مضامین

حضرت ابوالمحاسن ؒکی قانونی بصیرت

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت ابوالمحاسن ؒکی قانونی بصیرت
طبقۂ علماء میں حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ کاامتیازیہ ہے کہ قانونی مسائل اور آئینی مہمات کی نزاکتوں تک ان کاذہن جس تیزی کےساتھ منتقل ہوتاتھا،کہ شایداس صدی کےہندوستان میں ان کی کوئی نظیرنہیں تھی، اسلامی قانون اور دنیاکے دیگرقوانین کےمسلسل مطالعہ سے آپ کاذہن ومزاج قانونی نزاکتوں اورباریکیوں سےایساہم آہنگ ہوگیاتھاکہ وہ پہلی نظرمیں ہی قانون کی گہرائیوں تک پہونچ جاتے تھے ،اسلامی قانون ہویادنیاوی قانون ،ملکی آئین ہو یاکسی مجلس وادارہ کادستور،ان کاذہن رساتمام گوشوں کااتنی تیزی کےساتھ احاطہ کرتا تھاکہ ماہرین قانون بھی آپ کی اس مہارت پرحیران رہ جاتے تھے۔
ممالک عالم کےقوانین ودساتیرپران کی نگاہ تھی
اسلامی قانون اورآئین ہندکےعلاوہ دنیاکےاکثربڑےملکوں کےقوانین اور وہاں کےآئینی نظام سےآپ پوری واقفیت رکھتے تھے،اوران پربصیرت کےساتھ نقد فرماتے تھے، آپ کےتمام ہی رفقاء اورمتعلقین کوآپ کی اس صلاحیت کااعتراف تھا،مولانا شاہ سیدحسن آرزوصاحب ؒ بھی آپ کےمخصوص لوگوں میں تھے،سفروحضر میں کئی جگہ ساتھ رہنےاورآپ کی باتیں سننے کاان کوموقعہ ملاتھا،انہوں نےاپنےتجربات ومشاہدات ایک مضمون کی صورت میں مرتب کردئیےتھے،اور وہ حیات سجادمیں شائع ہوا،اس میں ایک جگہ انہوں نےایک مجلس مصالحت کاذکرکیاہے،جوآپ کےاور بیرسٹرشفیع داؤدی صاحب کےدرمیان اختلافات کی خلیج کوختم کرنےکی غرض سےڈاکٹرسیدعبدالحفیظ فردوسی صاحب کی کوششوں سےمنعقد ہوئی تھی،اس مجلس کی روئیداد بیان کرتے ہوئے آرزوصاحب لکھتے ہیں کہ:
"ان کےدرمیان ابتدائی گفتگوشروع ہوئی،جس کاسلسلہ اتنادرازہواکہ
ساری رات ختم ہوگئی،اورصبح کی نمازکےبعدمجمع منتشرہوسکاپھربھی بات
ناتمام رہی ،مولاناشفیع داؤدی صاحب کاپروگرام لاہورجانےکاتھااسی سلسلہ
میں ممالک عالم کےسیاسی اورنظامی دستورات پرگفتگونکل پڑی،مولانا
شفیع داؤدی بول رہےتھےکہ مولانانےٹوکااوراس کے بعدجوانہوں نے
بیان کرناشروع کیاکہ انگلینڈکادستورحکومت یہ ہے،فرانس کایہ ہے،جرمنی
کایہ ہے،اٹلی کایہ ہے،روس کایہ ہے،امریکہ کایہ ہے،آئرلینڈکایہ ہے،ٹرکی
وایران کایہ ہےتوسارامجمع حیرت واستعجاب سے مولاناکوتک رہاتھا،اوروہ
نہایت جوش کے ساتھ کانسٹی ٹیشن بیان کرتے چلےجارہے تھے،بالآخر
مولاناشفیع داؤدی کویہ تسلیم ہی کرناپڑاکہ مولانانہ صرف مذہبی عالم متبحر
ہیں ،بلکہ دنیاکی سیاست اوراس کےدستورونظام حکومت کےبھی عالم متبحر
ہیں” ۔

بڑے بڑےماہرین قانون انگشت بدنداں رہ جاتےتھے
قریب۱۹۳۲؁ء کاذکر ہے،ہندو مسلم یونیٹی بورڈ کی متعدکانفرنسیں لکھنؤ اورالٰہ آبادمیں ہوئیں،جن کی قیادت کرنےوالوں میں حضرت مولاناسجادصاحبؒ بھی شامل تھے ،مولانامسعودعالم ندوی ؒان دنوں لکھنؤ میں مقیم تھے،وہ لکھنؤ پروگرام کااپنا آنکھوں دیکھاحال بیان فرماتےہیں کہ:
"کہنے کوتوجمعیۃ علماء ہندکی پوری مجلس انتظامی شریک ہوتی تھی ،لیکن دماغ
ایک تھا اور سب جسم محض کی حیثیت رکھتے تھے،مولانالکھواتے ،نوٹ
کراتے،بتاتےاورایک انگریزی داں (ہلال احمدصاحب زبیری سابق مدیر
الجمعیۃ)بورڈ کےسامنے ان کی ترجمانی کرتا،اور ساری مجلس عاملہ حاضرین کا
منہ دیکھاکرتی ،یونیٹی بورڈ کےمشورے لکھنؤمیں دوسری مرتبہ مسلسل تین
روزتک ہوتے رہے،سارااسلامی ہندکاعطرکھنچ کرآگیاتھا،قابل ذکرشخصیتوں
میں صرف علامہ اقبال مرحوم نہیں تھے،خالص قانونی موشگافیوں سےلیکر
ٹھیٹھ فقہی مسئلےبھی بساط بحث پرآجاتے،پورے مجمع پر دوشخصیتیں سب پر
بھاری تھیں،ایک ظاہری طورپرباوقاراوروجیہ صدرکی بغل میں کرسی نشیں
ہوتا،اوردائیں بائیں اس کےدووزیر(ڈاکٹر سید محموداورمسٹر آصف علی)
اپنی جگہ لیتے،میرااشارہ حضرت مولاناابوالکلام آزادکی طرف ہے،اوردوسرا
ظاہری طورپرخستہ حال ایک کنارے معمولی لباس میں کاغذوں کا ایک بستہ
لئے ہوئےلکھنے لکھانے میں منہمک ہوتامیری مرادمولانا مرحوم سے ہے،
مولانا ابوالکلام صرف ہدایات دیتے،آصف علی صاحب مسودہ تیارکرتے،
اور ہمارے مولانا سب کچھ خودہی کرتے،البتہ زبان کی لکنت کےباعث
اپناترجمان ہلال احمدزبیری صاحب کوبناتے،۔۔
بڑے بڑے شیریں مقال بیرسٹراورلیڈران دونوں بزرگوں کی طرف دیکھتے
،ان کی نکتہ آفرینیاں سنتے اور انگشت بدنداں رہ جاتے” ۔
مجاہدملت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ نےانہی کانفرنسوں کے حوالے سےلکھاہے کہ:
"بعض سیاسی مبصرین نےخود مجھ سے کہا،کہ یہ شخص جب بات کرناشروع
کرتاہے،تولکنت اورعجزگفتگودیکھ کریہ خیال ہوتاہےکہ یہ خواہ مخواہ ایسے
اہم مسائل میں کیوں دخل دیتاہے،لیکن جب بات پوری کر لیتا ہے،تویہ
اقرار کرنا پڑتاہے،کہ اس شخص کادماغ معاملات کی گہرائی تک بہت جلد
پہونچ جاتاہے،اور تہ کی بات نکال کرلے آتا ہے”
اسی طرح مراد آباد میں جب جمعیۃ علماء ہندکاسالانہ اجلاس منعقدہوا،اور
مولانا نےبحیثیت صدر خطبۂ صدارت سنایا،توزمیندار،انقلاب اوردوسرے
اسلامی اخبارات نےخطبۂ صدارت پرریویوکرتے ہوئے یہ لکھاتھاکہ” مولانا
سجادؒکی صورت اورگفتگوسےیہ اندازہ لگانامشکل ہےکہ ایساشخص بھی اسلامی
سیاسیات بلکہ سیاسیات حاضرہ کااس قدر مبصر اورعمیق النظرہوسکتاہے،اور
واقعہ بھی یہ ہےکہ مولاناکایہ خطبۂ صدارت سیاسیات اسلامی کی بہترین
انسائیکلوپیڈیاہے” ۔
حکومت وقت نےبارہا آپ کےطریقۂ تحقیقات کی تقلیدکی
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ کےقانونی مشیرمولوی سیدمحمدمجتبےٰ صاحب ایم اے، بی ایل آرگنائزرمحکمۂ دیہات سدھاربہارجوخودبڑے ماہرقانون تھےانہوں نے جن الفاظ میں مولاناؒکےتدبروتفکراورقانونی صلاحیت کوخراج عقیدت پیش کیاہے،وہ پڑھنےکےلائق ہیں:
"حضرت مولاناؒنےایک عجیب دماغ پایاتھا،وہ غایت مذہبی اورسیاسی انہماک
کےساتھ قانونی پیرایۂ عمل میں بھی بہترین قانون دانوں کےلئےرہبرخیال
تھے۔۔۔۔۔راقم الحروف تقریباًایک سال تک مولاناکےہمراہ بطورقانونی
مشیررہا،۔۔۔
ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشدکہ جااینجاست
مولانانے اس حادثۂ عظیم پرجواول مراسلہ بہارکےگورنرکےپاس بھیجااس
کامسودہ خودتیارکیاتھا،اوراس خادم کوانگریزی ترجمہ کےلئے مرحمت فرمایا،
یہ پہلاموقعہ تھاکہ اس خادم کومولاناکی تحقیق وتلاش اورفراست قانون کے
حیرت انگیزقوائے عقلیہ ودماغیہ وعلمیہ کاعلم ہوا۔۔۔اورآپ یہ جان کرتعجب
کریں گے کہ حکومت نےمولاناکےطریقۂ تحقیقات کی بارہاتقلیدکی،اس قسم
کاایک مشہورواقعہ تصویرکشی کاہے،مولاناؒنےقانونی ضرورتوں کےلئےتمام
مقامات متعلقہ کےفوٹوتیارکرائے،ایک فوٹوگرافرباضابطہ مقرر کیاگیا،پولیس
کےافسران حیرت سے پوجھتے کہ اس میں کیاغرض پنہاں تھی؟بالآخرپولیس
نےبھی فوٹولینےشروع کئے۔۔اس مقدمہ میں زیادہ کامیابی فوٹوکی وجہ سے
ہوئی،۔۔۔
وائسرائے کی حکومت نے حج بل کے جومسودات پیش کئے مولانانے ان کی
قانونی خامیوں کاپردہ فاش کیااور پورے ملک کادورہ کرکے تمام مسلم اداروں
اور شخصیات کواس سے باخبرکیا۔۔۔۔
ہزاروں آنکھوں نے اگرکسی عالم کوان سیاسی زعمائے ملت کےدوش بدوش
ہی نہیں بلکہ اکثرمواقع پربہترین مشیراوررہبردیکھاتووہ مولاناسجادہی کی
ذات تھی۔۔
دنیایہ جانتی ہےکہ مسلم کانفرنس نےکچھ اصولی مطالبات حقوق کےمتعلق
بنائے، لیکن یہ رازاب تک سربستہ ہے،کہ "حقوق مسلم "کی تعریف کس
نےبتائی ؟اس کی حدبندیاں کس نےکیں ؟اورکس طرح وہ مخصوص حقوق
تجویزکی شکل میں فرداًفرداًشمارکرکےدنیاکے سامنےپیش کئےگئے؟مسلم
کانفرنس کی مجلس مضامین میں مولانامرحوم نےوہ تجویزجوحقوق مسلمین کو
محدود ومتعین کرتی ہےکافی بحث وتمحیص کےبعدمولانا محمدعلی مرحوم کی
استدعا پرقلمبندکرکےدی اورمؤخرالذکربزرگ نےاس کوانگریزی کاجامہ
پہنایا” ۔
ماہرین قانون نےبھی لوہامانا
ڈاکٹرسیدمحمودصاحب ایم اے پی ایچ ڈی سابق وزیرتعلیم صوبۂ بہاراپناذاتی تجربہ ومشاہدہ تحریرفرماتے ہیں :
"مولاناعام علماء کی طرح محض ایک صاحب درس عالم نہیں تھے،تدبر
اورملکی مسئلوں کےفہم وگرفت میں وہ کسی بڑےسےبڑےسیاسی مدبر
سےکم نہیں تھے،اورتواور،خالص قانونی اوردستوری موشگافیوں میں بھی
ان کادماغ اس طرح کام کرتاتھا،جیسے کسی معمولی فقہی مسئلے کوسلجھانے
میں،۔۔۔مجھے وقف بل کےسلسلہ میں ذاتی طورپراس کاتجربہ ہے،کہ
بعض دفعات میں جہاں الجھاؤ پیداہواہے،اورسلیکٹ کمیٹی کےسرکاری
وغیرسرکاری ممبرہار مان چکےہیں،مولاناکے قانونی دماغ نےمسئلہ کے
سمجھنےاورسمجھانےمیں کوئی دقت محسوس نہیں کی،اورجہاں کسی تجویزیا
ترمیم کی پیچیدگیاں پیش کی گئیں ان کےناخن تدبیر نے الجھی ہوئی گتھیاں
فوراًسلجھادیں ،ایسامعلوم ہوتاتھاکہ ان کادماغ اس کےلئے دیرسے تیار
ہے۔۔۔” ۔
آئین پڑھنےوالوں سےزیادہ وہ آئین جانتےتھے
ایک اورعینی شہادت بیرسٹرمحمدیونس صاحب سابق وزیراعظم حکومت بہار
کی ہے،تحریرفرماتے ہیں:
"مولانامرحوم کے ساتھ قومی ،سیاسی،دستوری اورآئینی ہرطرح کےکام
کرنےکامجھ کوشرف حاصل رہا،اورمولاناؒکےذہن رساکےمتعلق مجھ کوعملاً
ہرقسم کےمعاملہ میں اس کےاندازہ کرنےکاموقعہ ملاہے،کہ وہ کس طرح
معاملہ کی روح اوراس کی سیاست کوسمجھ جاتے تھے،اوراگرسیاسی اورآئینی
معاملہ کے متعلق یہ کہوں کہ مولانامرحوم کی شخصیت باوجوداس کےکہ
موجودہ سیاسی لٹریچرکی زبان سےوہ ناآشناتھے،اورآئین ہندکے دفاترو
اسفار کےمطالعہ سےوہ بالکل دورتھے) وہ اس قدرقریب سے اس کو
دیکھتے تھے کہ اس کے جوار کارہنےوالاششدرہوجاتاتھاتومیری یہ
شہادت قیاس وتخمین نہیں ہوگی،بلکہ عملی تجربہ ہوگاجس کی بنیادواقعات
پرہوگی اورایسے واقعات پرہوگی،جن کےدامن میں میری سعی بھی تھی
،اوراس کےانصرام میں میری ناچیزجدوجہدکوبھی دخل تھا ۔
شاہ محمدعثمانی صاحبؒ لکھتےہیں:
"، ہندوستان کے قوانین کی ایک ایک دفعہ مولاناؒ کو یاد تھی ۔ مجھ سے پٹنہ
کے بعض وکلا نے کہا (جن میں مسٹر یونس بھی تھے) کہ مولانا انگریزی
ایک حرف نہیں جانتے تھے لیکن سیاست اور صوبائی اور مرکزی حکومت
کے قوانین کو جس قدر سمجھتے تھے وہ ہم (وکلاء) نہیں سمجھتے تھے ، مسٹر
یونس نے تو مجھ سے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس بعض موکلوں کے مقدمات
ایسے تھے کہ بظاہر قانون ان کے خلاف تھا کوئی دفعہ پیروی کی حمایت
میں نہیں مل رہی تھی ۔مولانا سے ذکر آیا تو دفعات کی ایسی تاویل پیش
کی کہ ہائی کورٹ میں مقدمہ اس تاویل کو پیش کر کے جیت لیا گیا ۔
قانونی وسیاسی مشکلات حل کرناان کی چٹکیوں کاکھیل تھا
مولاناامین احسن اصلاحی صاحب تدبرقرآن لکھتے ہیں:
"میں ہمیشہ سناکرتاتھاکہ مولاناجمعیۃ علماء کےدماغ ہیں،قانونی وسیاسی
مشکلات کےسمجھنے اورحل کرنے کی غیرمعمولی قابلیت رکھتے ہیں،
اسکیمیں بنانے،ان کےچلانے،ان کےلئےمختلف الخیال اورمختلف
المشرب جماعتوں کومنظم کرنےکاان میں خداداد سلیقہ ہے۔۔۔۔
وہ جس چیزپرسوچتے تھےاس کی ابتدا،اس کا وسط اور اس کی انتہا
سب ٹٹول لیتے تھے،اوراس کےچاروں گوشےسےاس پر گھیرے
ڈالتے تھے،وہ مسئلہ کوگنجلک نہیں چھوڑتے اور اندھیرے میں تیر
تکے چلانےکےعادی نہیں تھے” ۔
فکروعمل اورتدبیروسیاست کی جامع شخصیت
آپ کے شاگردرشیدمولانااصغرحسین صاحب بہاری سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ رقمطرازہیں :
"حضرت مفکراعظم ؒ فکروعمل کےساتھ تدبیرکےبھی مالک تھے،اپنےتدبر
و عمق نگاہی سےانجام کوبھانپ لیتےتھے،اورجوپرزہ جہاں کام دےسکتاتھا
وہیں اس سے کام لینے کی سعی فرماتےتھے” ۔
ہندوستان کےطبقۂ علماء میں واحدشخص
آپ کےموافقین ومخالفین دونوں آپ کی قانونی بصیرت اورآئینی میدان میں آپ کےامتیازی تفوق کابرملااعتراف کرتے تھے،
معروف سیرت نگارمولاناعبدالرؤف داناپوریؒ صاحب نےحضرت مولاناسجادؒکی وفات پراپنےتعزیتی خطاب میں فرمایاکہ:
” ان کی ایک خوبی ایسی تھی جو کسی عالم میں نہیں تھی وہ یہ کہ ہندوستان
کے کسی قانون ساز ادارہ میں کوئی ایسا مسودہ قانون پیش ہوتا ، جو اسلامی
نقطۂ نظر سے قابل اعتراض ہوتا تو اس کی وہ خبر رکھتے تھے اور فوراً اس
کے خلاف آواز اٹھاتے تھے اور محرک مسودہ قانون کو مسلم ارکان اسمبلی
کو اور علماء ہند کے نام خطوط لکھتے تھے” ۔
آپ کےمشہورناقدجناب راغب ا حسن صاحب لکھتےہیں:
"مولاناسجادؒہندوستان کےطبقۂ علماء میں واحدشخص تھے،جس نےملکی دستور
وقانون،مجالس آئین ساز،نیابتی اورانتخابی ادارات اورجمہوریت مغرب
کےمسائل کاعملی مطالعہ کیاتھا، اور جنہوں نے ان کواپنے آئیڈیل اور
مقصداصلی کوحاصل کرنےکےلئےبطور آلۂ کاراستعمال کرنے کی کوشش
کی ۔
قانونی ژرف نگاہی کی چندعملی مثالیں
حضرت مولاناسجادؒکی آئینی صلاحیت اورحاضر دماغی کی چندعملی مثالیں پیش کی جارہی ہیں،جن کےذکرآپ کےمتعددتذکرہ نگاروں نےکیاہے،مثلاً:

مجوزہ مسلم وقف بل کی ترتیب
٭مجوزہ مسلم وقف بل پرغورکرنے کےلئےحکومت کی طرف سےایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل کی گئی تھی،جس میں حضرت مولاناؒبھی شامل تھے،ایک دفعہ اس منتخب کمیٹی میں ایک اصول مقرر ہوا،الفاظ پٹنہ ہائی کورٹ کےمشہوروکیل مولوی حسن جان صاحب کےتھے،لیکن ایڈوکیٹ جنرل نے اس پرقانونی حیثیت سے اعتراض کیا،پھراسی اصول کی ترتیب مسٹر محمد یونس بیرسٹرپٹنہ نے کی،ایڈوکیٹ جنرل نے قانونی مجبوریوں کی بناپراسے بھی نامنظورکیا،اخیر میں مولانانے اسےخودمرتب کیا،اردوداں ہونےکےسبب سےایڈوکیٹ جنرل نےاسےخود اوربلاتأمل منظورکرلیا” ۔
مسودۂ قانون جہیزبل سے مسلمانوں کااستثنا
٭اس کےکچھ ہی دنوں کےبعدایک غیرسرکاری مسودۂ قانون جہیزبل (ڈاوری بل )کےنام سےپیش ہوا،مولاناکی دوربیں نگاہوں نےاس کےمضراثرات کافوراً اندازہ کرلیا ، اوریہ مولاناہی کی محنتوں کانتیجہ تھا،کہ اس بل سےمسلمان بری کردئیے گئے ۔
جداگانہ معاشرتوں کےلئےجداگانہ قوانین
٭مولاناکاعقیدہ تھاکہ ہندواورمسلمانوں کی دوجداگانہ معاشرتیں ہیں،اس لئے ان کی اصلاح بھی جداگانہ قوانین کےذریعہ ہونی چاہئے،مولاناؒاس بات کےلئےبرابر کوشاں رہے کہ یہ اصول اسمبلی میں رواج پاجائے ۔
٭مولاناؒ کایہ بھی خیال تھاکہ اصولاًایک فرقہ کےمعاشرتی قانون میں دوسرے فرقہ کےرکن کوووٹ دینےکابھی حق نہ ہوناچاہئے ۔
نمائندہ اسمبلی والی تجویزمیں ترمیمات
٭نمائندہ اسمبلی والی تجویزجب پیش ہوئی،تومولاناکےحکم سےپارٹی کی طرف سےدوترمیمیں پیش کی گئیں:
(۱)نمایندہ اسمبلی کےنمایندے جداگانہ مذہبی حلقوں سےمنتخب ہوں
(۲)نمایندہ اسمبلی میں کثرت رائے پرفیصلہ نہ ہوبلکہ باہمی رضامندی شرط قراردی جائے۔
ان ترمیموں کی معقولیت ظاہرہےپھربھی ان پرکئی دنوں تک مباحثے ہوتے رہے، (حالات ناموافق دیکھ کر)میں نے اپنی ذاتی رائے ترمیمیں واپس لےلینےکےحق میں دی،لیکن مولاناؒکوان ترمیموں پربرابراصراررہا۔۔۔یہ تجویزتمام کانگریسی صوبوں میں پیش کی گئی،لیکن یہ دیکھ کرحیرت ہوتی ہےکہ بہارکےعلاوہ تمام صوبوں میں یہ تجویزمن وعن منظور ہوگئی،صرف سندھ کےہندوممبران اپنےنقطۂ نگاہ سے ایک ترمیم منظورکراسکے ۔
زراعتی انکم ٹیکس قانون سے اوقاف کاستثنا
٭بہاراسمبلی میں کانگریس کی طرف سےزراعتی آمدنی پرٹیکس کامسودۂ قانون پیش ہوا،مولاناؒکوشبہ ہواکہ کہیں اس قانون کےتحت میں اوقاف نہ آجائیں ،چنانچہ انہوں نے پورا مسودہ پڑھواکرسنا،سننے پرمولاناکاخدشہ صحیح نکلا،ابتداءً مولاناکی یہ کوشش رہی کہ ارباب حکومت سے مل کراس مسئلہ کوباہمی طورپرطےکرلیاجائے، لیکن جب وہ اس پرراضی نظر نہ آئے،تومولاناکواخبارات میں بیانات اور اورپھرسول نافرمانی کی دھمکی دیناپڑی،اسی دوران مولاناابوالکلام آزادمسئلہ کوسلجھانےکےلئےپٹنہ تشریف لائے،اوران کے مشورہ سے حکومت بہارنےحضرت مولاناؒ کی ترمیم منظورکرلی،اورزراعتی آمدنی پرٹیکس کاقانون اوقاف پرعائدنہ ہوسکا ۔
٭انکم ٹیکس کےقانون میں کامیابی حاصل کرنےکےبعدمولانانےپارٹی کی طرف سےمسلم وقف بل،لوکل باڈیز(ڈسٹرکٹ بورڈوں سےمتعلق)بل،اورمیونسپلٹی کاترمیمی مسودۂ قانون مرتب کیا ۔
مذہبی تعلیم کاحق
٭صوبۂ بہارمیں کانگریس نے جب ابتدائی تعلیم کوعام کرنےکامنصوبہ بنایاتو مولانا نے اس میں مسلم بچوں کی مذہبی تعلیم کےلزوم کی اسکیم پیش کی ،سب سے پہلے ۲۵/شعبان المعظم ۱۳۵۶؁ھ مطابق ۳۱/اکتوبر۱۹۳۷؁ء کوڈاکٹرذاکرحسین کوخط لکھاجوواردھا تعلیمی کمیٹی کے صدرتھے:
"ابتدائی اورجبری تعلیم کاجوخاکہ آپ کوتیارکرناہےاس میں ابتدا
ہی سے مذہبی تعلیم کے لئے کافی گھنٹے رکھنے چاہئیں ، امیدہےکہ
اس پرآپ کی نظرہوگی،لیکن بطوریادہانی مناسب معلوم ہوتاہے
کہ آپ کی توجہ اس طرف مبذول کراؤں ،کمیٹی کویہ بھی بتادینا
چاہیئے کہ اگرایسانہ ہوگاتومسلمانوں میں بےچینی ہوجائے گی”
پھررمضان المبارک ۱۳۵۶؁ھ میں وزیرتعلیم ڈاکٹرسیدمحمودسے آپ نے اس مسئلہ پر زبانی گفتگوفرمائی ،اس طرح حضرت مولاناؒکی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ڈاکٹرسیدمحمود وزیرتعلیم نےابتدائی تعلیم میں مسلمانوں کےلئے مذہبی تعلیم کے حق کوتسلیم کرلیا ۔ وزیرموصوف نے۱۹/فروری ۱۹۳۹؁ء کودیہات سدھارجلسہ میں تقریرکرتے ہوئے کہاکہ:
"حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادنائب امیرشریعت کے کہنےپرمیں
نے تعلیم گاہوں میں مذہبی تعلیم کواصولاًمنظورکرلیاہے”
قانونی خدمات کی داد کوئی ماہرقانون ہی دےسکتاہے
غرض صوبجاتی اورمرکزی اسمبلی میں حج بل ،معلم بل اورمسودۂ قانون انفساخ نکاح وغیرہ کےسلسلہ میں جوخدمات حضرت مولاناؒنےانجام دی ہیں ان کی دادکوئی ماہرقانون ہی دے سکتاہے۔
انتخابی سیاست میں شرکت اورپارٹی کاقیام
٭انتخابی سیاست میں حضرت مولاناؒکی حصہ داری کامقصد بھی یہی تھاکہ مسلمانوں کے لئے آئینی حقوق کی حصولیابی کاراستہ آسان ہو،اوررفتہ رفتہ مرکزی وصوبائی مجالس قانون سازسے ایسے قوانین مرتب کرائے جائیں جوصحیح اسلامی اصول پرمرتب کئے گئےہوں ،اور جن کاتعلق صرف مسلمانوں سے ہو،یہ بھی مولاناؒکےآئینی دماغ کاحصہ تھا۔سحبان الہندمولانا
احمدسعید دہلویؒ تحریرفرماتے ہیں:
” قانون کی سمجھ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی صحیح عطا فرمائی تھی،کہ وہ
قانون کوخوب سمجھتے تھے،انڈیپینڈنٹ پارٹی کاقیام اسی آئین شناشی کا
نتیجہ تھاانہوں نےقانون کوسمجھ کربروقت پارٹی کی تشکیل کی اورالیکشن
میں بڑی حدتک کامیابی حاصل کی ۔
متبادل آئین ہندکی ترتیب
حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ کابیان ہےکہ:
"جس زمانہ میں کانگریس نے اپنا فارمولاپیش کرکےیہ اعلان کیاتھاکہ
اس کےعلاوہ دوسری جماعتیں اگراس سےبہترنعم البدل پیش کرسکتی
ہیں،تووہ مرتب کرکےہمارےپاس بھیج دیں تاکہ غوروخوض کےوقت
وہ بھی زیربحث آئے،تواس سلسلہ میں جمعیۃ علماء نےجوبہترین فارمولا
تیارکرکےشائع کیااس کی ترتیب میں مولانائےموصوف کی دماغی کاوش
کابہت بڑادخل ہے” ۔
یہ دراصل آزادہندوستان کامجوزہ دستوراساسی تھاجوجمعیۃ علماء ہندکےفارمولہ کےنام سے۳/اگست ۱۹۳۱؁ء (۱۸/ربیع الاول ۱۳۵۰؁ھ)کی مجلس عاملہ کےاجلاس سہارن پورمیں پیش کیاگیاتھا،اس میں ملک کے تمام شہریوں کےلئے انسانی حقوق کےعلاوہ مکمل مذہبی آزادی اورمسلم پرسنل لاءکےتحفظ کی ضمانت دی گئی تھی ۔
مسودۂ قانون انفساخ نکاح
٭مظلوم عورتوں کی گلوخلاصی کےلئےباضابطہ قانون سازی کی غرض سے ایک مسودۂ قانون فسخ نکاح” اسمبلی میں پیش کیاگیا،جس کومولوی غلام بھیک نیرنگ اورجناب محمد احمدکاظمی وغیرہ ممبران اسمبلی نےتیارکیاتھا،جب یہ مسودہ حضرت مولانامحمد سجادؒکے سامنے آیاتومولاناکی بصیرت اورقانونی دماغ نےاس کی کئی بنیادی خامیوں کومحسوس کیا،اور فقہی اورقانونی دونوں لحاظ سے پوری تفصیل کےساتھ آپ نے اس پرتبصرہ فرمایا،اوراس میں ترمیم واصلاح پرزوردیا،بعض دوسرےاہل قلم سےبھی مضامین لکھوائے،یہ مضامین نقیب اورجریدۂ امارت میں مسلسل شائع ہوئے،لیکن جب کسی نے جامع اورمفیدمقصد مسودۂ قانون پیش نہیں کیاتوآپ نے اس کامتبادل مسودۂ قانون خودمرتب فرماکر نقیب میں شائع کرایا، اوراس کی معنویت بھی تحریری طور پرواضح فرمائی ۔
حضرت مولاناؒنےجمعیۃ علماء ہندکوبھی اس جانب توجہ دلائی ،چنانچہ جمعیۃ علماء ہند نےبھی ایک مسودۂ قانون انفساخ نکاح مسلم مرتب کرایا،جوحضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ ہی کاتیارکردہ تھا،پھرارکان اسمبلی کویہ مسودہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ،لیکن یہ مسودۂ قانون جب قانون بن کر منظورہواتواس میں ایسی ترمیمات کردی گئی تھیں جن کی بناپریہ قانون مسلمانوں کےلئےشرعاًبےمعنیٰ ہو کررہ گیا،۔۔۔۔۔
مولاناکےحسب ہدایت جمعیۃ علماء ہند اورامارت شرعیہ بہاردونوں جگہوں سےاس قانون کےخلاف مضامین لکھےگئے،جمعیۃ علماء کے کہنےپرایک ممبراسمبلی نے ترمیم کی تجویزبھی پیش کی ۔
مولاناکامفصل قانونی اورفقہی تبصرہ اورمتبادل "مسودہ قانون انفساخ نکاح "آپ کےقانونی مسودات کےمجموعہ "قانونی مسودے”میں شائع ہوچکاہے،تفصیل کےلئے اس کتاب کی طرف مراجعت کی جائے ،ہم یہاں بطور نمونہ دفعہ نمبر۶ پرآپ کےقانونی اورفقہی تفصیلی تبصرہ سےچند نکات پیش کرتے ہیں:
"اس دفعہ (۶)کااسلامی نقطۂ نظرسےایک دوسراپہلونہایت خطرناک یہ
ہےکہ اگریہ دفعہ آپ حضرات نےمنظورکرایایامنظورکرانےکی سعی کی
،تواس کالازمی نتیجہ یہ ہوگاکہ کہ دوسری غیرمسلم اقوام بھی،اسی قسم کا
قانون بنوائیں گے،اورآپ کوکوئی حق نہیں ہوگاکہ آپ اس کی مخالفت
کریں،اورمخالفت کریں بھی تونتیجہ معلوم ہےکہ وہ منظورہوکررہے گا،
لہذاہندو،اورسکھ یہ قانون بنوائیں گےکہ اگران کی کوئی عورت تبدیل
مذہب کرلےتووہ اپنےشوہرسےکسی حال میں علیٰحدہ نہیں ہوسکتی ہے،
اوراسی طرح عیسائی اورپارسی بھی بنواسکتے ہیں۔
اس کانتیجہ ظاہرکہ آج ہزاروں غیرمسلم شوہردارعورتیں
مسلمانوں میں شامل ہورہی ہیں اس کادروازہ ہمیشہ کےلئےاب بندہوجا
ئےگا۔
(اس کےعلاوہ اوربھی کئی قانونی اورملی دشواریوں کاتذکرہ کیاگیاہے)
یہ سب اعتراضات اس مفروضہ کی بناپرہیں کہ اسلام کاقانون یہ صحیح
تسلیم کرلیاجائے،کہ ارتدادمسلمہ موجب فسخ نکاح نہیں ہے، ورنہ یہ
مسئلہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے،ائمۂ اربعہ بلکہ ائمۂ مسلمین کامتفقہ
فیصلہ ہےکہ”ارتدادمسلمہ موجب فسخ نکاح ہےاگروہ بعدتفہیم ارتداد
پر قائم رہےفقہ حنفی میں ظاہرالروایۃ یہی ہے،محققین فقہائے حنفیہ کا
فتویٰ یہی ہےبلاشبہ متأخرین علماء بلخیین نےاسلامی حکومت کےاضمحلال
کےزمانہ میں اس قسم کے فتاویٰ دئیے ہیں مگران مفتیوں نےیہ بھی لکھدیا
ہےکہ یہ فتویٰ محض اس لئے ہےکہ جوعورتیں ارتدادکوحیلۂ فسخ نکاح بناتی
ہیں،اس کاانسدادہوچوں کہ عورت کاحبس حکومت کےاضمحلال کی وجہ
سے ناقابل عمل ہو چکاتھا،لیکن عدالتیں اسلامی تھیں،وہ اس فتویٰ کے
احترام کی وجہ سے فسخ نکاح کاحکم نہیں دے سکتی تھیں،اس لئےعورتوں کا
یہ حیلہ وہاں کارگرنہیں ہوسکتاتھاعلاوہ بریں ہندوستان جیسی وہاںمشکلات نہ
تھیں ،نہ یہ ماحول تھا،اس لئے یہ فتویٰ وہاں مفیدہوسکتاتھا جومحض رعایت
مصلحت پرمبنی تھامگرحقیقت حال یہ ہےکہ یہ علماء اگر عورتوں کوفسخ نکاح کے
وہ تمام حقوق دے دیتےجوشریعت اسلامیہ نےدئیےہیں توارتدادکاحیلہ خود
بخودختم ہوجاتاعلاوہ ازیں یہ فتویٰ اس حیثیت سے بھی وہاں مفیدہوسکتاتھا
کہ جب عورتیں مرتدہوکردوبارہ مسلمان ہوکردوسرےمسلمان مردسے
عقدکرنا چاہتیں توکوئی مرداس فتویٰ کےبعداس سےعقدنہیں کرسکتاتھا،
کیونکہ ان کوفتویٰ دیاگیاتھاکہ وہ عورت اپنے پہلے شوہر کی بیوی ہے،اور اس
وجہ سے عورت جب اپنےمقصد یعنی عقدثانی میں ناکام ہوتی توپھراسلام قبول
کرنےپرمجبورہوسکتی تھی،جس کالازمی نتیجہ یہ ہوتاکہ زوج سےجدائی کے
لئےوہ ارتدادکےطریقہ کوچھوڑنےپرمجبورتھی،مگرہندوستان کی یہ حالت
نہیں ہے،یہاں مردوں میں تقویٰ و تدین کاجوحال ہےوہ کسی سےپوشیدہ
نہیں ہے،یہاں یہ فتویٰ کسی حال میں عموماًمؤثرنہیں ہوسکتاہے،۔۔
الغرض محض ایک مصلحت کومدنظررکھ کرعدم فسخ نکاح کافتویٰ
اگرچہ بلخیوں نے دیاتھا،مگر اسی کےساتھ مخالطت کوحرام قراردیاتھا،گویا
عورت کو حکومت کےمحبس میں رکھنے کےبجائےایک شخص کے گھرمیں
اس طرح محبوس کیاجاناتجویزکیاگیاتھاجواس دورمیں ایک حدتک مفیدتصور
کیاجا سکتاتھا،نہ یہ کہ حقیقتاًارتدادمسلمہ سے عنداللہ وعندالرسول بھی اس
کانکاح فسخ نکاح نہیں ہوتاہے، اس لئے میرے نزدیک نصوص اوراقوال
ائمۂ عظام و اکابرفقہائے ملت کوپیش نظررکھ کرونیزبربنائے مصالح شرعیہ
یہ فتویٰ اس قابل نہیں ہے،کہ اس پرعمل کیاجائے،چہ جائے کہ اس فتویٰ
کی بناپرقانون بنوایاجائے ۔۔۔۔
(آخرمیں آپ نےیہ مشورہ دیاہےکہ)اس مسودہ پرآپ حضرات اچھی طرح
غورکرلیں ،علماء کرام خاص کرحضرت مولاناکفایت اللہ صاحب وحضرت مولانا
اشرف علی صاحب مدظلہماسے بھی استصواب رائے کرلیاجائے” ۔
اس سےاندازہ ہوتاہےکہ مولاناملکی آئین کےبارےمیں کتنے حساس اورباخبر تھے،ناممکن تھاکہ کوئی ایساقانون ملک میں منظورہوجائےجس کی زد شریعت اسلامیہ کے کسی قانون پرپڑتی ہو،اورمولاناؒ کواس کی خبرنہ ہویاوہ اس کی خبرنہ لیں ۔
واردھا تعلیمی اسکیم کی مخالفت
٭مولاناکانگریس کےحامی اورہمدردتھےلیکن اس کےاعمال اورمنصوبوں پرگہری
نگاہ رکھتے تھے،کوئی عمل یاتجویزمسلمانوں کےمفادات کےخلاف محسوس ہوتی ،فوراً اس پرتنقیدفرماتے اورسخت مخالفت فرماتے تھے،چنانچہ کانگریس کی واردھاتعلیمی اسکیم کی جتنی مخالفت مولانانے کی وہ کسی سے نہ ہوسکی ،اس کی تفصیلی رپورٹ امارت شرعیہ سےشائع ہوچکی ہے،جس کومولاناعثمان غنی صاحب ؒ نےمرتب کیاتھا ۔
نظریۂاہنسا(عدم تشدد)کی مخالفت
٭۱۹۳۸؁ء میں اسی طرح کانگریس حکومت نے جومحکمۂ دیہات سدھارقائم کیا تو اس میں اہنسا(عدم تشدد)کی تعلیم داخل کی،حضرت مولاناسجادؒ نےاس کی شدیدمخالفت کی ، آپ نے بہار کےوزیرتعلیم ڈاکٹرسیدمحمودکوخط لکھا:
"یہ کس طرح جائزہوسکتاہےکہ اہنسادھرم ،گاندھی جی کی تعلیمات
اور ان کی سوانح عمری جوزیادہ تران کےمخصوص مذہبی معتقدات و
تخیلات اورتلاش حق کی سرگردانیوں کی آئینہ دارہے،ہندؤں کے
لئے دل آویز اور بصیرت افروز ہوسکتے ہیں ،لیکن یہ تمام چیزیں
مسلمانوں کےمذہبی ،اخلاقی،اورتمدنی بنیادوں کو کھوکھلی کرنےوالی
ہیں اس لئے اس قسم کی تعلیم وتربیت ایک لمحہ کےلئےبرداشت نہیں
کرسکتے۔
اس لئے میں پوری ذمہ داری کےساتھ آپ سے مطالبہ کرتاہوں کہ
للہ مسلمانوں کی دماغی تربیت کے لئے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکی
سیرت پاک اورخلفاء راشدین کی سوانح عمری رہنےدیجیئے، اوراہنسا
دھرم اورگاندھی جی کی تلاش حق کی سیرگردانی مسلمان طلبہ پرمسلط
کرکےغیراسلامی تعلیم وتربیت نہ پھیلائیے”
بالآخرمولاناکی کوششیں رنگ لائیں اوروزیرتعلیم نے اعلان کیاکہ:
"دیہات سدھاراسکیم پر بھی حضرت سجاد صاحب کواعتراض ہےکہ اس
کےذریعہ گاندھی ازم کی اشاعت ہوگی،تومیں یہ عرض کرناچاہتاہوں
کہ گاندھی ازم کا ذکر”دیہات سدھاراسکیم”میں غلطی سے آگیاتھا،
حضرت مولاناکے توجہ دلانےپراس کونکال دیاگیااورگاندھی ازم کی
اشاعت ہرگزنہیں ہوگی ”
اس طرح دیہات سدھاراسکیم سے اہنساکی تعلیم کوخارج کیاگیا ۔
تحفظ مویشیان بل
٭اسی طرح تحفظ مویشیان بل کےنام پرانسان کی مرضی کےکھانےپینےپرجس طرح قدغن لگائی گئی تھی ،اورذبیحۂ گاؤکےنام پرمسلمانوں کےقتل عام کاجوپروگرام بنایاگیا تھا،حضرت مولاناسجادؒنے بل دیکھتے ہی سمجھ لیاتھا،آپ نےاس بل کی مخالفت کی اوراس کی قانونی خرابیوں کوواضح کیا،آج ملک کےجوحالات ہیں وہ سوفی صدآپ کی قانونی بصیرت اورایمانی فراست پر مہرتصدیق ثبت کرتے ہیں ۔

حقوق مسلم(مسلم پرسنل لاء)کی تعریف اورمطالبات
مولوی سیدمحمدمجتبیٰ صاحب آرگنائزرمحکمہ دیہات سدھارلکھتے ہیں :
"دنیایہ جانتی ہےکہ مسلم کانفرنس نےکچھ اصولی مطالبات حقوق کےمتعلق
بنائےلیکن یہ رازاب تک سربستہ ہےکہ حقوق مسلم کی تعریف کس نے بتائی
اس کی حدبندیاں کس نےکیں؟اورکس طرح وہ مخصوص حقوق تجویزکی شکل
میں فرداًفرداًشمارکرکےدنیاکےسامنےپیش کئےگئے؟مسلم کانفرنس کی مجلس
مضامین میں مولانامرحوم نےوہ تجویزجوحقوق مسلمین کومحدودومتعین کرتی
ہےکافی بحث وتمحیص کےبعدمولانامحمدعلی مرحوم کی استدعاپرقلمبندکرکے
دی، اور مؤخرالذکر بزرگ نےاس کوانگریزی کاجامہ پہنایا۔یہ محدودتجویز
مسلم کانفرنس کی طرف سےسائمن کمیشن کےسامنےپیش ہوئی،اورپھر کچھ
دنوں کےبعددوسری گول میزمیں پیش کی گئی،اورنئے قالب میں مسٹرمحمد
علی جناح کےچودہ(۱۴)پوائنٹ میں آگئی ، اس میں مولانانےاقلیت کے
مسائل خصوصاًمسلمانوں کےپرسنل لاء کےمتعلق قوانین سازی کےمتعلق
یہ اصول وضع کیاکہ جب تک مسلم نمائندگان کی اکثریت کسی بل پرمتفق نہ
ہو،وہ قانون نہ بن سکے۔۔۔۔ہمارے مطالبات آج بھی اس حدسےآگے
نہیں بڑھ سکےہیں” ۔
تحریک تبراکےموقعہ پریوپی حکومت کی قانونی گرفت
لکھنؤمیں(۱۹۳۸؁ء میں)اہل تشیع کی جانب سےجب تبرائی فتنہ شروع ہوا،جس
سے اہل سنت مسلمانوں میں ایک اضطراب کی کیفیت پیداہوگئی ،یوپی حکومت نےاس فتنہ کو فروکرنےکےلئےدفعہ ۱۴۴ اوردفعہ ۱۰۷ کےتحت کاروائی شروع کی،حضرت مولاناسجادؒنے اس موقعہ پرایک مختصرمضمون شائع کرایا،اس کاایک اقتباس ملاحظہ کیجئےاوردیکھئےکہ حضرت مولاناکی نگاہ قانون پرکتنی گہری تھی:
"حکومت یوپی کی سہل انگاری پرعقل ودانش کی دنیامتحیراورانگشت
بدنداں ہے کہ وہ تبرائی فتنہ پروروں کوبھی دفعہ ۱۴۴یادفعہ ۱۰۷
ضابطہ ٔفوجداری کےماتحت معمولی سزادلوارہی ہے،حالانکہ تعزیرات
ہندکی دفعہ ۱۵۳(الف)کےاور۲۹۸کےماتحت بھی ان کوسخت سزائیں
دینی چاہئے،بلکہ وہ اس عظیم فتنہ کوہمیشہ کے لئےدفن کرنےکےلئے
تبرائیوں کےخلاف ایک سخت آرڈیننس بھی جاری کرسکتی ہے،اگر
قانون حکومت ہند میں قیام امن کی خاطرگورنروں کوآرڈیننس کے
اختیارات دئیے گئےہیں تواس کااستعمال اس وقت کیوں نہیں کیاجاتا
، کیاآرڈیننس کےاختیارات صرف ملک کی آزادی کاگلاگھونٹنےکےلئے
دئیےگئےہیں ”
اسی مضمون میں مولانانے جمعیۃ علماء ہند،مجلس احراراسلام اورعام مسلمانوں کوبھی اس فتنہ کےمضرات کی طرف متوجہ کیااوراس کےخلاف تحریک چلانے کی دعوت دی ،چنانچہ اسی کےنتیجےمیں مدح صحابہ ایجی ٹیشن شروع ہوا،جس کی قیادت حضرت مولانامحمدسجاد ؒاور حضرت مولاناحسین احمدمدنی ؒنے فرمائی۔
یہ حضرت مولاناؒکی قانونی بصیرت کےچندنمونےہیں ،ورنہ ایسی مثالیں تلاش کی جائیں تواوربھی مل جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close