مضامین

حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒ کی قلمی خدمات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

قلمی خدمات
اللہ پاک نے حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒ کوعلم کی جس دولت بے پایاں سے مالامال کیاتھا،اور آپ کےسینہ میں علم کاجوبحربےکراں موجزن تھا،افسوس اس کاعشرعشیر بھی سفینہ میں منتقل نہ ہو سکا،وہ تحریکی اورتنظیمی کاموں میں اتنے مصروف رہے،اورملک وملت کےزلف پریشاں کی استواری کی فکرنےان کوایسابے چین رکھاکہ باوجود خواہش وکوشش کے وہ قلمی اورتصنیفی خدمات کےلئےزیادہ وقت نہ نکال سکے ،ان کی زندگی کاایک ایک لمحہ برسوں کےمشاغل اپنے دامن میں سمیٹے ہوئےتھا،قدرت کی طرف سےماہ وسال کابہت کم وقفہ ان کے لئے رکھاگیا تھا،اوراسی مختصرعرصہ میں ان کواپنےحصہ کاسارا کام انجام دیناتھا۔
علاوہ لکھنےپڑھنے کے لئے جس فرصت ویکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کو میسر
نہیں تھی،ان کی صبح وشام قوم وملت کےاتنےمسائل سے گھری رہتی تھی کہ خوداپنی ذات اور اپنے اہل وعیال کےلئےبھی ان کےپاس وقت نہیں تھا۔۔۔
لیکن انتہائی مصروف ترین لمحات میں بھی جومنتشرتحریریں آپ کےاشہب قلم سے صادرہوئی ہیں وہ علم وحکمت کےبیش قیمت شہ پارے اوردقائق ومعانی کی دستاویزی یادگاریں ہیں ۔
آپ نے مختلف مواقع پر فتاویٰ یامقدمات کےفیصلےتحریرکئے ،ملک کے حالات پر اخبارات اوررسائل میں مضامین لکھے،علماء واعیان اوراحباب ومتعلقین کےخطوط کےجوابات دئیے،جلسوں اورکانفرنسوں میں صدارتی خطبات پیش فرمائے،مجالس اورکمیٹیوں کی تجویزیں مرتب کیں،اداروں یاملکوں کےدستوری مسودات تیارفرمائے،نئی کتابوں پر تقریظات یا تبصرےلکھے،ان میں بھی کچھ محفوظ رہے اور زیادہ تر ضائع ہوگئے،اگر آپ کے وصال کےبعد ہی آپ کےعلمی ذخیروں کےتحفظ پرتوجہ دی گئی ہوتی توشایدکچھ زیادہ علمی سرمایہ دنیائے علم وفن کےلئے محفوظ رہ جاتا ، لیکن اللہ کےعلم میں جس قدر بچناتھاوہی بچ سکا،علم کاجوحصہ اٹھالیاجانامنظورتھا،اٹھالیاگیا،حدیث میں آتاہے کہ علم سینوں سےسلب نہیں کیاجائےگا بلکہ
علماء اٹھالئے جائیں گےاوران کےساتھ علم بھی اٹھ جائےگا
حضرت ابوالمحاسنؒ کاعلم سینہ سے سفینہ میں منتقل نہ ہوسکا
غرض ہمارے پاس جوموجود سرمایہ ہےاس کوحضرت مولاناسجادؒ کےعلم سے کوئی نسبت نہیں ہے ،جن لوگوں نےمولاناؒکی زیارت کی تھی،ان کوسنا،برتا،اوران کےساتھ معاملات کئے،سفروحضرمیں ساتھ رہے، مجلسی بحثوں میں حصہ لیا،سوالات پوچھے ،اورعلم کے ساتھ ان کے بے پناہ اشتغال کاتجربہ کیا تھا،وہی لوگ سمجھ سکتے تھے کہ حضرت مولاناسجادؒ کاعلم کیساتھا؟،مولاناؒ کاعلم ان کے سینہ میں دفن ہوگیا اگروہ سفینہ میں منتقل ہوجاتاجس کاان کےپاس موقعہ نہیں تھا،تونہ معلوم کتنی لائبریریاں تیار ہوجاتیں ۔۔۔بڑے بڑےجبال علم ان کےسامنےاپنے کوکوتاہ قد محسوس کرتے تھے،علمی مباحث میں ان کی فکرکی گہرائی کااندازہ کرناعام غواصان علم وفن کےلئے بھی آسان نہ تھا ۔
حضرت ابوالمحاسن ؒکےطرزتحریرکی خصوصیات
وہ کم گوتھے لیکن جب بولتےپرمغزبولتے تھے،ان کی عبارتوں میں چھلکےنہیں صرف گودے ہوتےتھے،رطب ویابس سے پاک ان کی زندگی کی طرح ان کی تحریریں بھی صاف ستھری ،بے لاگ ،واضح اور اعتدال وخوش ذوقی کانمونہ ہوتی تھیں،ان کے الفاظ ان کےافکارومعانی کابوجھ اٹھانےمیں تعب محسوس کرتے تھے،ان کے جملوں کی ساخت ،الفاظ کا انتخاب ،اورتعبیرات کااسلوب ہمیشہ مخاطب کی سطح کے مطابق ہوتاتھا،وہ دقیق سے دقیق باتوں کوانتہائی عام فہم اسلوب میں بیان کرنے کاسلیقہ رکھتے تھے،ان کے یہاں نہ تعقیدتھی اورنہ اغلاق ،نہ اجمال تھا اورنہ ابہام،قانون کی زبان لکھتے،تجاویزمرتب کرتے ،یاکوئی دستوری مسودہ تیارفرماتے تواتنے جچے تلے الفاظ اورتعبیرات کااستعمال کرتے کہ اس میں نہ کوئی لفظ بڑھاناممکن ہوتااور نہ کم کیاجانااور نہ بدلاجاسکتاتھا،وہ انسانوں کی طرح الفاظ اور جملوں کے درجۂ حرارت سےبھی باخبرتھے،اس لئے ہرلفظ بالکل صحیح جگہ پرفٹ ہوتاتھا،وہ مفکر تھے اور ان کی تفکیریت ان کے جملوں سےعیاں ہوتی تھی،وہ مشکل الفاظ سے اپنی عبارت کوبوجھل بنانے کےقائل نہیں تھے ، وہ بیانیہ اسلوب تحریرکے عادی تھے ،اور ہربات بالکل صاف صاف کہتے اور لکھتے تھے،جس طرح ان کی زندگی کھلی کتاب تھی ان کی تحریریں بھی ان کی زندگی کی آئینہ دار ہیں ،ان کی شخصیت کے ساتھ ان کاطبعی انکسار ان کی تحریروں میں بھی جھلکتاہے، بلند علمی حقائق بیان کرنےکےباوجودکبھی اپنے بڑے ہونے کاخیال بھی نہیں آیا،انہوں نے مرادآباد کے مجمع عام میں صدارت کی کرسی سے اس بات کااعلان کیاکہ :
"بلا تصنع میں اس حقیقت کااعتراف کرتاہوں ،کہ میں ایک طالب علم
ہوں ، اور رسمی وعرفی طورپراگرچہ علمائے کرام کی صف میں کھڑے
ہونےکی اجازت مل گئی ہےمگرمیں علمائےکرام وفضلائےعظام کی پائیں
میں بھی بیٹھنے کےقابل نہیں ہوں ،کیونکہ ایک عالم دین کوعلمی وعملی
حیثیت سےجس درجہ پرہوناچاہئے،میں یقین رکھتاہوں کہ اب تک میں
وہاں تک نہیں پہونچااورہنوزہرحیثیت سےناقص ہوں ۔۔شایداس زندگی
سےچند گونہ زائدزندگی بھی اگرمجھ کومیسرآئےتوبھی مجھےیقین نہیں کہ
علمائے ربانیین کےادنیٰ مرتبہ تک پہونچ سکوں”
حضرت مولاناؒکےتحریری سرمایہ کےتحفظ کی کوششیں
حضرت مولاناؒکے علوم وافکارکوکچھ آپ کی حیات میں اورزیادہ ترآپ کی وفات کے بعدآپ کےشاگردرشیدحضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ نے مرتب فرمایا،مولانارحمانی ؒ اپنے استاذکےعلوم وافکارکےامین بھی تھے اورترجمان بھی ،امارت شرعیہ کے ہرپہلوپرعلمی بنیادیں تحریری صورت میں آپ نے ہی فراہم کیں ،وہ حضرت مولاناسجادؒ کی زبان تھے،اورجس وفاشعاری،سعادت مندی اورامانت داری کےساتھ انہوں نےاپنے استاذکی علمی وفکری امانتوں کودنیائے علم تک پہونچایااس کی مثالیں تاریخ میں کم ملتی ہیں۔
٭حضرت مولاناعبدالصمدرحمانیؒ کےعلاوہ امیرشریعت رابع حضرت مولاناسید منت اللہ رحمانی بھی حضرت ابوالمحاسن ؒکی سیرت اورآپ کے علمی خزانوں کی ترتیب واشاعت کےلئے کافی فکر مندرہے،انہوں نےاپنی اس آرزوکااظہارآپ کی وفات کےبعد ہی کیاتھا:
"حضرت مولاناؒکےمحاسن کوبتلانےاورآپ کی سوانح کےہرپہلوکونمایاں
کرنے کا کام چنداوراق میں نہیں ہوسکتااس کےلئےاچھی خاصی کتاب
لکھنے کی ضرورت ہے،خداکرے کہ یہ آرزوجلدپوری ہوجائے۔ ”
چنانچہ حضرت مولاناسجادصاحبؒ کی کتاب حکومت الٰہی کی پہلی اشاعت آپ ہی کےذریعہ عمل میں آئی ،گوکہ یہ اصل کتاب کاصرف مقدمہ ہے،لیکن مولانا منت اللہ رحمانی کےعرض ناشرسے اندازہ ہوتاہےکہ اصل کتاب کے غیرمرتب نوٹس بھی ان کی دسترس میں
تھے ،اور ان کوترتیب دیناگوکہ بہت مشکل کام تھا،لیکن وہ اس کا ارادہ رکھتے تھے ۔
٭اللہ پاک درجات بلندفرمائیں فقیہ العصر حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کے،جواس عہد اخیرمیں علم وتفقہ اورامت کےلئے دردمندی میں حضرت مولانامحمد سجادؒ کا عکس جمیل تھے،انہوں نے اپنےسابقین اولین دونوں اکابرکےمنصوبوں کوعملی شکل عطا فرمائی،اور ان کےشروع کئے ہوئے کاموں کوآگے بڑھایا،انہوں نےعلوم سجادؒکےکئی گم شدہ دفینے کھوج نکالےاوران کومرتب اورشائع کرکےدنیائے علم پراحسان عظیم فرمایا۔
آج علوم سجادؒ کاجوبھی تحریری ذخیرہ ہمارے پاس موجودہے وہ زیادہ تر حضرت قاضی صاحبؒ کی فکر وسعی کی دین ہے،انہوں نے آپ کی کتابوں کی اشاعت کےعلاوہ آپ کےنام پرکئی یادگارقائم کئے،اورآپ کی حیات وخدمات پرپٹنہ میں ایک بڑاتاریخی نمائندہ سیمینارمنعقد کیا،جس کوامارت شرعیہ کی تاریخ میں ہمیشہ یادرکھاجائےگا،جس میں ملک اوربیرون ملک سےاہل علم اوراصحاب قلم نے شرکت کی،یہ حقیرراقم الحروف بھی اس میں شریک تھا۔
البتہ سمینارکےبعض شرکاء کی آراء کےمطابق "مولاناسجاد تحقیقی مرکز” اور آپ کی ایک اچھی سوانح لکھے جانے کی جوتجاویزاس سیمینارمیں منظورہوئی تھیں ،وہ شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکیں ،قاضی صاحب ؒ سخت بیمارہوئےاورزندگی نےاتنی مہلت نہ دی کہ وہ اس اہم کام کوانجام دےپاتے، ان کےبعدیہ تمام چیزیں پھرافسانۂ ماضی بن گئیں،اوروہ تجاویزبھی سردخانےکی نذرہوگئیں جوبڑے جوش وجذبہ کےساتھ منظورکی گئی تھیں۔
حضرت مولاناسجادؒکاجومختصرقلمی اثاثہ آج محفوظ ہےاس کےتفصیلی تعارف کے لئےبھی ایک طویل دفتردرکارہے،یہاں صرف مختصرتعارف پیش کیاجارہا ہے:
(۱)فتاویٰ امارت شرعیہ جلداول –محاسن الفتاویٰ
مرتبہ :حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ صفحات : ۳۱۱
یہ پوری جلدحضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادؒکےفتاویٰ پرمشتمل ہے،جس کو حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ نے مرتب فرمایا اور اپنے مقدمہ ، تعلیقات ا ورحواشی کے ساتھ خود اپنی نگرانی میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے شائع کیا،اس کادوسرانام "محاسن الفتاویٰ” بھی ہے۔
اس میں مختلف موضوعات سےمتعلق کل ۱۹۸فتاویٰ ہیں،طہارت سے لےکر عبادات نکاح وطلاق ،اوقاف ،خلافت وقضاکےابواب تک بہت سے قیمتی مباحث کایہ مرقع ہے،سطرسطرسے آپ کی فقہی بصیرت اوروسعت مطالعہ نمایاں ہے،بالخصوص وہ فتاوی جن کاتعلق اجتماعی،دستوری اورملی مسائل سےہے،مثلاًاستبدال وقف ،ترک موالات ،امارت وخلافت، دیہات میں جمعہ کاحکم،غیرعربی زبان میں خطبۂ جمعہ وغیرہ مسائل ،ان پرآپ نےجس اندازسے بحث فرمائی ہےوہ کوئی فقیہ النفس اورزمانہ شناس عالم دین ہی کرسکتاہے،اس کتاب کے کئی مباحث پرمولاناکے فقہی حصہ میں گفتگوآچکی ہے،حضرت مولاقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ نےاس کے مقدمہ میں جوالفاظ لکھےہیں وہ اختصارکےساتھ ان فتاوی کابہترین تعارف اوراس موضوع پرلکھےجانےوالےمضامین کاخلاصہ ہے:
"ان فتاویٰ میں جو علمی گہرائی،مقاصدشریعت سےآگہی،اورمطالعہ کی
وسعت پائی جاتی ہے،خوداصحاب علم اوراورارباب افتاءان کاادراک کریں
گے” ۔
یہ توصرف وہ فتاویٰ ہیں جوامارت شرعیہ کےقیام کےبعدآپ نےپھلواری شریف میں رہتے ہوئے دیئے تھے،آپ کے فتاویٰ کی بڑی تعدادوہ تھی جوآپ نےمدرسہ انوارالعلوم گیامیں دئیے تھے ،کچھ قیام امارت کے بعد اورزیادہ تر قیام سے پہلے،اسی طرح آپ نے الٰہ آباد مدرسہ سبحانیہ کی تدریس کےزمانہ ہی سےفتویٰ نویسی کاکام شروع کردیاتھا،تذکرہ نویسوں کےمطابق آپ روزانہ بعد نمازعصرمدرسہ کے کتب خانہ میں تشریف رکھتے اور افتاءکی ذمہ داریاں پوری فرماتے،الٰہ آبادمیں آپ کی شہرت مفتی کی حیثیت سےتھی،لوگ بکثرت ہر طرح کےمسائل کےلئے آپ سے رجوع کرتے تھے،فقہ وفتاویٰ میں آپ نے الٰہ آبادکے مسلمانوں کاایسااعتماد حاصل کرلیاتھاکہ لوگ اپنے شرعی مسائل میں آپ کےعلاوہ کسی سے رجوع کرناپسند نہیں کرتے تھے،اس کامظہر وہ واقعہ ہےجس کاتذکرہ پہلے آچکاہے اورآپ کے کئی تذکرہ نگاروں نےاس کاذکرکیاہے کہ جب آپ مستقل طورپرالٰہ آباد سے رخصت ہوئے، تواعیان ورؤساء شہر کاایک جم غفیرآپ کوالوداع کہنےکےلئے اسٹیشن حاضرہوا،اور سب کی زبان پرایک ہی بات تھی کہ "آج الٰہ آباد سے فقہ رخصت ہورہی ہے”،اس سے آپ کی کثرت فتویٰ نویسی کااندازہ ہوتاہے،اس وقت تدریس اورفتویٰ نویسی کےعلاوہ کوئی دوسراکام آپ سےمتعلق نہیں تھا،اگراس دورکے فتاویٰ محفوظ ہوتے تووہ بھی کئی جلدوں پرمحیط ہوتے،یہی حال مدرسہ انوارالعلوم کےزمانۂ قیام کاہے،اللہ کومنظورنہیں تھاورنہ فقہ وفتاویٰ کی ایک عظیم لائبریری تیارہوسکتی تھی ،اور دنیانےصرف آپ کےفتاویٰ نہیں کھوئےہیں ،بلکہ وہ
علم کےایک پورےکتب خانہ سے محروم ہوگئی ہے۔
(۲)قضایاسجاد
تصحیح وتقدیم: حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ صفحات : ۱۶۸
یہ حضرت ابوالمحاسن ؒکےچھ(۶)فیصلوں کامجموعہ ہے،اورقضاءکےباب میں سنگ میل کادرجہ رکھتاہے:
(۱)فیصلہ متعلقہ ثبوت نسب وفسخ نکاح
(۲)فیصلہ متعلق خلع۔
(۳)فیصلہ بابت تنازع امامت مسجدمابین احناف واہل حدیث ۔
(۴)فیصلہ متعلق تقسیم جائیدادومیراث ۔
(۵)فیصلہ مرافعہ متعلق مطالبۂ خلع ۔
(۶)فیصلہ متعلق مالی وکاروباری لین دین ۔
ان قضایاپرمیں اپنی طرف سے کچھ لکھنےکےبجائےعصر جدیدمیں اس موضوع پر سب سے زیادہ بصیرت رکھنے والے قاضی حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحب ؒ قاضی القضاۃ امارت شرعیہ کاتبصرہ نقل کرتاہوں۔
"ہم مولاناؒکےچندقضایا(فیصلے)پیش کررہےہیں،جومولاناکی قوت
استنباط، استقامت فکر ،اور غیر معمولی تفقہ کے آئینہ دار ہیں۔
کسی عورت کو شوہر کی موت کی خبرملی اوراسےاطمینان ہواکہ یہ خبر
صحیح ہے اوراس نےنکاح ثانی کرلیا۔یہ سادہ سامقدمہ ہے۔۔حضرت
مولانانے اپنے فیصلہ میں خبرواحدکی حیثیت ،اس کاقابل اعتبارہونا،
آیات قرآنی سے استنباط،پھرکوئی خبرملےتوحکم قرآنی کےمطابق اس
کی تحقیق وتفتیش،اورتحقیق کےنتیجہ پرعمل پیراہونا،یہ اوراس طرح
کے دیگر نکات پرجوبحثیں کی ہیں،وہ اہل علم اوراصحاب فقہ کےلئے
بڑاقیمتی ذخیرہ ہے۔
مسجدمیں جمعہ کی نماز کی امامت حنفی کرے یااہل حدیث؟ اس جھگڑے
میں بڑافتنہ ہوتاہے،۔۔۔کیامسجدمیں کسی ایک فرقہ کےکسی ایک شخص
کا مسلسل امامت کرنااس مسجدپراس فرقے کےمستقل حق کی دلیل
بن سکتی ہے،لیکن اگر بانی مسجدمصالح شرعی کونظراندازکرکےامام
کاتعین کرےتوکیابانی کے اس تعین کا اعتبارہوگایااس کاحق مصالح
شرعی کےساتھ مشروط ہے” ۔
یہ مجموعہ امارت شرعیہ پھلواری شریف سے ۱۹۹۹؁ء میں شائع ہوا،ترتیب کاکام حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی کی نگرانی میں مولانافہیم اخترندوی نےکیاہے۔
(۳)قانونی مسودے صفحات : ۶۳
مختلف مواقع پر حضرت مولاناسجاد ؒ کےقلم سے نکلنے والے بعض قانونی مسودات کا مجموعہ ، جس کو حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کےزیرنگرانی جناب مولانامحمدضمان اللہ ندیم صاحب نےمرتب کیاہے،اس میں بنیادی طورپرپانچ مسودے ہیں :
٭مسودہ مسلم قانون فسخ نکاح۔
اس کومولوی غلام بھیک اورمحمداحمدکاظمی نے مرتب کیاتھا،اس میں کئی قانونی اور
علمی خامیاں تھیں ،حضرت مولانامحمدسجادؒ نے اس پر ایک علمی تبصرہ تحریرفرمایا،اوران خامیوں
کی نشاندہی فرمائی۔
٭مسودہ قانون انفساخ نکاح مسلمات ۔
یہ حضرت مولاناسجادؒکےقلم سےہے جس کوآپ نےمولوی غلام بھیک وغیرہ کےمرتب کردہ مسودۂ قانون کےبالمقابل ایک جامع متبادل کےطورپرتحریرفرمایاتھا۔
اس کے ساتھ ہی آپ نے اس مسودہ کی ترجیح کے اسباب ووجوہ پربھی ایک مستقل تحریرلکھی وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔
٭مسودہ ٔنظارت امورشرعیہ ۔
اس میں حکومت ہند سے ایک ایسے قانونی ادارہ کامطالبہ کیاگیاہے ،اور اس کاتفصیلی خاکہ پیش کیاگیاہے،جومسلمانوں کی تعلیم وتربیت ،اور ان کےمذہبی قوانین اورمعاشرتی روایات کےتحفظ کےلئے مخصوص ہو،جس کےتحت امورشرعیہ کی انجام دہی کے لئے ایک بااختیارمسلم حاکم مقرر ہوجو قاضیوں کاتقرر کرے اورمسلمانوں کی مذہبی تعلیم اور ان کے مذہبی قوانین کی نگرانی بھی کرے۔
حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی صاحبؒ اس مسودہ پرتبصرہ کرتے ہوئے تحریرفرماتے ہیں :
"جولوگ فقہ اسلامی پرنظررکھتے ہیں وہ اس مطالبہ کےپیچھےمولاناکے
اس ذہن رساکوپڑھ سکتے ہیں ،جس کےذریعہ انہوں نےاس طرح کے
مخصوص حالات میں فقہ اسلامی کی ہدایات کوعملی صورت دینے کی
کوشش کی” ۔
٭اوقاف پرزرعی ٹیکس ۔
اس میں حضرت مولاناسجادؒ نے زرعی ٹیکس کے قانون سے اسلامی اوقاف کوخارج کرنے کامطالبہ کیاہے ،اور اس کومذہبی مداخلت قراردیاہے ،مولاناؒنے اس کی قانونی وجوہات پر بھی روشنی ڈالی ہے،حضرت ابوالمحاسن ؒکےاخاذ اور مجتہدانہ ذہن کاشاہکار۔
٭تحفظ مویشیان کابل ۔
حکومت ہندکےنافذکردہ ایک تعزیری بل کےجواب میں ایک قانونی تحریرجس میں حضرت مولاناؒ نے نہایت مدلل طورپراس بل کےقومی وملکی نقصانات اور اس سے پیدا ہونے والے منفی اثرات پرروشنی ڈالی ہے،اور جوکچھ لکھاہے وہ فراست کے آئینہ میں دیکھ کرلکھاہے ،آپ نے جن خدشات کااظہاراپنی اس تحریر میں کیاتھا،زمانۂ مابعدنےان پرمہر تصدیق ثبت کردی،جس کاسلسلہ تاہنوزجاری ہے۔
یہ مجموعہ امارت شرعیہ سے شائع ہوچکاہے۔
(۴)حکومت الٰہی
تصحیح وتقدیم : حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ صفحات : ۱۳۳
اس کتاب میں اسلامی قانون کی جامعیت وابدیت اورہرزمانہ میں اسلامی نظام حکومت کی ضرورت پر مدلل بحث کی گئی ہے،اسلام کااجتماعی نظام حضرت مولاناسجادؒکےتفکر کا خاص موضوع تھا،اسی کاایک جزوحکومت الٰہی ہے،حکومت الٰہی یاخلافت اسلامیہ کاایک مفصل اورمرتب نقشہ حضرت مولاناؒکے ذہن میں موجود تھا،اور بقول حضرت امیرشریعت رابع مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ جنہوں نےسب سےپہلےاس خاکہ کودنیاکےسامنے پیش کیا:
"حضرت مولاناکی یہ انتہائی خواہش تھی کہ کسی طرح وہ اپنے دماغ کی امانت
قلم کےسپرد کردیں ،چنانچہ مولانانے اس مسئلہ کے متعلق تمام تفصیلات
ابتداء ً نوٹوں کی شکل میں یکجاکیں اور پھراس کومرتب فرماناشروع کیا،ابھی
زیرنظر "تمہید”ہی لکھنے پائے تھےکہ داعی اجل نے آوازدی،مولانانے لبیک
کہا،اوراس سے جاملےجس کی بادشاہت ان کی زندگی کانصب العین تھا۔
یہ کتاب دراصل اس تفصیلی نظام کی تمہید ہےجس کومولاناحکومت الٰہیہ کا
مکمل نظام کےنام سے لکھناچاہتے تھے،لیکن اس تمہید میں تقریباً وہ تمام
مضامین سمٹ آئے ہیں جن کی ابتداءً ضرورت تھی ،اور جن کےبغیر نہ
حکومت الٰہی کےمکمل نظام کوپیش کیاجاسکتاہےاور نہ سمجھاجاسکتاہے،
اوراس لئے یہ تمہید خودبھی ایک قیمتی تالیف بن گئی ہے ”
آغازکتاب میں حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ کامقدمہ ہے جس میں کتاب کےمضامین کاتفصیلی تعارف پیش کیاگیاہے،جودراصل کتاب کاپہلاباب ہے ،اور دوسراباب جس کوحضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ باوجودخواہش وآرزوسپردقرطاس نہ کرسکے،اس کے بارے میں مولاناسیوہاروی ؒ لکھتے ہیں:
"افسوس کہ مولانامرحوم اس اہم اورعظیم الشان تمہیدکےبعداس
دوسرے باب کی تکمیل نہ فرماسکے،جوایک مکمل دستوراوربے نظیر
جماعتی نظام کی شکل میں سامنے آتااورخلافت راشدہ کےتیس سالہ
عملی نظام کی تدوین کاشاہکاربنتا” ۔
دوسرے باب کےلئےحضرت مولاناسجاد صاحب نےجونوٹس تیارکئےتھے،وہ مولانامنت اللہ رحمانیؒ کےپاس موجود تھے اور مشکل کےباوجودوہ ان کومرتب کرنے کاارادہ رکھتے تھے ،مگر مولانارحمانی کواس کےلئے شایدمہلت نہ مل سکی،اور ان کے بعد یہ قصہ ہی فراموش ہوگیا،اور اب شایدکسی کونہیں معلوم کہ حضرت مولاناسجادؒکے وہ نوٹس کہاں گئے ؟
حضرت مولاناسجادؒکی گم شدہ غیرمرتب یادداشت کامرتب عملی نمونہ تھوڑے فرق کےساتھ امارت شرعیہ بہارواڑیسہ ہے ،حضرت رحمانی ؒ رقمطرازہیں :
"اگرآج مکمل اقتدارحاصل ہوجائے،توتھوڑے سےاضافہ کےبعد
"امارت شرعیہ "خلافت اسلامیہ کی شکل اختیارکرسکتی ہے،بلکہ اس
کی ہیئت ترکیبی ہی ایسی ہےکہ قوت کے حصول کے بعد وہ "خلافت
اسلامیہ "کےسوااورکوئی چیزبن ہی نہیں سکتی” ۔
اس کتاب کی پہلی اشاعت دسمبر ۱۹۴۰؁ء میں حضرت مولانامنت اللہ رحمانی کے زیراہتمام عمل میں آئی ،جس میں نواب عبدالوہاب خان اورمکتبہ سیفیہ مونگیرکی مالی معاونت کابڑاحصہ شامل رہا،اوردوسری اشاعت ۱۹۹۹؁ء میں خودامارت شرعیہ پھلواری شریف نے کی۔
(۵)خطبۂ صدارت
تصحیح وتقدیم : حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی صفحات : ۱۴۳
اجلاس جمعیۃ علماء ہند مرادآباد میں پیش کردہ خطبۂ صدارت ،بے حد علمی اور بصیرت افروز ہے،مولاناؒکےاس خطبہ میں قیام جمعیۃ علماءہند،امارت شرعیہ ،ہندومسلم اتحاد،جیسےملکی مسائل کےعلاوہ خلافت ترکی کےتحفظ ،حجازاورجزیرۃ العرب کےمسائل،اورحرمین شریفین ودیگرمقامات مقدسہ کے نظم وانتظام جیسے عالمی مسائل سےبھی تفصیلی بحث کی گئی ہے، اورتاریخی وعلمی مآثر کےذریعہ ان کومدلل کیاگیاہے،اسی کےساتھ اسلامی سیاست کامفہوم اورحدود،علماء اوراسلامی سیاست -فکری اورتاریخی تناظرمیں،اقامت خلافت کی شرعی حیثیت ،امارت شرعیہ کاحکم اوراس کااجمالی خاکہ،ترک موالات کاحکم ،تبدل احکام شرعی کی حقیقت،غیرمسلموں سےاتحادکاحکم اوراصول وغیرہ بہت سے علمی وفکری مسائل وموضوعات کابھی یہ مرقع ہے،اس خطبہ میں آپ نے علماء کومسلکی تنگ نظریوں اورفروعی اختلافات سے بالاتر ہوکرکام کرنے کاپیغام دیاہے،علماء میں تنظیم واتحاد کی کس درجہ ضرورت ہےاور ملک وملت کےلئے وہ کس قدرمفیدہے؟ اس پر روشنی ڈالی ہے،خطبہ کاآخری حصہ عربی زبان میں ہے اور اس کےمخاطب علماء کرام ہیں۔۔۔
خطبہ کی اسی جامعیت سے متأثرہوکرحضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒنےاس کواسلامی سیاسیات کاانسائیکلوپیڈیاقراردیاہے ۔جومبنی برحقیقت ہے۔
یہ کتاب حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی توجہ سے ۱۹۹۹؁ء میں امارت شرعیہ سے شائع ہوئی ۔
(۶)مقالات سجاد صفحات : ۱۶۵
سیاسی ، اصلاحی اور تعلیمی مسائل پرحضرت مولانامحمدسجادؒ کے مختلف نایاب مقالات کامجموعہ جس کوحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی نگرانی میں مولانامحمدضمان اللہ ندیم مرحوم نے مرتب کیا،۱۹۹۹؁ء میں امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ نے شائع کیا۔
اس مجموعہ میں تیرہ (۱۳)مقالات شامل ہیں ،پانچ(۵) سیاسی نوعیت کے اورآٹھ (۸)اصلاحی مقالات ہیں،جن میں بعض بڑے اہم اورحساس موضوعات بھی ہیں ۔
سیاسی مقالات درج ذیل موضوعات پرمشتمل ہیں :
(۱)ہندوستان کاآئندہ دستوراساسی
اس میں حضرت مولاناسجاد ؒنے انگریزوں کے بنائے ہوئے اس دستور کاتفصیلی جائزہ پیش کیاہے جو ۱۹۳۶؁ء میں ملک میں بحیثیت دستورنافذہونے والاتھا،اورجس کو سمندرپار برطانیہ میں مرتب کیاگیاتھا،اس دستور کواس وقت کے تقریباً تمام ہی اصحاب سیاست نے ناقابل قبول قراردیاتھا،لیکن حضرت مولاناسجادؒ کویقین تھاکہ یہ دستورہندوستانیوں کی ناپسندیدگی کےباوجودہندوستان میں نافذ ہوکررہے گا،اس لئے مولاناؒنے اس دستور کےایک ایک جزوپر تفصیلی گفتگوکی اور اس کی قانونی کمزوریوں اور ملی نقطۂ نظر سے متوقع خدشات کی نشاندہی فرمائی ،حضرت مولاناؒ کایہ مقالہ جریدہ نقیب پھلواری شریف پٹنہ میں شائع ہواجواس وقت کاکثیرالاشاعت اخبارتھا،مولانانےیہ مقالہ لکھ کرہندوستان کے تمام اہل اسلام کی طرف سےفرض کفایہ انجام دیا،اور اسی کےبعد مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے دستورمرتب کئے ، مولانانے بھی جمعیۃ کی طرف سے ایک دستور مرتب کیاجس کاذکر پہلے آچکاہے۔
(۲)اسلام اورمسلم قومیت کےکیامعنیٰ ہیں ؟گاندھی جی غورکریں ۔
یہ گاندھی جی کے ایک مضمون کےردمیں لکھاگیاتھاجو اختلاف رائے کے عنوان سے ۱۱/نومبر۱۹۳۹؁ء کےہریجن اخبارمیں شائع ہوااوراس کااردوترجمہ اخبارزمزم میں شائع ہوا،اس مضمون میں گاندھی جی نے اپنے عدم تشدد(اہنسا)کےنظریہ کواسلامی اورقرآنی تعلیمات سے ثابت کرنے کی کوشش کی تھی ،تاکہ وہ مسلمانوں کے لئے بھی قابل قبول ہوسکے، ۔۔۔مولانانےاس مقالہ میں گاندھی جی کےخیالات کی تردیدکرتے ہوئے ان کی ایک ایک دلیل کےتاروپودبکھیردئیے۔
(۳)گاندھی جی اورکانگریس
گاندھی جی کانگریس کےاہم رکن بلکہ روح روں تھے،لیکن ایسانہیں تھاکہ اوردوسرے ارکان ان سے کم اہم تھے ،لیکن گاندھی جی نے اپنی ہوشمندی سے پارٹی پراپنی گرفت قائم رکھنےکے لئے کبھی مذہبی نظریات توکبھی قومی خدمات کے عنوانات سے مختلف چیزوں کی تشہیر کرتے رہتےتھے،اسی ضمن میں ان کے حامیوں نےگاندھی ازم ،ہندوازم اورجناح ازم وغیرہ اصطلاحات استعمال کرکے گاندھی جی کی شخصیت کوایک نظریاتی شخصیت بنانے کی کوشش کی ،اوریہ بھی ظاہرکیاگیاکہ کانگریس گاندھی ازم کےراستہ پرچل رہی ہے ،اس طرح گاندھی جی اپنے کئی سیاسی حریفوں کومات دیناچاہتے تھے،حضرت مولانا سجادؒ نے اصل معاملہ کی نزاکت محسوس کرلی اوراس قسم کی کوششوں کاعلمی وسیاسی تعاقب فرمایا،مولاناؒ نے پوری وضاحت کےساتھ لکھاکہ :
"مسلمان سکھ ،پارسی ،عیسائی،گاندھی جی کونہ کل مہاتمامانتے تھے نہ آج مانتے
ہیں وہ کانگریس میں محض اس لئے شریک ہوئے ہیں کہ وہ برطانوی شہنشاہیت
کےخلاف متحدہ محاذہے ”
حضرت مولاناسجادؒنے اس مضمون میں مدلل طورپردرج ذیل نکات پرروشنی ڈالی کہ(حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ کے الفاظ میں ):
"گاندھی جی کےفلسفہ کی بنیادیں کیاہیں؟کانگریس میں فکری تضادکی تفصیل
اوراس یقین کااظہارکہ عام کانگریسیوں نےگاندھی جی کےفلسفہ کوبطورعقیدہ
نہیں،بلکہ وقتی حکمت عملی اورپالیسی کی حیثیت سے قبول کیاہے،اہنسا،ضبط اور
سچائی کےجواصول گاندھی جی نےاختیارکئے ہیں اورجس طرح ان کی تشریح
کی ہےوہ ارتجاعی بن گئے ہیں،اورفطرت انسانی کےخلاف ہیں،یہ تحریرآج
بھی زندہ ہےاورگہرےمطالعہ کی مستحق ہے”
(۴)فرقہ وارانہ معاملات کافیصلہ کن اصولوں پرہوناچاہئے؟
اس میں مختلف فرقوں اورجماعتوں کےدرمیان مصالحت اورہم آہنگی کےاصولوں پرروشنی ڈالی گئی ہے۔
(۵)مسلم انڈیااورہندوانڈیاکی اسکیم پرایک اہم تبصرہ
مسلم لیگ نےہندومسلم اختلافات کےحل کےطورپرایک اسکیم پاس کی ،جس کانام تھا”مسلم انڈیااورہندوانڈیا”،حضرت مولاناسجادؒنےاس اسکیم کوقانونی ،سیاسی اورمعاشی ہر اعتبارسے ناقابل عمل قراردیا،اس مضمون میں اس کی پوری تفصیل معقول دلائل کے ساتھ موجودہے ،یہ مضمون نقیب پھلواری شریف ۱۴/اپریل ۱۹۴۰؁ء میں شائع ہواتھا۔
ان کےعلاوہ آٹھ (۸)مقالے اصلاحی ہیں :
(۶)اصلاح تعلیم ونظام مدارس عربیہ
یہ مقالہ جمعیۃعلماءبہارکےاجلاس کی رپورٹ پرمشتمل ہے اوراس میں مدارس کوفعال اورزیادہ سےزیادہ مفیداوربااثربنانےکےلئےلائحۂ عمل پیش کیاگیاہے،اس میں حضرت مولاناؒکےبعض تعلیمی نظریات بھی آگئےہیں،جن کی معنویت آج بھی محسوس کی جاسکتی ہے،اس وقت مولاناؒجمعیۃ علماء بہارکےناظم تھے۔
(۷)ضلع پورنیہ کادورہ۔مسلمانوں کاجوش وخروش–خوش آئندتوقعات
اس مضمون میں حضرت مولاناسجادکے دورۂ پورنیہ کی روئیداد اور پورنیہ کے مسلمانوں کی دینی ،تعلیمی ،معاشی اوراخلاقی صورت حال کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔
(۸)نشہ خوری سےاجتناب فرض ہے۔
اس میں مسکرات کی حرمت وممانعت پرمدلل گفتگوکی گئی ہے،اس زمانہ میں حکومت بہار نے شراب پرپابندی عائدکی تھی ،اسی تناظر میں یہ مضمون لکھاگیاتھااورحکومت بہارکومبارکباد بھی پیش کی گئی تھی۔
(۹)تحریک تبرّا۔
یوپی میں ایک تبرّائی فرقہ پیداہواجو خلفاء راشدین اورصحابۂ کرام کوسب وشتم کرتاتھا،یہ مضمون اسی کےرد میں لکھاگیاتھا۔
(۱۰)غزوۂ احدمیں بصیرتیں ،سمع وطاعت کی تعلیم۔
غزوۂ احد سے انسانیت کوکیاسبق ملتاہے ،اور سمع وطاعت کی کمی سے امت کس طرح مصیبتوں میں مبتلاہوجاتی ہےحضرت مولاناسجادصاحبؒ نےبڑے مؤثرانداز میں ان نکات پرروشنی ڈالی ہے۔
(۱۱)تحدیث نعمت ۔
اس مقالہ میں حضرت ابوالمحاسنؒ نے امارت شرعیہ کےقیام کی مختصرروداد ذکرکی ہے اوراس کومسلمانان بہار کےلئے نعمت عظمیٰ قراردیاہے۔
(۱۲)زلزلےاورحادثے- ایک تاریخی جائزہ
۲۸/رمضان المبارک ۱۳۵۲؁ھ مطابق ۱۳/جنوری ۱۹۳۴؁ء کوبہارمیں قیامت خیز زلزلہ آیا،جس سے بھیانک تباہی آئی ،حضرت مولاناؒنے تن من دھن کی بازی لگاکرمصیبت زدگان کی خدمت کی اوراسی کےساتھ صبروتسلی کےلئے یہ علمی وتاریخی مقالہ قلمبندفرمایا جس میں سنین کی ترتیب پر تاریخ کےاکیاسی (۸۱) بڑےہولناک زلزلوں کاذکرفرمایاہےجن کے سامنے بہار کے زلزلہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے ،اللہ کاشکراداکرنا چاہئے کہ اللہ پاک نے
بڑے زلزلوں سے ہماری حفاظت فرمائی۔
(۱۳)رانچی کاصدارتی خطاب۔
یہ جمعیۃ علماء ضلع رانچی کےاجلاس میں بحٰثیت صدراجلاس آپ نے زبانی طورپرخطبہ ارشادفرمایاتھا،جس میں سورۂ فاتحہ کی روشنی میں مسلمانوں کی زندگی کےلئے لائحۂ عمل پیش کیا گیاتھا،بعد میں کسی نے اس تقریر کوتحریرکی صورت عطاکی ،گوکہ اس میں پوری تقریرنہ آسکی لیکن اس کالب لباب ضرور آگیاہے۔
(۷)امارت شرعیہ –شبہات وجوابات
تصحیح وتقدیم : حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی صفحات : ۸۷
نظریۂ امارت کی بہترین علمی تشریح اور شبہات واعتراضات کے جوابات حضرت امیر شریعت اول مولاناشاہ بدرالدین پھلواروی ؒ اوربانی امارت شرعیہ حضرت مولاناسجادؒ کے قلم سے۔
یہ کتاب دراصل حضرت مولاناعبدالباری فرنگی محلیؒ (جوتحریک خلافت اورجمعیۃ علماء ہندکےبانیوں میں تھے)کےشبہات کے جواب میں لکھی گئی ہے،حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی اس کتاب کاپس منظربیان کرتے ہوئےاس کے”حرف اول”میں لکھتے ہیں:
"جب قیام امارت شرعیہ اورنصب امیرکی تحریک چلی توحضرت فرنگی محلی ؒ کےذہن میں چندشبہات پیداہوئے،ان میں ایک اہم بات یہ تھی ،کہ انہیں یہ اندیشہ تھاکہ جس شخص کواس منصب پرمقرر کیاجائے گاکبھی وہ اقتدارکےسامنے خوف سے مرعوب ہوکریاکسی لالچ میں آکرجھک نہ جائے اورامت کاسودانہ کرلے۔
دوسراشبہ مولاناکویہ تھاکہ ان کےنزدیک ہندوستان دارالاستیلاء ہےیعنی ایسا ملک جوحقیقتاًدارالاسلام ہے،لیکن اس پرغیرمسلموں کوغلبہ واقتدارحاصل ہوگیاہو،مولانااس کےبھی قائل ہیں کہ اس عارضی استیلاء کودورکرناہمارافرض ہے،لیکن وہ اس کےمتلاشی ہیں کہ کیاایسی صورت میں امیر مقررکرلینااورپھر اس کی بیعت کرنالازم وضروری ہےاورکیااس کی نظیرقرن اول میں موجودہے،مولانانےاس طرح کی بیعت کےجوازکاتوانکارنہیں کیالیکن ان کولزوم میں شک رہا۔
تیسراسوال ان کےذہن میں یہ تھاکہ اس طرح جوامیرمقررکیاجائےگا،اس کی حیثیت کیاہوگی،آیاوہ امام اعظم ہوگا؟یاوالی(امیرالناحیۃ)یاقاضی ؟اگرامام اعظم تسلیم کیاجائے توپھراس کاٹکراؤخلیفہ سے ہوگا،اوراس کی کامیابی کی صورت میں فتنہ پیداہوگا،اورناکامی کی صورت میں نیافرقہ،اوروالی وقاضی کےلئےبیعت ہےنہیں،اس لئے اولاًامیرکی حیثیت کاتعین ضروری ہے۔
حضرت فرنگی محلی ؒ کےدوخطوط کےجوابات امیراول مولاناشاہ بدرالدین صاحب نےدئیےہیں اورتیسرےخط کاتفصیلی جواب مولاناسجادصاحب ؒ نےدیاہے،ہردو بزرگوں کےتحقیقی جواب کاحاصل یہ ہےکہ اسلام کےعام اجتماعی قانون کےتحت مسلمانوں پرنصب امیرواجب ہے،چاہے وہ جہاں بھی ہوں ،اورجس حال میں بھی ہوں ،بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبۂ ثانیہ مکہ کی اس زندگی میں ہوئی،جب قہروغلبہ غیروں کوحاصل تھا،مکہ ہومدینہ دونوں ہی دارالحرب تھے،اوراسے ایک دارمانیں یادو،بہرصورت غیروں کےاقتدارمیں رہتے ہوئےکچھ افرادنےایک فردکےہاتھ پربیعت سمع وطاعت کی ،اوریہ بیعت محض اس بات کی نہیں تھی،کہ میں جب مدینہ آؤں گاتومیری مدد کرنا،بلکہ سمع وطاعت اوراسودواحمرکےمقابلےمیں جنگ پربیعت تھی ۔
پھریمن کےعلاقہ میں اسودعنسی کابغاوت کرنا،اورغلبہ واقتدارحاصل کرلینا دارالاسلام میں استیلاء کی نظیرہے،اوراس موقعہ پرصنعاء میں بوقت صبح صادق مسلمانوں کااجتماع اورحضرت معاذ بن جبلؒ کی امامت وامارت پراتفاق نبی کریم ﷺ سےاذن حاصل کئے بغیرمرکزاقتدارسے دورمسلمانوں پراستیلاء کفارکی صورت میں نصب امیرکی دلیل ہے۔
رہایہ شبہ کہ منتخب امیروقت کہیں اقتداروقت کےسامنےجھک نہ جائے،تویہ قابل لحاظ نہیں ہےاس لئےکہ اگراس طرح کے شک وشبہ کااعتبارکیاجائےتوانتخاب خلیفہ بھی اس طرح کےخطرہ کےپیش نظر صحیح نہیں ہوگا،خاص کرجن حالات میں خلیفہ عثمانی سلطان عبدالمجیدکاتقرر منصب خلافت پرعمل میں آیا،وہ خلیفہ کی مقہوریت کانمونہ ہے۔
اس کتاب میں یہ بھی واضح کردیاگیاہےکہ امیرشریعت کی حیثیت خلیفۂ اعظم کی نہیں بلکہ والی کی ہوگی ،اوروالی یعنی امیرناحیہ کبھی خود خلیفہ کی طرف سے مقرر کیاجاتاہےاور ایسی صورت میں اس کاعزل ونصب خلیفہ کےہاتھوں میں ہوتاہے،اورجب خلیفہ کی طرف سے والی کاتقرر ممکن نہ ہوتوارباب حل وعقد کی طرف سے والی مقرر کیاجائے گا،اوراس کے ہاتھ پر بیعت کی جائےگی ،اسی طرح مسئلہ قاضی کاہےاصل صورت تویہ ہےکہ خلیفہ یاوالی کی طرف سے قاضی کاتقرر ہولیکن ایساکسی وجہ سے نہ ہوسکےتوارباب حل وعقدپرلازم ہےکہ وہ قاضی کاانتخاب کریں ،اوراس کےہاتھ پربیعت کریں،پس امیرشریعت کی حیثیت والی کی ہےامام اعظم کی نہیں” ۔
تقریباً اٹھہتر(۷۸)سال قبل یہ رسالہ مجموعۂ مکاتیب بدریہ (لمعات بدریہ) کے ایک جزوکےطورپرشائع ہواتھا،۱۹۹۹؁ء میں حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ کی تحقیق وتعلیق کےساتھ یہ مستقل کتابی صورت میں مکتبہ امارت شرعیہ سےشائع ہوا۔
(۸)مکاتیب سجاد صفحات : ۱۰۷
یہ سات (۷)مکاتیب کامجموعہ ہے جن میں ایک مکتوب مولاناحکیم محمدیعسوب ندوی ؒ کاحضرت مولانامحمدسجادؒکےنام ہے،باقی چھ(۶)مکاتیب حضرت مولاناسجادؒکےدرج ذیل شخصیات کےنام ہیں:
٭حضرت حکیم الامت مولانااشرف علی تھانویؒ ۔
٭جناب محمدعلی جناح صدآل انڈیامسلم لیگ۔
٭جناب ڈاکٹرمحمودصاحب وزیرتعلیم بہار۔
٭جناب وائسرائےہند۔
٭نقبائے امارت شرعیہ ۔
ان مکاتیب کوحضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ کی نگرانی میں جناب مولانا ضمان اللہ ندیم صاحب نےمرتب کیااور ۱۹۹۹؁ء میں ان کامجموعہ مکتبہ امارت شرعیہ نے شائع کیا۔
(۹)دستور امارت شرعیہ صفحات : ۲۸
نظام امارت شرعیہ کا ایک دستوری خاکہ جس کوبنیادی طورپرخودحضرت مولانامحمدسجادؒ نے مرتب فرمایاتھا جوآپ کےقانونی دماغ کاشاہکارہے،مگر یہ دستورمکمل ہو کر آپ کی حیات طیبہ میں شائع نہ ہوسکا،آپ کےبعد مختلف امراء شریعت کےزمانہ میں اس پربحث وتمحیص ہوئی،لیکن اس کی طباعت کاشرف امیرشریعت خامس حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب ؒ کوحاصل ہوا،۲۲/ستمبر ۱۹۹۶؁ء کی مجلس شوریٰ میں اس کی طباعت کافیصلہ کیاگیا،اگست ۱۹۹۷؁ء میں یہ زیورطباعت سے آراستہ ہوا ۔
(۱۰)متفقہ فتویٰ علماء ہند صفحات : ۱۶
ترک مولات پر حضرت مولاناسجاد ؒ کاتحریرکردہ فتویٰ جس پر اس وقت کے تقریباً پانچ سو(۵۰۰)ممتازعلماء نے دستخط کئے تھے ،اس کو پہلی مرتبہ منشی مشتاق احمدصاحب نے شہر میرٹھ محلہ کوٹلہ سے باہتمام حافظ محمدسعیدہاشمی تاجرکتب ومالک مطبع ہاشمی میرٹھ شائع کیا،اب یہ آپ کےفتاویٰ کامجموعہ” فتاویٰ امارت شرعیہ جلد اول”(ص ۲۶۱ تا ۲۸۴)میں بھی شامل ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: