اسلامیات

حج کے اعمال ،ارکان اوران کافلسفہ

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی

(ایک تأثر)

(1)اِحرام:حج کی علامت کے طور پرایک حاجی کی سب سے بڑی شناخت اوراس کی پہچان احرام کی دوسفیدچادریں ہیں، حالانکہ فقہانے یہ بھی لکھاہے کہ رنگین احرام بھی جائزہے، مگرسنت اورافضل کے خلاف ہے۔
معلوم ہو کہ ایک حاجی ، دنیاکے تمام ٹھاٹ، بانٹ، سلاہوا لباس،کُرتا،پائجامہ،شیروانی ، ٹوپی،شلوار قمیص ،کوٹ پینٹ اور اچھے سے اچھافخریہ اورشاہانہ لباس چھوڑکراپنے بدن پربغیرسِلی کفن نما دوسفیدچادریں ڈال کرایک فقیرکی طرح خداکےدربارمیںحاضری دیتاہے،جس کامقصد، اپنی عاجزی، ،انکساری،خاکساری کااعلان اورا س رب کعبہ کی تعظیم، بڑائی اور کبریائی کااقرارہوتاہے، کہ اسی لباس میں ایک ملک کابادشاہ ہے تواس ملک کافقیراوربھکاری بھی اس کے ساتھ اسی جیسی مجنونانہ حالت میں موجود ہے،ڈاکٹرمحمداقبال مرحوم کے لفظوں میں
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز ۔
اوریہاںسب کاصرف ایک ہی نعرہ ہے۔’’”لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ“ یعنی اے اللہ!میں حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ستائش، نعمتیں اور فرماروائی سب تیرے لئے زیباہے (دنیاکے جھوٹے خداؤںمیں)کوئی اس لائق نہیں کہ اس کے اقتداراورسلطنت کی دُہائی دی جائے۔
یعنی توہی توہے اورکوئی کچھ نہیں،آج میری اورتیرے ہر غیرکی ساری اَنَا(میں، اکڑ،غرور، گھمنڈ)کے گلے پرچھُری پھرچکی ہے۔
خیال رہے کہ اِحرام پہننے اورنیت کرنے کے بعد حاجی کاسب سے پہلااوربڑاعمل اس کی زبان سے تلبیہ کی پکارہے، گویاکہ
؎اس پرہے مجھے نازکہ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔
معلوم ہوناچاہیئے کہ حج کے سفرکوبعض بزرگوں نے انسان اورشیطان کے بیچ ہارجیت کی ایک جنگ کہاہے، یعنی اگرحاجی اس میں اللہ کے حکمـ’ فلارَفَث،وَلافُسوق ولاجِدَالَ، فِی الحجّ،(اور حج کے دوران، ہرایک فُحش کام کسی سے لڑائی، جھگڑے اورگُناہ کے کام )سے دُوررہاتوحاجی جیت گیااورشیطان ہارگیااورخدانخواستہ اگرکہیںاِس کااُلٹاہوگیاتوشیطان جیتااورحاجی بےچارہ ہارگیاگویاکہ اس کی ساری محنت، سفرکی مشقّت اوردولت اکارَت ہوگئ۔
مفسرقرآن حضرت عبداللہ بن عبّاسؓ کاقول ہے’’مکہ مکرمہ کے علاوہ مجھ سے کہیںاوراگر70غلطیاںبھی ہوجائیںتومجھے یہ تو گواراہے، مگرمکہ شریف میں ایک ذراسی بھول بھی گورانہیںہے،،
(2)۔تلبیہ:آج سے تقریباََ چارہزارسال پہلے جب اللہ نے اپنے ابراہیم خلیل کوجو حکم دیا تھا: وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِالْحَجِّ یاْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ(حج :27 ) اور لوگوں میں بلند آواز سے حج کا اعلان کیجیے وہ آپ کے پاس دور دراز راستوں سے پیدل اور دبلے اونٹ پر سوار ہو کر آئیں گے۔
توحاجی کا یہ تلبیہ اُسی پکارکا جواب ہے: لَبَّیکَ لَبَّیکَ ،،گویاکہ تلبیہ مِلَّتِ ابراہیمی کےعقیدہ ٔ توحید کا شعار اور اس کاسلوگن ہے، دراصل اس عقیدۂ توحید ہی کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حج کے عمل کو اسلام کی بنیاد کے پانچویںستون کے طورپررکھاہے،ظاہرہےکہ عقیدہ توحید ہی حج وعمرہ دونوںکی روح ہے، بلکہ صرف حج وعمرہ ہی نہیں بلکہ ہرایک اسلامی عبادات کی روح اور اس کا ہدف عقیدہ توحید ہی ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ تلبیہ کو عبادتِ حج میں داخلے کی کنجی ماناگیا ہے،یعنی تلبیہ کے بغیر کہے حج یاعمرے کااحرام معتبراورقابل قبول نہیں۔
(3)۔طواف وسعی:طواف اورسعی اصل میں خانے کعبے کے گرد صرف سات پھیرے لگانےکانام نہیں، بلکہ اپنے رب کی تلاش اوراس کی جستجومیں دوڑنے کانام ہے،اسی کے ساتھ اُس دیوانگی کااقراربھی ہے جس میں اس انسان نے اپنی زندگی، موت اورعبادت کامقصد رب العالمین کوبتایاتھا۔یعنی ’اِنَّ صَلَاتِى ،وَنُسُكِى،وَ مَحيَاىَ وَمَمَاتِى،لِلّٰهِ رَبِّ العالمین ، (الانعام : ١٦٢) : آپ کہیے کہ بیشک میری نماز ومیری قربانی ومیری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
گوشہادت گہِ الفت میں قدم رکھناہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔
(4)۔منیٰ میں قیام:خانہ کعبہ کی ایک لاکھ نمازوںکے ثواب کوچھوڑکر دنیابھرکے مسلمانوںکا بیک وقت ایک ساتھ اِن چھوٹے، چھوٹے اورتنگ خیموں کی عارضی بستی میں جہاں انسان کے پاؤںبھی پورے نہیںپھیل سکتے اور نہ ہی ٹھیک سے کروَٹ لینے کی جگہ ہے،مگر پھربھی وہاںتین دن کاقیام لازمی ہے، گویاکہ یہ انٹرنیشنل بھائی چارے ،اسلامی اخوت، ایثار وقربانی اورمحبت کاپیغام ہے گویاکہ معاشرتی زندگی اورسماجی رشتوں کےخوشگوارتعلقات کی عملی مشق ہے۔
(5)وقوفِ عرَفات: یعنی میدان عرفات میں حاضری، کہ ایک حاجی جس رب العالمین کی محبت اوراس کی خوشنودی کی تلاش میں اپنے وطن سے دورمار،مارا دوڑاپھررہاتھا، اب اُس عشق ومحبت کے مارے پراس کے رب کو ترس آگیا،ا س نے اس کواپنی بخشش کی چادرمیں چھپانے کے لئے منادی کردای، کہ :آ۔مانگ ،کیامانگتا ہے؟مانگ ۔اور آج توجوبھی مانگےگا۔میںتجھ کوآج ان ہی نعمتوںسے سرفرازکردوںگا۔
عن طلحة بن عبيد الله بن كريز أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما رئي الشيطان يوما هو فيه أصغر ولا أدحر ولا أحقر ولا أغيظ منه في يوم عرفة وما ذاك إلا لما رأى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام إلا ما أري يوم بدر قيل وما رأى يوم بدر يا رسول الله قال أما إنه قد رأى جبريل يزع الملائكة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’شیطان یومِ عرفہ کے علاوہ کسی اور دن میں اپنے آپ کو اتنا چھوٹا ‘حقیر‘ ذلیل اور غضبناک محسوس نہیں کرتا جتنا اس دن کرتا ہے۔ یہ محض اس لیے ہے کہ اس دن میں وہ اللہ کی رحمت کے نزول اور انسانوں کے گناہوں سے صرفِ نظر کا مشاہدہ کرتا ہے۔ البتہ بدر کے دن شیطان نے اس سے بھی بڑی شے دیکھی تھی ‘‘۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یومِ بدر اس نے کیا دیکھا؟ فرمایا: ’’جبرئیل کو۔(کہ جب وہ مسلمانوںکی طرف سے اپنی جماعت کے ساتھ کفارمکہ کے پراخچے اڑارہے تھے۔) جو فرشتوں کی صفیں ترتیب دے رہے تھے‘‘۔ (مؤطا امام مالک‘ عبدالرزاق ۔یہ روایت مرسل صحیح ہے)
یوم عرفہ ،اللہ تعالی کی پہچان،اس کی معرفت اور محبت کا مظہر ہے اس کی شناخت کا دن ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنی عبادت اوراطاعت کی دعوت دی ہے اور اپنے بندوں کے لئے اپنے احسان وکرم اور جود و سخا کے دسترخوان بچھا دیئے ہیں،۔
9/ذو الحجہ کا دن اس اعتبارسے بھی نہایت مبارک ہے کہ اس میں حج کا سب سے بڑا رکن ”وقوف عرفہ“ ادا ہوتا ہے، اور اس دن بے شمار لوگوں کی بخشش اور مغفرت کی جاتی ہے؛مگر اللہ تعالیٰ نے اس دن کی برکات سے غیر حاجیوں کو بھی محروم نہیں فرمایا: اس(عرفہ) دن روزے کی عظیم الشان فضیلت مقرر کر کے سب کو اس دن کی فضیلت سے اپنی شان کے مطابق مستفید ہونے کا موقع عنایت فرمایا۔
یادرہے کہ میدان عرفات وہ میدان ہے جہاںجنت سے اتارے جانے کے بعد باباآدم اورامّاںحوّاکی دنیامیں پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
(6)۔مُزدلفہ کی رات:وجہ تسمیہ: :ایک روایت کے مطابق یہاں حضرت آدم و حوا علیہما السلام ایک دوسرے کے قریب ہو ئے، یا یہ کہ یہاں جمع بین الصلوٰتین ہوتی ہیں،یایہ کہ اللہ نے ہمیں عرفات سے واپس آنے کے بعد مشعر حرام کے پاس ذکر کرنے کا حکم دیا ہے جوقرب الٰہی کاذریعہ ہےجیساکہ قرآن کریم کی سورہ زمرآیت نمبر3:میںلفظ’زُلْفیٰ، ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ نے کفارکاقول نقل کیاہےکہ( ہم ان(بتوں) کی عبادت صرف اس لیےٴ کرتے ہیں کہ یہ ( بزرگ ) اللہ کی نزدیکی کے مرتبے تک ہماری رساییٴ کرادیں )
مَشْعَرِحرام:جس کاذکرقرآن میں ہے وہ مُزدلفہ میں وہ جگہ ہے جہاں امامِ حج وقوفِ مزدلفہ کرتا ہےمزدلفہ ،منیٰ کے جنوب مشرق میں منیٰ اور عرفات کے درمیان میں واقع ہے، ۔ مزدلفہ میں واقع وادی مُحَسِّرْکے سوا تمام مزدلفہ وقوف کا مقام ہے ، اور فجر کا وقت شروع ہونے سے لے کر طلوعِ آفتاب کے دوران کم از کم ایک لمحے کیلئے وہاں ٹھہرنا واجب ہے ۔ بغیر عذر وقوفِ مزدلفہ ترک کرنے سے د م لا زم آتا ہے ۔مزدلفہ میں وقوف کے دوران تَلْبِیَہ، تہلیل و تکبیر اور ثناء و دعا وغیرہ میں مشغول رہنا ہے۔
ہر سال مسلمان حج کے موقع پر 9 ذوالحجہ کو مغرب کے بعد عرفات سے بہت ہی مختصرسامان یعنی موسم کے لحاظ سے اپنے جسم پر احرام کے علاوہ اوڑھنے بچھانے کی دو چادروں، اورکچھ ضروریات زندگی کے ساتھ یہاں رات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرتے ہیں، جوکہ روزمحشر کی بے سروسامانی کی یادلاتاہے۔ یہیںسے شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں بھی چنی جاتی ہیں۔ اگلے دن فجر کے بعد حاجی یہیںسے منیٰ کے لیے روانہ ہو تے ہیں۔
اس کا کل رقبہ 9,63 مربع کلو میٹر ہے اس کی حدود مازمین سے حیاض اور وادی محسر تک ہیں یہ مقامات موقوف کی حدود ہیں۔ خود وقوف کی جگہ میں شامل نہیں ہیں۔ سوائے اس وقت کے جب ہجوم زیادہ ہو اور وقوف کی جگہ تنگ ہو رہی ہو تو اس وقت جائز ہے کہ مازین(ایک پہاڑی گھاٹی) کی طرف سے اوپر جائیں ۔
یہاں قیام کااصل مقصد اللہ کاذکر(فاذکرواللہ عندالمشعرالحرام:بقرہ۔(مشعر حرام کے پاس اللہ کواسی طرح(تہلیل وتلبیہ کے ساتھ) یادکروجیسے اس نے بتایاہے)،مزدلفہ کے قیام میںاللہ کی یاد کے ساتھ خودکواحکام شریعت کاپابندبنانے کی مشق ہے یعنی اس سے پہلے ہرایک نماز کواس کے اول وقت پڑھنامستحب تھا، لیکن آج عرفات میں سورج غروب اور مغر ب کا وقت ہوجانے کے باوجود بھی مغرب کی نمازمیں دیر اوروہ بھی اتنی زیادہ دیرکہ عشاکاوقت شروع ہوجائے یہی فرض ہے۔
صبحِ اَزَل یہ مجھ سے کہاجبرئیل نے
جوعقل کاغلام ہو ۔وہ دِل نہ کرقبول۔
(7)۔رمی جمار(شیطان کو کنکری مارنا):رمی کااصل منشا جہاں شیطان کوملعون قراردینااوراس کو ذلیل کرنا،پتھریاںدکھانا ہے،وہیں اس سے پہلے اپنے نفس کوکچلنااورخواہشات کادفن بھی ہے، کہ جہاںخداکے کسی حکم اوراپنے ذاتی مفادمیں ٹکراؤ ہوگاوہاں میں اللہ کے حکم کاتابعداراوراپنے نفس کوشکست دینے والاثابت ہوئوںگا۔
(8)۔قربانی:یہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ اوران کے فرزنداسمٰعیل ذبیح اللہ علیہماالسلام کی سنت ہے،(بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی اسی جگہ دی گئی جہاں اب مسجد خیف، تعمیر879 قبل مسیح ہے،) کہ اللہ کے راستے اورا س کے حکم پر نہ صرف اپنامال ، بلکہ اپنی ، جان اوراولاد گویاکہ ہرایک چیز قربانی کے لئے ہمہ وقت تیار رہوںاوراس عمل کوبے دریغ ، بے چون وچرازندگی بھرانجام دیتارہوں گا۔
یقیناََ حج کاسفرایک مکمل دیوانگی، وارفتگی،اللہ کی محبت میںخودکودیوانہ بنانے کی مشق اوراس کی عظمت وبزرگی کے اظہارواقرارکانام ہے جب ایک انسان میں یہ تمام صفات حسنہ پیداہونگی، تولوگ اس کی ذات، صفات اورقول وفعل سے متأثرہوئے بغیرنہیں رہ سکتے،جیساکہ ہندودھرم کے ایک بڑے پرچارک اور سیاح سوامی وِویکانندکاقول ہے’’جب میں کسی حاجی کودیکھتاہوںتومجھے اس میں سے ایک روشنی (نور)سی نکلتی نظرآتی ہے۔
لہٰذاہرحاجی کواپنے حج کوحج مبرورومقبول بنائے رکھنے اورا سکی حفاظت کے لئے اللہ کے مقدس گھرمیں لاکھوںکی بھیڑکر درمیان اپنی کی ہوئی توبہ اور اس کے سامنے کئے ہوئے اقرارکوقائم رکھ کراپنے حج کی عظمت کوقائم رکھنااورلفظ حاجی کی لاج رکھنالازمی ہوجاتاہے۔
اللـھم وفقنالماتحب وترضیٰ۔


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114
Back to top button
Close