مضامین

حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒاورکانگریس تعلقات اورمسائل

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادؒاورکانگریس
تعلقات اورمسائل
کانگریس کےساتھ اشتراک عمل کارشتہ
٭حضرت مولاناسجادؒ کانگریسی نہیں تھے،اورنہ کانگریس میں ضم ہونے کےقائل تھے،بلکہ وہ مسلمانوں کوبحیثیت قوم اپنی انفرادیت قائم رکھنے کی تلقین کرتے تھے ، البتہ کانگریس کےساتھ ہمدردی اورکئی مسائل میں فکری اشتراک رکھتے تھے،خصوصاً ملک کی آزادی کےمسئلےمیں وہ کانگریس کےحامی تھے۔اوراس ضمن میں حسب موقعہ کبھی کانگریس کے باضابطہ ممبر بھی بن جایا کرتے تھے”
حضرت مولاناؒنےاپنےاس موقف کابارباراظہارفرمایا،اس سلسلےکی ایک اہم ترین تحریرجس کومولاناعثمان غنی صاحب نےمرتب کیاتھااوروہ حضرت مولاناؒکی حیات طیبہ میں "سیاست حاضرہ اورادارہ امارت شرعیہ "کےنام سے رسالہ کی شکل میں شائع ہوئی ،اس میں کانگریس کےتعلق سے امارت شرعیہ اورحضرت مولاناؒ کےموقف پرتفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے ،اس میں صاف طورپرکہاگیاہےکہ "امارت شرعیہ کو کانگریس سے کوئی تعلق نہیں ہے، کانگریس کےساتھ بعض ملی اوراجتماعی مفادات کےحصول کےلئےمحض اشتراک عمل کارشتہ ہے،جووقفہ وقفہ سے کانگریس کی سیاسی غلطیوں کی بناپرٹوٹتا رہتاہے”۔
یہ بیس(۲۰)صفحات کارسالہ دراصل جناب حاجی نوراحمدخان صاحب ڈہری ضلع شاہ آباد کےایک خط (مرقومہ شعبان ۱۳۵۷؁ھ مطابق اکتوبر۱۹۳۸؁ء)کاجواب ہےجو مولاناعثمان غنی صاحب ناظم اول امارت شرعیہ کےقلم سے دیاگیاہے،ظاہرہےکہ یہ حضرت مولاناسجادؒ کی ہدایات کی روشنی میں لکھاگیاہوگا ۔
اشتراک عمل ہی کی بنیادپرحضرت مولاناؒ کانگریس کےپروگراموں میں شریک ہوتے تھے،لیکن کہیں کوئی غلطی نظرآتی توبرملاتنقید فرماتے تھے،آپ کی موجودگی کانگریس کےلئےبالخصوص مسلمانوں کےحقوق اورمعاملات میں ایک آئینی حصارثابت ہوتی تھی، مولاناؒنےکبھی کانگریس کی کسی غلط پالیسی پر مصالحانہ رویہ اختیارنہیں کیا،اوربڑی بات یہ تھی کہ کانگریس ان اصلاحات کوقبول کرتی تھی۔
٭کانگریس کےایک اجلاس(۱۹/جنوری ۱۹۳۹؁ء) میں حضرت مولاناؒکی شرکت اورجوابی تقریرکی رپورٹ نقیب (مورخہ ۲۰/ذی قعدہ ۱۳۵۷؁ھ)میں شائع ہوئی تھی،اس کایہ اقتباس اس سلسلےمیں کافی چشم کشاہے:
"حضرت مولاناؒنےڈاکٹرصاحب(ڈاکٹرسیدمحمودصاحب)کابھی شکریہ ادا
کیاکہ آپ نےمذہبی تعلیم کی ضرورت واہمیت کواصولاًتسلیم کرلیا،امیدہے
کہ وہ اس کی اہمیت کی بناپر مسلمانوں کے لئے اس کوجلد ہی لازم بھی
قرار دیں گے ،دیہات سدھار سے گاندھی ازم کےاخراج پربھی آپ
نے شکریہ ادا فرمایا، اخیر میں آپ نے فرمایاکہ صحیح اعتراض سےڈاکٹر
صاحب کو گھبرانا نہیں چاہئے ،بلکہ اس کےازالہ کی کوشش کرنی چاہئے،
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کانگریس یا اس کی حکومت پر صحیح اعتراض
کانگریس کی حمایت کے منافی نہیں ہے ،چنانچہ مولانا ابوالکلام آزاد
نےخودمجھ سے فرمایاہے،کہ کانگریس یا اسکی حکومت کی واقعی
غلطیوں کوبتاناچاہئے،اس سےچشم پوشی ہرگزنہیں کرنی چاہئے،ان
کی غلطیوں کانہ بتانا،کانگریس اورملک سے غداری ہے،ہرکانگریسی
کوچاہئے کہ وہ غلطیوں کوبتایاکرے ، میں اس وقت بھی کہتاہوں
کہ جب بھی حکومت کےطرزعمل کی غلطیوں کو دیکھ لوں گایقیناً
اعتراض کروں گا”
٭سحبان الہندحضرت مولانااحمدسعیددہلوی ؒ نےبھی اپنےمضمون میں حضرت مولاناسجادؒکی ایک تقریر کااقتباس نقل کیاہے،جس سے کانگریس کےتعلق سے حضرت سجادؒ کا نقطۂ نظرواضح ہوتا ہے:
"انہوں نے الہ آباد کی یونیٹی کانفرنس میں ڈاکٹر منجے کی ایک تقریر کا
جواب دیتے ہوئے صاف کہاتھا،کہ جہاں تک ملک کی آزادی کاسوال
ہے،مسلمان کانگریس کے ساتھ شریک ہیں ،اورپوری قوت کے ساتھ
کانگریس کی حمایت کرنے کو آمادہ ہیں،لیکن جہاں تک مسلمانوں کی
مذہبی اور شرعی زندگی ہے اور ان کے شوشل معاملات کا تعلق ہے
،وہ ایک امیرکے ماتحت ہی رہ سکتےہیں، اور ان کی شرعی زندگی بدون
امیر کے نہیں رہ سکتی ۔ یہی وہ بات تھی جو باربار سمجھانے کےباوجود
ڈاکٹر منجے کی سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔
٭حضرت مولانا مفتی محمدظفیرالدین صاحب مفتاحی ؒسابق مفتی دارالعلوم دیوبند نےاپنےایک مضمون میں حضرت سجادؒکے مواعظ وملفوظات کےبعض اجزاء نقل کئے ہیں ،جو انہوں نےچھپرہ میں اپنےعہدطالب علمی میں سنےتھے،اس کاایک اقتباس ملاحظہ کیجئے اس سے کانگریس کے بارےمیں حضرت سجادؒکےرجحان پرروشنی پڑتی ہے:
"(۱۹۳۸؁ء کی) صوبائی کانفرنس کے موقع پر شرکت کانگریس کی تجویز
آئی تو ایک طرف زیادہ علماء اس کے قائل تھے کہ بغیر کسی شرط کے
کانگریس میں مسلمانوں کو شریک ہونا چاہیئے ، تو دوسری طرف چند علماء
اس کے قائل تھے کہ ایسا قطعا ًدرست نہ ہو گا ، جب حضرت مولانا
سجاد صاحبؒ سے کہا گیا کہ آپ فیصلہ فرمائیں تو مولانا نے فرمایا کہ
تجویز میںٗ”میں” کو”کے”سےبدل دیا جائے یعنی کانگریس کے ساتھ
ہو کر آزادی کی لڑائی انگریزوں سے لڑی جائے ،آپ نے فرمایا کہ
یقین جانیئے کہ جب آزادی کا وقت آئے گا ، برادرن وطن آپ کو
دھکا دے کر آگے بڑھ جائیں گے اور آپ غیر منظم ہوں گے تو
مسلمانوں کا قتل عام ہو گا، اس وقت کیا تجویز منظور ہوئی میں نہیں
جانتا ، مگر ملک جب آزادی کے قریب پہونچا تو ہم نے اپنی آنکھوں
سے وہ سارا منظر دیکھا ، جس کی مولانا محمد سجاد صاحبؒ پیشین گوئی
فرما گئے تھے” ۔
کانگریس کےساتھ اتحادوتعاون کی ایک منظم اسکیم
٭حضرت سجادؒکےذہن میں کانگریس کےساتھ اتحادوتعاون کاایک جداگانہ منصوبہ تھا،جس سے انہوں نےاپنےوقت کےبعض قائدین کوآگاہ کیاتھا،لیکن اس پران رہنماؤں نے سنجیدگی کےساتھ توجہ نہیں کی،اگر ایساہوتاتو آج ملکی سیاست میں مسلمانوں کا بھی ایک مقام ہوتا،حضرت مولانامنظورنعمانی صاحبؒ کوبھی حضرت سجادؒنےاپنی اسکیم سے آگاہ کیاتھااوراپنا منصوبہ تحریری صورت میں مطالعہ کےلئے عنایت فرمایاتھا،مولانا نعمانیؒ سے ہی اس کی تفصیل سنئے:
"یہ کوئی چھپی حقیقت نہیں اورکم ازکم جمعیۃ علماءسےتعلق رکھنےوالوں
میں توسب ہی کومعلوم ہوگاکہ کانگریس کی منسٹری قبول کرلینےکےبعد
سےراقم الحروف کی ذاتی رائے شرکت کانگریس کےمسئلہ میں جماعت
کے عام رجحان کےخلاف رہی ،اسی زمانےمیں حضرت مرحوم نےجو
اس وقت اس مسئلہ میں بہ نسبت دوسرےاکابرکےمجھ سےقریب
الخیال تھے،منظم شرکت کی ایک خاص شکل تجویزفرمائی اوراس نظام
کے ماتحت جو شرکت ہوتی وہ یقیناًبہت وزن دارہوتی،مولانامرحوم
نےوہ اسکیم مطالعہ کےلئےمجھے بھی عطافرمائی ،میں نےدیکھ کرعرض
کیاکہ اگرآپ اس کوجماعت سے منوالیں تومیں اس اصول پرشرکت
کاسب سےبڑا حامی ہوں ،اوراس نظام کوبروئے کارلانےکےلئےچھ
مہینےکےلئےاپنی خدمات بھی پیش کرسکتا ہوں ۔۔۔لیکن بدقسمتی کہ
اس وقت غالباًہمارےتیزروطبقہ کے اس سے متفق نہ ہونےکی وجہ
سےوہ اسکیم بس یوں ہی رہ گئی اوربعدمیں حالات بھی اس کےلئے
سازگارنہیں رہے ۔
حرب سلمی (سول نافرمانی )کاآغازمسلمانوں نےکیا
بعض لوگ اس غلط فہمی میں تھےکہ حضرت مولاناسجادؒ نےسول نافرمانی کی تحریک گاندھی جی سے لی تھی ،اوراس کواسلامی جامہ پہننےکی کوشش کرتے رہےاوراسی بناپربہت سے لیگی احباب نےاس کی حرمت کےفتوے بھی حاصل کئےتھے ،لیکن یہ ایک خلاف واقعہ بات ہے،حضرت مولاناسجادؒ نےخوداپنےایک مکتوب میں اس کاجواب دیاہے،تحریرفرماتے ہیں:
"اس سلسلہ میں ہندوستان کاایک تاریخی واقعہ عرض کرناچاہتاہوں ،وہ یہ
ہےکہ ہندوستان میں میری یادمیں سب سےپہلےحرب سلمی ۱۹۰۷؁ء میں
ضلع چمپارن میں کاشتکاروں نےاختیارکیا،جس کےلیڈرشیخ گلاب مرحوم
اورشیخ عدالت تھے،چارچار،پانچ پانچ سواشخاص ایک ایک مرتبہ پرامن
طریقہ پرجیل گئےاورمسلسل یہ جنگ جاری رہی،اس کےبعدغالباً۱۹۱۷؁ء
میں گاندھی جی ان کی مددمیں چمپارن گئے،اس جنگ کی تجویزاورابتدا
مسلمانوں نےکی ،جس میں غیرمسلم بھی شریک ہوئے،پھر۱۹۰۹؁ء میں
صرف مسلمانوں نےحکومت یوپی کےمقابلےمیں بمقام لکھنؤ "مدح
صحابہ "کےقضیہ میں اسی حرب سلمی کااستعمال کیا،اورتقریباًایک ہزار
مسلمان پرامن طریقہ پرقانون شکنی کرتے ہوئےجیل گئے،جس میں
کوئی ہندوشریک نہیں تھا،اورنہ گاندھی سےہندوستان واقف تھا،مگر
بدقسمتی دیکھئےکہ جب اس حربہ کو۱۹۲۱؁ء اور۱۹۳۰؁ء کی جنگ آزادی میں
مسلمان اختیارکرتے ہیں ،توخودمسلمان اس کوناجائزبتاتےہیں ،اوریہ
کہتے ہوئےنہیں شرماتےکہ "یہ گاندھی جی کی ایجادہے”
بالآخرپھرایک وقت وہ آیاکہ مسلم لیگ کےاجلاس پٹنہ (۲۴، ۲۵/دسمبر۱۹۳۸؁ء) میں خودمسلم لیگ نےبھی سول نافرمانی کی تجویزقبول کرلی ۔
کانگریسی پالیسیوں سےاختلافات واصلاحات
متعددمسائل میں آپ نےکانگریس سےاختلاف کیااوراپنےاختلافات کابرملا اظہاربھی کیا،مثلاً:
گاندھی ازم پرکھلی تنقید
(۱)گاندھی جی پرمختلف مسائل میں جتنی کھلی تنقیدحضرت مولاناسجادؒنے کی، خاص طور گاندھی ازم کےفلسفہ پر،کہ شایداس دورکےہندوستان میں جب کہ گاندھی جی کی طوطی بولتی تھی کسی نےایسی تنقیدوں کی جرأت نہیں کی،حضرت مولاناسجادؒنے ایک مفصل مضمون "گاندھی جی اورکانگریس "کےنام سےتحریرفرمایاجس میں آپ نے گاندھی جی کے فلسفہ کے (جس کوعام طورپرمذہبی رنگ میں پیش کیاجاتاتھا)تاروپود بکھیرکررکھ دئیے،اور گاندھی جی کی اصل تصویران کےسامنے کردی ،کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کی ہمدردی و حمایت کی غرض اورمعنویت بھی واضح کردی،اوران کوکسی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہنےکی تلقین فرمائی ۔
بالآخرکانگریس کوبھی حضرت مولاناؒکےسامنےاپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی اور دیہات اسکیم کےنام پرجس کھیل کاآغازکیاگیاتھا،اس سےواپس آناپڑا،خودکانگریسی وزیر تعلیم ڈاکٹرسیدمحمودصاحب نےدیہات سدھاراسکیم کی رسم افتتاح کےجلسہ میں اعلان کیا:
"دیہات سدھاراسکیم پربھی حضرت مولاناسجادصاحبؒ کواعتراض ہے
کہ اس کےذریعہ گاندھی ازم کی اشاعت ہوگی ،تومیں یہ عرض کرنا
چاہتاہوں کہ گاندھی ازم کاذکردیہات سدھار اسکیم میں غلطی سے
آگیاتھا حضرت مولاناؒکےتوجہ دلانےپراس کونکال دیاگیا،اورگاندھی
ازم کی اشاعت ہرگزنہیں ہوگی”
یہ وہ عظیم ارشادحق تھاجس میں حضرت مولاناسجادؒ کاکوئی شریک نہیں تھا،اسی لئے حضرت مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی ؒ فرماتےتھےکہ:
"کانگریس نےجب بھی کوئی ایسی ٹھوکرکھائی جس سے مسلمانوں کےکاز
کو نقصان پہونچنےکااندیشہ ہواتومولاناؒنےڈٹ کراس کامقابلہ کیا،اوربالآخر
کانگریس حکومت کو اپنےمطالبۂ حق کےسامنے جھکالیا ۔
علامہ سیدسلیمان ندویؒ لکھتےہیں:
"جذبۂ آزادی کی پوری قوت کےباوجودانہوں نےکانگریس یاکانگریسی
حکومت کےغلط قدم اٹھانےپرکبھی بزدلانہ یاصلح پسندانہ درگذرسے
کام نہیں لیا”
اورمولوی سیدمحمدمجتبےٰ صاحب رقمطرازہیں:
” کانگریسی لیڈروں سے اور اس کے اداروں سے مولاناؒ کے تعلقات ہمیشہ
بے لوث رہے اور ایک مثال بھی ایسی نہیں مل سکتی جس میں مولانا کا دامن
اغراض ذاتی سے وابستہ ہوا ہو، مخالفین کے اعتراضات جن بد گمانیوں پر
منحصر ہوں ان کی تحقیق کاتو موقع نہیں ،مگر مخالفین خود بھی اپنی بد گمانیوں
کی کوئی بنیاد آج تک نہ بتا سکے۔ کانگریس کے ساتھ مصلحتاًاتحادعمل مولاناؒ
کا کھلا ہوا تدبر تھا ،اور عملی طور پر جب اسلامی حقوق کی محافظت کانگریس
کی مخالفت کی داعی ہوتی ،تو مولاناؒ کانگریس کی مخالفت سے کبھی باز نہ آتے
،یہی وہ اصول عمل تھا جس کی وجہ کر ان کی ذات گرامی سے کانگریس
مرعوب بھی تھی اورخائف بھی ۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ مولانا ؒ کانگریس
یا ہندؤوں سے مرعوب ہوتے تھے وہ ان حقائق پر غور کریں جو عارضی
وزارت بنانے اور اس بیان کے شائع کرنے میں پوشیدہ تھے ،جو بت پرستی
کو برداشت کرنے اور مسٹر کر پلانی کے خط فلسفۂ گاندھی ازم کے جواب
میں لکھا گیا”
متحدہ قومیت کانظریہ
(۲)گاندھی جی نےمتحدہ قومیت کانظریہ پیش کیا،اوراس کوپورے ملک کےلئے قابل قبول بنانے کی کوشش کی توسب سے پہلے حضرت مولاناسجادؒ کاقلم اس کےخلاف حرکت میں آیا،حضرت مولانامنظورنعمانی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں:
” ۱۹۴۰؁ءکے شروع مہینوں میں ‘‘واحد قومیت’’کے مسئلے پرگاندھی جی نے
اپنے اخبار "ہریجن "میں مسلسل مضامین لکھنے شروع کئے اور ان میں ‘‘ایک
قوم ’’کے نظریےکو ایسے انداز میں انہوں نے پیش کیا ،جس کو اسلام کسی
طرح بھی برداشت نہیں کر سکتا بلکہ اگر مسلمان اس کو قبول کر لیں تو یقیناً ان
کو دین کے بڑے حصہ سے ہاتھ دھونا پڑے گا کانگریس سے تعلق رکھنے والے
ذمہ دار حضرات میں حضرت مولانا مرحوم نے ہی سب سے پہلے پوری تفصیل
کے ساتھ گاندھی جی کو ان کی غلطی پر متنبہ کیا اور بتلایا کہ ‘‘واحد قومیت’’ کا
جو تصور آپ رکھتے ہیں ،وہ مسلمانوں کے لئے نا قابل قبول ہونے کے علاوہ
واقعات کے لحاظ سے بھی محض غلط ہے اور ایسی ‘‘متحدہ قومیت’’ کا کوئی تصور
اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک ہندوستان میں ایک مسلمان بھی باقی
ہے ۔ بلکہ گاندھی جی یا ان کے چیلوں کا اس غلط مفروضہ پر اصرار ہندوستان
کے سیاسی مسئلہ کو بجائے آسان کرنے کے اور زیادہ مشکل کر دے گا ۔
۵/شوال۱۳۵۸؁ھ کےنقیب(ج ۷ شمارہ ۱۹،۲۰)میں حضرت مولاناسجادؒکامسئلۂ قومیت پرایک نہایت مفصل اورمدلل مضمون شائع ہوا،جس کاعنوان تھا:”اسلام اورمسلم قومیت کےکیامعنیٰ ہیں؟گاندھی جی غورکریں!”جس میں اس نظریہ کی قباحت معقول بنیادوں پرثابت کی گئی ہے،اب یہ مضمون "مقالات سجاد”کاحصہ ہے ۔
اہنسا(عدم تشدد)کانظریہ
(۳)کانگریس حکومت نےبہارکےمکتبی نصاب میں گاندھی جی کے فلسفۂ عدم تشدد (اہنسا)کوداخل کیاتو حضرت مولاناسجادؒ نےسختی کےساتھ اس کی مخالفت کی،اوراس کواسلامی تعلیمات کےمنافی قراردیا،آپ نےاس وقت کےوزیرتعلیم ڈاکٹرسیدمحمودکوخط لکھا،اوراس خطرہ کااظہارفرمایا کہ :
"مسلمانوں میں بجائےاسلام ازم پھیلانے،گاندھی ازم وہندوازم
پھیلانےکاتہیہ کیاجارہاہے،ممکن ہےآپ کی حکومت کایہ ارادہ نہ
ہومگراسکیم کاجوخاکہ ہےوہ میرےاس دعویٰ کی مستحکم دلیل ہے
،اس لئےمیں پوری ذمہ داری کےساتھ آپ سےمطالبہ کرتاہوں
کہ للہ مسلمانوں کی دماغی تربیت کےلئےسیدنامحمدرسول اللہ ﷺ
کی سیرت پاک اورخلفائےراشدین کی سوانح عمریاں رہنےدیجئےاور
"اہنسادھرم”اورگاندھی جی کی "تلاش حق”کی سرگردانی مسلمان
طلبہ پرمسلط کرکےغیراسلامی تعلیم وتربیت نہ پھیلائیے۔۔۔۔
(حضرت مولاناؒنےخط کےآخرمیں یہ دھمکی بھی دی) اس خط کی
بھی نقل مولاناابوالکلام صاحب کےپاس بھیج رہاہوں،اورایک ہفتہ
آپ کےجواب کےانتظارکےبعداپنی قومی،مذہبی ذمہ داری کی بناپر
میں اس خط کوپبلک کی واقفیت کےلئےپریس میں دے دوں گا”
حضرت مولانامنظورنعمانی ؒلکھتے ہیں کہ:
” جب ایک مرتبہ گاندھی جی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اسلام میں
اہنسا’’ کا تصور ہے ،تو اپنے حلقہ میں مولانا ؒ ہی نے پوری جرأت و عزیمت کے
ساتھ سب سے پہلے اس کے خلاف قلم اٹھایااور بتلایا کہ سیاسی حیثیت سے بلند
مرتبہ رکھنے کے باوجود گاندھی جی کی معلومات اسلام کے بارہ میں ایک طفل
مکتب سے زیادہ نہیں ہیں ۔
اس موضوع پرحضرت مولاناسجادؒ نےاپنےمقالہ”اسلام اورمسلم قومیت کے کیا معنیٰ ہیں؟گاندھی جی غورکریں!”میں مدلل بحث کی ہے،جومقالات سجادمیں موجودہے
تجویزنمائندہ اسمبلی
(۴)حضرت مولانامنت اللہ رحمانی صاحبؒ تحریرفرماتےہیں:
"نمائندہ اسمبلی والی تجویزجب پیش ہوئی تومولاناؒکےحکم سےپارٹی کی
طرف سےدوترمیمیں پیش کی گئیں:
(الف)نمائندہ اسمبلی کےنمائندے جداگانہ مذہبی حلقوں سےمنتخب
ہوں ۔
(ب)نمائندہ اسمبلی میں کثرت رائےپرفیصلہ نہ ہوبلکہ باہمی رضامندی
شرط قرار دی جائے۔۔۔ان ترمیموں کی معقولیت ظاہرہےلیکن پھربھی
ان ترمیموں پرکئی دنوں تک مباحثےہوتےرہے۔
(کانگریسی)وزیراعظم نے اپنی جوابی تقریرمیں اورایوان سےباہروزیر
مالیات نے ہمیں بتایا کہ یہ تجویز کانگریس ورکنگ کمیٹی کی منظورشدہ
ہےاس لئےکسی ترمیم کی گنجائش نہیں ہے۔
میں نےمولاناؒسےساری روئیدادکہی اوراپنی ذاتی رائے ترمیمیں واپس
لےلینےکےحق میں دی ،لیکن مولاناؒ کوان ترمیموں پربرابراصراررہا،
اوروہ یہ کہتے رہےکہ یہ سارےبہانےہیں،ورنہ اگروزیراعظم چاہیں تو
ابھی چندمنٹوں کےاندرصدرکانگریس سےفون پرطےکرسکتے ہیں۔
مولاناؒ کے اس مضبوط رویہ نےبالآخروزیراعظم کواس بات پرمجبورکیا
کہ وہ فون پر صدر کانگریس سےمشورہ کریں،چنانچہ صدرکانگریس
پنڈت جواہرلال کی مرضی سےیہ ترمیمیں بہاراسمبلی میں منظورہوئیں۔
یہ تجویزتمام کانگریسی صوبوں میں پیش کی گئی ،لیکن یہ دیکھ کرحیرت ہوتی
ہےکہ بہارکےعلاوہ تمام صوبوں میں یہ تجویز من و عن منظورہوگئی۔
صرف سندھ کےہندوممبران اپنےنقطۂ نگاہ سےایک ترمیم منظورکراسکے
زراعتی ٹیکس سےاوقاف کااستثنا
(۵)بہاراسمبلی میں کانگریس کی طرف سےزراعتی آمدنی پرٹیکس کامسودہ ٔ
قانون پیش ہوا،مولاناؒ کوشبہ ہواکہ کہیں اس قانون کی زد اوقاف پرنہ
پڑے،چنانچہ انہوں نےپورامسودہ پڑھواکرسنا،سننے پرمولاناؒ کاخدشہ صحیح
نکلا،آپ نےمسلم اوقاف کابل بہاراسمبلی میں مسٹر محمد یونس صاحب
سابق وزیراعظم صوبہ بہارکےذریعہ پیش فرمایا ۔ابتداءً مولاناؒکی یہ
کوشش رہی کہ ارباب حکومت سے مل کراس مسئلہ کوباہمی طورپرطے
کرلیاجائے،لیکن جب وہ اس پرراضی نظرنہ آئے تومولانا کواخبارات
میں بیانات اورپھرسول نافرمانی کی دھمکی دینا پڑی ، اسی دوران مولانا
ابوالکلام صاحب مدظلہ مسئلہ کو سلجھانے کےلئےپٹنہ تشریف لائے،
اوران کے مشورہ سےحکومت بہارنے ترمیم منظورکرلی،اوربہاراسمبلی
میں زراعتی آمدنی پرٹیکس کےقانون سےاوقاف کومستثنیٰ کردیاگیا۔۔
۔لیکن بہارکونسل سےابھی وہ پاس نہیں ہوپایاتھاکہ کانگریس حکومت
مستعفی ہوگئی ۔
اوقاف پرزرعی ٹیکس کےردپرحضرت مولاناسجادؒکاایک علمی مضمون امارت شرعیہ سے شائع شدہ "قانونی مسودے”میں موجودہے،اپنےموضوع پرانتہائی مدلل اورمفصل تحریر ہے ۔
دیگرکئی بلوں کی منظوری
(۶)انکم ٹیکس کےقانون میں کامیابی حاصل کرنےکےبعدمولاناؒنےپارٹی
کی طرف سےمسلم وقف بل ،لوکل باڈیز(ڈسٹرکٹ بورڈوں سےمتعلق)
بل،اورمیونسپلٹی کاترمیمی مسودۂ قانون مرتب کیا۔
جب حکومت کوان مسودوں کی اطلاع ملی توخوداس نےاپنےطورپرمسلم
وقف بل ،اورمیونسپلٹی کاترمیمی بل پیش کیا،سب سےپہلےمسلم وقف بل
سامنےآیا، مجوزہ بل نہایت ناقص تھا،چنانچہ اس پرغورکرنےکےلئے
ایک منتخبہ کمیٹی بنی ،کمیٹی نے اپنے جلسوں میں مولاناؒ کوبھی طلب کیا،
اوران کی رائے سےبجزدوچارمقامات کے ہرجگہ اتفاق کیا، رائے شماری
کے وقت پارٹی نے مجموعی طورپربل کی حمایت کی البتہ ان مقامات پر
جہاں اتفاق نہ ہوسکا،مخالفت کی ،پھربھی یہ کہناغلط نہ ہوگاکہ صوبۂ بہار
کاوقف بل ہندوستان کےدوسرے صوبوں کے وقف بلوں سےکئی
درجہ بہترہے ۔
ڈاوری بل کی اصلاح
(۷) کچھ دنوں کےبعدایک غیرسرکاری مسودۂ قانون جہیزبل (ڈاوری
بل)کےنام سے پیش ہوا،مولاناؒکی دوربین نگاہوں نے اس کے مضر
اثرات کافوراًاندازہ کرلیا،اوریہ مولاناؒہی کی محنتوں کانتیجہ تھاکہ اس بل
سےمسلمان بری کردئیےگئے ۔
مذہبی تعلیم کاحق
(۸)حضرت مولانا کی کوششوں سےڈاکٹرسیدمحمودوزیرتعلیم نےابتدائی تعلیم میں مسلمانوں کےلئےمذہبی تعلیم کےحق کوتسلیم کیا ۔انہوں نےکانگریس کےایک اجلاس (۱۹/جنوری ۱۹۳۹؁ء)میں حضرت مولاناسجادؒکی موجودگی میں یہ اعلان کیا:
"ہمارے مخدوم مولاناسجادصاحب کوسخت اعتراض ہےکہ اس میں
مذہبی تعلیم نہیں ہے،حضرت مولاناکےکہنےپرمیں نےمذہبی تعلیم
کی اجازت دےدی ،اور اصولاًمیں نےمذہبی تعلیم کی ضرورت کو
تسلیم کیاہے”
نہرورپورٹ اوردیگرنام نہاداصلاحی اسکیموں کی مخالفت
مولاناشاہ حسن آرزوصاحب لکھتےہیں:
(۹)نہرورپورٹ جب سامنےآئی تومولاناؒنےاس سےاصولی اختلاف شروع کیااور آخری وقت تک پوری قوت کےساتھ اختلاف کرتے رہے۔اسی طرح نئی اصلاحات ملکی سے انہوں نےپوری طاقت کےساتھ اختلاف کیا،وہ جدیدنظام حکومت میں مسلم مفادات کا سخت نقصان تصورکرتےتھے،اورفرماتےتھےکہ اس سےتوبعض لحاظ سےنہرو رپورٹ ہی بہترچیز تھی ۔
شارداایکٹ کی مخالفت
(۱۰)اسی طرح شارداایکٹ جب سامنےآئی توچونکہ اس کاتعلق ہندؤں کی طرح مسلمانوں سےبھی تھااس لئےمولاناؒنےاس کی پوری کوشش کی،کہ مسلمان ہرحال میں اس قانون سےالگ کردئیےجائیں،کیونکہ یہ قانون آئندہ شرعی قانون سےیقینی متصادم ہوگا

کانگریسی حکومت کی غیرمنصفانہ روش کےخلاف احتجاجی مکاتیب
مولاناعثمان غنی صاحبؒ نےاس سلسلےکےدواوراہم واقعات کی طرف اشارہ کیاہے ،جوان کےخیال میں چندمخصوص حضرات کےسوابہت کم لوگوں کومعلوم ہے:
(۱۱)”ایک یہ کہ حضرت مولانانےمسلمانوں کےمعاملات میں کانگریسی
حکومت کی غیرمنصفانہ روش اور کانگریسی ورکنگ کمیٹی کی غفلتوں اور
غلطیوں کےمتعلق ایک تحریرمرتب فرمائی تھی جس کومکتوب کی شکل میں
گاندھی جی ، بابوراجندرپرشاد ، پنڈت جواہرلال نہرواور حضرت مولانا
ابوالکلام آزادکوبھیج دیاتھا۔
(۱۲)دوسرامکتوب جنگ کےمتعلق ہزاکسلنسی وائسرائےہندکےنام بھیجاتھا
جس میں موجودہ جنگ کے متعلق شرعی نقطۂ نظرکی وضاحت فرمائی تھی۔
پہلی چیز بالکل پرائیوٹ تھی اس لئےوہ شائع نہیں کی گئی اوردوسری چیزایسی
ہےجو موجودہ آرڈیننسوں کی بناپرشائع ہی نہیں ہوسکتی ۔
لیکن مختلف مسائل میں کانگریس سےشدیداختلاف رکھنےکےباوجودکانگریسی لیڈران آپ کابےحداحترام کرتے تھےاورآپ کوایک مخلص ،بےغرض اورمحب قوم ووطن رہنما تصورکرتے تھے۔
مولاناسیدشاہ حسن آرزولکھتےہیں:
کہ مولانا ؒآزادئ ہند کی حیثیت سے کانگریس کے گرم جوشی سے ممد و
معاون اور شریک کار تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مفاد اسلامی کے
خطرہ کے موقع پر وہ کانگریس کے سخت ترین دشمن ومخالف بھی تھے۔
ہمارے صوبہ کی گزشتہ قومی حکومت سے اس لیے جنگ کرگئے کہ وہ
جبریہ تعلیم کی اسکیم میں خصوصیت کے ساتھ مذہبی تعلیم کو کوئی جگہ
دینا نہیں چاہتی تھی ، لیکن اس شدید مخالفت کے باوجود ذمہ داران
کانگریس مولاناؒ کو ایک بے غرض محب قوم ووطن سمجھتے ہوئے انتہائی
عزت واحترام سے پیش آتے رہے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: