزی کی وجہ سے لب گور ہوتے دیکھا ہے، نڈھال و لاحس تو ہزاروں دیکھے ہوں گے۔
۳۱۔ المظلومین۔ وبائی امراض میں مبتلا ہونے والے مریضوں، فسادات میں پڑے ہوئے لوگون، سیلاب و آتش زدگی میں واقع ہونے والے مسلم لوگوں کی فوری امداد کرنا۔ ۸۸۳۱ھ (۸۶۹۱) میں ہمارے علاقہ میں قریب قریب اکثر (الاکثر حکم الکل) بستیوں میں ہیضہ کی وبا پھیلی۔ بہت سے لوگوں کو صرف علاج کے لیے رقم نہ ہونے کی وجہ سے درگور ہوگئے۔ (اگرچہ شرعی عقیدہ اس کے خلاف ہے) کیوں کہ اکثر ہیضہ کی وبا کنوار و کارتک میں پھیلی اور بہاری کسانوں کو ان دو تین مہینہ میں بالکل ہاتھ خالی؛ بلکہ بہت لوگ فاقہ سے زندگی گذارتے ہیں۔ اس میں امداد کتنی اہم ہوسکتی ہے۔
۴۱۔ طبی امداد۔ اسی ہیضہ میں ایک ایک مریض سے ایک ایک سوسے زائد روپیے ڈاکٹروں نے بٹور لیے، حالاں کہ زیادہ سے زیادہ سے زیادہ روپیوں سے زائد کی دوائی نہیں دیا ہوگا۔ ان ہی موقعوں پر لوگوں کی اشد ضرورت طب کی ہوتی ہے، نیز بہت سے ایسے لوگ ہیں، جو اپنی مالی حالت کی کم مائیگی کی وجہ سے اپنے مرضوں کو اپنے جسم میں پال رہے ہیں اور اپنی بے بہا زندگی کو برباد و ضائع کر رہے ہیں۔
۵۱۔ تعلقات مذاہب (مطالعات کتب المذاہب) غیر مذہب کی کتابوں کا مچالعہ اور اس کے ذریعہ دین اسلام کی تققیت حاصل کرنا اور دنیا کے لوگوں کو بتلانا کہ صرف ہم ہی اپنے گیت نہیں گاتے؛ بلکہ دنیا کے اور رہ نماوں نے بھی اسلام کی حقانیت کے گیت گائے ہیں اور اسی کو حق قرار دیے ہیں۔
۶۱۔ علم طب۔ آج علاج کے اندر مغربی رو میں ہر ایک صاحب علم و بے علم تیز رفتاری سے بہے چلے جارہے ہیں اور یہ بھی تمیز نہیں کرتے کہ یہ دوا استعمال کرنا بھی جائز ہے یا نہیں اور صرف ایک دلیل پیش فرماکر کہ شریعت نے علاج کا حکم دیا ہے، ہر ایک آب و آتش کو نگلتے چلے جاتے ہیں، اس کے لیے ان شاء اللہ ایک مختصر مضمون بھی آگے لکھوں گا کہ آج انگریزی علاج میں کیا قباحت ہے۔ضرورت ہے کہ ایک ایسے علاج کی تعلیم گاہ بنایا جائے، جو دنیا کے اعتبار سے بھی موثر اور جلد تر مفید کار ہو اور شریعت بھی اس کے استعمال میں جو اثر و غیر جواز کا فتویٰ نہ دے۔
۷۱۔ معاشرت۔ مسلم قوم کو ترقی کے لیے میدان میں آگے بڑھانا اور دنیا کی ترقی یافتہ قوم کے ہم زلف و ہم سر بنان اس کے لیے اس میدان میں پوری جدوجہد کرنا۔
۸۱۔ سماج۔ مسلم پڑوس غیر مذاہب لوگوں سے جو آپس میں حسد و نفرت کی آگ بڑھتی جارہی ہے، اس کو بجھانے کی کوشش کرنا اور تمام لوگوں کو گلے ملانا اور بھائی چارگی کو عام کرنا۔ فتنہ و فساد کی روک تھام کی کوشش کرنا۔
۹۱۔ اقتصادیات۔ معاشرت کے ساتھ جو لوگ آپس میں پیچھے ہٹنے لگے یا اس میں ہمت سکت باقی نہ رہے، اس کے لیے دوسرے طریقہ سے اس جدوجہد میں کوشش کرنا اور اس کے لیے قرض حسنہ و غیرہ مہیا کرنا زندگی کی دوسری پیچیدگیوں کو سلجھانا۔
۰۲۔ امورات عامہ۔ جماعت مسلم پر دیگر آں ے والی اور چیزوں کی رفع دفع کرناقوانین و سیاست کی روسے جو باتیں آنے والی ہوں، اس میں ہاتھ بٹانا اور اس کے رفع کرنے کی کوشش کرنا۔
۱۲۔ احیائے کتب العلمیہ والفوائدیہ دینی و علمی کتابوں کا احیاء جو سلف صالحین نے تصنیف فرمائے ہیں، ان کا احیاء کرنا، ان کے تراجم کرنااور ان کی خدمت کرنا، نیز دوسرے علوم کی پرانی کتابیں مثلا علم طب، علم تواریخ، علم الحساب، علم الھئیۃ وغیرہ جوکہ فائدہ مند ہیں، ان کی اشاعت کرنا، بہت سی دینی کتابیں اور علمی کتابیں جو اپنی مثال آپ ہیں، اس کا ثانی نہیں؛ لیکن ہماری غفلت کی وجہ سے نایاب تر ہوگئی ہیں، انھیں عام کرنا۔
۲۲۔ ضروریات وہ چیزیں جو ہمارے اور ادارے کے وقت بوقت کام آنے والے سامان کا فراہم کرنا، ان کی نقل و حرکت، ان کی نگہہ داشت کرنا۔ اگر ایک جگہ اجتماع یا جلسہ ہوتا ہے، تو وہاں سامیانہ لائٹ روشنی، لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت ہوتی ہے، ان سامانوں کو جمع کرنا، نیز ان مجموعوں میں لے جانا تاکہ اخراجات نہ لگے اور ان کی آمد و رفت کے ذرائع پیدا کرنا۔
۳۲۔ تواریخ و ضگرافیہ، مخالفین نے اسلام و مسلمین کو بدنام کرنے کے لیے کون سی کسر چھوڑا ہے۔ ان کے جوابات کے لیے دلائل فراہم کرنا، جوابات مہیا کرنا۔ مثلا عوام کا اعتراض ہے کہ
(۱) اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔
(۲) اسکندریہ میں یونانی فلاسفوں کا ایک کتب خانہ تھا۔ مسلمانوں نے اسے جلادیا۔
(۳) ہند میں مسلمانوں نے ظلم و جبر کے ساتھ حکومت کی۔
(۴) ہندستان کے مسلمان غدار ہیں، انھوں نے آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ آزادی میں روڑے اٹکائے۔ مسلمان انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔ مسلمان بھارت ورش کے دشمن ہیں۔ ان سب اعتراضات کے جواب باحوالہ یا دلائل مہیا کرنا اسی طرح جغرافیائی خدمات انجام دینا۔
۴۲۔ وطن دوستی۔ ملک و طن مہابھارت کے ساتھ دوستی کے تعلق پیدا کرنا، اس کی خدمت انجام دینا، دشمنوں کے مدافعات میں حصہ لینا، اس کی آئے وقت پر مدد کرنا۔ وطن کی آواز بلند کرنا۔ وطن دشمن کو نیچا اور پست کردکھانا۔
۵۲۔ العالم۔ اپنے دیس آریہ ورت (مہابھارت) کے حکام کی مدد کرنا غیر ملکوں کے ساتھ جو کہ پس ماندہ ہیں اور ترقی پذیر ہیں۔ ان کا ہاتھ بٹانا، ان کی ترقی کے لیے کوشش کرنا، مہابھارت میں ملک میں دوسری ضروریات کے لیے (جس کی ضرورت سمجھی جاتی ہے) کارخانے کا اجرا کرنا۔ وطن بھائیوں کے لیے ذریعے معاش طلب کرنا۔
۶۲۔ علم جدید علم جدید سے مراد علم سائنس ہے، یعنی آج جو دیگر ملکوں میں اس علم سے جو ترقیاں حاصل ہیں اس ترقی اور علم کے لیے تگ و دو کرنا۔ ان سامان کا فراہم کرنا جس سے علم کی ترقی اور اس علم سائنس کو فوائد زیادہ سے زیادہ حاصل ہوسکے اور دوسرے ملکوں کی جو للچائی نظر ہمارے ملک پر پڑ رہی ہے، وہ ملک خوف سے اپنی نظر پیارے وطن سے پھیر لے۔
۷۲۔ تعلقات عامہ۔ مسلمانوں کا جو تعلق عام اقوام سے ہوگا، اس میں سرخروئی حاصل کرنا۔ عوام کے ساتھ خوش تعلقی پیدا کرنا!۔
۸۲۔ امورات عامہ ادارہ کے بینک و تجارتی معاملات و یدگر تعلقات و غیرہ کی کار گذاری۔
فقط
ساجد الحق ساجدؔ مظہری
۳۱/ جمادیٰ الاولیٰ ۸۸۳۱ھ (۷/ اگست ۸۶۹۱ء) (یہ مضمون اس تاریخ میں بخار کی چار پائی پر لیٹ کر لکھا تھا)
آج نقل کرنے کی تاریخ ۷/ شعبان ۸۸۳۱ھ ۹۲/ اکتوبر ۸۶۹۱ء)ہے یوم چہار شنبہ بوقت ظہر قبل نماز۔
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
(ڈاکٹر اقبال)
تنظیم کے نوادرات میں سے مہر اور رسید بھی دستیاب ہوئی ہے اور اس کا پہلا رجسٹر بھی ملا ہے، جس میں ممبران اور ان کے جمع کردہ پیسوں کی تفصیلات درج ہیں۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا محمد اسلام صاحب کے انتقال کے ساتھ ہی یہ تنظیم بھی فنا ہوگئی اور اس کا وجود مٹ گیا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
(۲) سوشل اویکننگ کمیٹی
گاوں کے کچھ دردمندوں نے اصلاحی کاموں کے مقصد سے یہ کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں بالعموم ممبران میٹنگ کرکے آپس میں چندہ اکٹھا کرتے تھے اور پھر جمع پونجی کے اعتبار سے رفاہی و فلاحی خدمات انجام دیتے تھے۔ تین چار سال کے بعد یہ کمیٹی ختم ہوگئی۔
(۳) جہازی ہیلپ کمیٹی
جہازی ہیلپ کمیٹی گاوں کی سب سے بااثر اور مفید تر کمیٹی ہے، مختلف علمائے کرام کے باہمی گفت و شنید کے بعد ۷۲/ جنوری ۷۰۱۲ کو اس کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس کے بانی اراکین میں مفتی نظام الدین صاحب، قاری کلیم الدین، قاری عظیم الدین، مولانا سرفراز صاحبان اور ناچیز کے نام شامل ہیں۔یہ کمیٹی ہر ممبران سے کم از کم پانچ سو روپیے ماہانہ حساب سے جمع کراتی ہے اور جمع شدہ کو رقم کو بنیادی طور پر قرض فراہمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جمع رقم سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے تجارت میں بھی لگاتی ہے۔ اس کے بنیادی اغراض و مقاصد اور اصول پیش خدمت ہیں۔
جہازی ہیلپ کمیٹی کے مقاصد اور اصول
مقاصد
(1) اس کمیٹی کا بنیادی مقصد باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینا ہے۔
(2) سبھی ممبران کے مابین آپسی انسانی ہمدردی اور ایک دوسرے کے رنج و غم میں شریک ہونے کا داعیہ پیدا کرنا ہے۔
اصول
(1) ہر ماہ روپیے جمع کرنے کی مقدار 500 (پانچ سو روپیے) ہوگی۔اگر کوئی شخص معجل (بطور پیشگی) کئی مہینوں کا یا پورے ایک ٹرم کا جمع کرنا چاہے تو اسے جمع کرلیا جائے گا۔البتہ مؤجل (تاخیر سے) جمع کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔
(2) رقم جمع کرنے کی تاریخ انگریزی کے اعتبار سے پہلی سے دس تک ہوگی۔ بار بار تاخیر کی صورت میں کمیٹی کو حق ہوگا کہ وہ اس ممبر کے تعلق سے کوئی مناسب فیصلہ لے لے، جیسے کہ آپ مزید جمع کرنے کے حق نہ رکھ سکیں اور جمع کردہ رقم میعاد پوری ہونے کے بعد ہی لوٹائی جائے، یا پھر اس کے بعد کئی ایک مہینے کی پیشگی جمع کرنا لازم کردیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔
(3) پیسے جمع کرنے کی ایک میعاد ایک سال پر مشتمل ہوگی۔
(4) میعاد کے دوران پیسہ واپس لینے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ اگر کوئی شخص کچھ مہینے جمع کرنے کے بعد پھر بقیہ مہینوں کا جمع کرنا چھوڑ دے، تو اسے جمع کردہ رقم کمیٹی کی میعاد پوری ہونے کے بعد ہی لوٹائی جائے گی۔
(5) میعاد پوراہونے کے بعد دو شکلیں ہوں گی:
(الف) اگر کوئی ممبر پیسہ واپس لینا چاہیے،تو اسے واپس کردیا جائے گا۔ اور اگر کوئی پیسہ اگلی میعاد میں شامل کرنا چاہے، تواس کی بھی گنجائش ہوگی۔
(ب) اسی طرح اگر اتنی رقم جمع ہوجائے کہ اس سے بزنس کیا جاسکے، تو اسے بزنس میں لگایا جائے گا، لیکن اس میں اس ممبر کی رضامندی ضروری ہوگی۔ اس کی رضامندی کے بغیر اس کا پیسہ نہیں لگایا جائے گا۔بزنس کے دونوں امکانی پہلووں: نفع و نقصان میں سب برابر کے شریک رہیں گے۔
(6) کمیٹی کی شروعات کی پہلی ششماہی میعاد میں کوئی بھی ممبر قرض لینے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ البتہ اگر کوئی شخص جمع کردہ رقم میں سے بطور قرض لینا چاہتا ہیتو اس کے کل رقم کو چار حصوں میں تقسیم کرکے تین حصے کے بقدر دئے جائیں گے اس سے زائد رقم نہیں دی جائے گی۔
(7) اگر کسی کو زائد رقم کی ضرورت ہوتو افراد میں سے کسی کوکفیل اور ضامن بناکر حسب ضرورت لے سکتا ہے، جو کفیل ہوگا وہ اپنی جمع کردہ نصف رقم تک ہی کفیل بن سکتا ہے اس سے زائد کا نہیں جبکہ اصول کرنے کی ذمہ دار خود کفیل کی ہوگی۔
(8) تین ماہ کے اندر اندر قرض واپس کرنالازم ہوگا اگر کسی کے ساتھ کوئی شدید مجبوری ہوتو اس مجبوری کو ہئیت حاکمہ کے سامنے بیان کیا جائے۔ اگر ہئیت حاکمہ اسے تسلیم کرلیتی ہے، تو ہیئت حاکمہ کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ تین مہینے کی مدت بڑھا کر پانچ تک کردے یا پھر یہ کہ اگر یک مشت نہیں دے سکتا تو یہ گنجائش دے کہقسط وار بھی جمع کرتے رہیں۔
(9) متعینہ رقم ہر ممبر کو جمع کرنے کی اپنی ذمہ داری ہوگی، اسے کوئی بھی مرکزی ذمہ دار بار بار یاد دہانی کرانے پر مامور نہیں ہوگا۔
(10) کمیٹی کے مرکزی فنڈ کے علاوہ ذیلی فنڈ بھی ہوں گے، جہاں کے قریبی ممبر اپنا پیسہ جمع کرسکیں گے۔ پھر ذیلی فنڈ کوسہ ماہی میعاد پر مرکزی فنڈ میں پیسہ ٹرانسفر کرنا ہوگا۔
(11) پیسہ جمع کرنے کے اخراجات خود پیسہ جمع کرنے والے ممبر کے ذمہ ہوں گے۔(جمع کرنے پر آنے والے خرچ مثلا مرکزی فنڈ تک جانے کے لیے آمدو رفت کاکرایہ، بینک کے ڈپوزٹ چارج وغیرہ سے بچنے کے لیے ذیلی فنڈ یا نیٹ بیکنگ کا استعمال کیا جائے۔ نیز اس اضافی خرچ کا علاج بزنس سے ہونے والی آمدنی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے، جو کہ میعاد پوری ہونے کے بعد ہوسکے گا)
(12) ایک جگہ اگر تین سے زائد ممبر ہوجائے تو وہاں ایک ذیلی فنڈ قائم کردیا جائے۔
(13) پانچوں مرکزی ذمہ داران کی حیثیت کمیٹی کے اصول و ضوابط کے تعلق سے ہیئت حاکمہ کی ہوگی اور ان کا اتفاقی فیصلہ بلاچون و چرا تسلیم کرنا ہوگا۔
(14) ایک ایک فرد کئی کئی ممبرشپ لینے کا مجاز ہوگا۔
(15) کسی بھی قانونی چارہ جوئی کا حق صرف اور صرف مرکزی فنڈ کے شہر میں ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: