مضامین

حصولِ علم سے انسان کا وقار اور معیار بلند ہوتا ہے ہے !

جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین)

طلب العلم فريضة علی كل مسلم ومسلمة،، علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے علم سے ہی انسان کے اندر حلال اور حرام، جائز و ناجائز کی پہچان ہوتی ہے، صحیح و غلط کی معلومات ہوتی ہے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی جانکاری ہوتی ہے علم سے محروم انسان زندہ رہتے ہوئے بھی مردہ کی طرح ہے اس کی زندگی اندھیروں میں ٹھوکریں کھانے جیسی ہے علم کا یہ مقام ہے کہ جس گھر میں عورت تعلیم یافتہ اور نیک ہوتی ہے تو اس گھر کو یونیورسٹی کہا جاتا ہے اور تعلیم یافتہ و نیک ماں کو بھی یونیورسٹی کہا گیا ہے،، کیونکہ یہ دیکھا بھی گیا ہے اور دیکھا بھی جارہا ہے کہ ایک مرد تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھلے ہی وہ اپنے آپ تک محدود رکھے لیکن ایک عورت اگر تعلیم یافتہ ہے تو وہ بھوکی رہکر بھی اپنے بچوں کو پڑھا رہی ہے اسی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ ایک مرد نے پڑھا تو فقط ایک مرد نے ہی پڑھا لیکن ایک عورت نے پڑھا تو ایک خاندان نے پڑھا اس لئے کہ وہ فاقہ کشی کا سامنا کریگی مگر اپنی اولاد کو تعلیم ضرور دلائے گی اور علم حاصل کرنے والوں کا مقام ہمیشہ سے بلند رہا ہے کیونکہ قدم قدم پر علم کی ضرورت ہے یہاں تک کہ اولاد کی تربیت میں بھی اور پیدائش لیکر موت تک کے مراحل میں بھی علم کی ضرورت ہے، صحیح طریقے سے اللہ کی عبادت کرنے کے لئے علم کی ضرورت ہے، پڑوسیوں کے حقوق جاننے کے لئے علم کی ضرورت ہے، والدین کا مقام و مرتبہ جاننے کے لئے علم کی ضرورت ہے، علماء کرام کے مقام کو سمجھنے کے لئے علم کی ضرورت ہے اور آج علم حاصل کرنے کیلئے جتنی سہولیات و انتظامات ہیں اتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ درس و تدریس کا معیار گرتا جارہا ہے جب تک خانقاہوں میں گھاس پوس کی چٹائی پر تعلیم حاصل کرتے تھے تو بڑے بڑے قطب ابدال پیدا ہوتے تھے مفکر، مقرر، محدث اور امام زمانہ ہوا کرتے تھے اور آج معاملہ اس کے بر عکس ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کل تک مسلمان دین اور دنیا سنوارنے کیلئے علم حاصل کرتا تھا اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے تعلیم حاصل کرتا تھا خدمت خلق کے لیے تعلیم حاصل کرتا تھا، سماج، معاشرہ، سوسائٹی، خاندان، پڑوسی کی رہنمائی کے لیے تعلیم حاصل کرتاتھا
اور آج سارا معاملہ ریڈیمیڈ نظر ارہا ہے کل تک ڈگری کالج نہیں تھے بڑی بڑی عمارتوں کی شکل میں اسکول و مدارس نہیں تھے ہاسٹل اور ہاسپٹل نہیں تھے لیکن خدمت خلق کا جذبہ تھا چھوٹے بڑے کا ادب و احترام تھا اور آج ساری چیزوں کے ہوتے ہوئے بھی معاشرے میں برائیاں دامن پسارتی چلی جارہی ہیں افسوس اس بات کا بھی ہے کہ بڑی سے بڑی برائیوں میں آج مسلمان بھی اول صفوں میں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم ادارے قائم کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے کو نیچا دیکھا نے کیلئے اور آج تو اسکول و کالج مدارس کو ہم نے تجارت اور روزگار کا ذریعہ بنالیا جس سے نقصان یہ ہورہا ہے کہ قوم کی بہتر رہنمائی نہیں ہوپارہی ہے بالغ و نابالغ بچے رات رات بھر ناجائز تعلقات کی بنیاد پر گفتگو میں مصروف رہتے ہیں اور موبائلوں میں گیم کھیلنے کا تو یہ حال ہے کہ رمضان کے مہینے تک کا بھی احترام نہ رہا اس کے باوجود بھی گھر کے سرپرست کے اندر یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ اپنے بچوں کو ان برائیوں سے روک سکیں اور نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ تباہ ہوتا جارہا ہے یہودیوں کی ایجادات ہمارے اندر جگہ لیتی جارہی ہیں ایک مہینہ رمضان المبارک کے روزے رکھ کر بھی آج مسلمانوں کے اندر پوری طرح سے ایمان کے اثرات مرتب نظر نہیں آتے 1400 سال پہلے کا حال دیکھا جائے تو لوگ حالت کفر میں بھی قرآن کی آیات سنتے تھے تو کیفیت بدل جایا کرتی تھی اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے اور اپنے آپ کو رب کے قرآن و نبی کے فرمان کے سانچے میں ڈھال لیا کرتے تھے واقعات پہ نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طفیل طوسی کانوں میں روئیاں ڈالے ہوئے ہیں کہ کہیں تلاوتِ قرآن کی آیات کی اواز کانوں میں نہ آجائے اور میں اسلام سے متاثر نہ ہوجاؤں لیکن دل دل میں یہ خواہش بھی ہے کہ آخر قرآن ہے کیا چلو کسی بہانے سنا جائے، کسے بہانے معلوم کیا جائے،، سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں اور قرآن کی آیات تلاوت فرمارہے ہیں اب طفیل طوسی کانوں سے روئیاں نکالتے ہیں اور چُھپ چُھپ کر قرآن سنتے ہیں،، صاحبِ قرآن کی زبان مبارک سے ہونے والی تلاوت قرآن پاک کی آواز طفیل طوسی کے کانوں میں جاتی ہے اور دلوں پر اثر کرنے لگتی ہے اور بیچینی بھی بڑھنے لگتی ہے کہ کب نماز مکمل ہو اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہونے کا موقع ملے جب نماز مکمل ہوگئی تو طفیل طوسی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اپنا ماجرا بیان کیا سید عرب و عجم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ پڑھا یا اور داخل اسلام فرمایا، طفیل طوسی کو حضرتِ طفیل طوسی بنایا واقعہ تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حالتِ کفر میں قرآن سن کر لوگوں کے دلوں میں انقلاب پیدا ہوجاتا تھا اور آج پیدائشی و خاندانی مسلمانوں پر کچھ اثر نہیں پڑتا اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آج ہم نے ساری چیزوں کو بس ایک رسم بناکر رکھ دیا، یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے علم کے مقام کو بھلادیا علم کے مقاصد کو بھلادیا جلسے و جلوس کا اہتمام کرتے ہوئے بھی اس کے مقاصد کو موت کے گھاٹ اتار دیا یعنی مذہب اسلام کا نعرہ لگانے کے باوجود بھی ہم مذہب اسلام کے فرامین پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں نبی اکرم سے محبت کا دعویٰ کرنے کے باوجود بھی نبی کی سنتوں کو اپنانے کیلئے تیار نہیں اولیاء کرام کے آستانوں پر جانے کے باوجود بھی اولیاء کرام کی تعلیمات پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ انکے آستانوں کو ہم نے سیر و تفریح کا ذریعہ بنالیا جبکہ غوث اعظم سیدنا عبد القادر جیلانی ، غریب نوازخواجہ معین الدین چشتی ،خواجہ قطب الدین بختیار کاکی،خواجہ علاؤ الدین صابر کلیری، خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی، مخدوم جہانگیر اشرف سمنانی رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر بزرگان دین جن کی قبروں پر رب قدیر انوار رحمت کی بارش فرمائے یہ بزرگانِ دین علم سے پوری طرح آراستہ و پیراستہ تھے اپنے اپنے وقت کے بڑے بڑے مشائخ و امام تھے اور آج کچھ بہروپئے علم سے کوسوں دور رہ کر رنگ برنگ کے لباس میں ملبوس ہوکر، بڑے بڑے بال بڑھا کر، ہاتھوں میں کڑا، انگلیوں میں درجنوں انگوٹھیاں پہن کر، کلائیوں اور گردنوں میں مختلف قسم کے موتی اور جنگلی جڑی بوٹیوں کا جھمڑا پہن کر کہتے ہیں کہ شریعت اور ہے،، طریقت اور ہے،، جبکہ یہ سراسر بیحیائی ہے اور جہالت ہے بلکہ شریعت کی مخالفت ہے انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ شریعت کے بغیر طریقت مل ہی نہیں سکتی مذکورہ بزرگان دین نے علم حاصل کیا اور اسلام کی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلایا اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی اور دین کی دعوت دی،، پتہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دین کی دعوت عام کرنے میں بھی علم کی ضرورت ہے رزق حلال و حرام کی تمیز کیلئے علم کی ضرورت ہے یعنی علم سرمایہ ہے اور علم دین عظیم سرمایہ ہے جو علم حاصل کرنے سے محروم رہا تو وہ گویا ایک فرض کی ادائیگی سے محروم رہا اور وہ بھی ایسا فرض ہے جس سے دیگر فرائض کی معلومات حاصل ہوتی ہے اور اسی معلومات کے مطابق ڈنکے کی چوٹ پر کہا جاتا ہے کہ جس کے سینے میں قرآن و حدیث کا علم نہیں ہے تو وہ ولی نہیں ہوسکتا اور جس نے قرآن و حدیث کا علم حاصل کئے بغیر تصوف میں قدم رکھا تو اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا اس لئے سب سے پہلے علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے پھر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرنے کی ضرورت ہے کہ ائے اللہ میرے علم میں تیری رحمتیں شامل حال رہیں تاکہ زبان حق بات بولے اور دل حب نبی سے روشن رہے ——-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: