مضامین

حضرت مولاناسجادؒاورمسلم لیگ پارٹی روابط اورمسائل

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادؒاورمسلم لیگ پارٹی
روابط اورمسائل
اس دورکی دوسری بڑی پارٹی مسلم لیگ تھی ،بلکہ مسلمانوں کاعمومی رجحان اسی پارٹی کی طرف تھا،اس لئےکہ اس کی بنیادی قیادت مسلمانوں کےہاتھ میں تھی،جبکہ کانگریسی قیادت ہندؤں کےپاس تھی ،اوروہ اپنےکوسیکولریعنی لامذہب جماعت قراردیتی تھی،اس کی بنا پرعام مسلمانوں کااس سے اجتناب قدرتی تھا،اُس دورکی بعض تحریرات سےاندازہ ہوتاہےکہ ابتداء ً حضرت مولاناسجادؒکارجحان بھی مسلم لیگ کی طرف تھا،بلکہ اس کےکئی اصول وضوابط کےواضعین میں آپ شامل تھے،آپ اس کےپروگراموں میں قائدانہ طورپرشریک ہوتے تھے،اورآپ کےزیر اثرجمعیۃ علماء ہندکی مذہبی سربراہی کوبھی اس نےدستوری طورپرتسلیم کیا تھا،اس کی مختصر رودادمسلم لیگی رہنماجناب راغب احسن صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:
نہرورپورٹ کی مخالفت اورمسٹرمحمدعلی جناح کی حمایت
٭” مولانا(محمدسجادؒ) عملی سیاست کا گہرا علم رکھتے تھے حقیقت میں مولاناؒ
دل سے لیگ کے موجودہ اصول ود عاوی اور مقاصد سے ہمدردی رکھتے تھے
بلکہ ان کے وضع کرنے میں نمایاں حصہ لے چکے تھے ۔۔۔۔
مولاناؒ ان علماء کے لیڈر تھے جنہوں نے اس سو فسطائی پروپیگنڈا کا زبردست
مقابلہ کیا تھا ، جو ۱۹۲۸؁ء میں نہرو رپورٹ کی دوہری غلامی کو اینگلو ہندو
سامراج کی صورت میں مسلمانوں پر مسلط کرنے کے لئے ہندو کانگریس
کے سرمایہ سے جاری کیا گیا تھا ،طبقۂ علماء کے لئے اس کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا
کہ مولانا ابو الکلامؒ اپنے سحر سامری سے جمعیۃ علماء کو مسحور کر کے اپنے
ساتھ بہا لے جائیں گے لیکن مولانا سجادؒ نے نہایت عقلمندی اور قوت کے
ساتھ اس کا مقابلہ کیا اور محمد علی جناح کے اس جہاد کا ساتھ دیا جو انہوں
نے نہرو رپورٹ کے خلاف جاری کیا تھا ۔مولاناؒ جمعیۃ علماء کے لیڈروں کو
لے کر آل انڈیا مسلم کانفرنس کے اس اجلاس میں بھی شریک ہوئے ،جو
یکم جنوری ۱۹۲۹؁ءکو بصدارت ہزہائی نس آغا خاں دہلی میں منعقد ہوا اور
جس نے نہرو رپورٹ کے لئے وہ مطالبات وضع کئے جنہیں مسٹر جناح
نے مارچ ۱۹۲۹؁ء میں چودہ(۱۴) نکات کی صورت میں ترتیب دیا تھا ۔
جمعیۃ علماء ہندکےاجلاس دہلی میں محمدعلی جناح کودعوت
٭جب ۱۹۳۵؁ء کے انڈیا ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد مسلم کانفرنس کا
دور ختم ہوا اور ڈاکٹر سر محمد اقبال کی دعوت پر مسٹر محمد علی جناح نے انگلستان
سے ہندوستان واپس آکر مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے کی غرض سے
مسلم لیگ کی لیڈری قبول کی تو مولانا سجادؒ ان علماء میں شریک تھے جنہوں
نے مسٹر جناح کو جمعیۃ علماء کے جلسہ دہلی میں شرکت اور تقریر کرنے کی
دعوت دی تھی اور ان کا خیر مقدم کیا تھا ۔
مسلم لیگ کےاجلاس دہلی میں مولاناسجادؒکی شرکت
٭ جب آل انڈیا مسلم لیگ نے پارلیمنٹری بورڈ بنانا چاہا اور اس کے
لئے مختلف صوبوں کے لیڈروں کو۲۶، ۲۷، ۲۸/ اپریل۱۹۳۶؁ء کو
دہلی میں جمع ہونے کی دعوت دی تو اس میں بھی مولانا سجادؒ شریک تھے ۔
مسلم لیگ مرکزی پارلیمنٹری بورڈمیں مولاناسجادؒممبرنامزد
٭جب مسٹر جناح نے سری نگر کاشمیر سے آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی
پارلیمنٹری بورڈ کے ممبروں کے نام کا اعلان کیا تو بہار کے ناموں میں
مولانا سجادؒ کا نام سب سے اوپر تھا اور بہار کے باقی تین نمائندے خاص
مولانا سجاد ؒکی ا مارت شرعیہ کے لوگ تھے یعنی قاضی احمد حسین صاحب
،شاہ مسعود احمد صاحب و سید عبد الحفیظ صاحب ایڈوکیٹ ۔
مسلم لیگ کےاجلاس لاہورمیں مولاناسجادؒکی شرکت
٭آل انڈیا مسلم لیگ کےاس دورجدید کا حقیقی آغاز اس تاریخی جلسے
سے ہوتا ہے جو ۸؍ جون ۱۹۳۶؁ء کو بمقام لاہور بصدارت مسٹر جناح
منعقد ہوا ،اس جلسے کے علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال روح رواں تھے ،بلکہ
انہی کی علالت کے خیال سے جلسہ خاص لاہور میں کیا گیا تھا ۔یہ آل
انڈیا مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کا اولین جلسہ تھا ،اس میں مولانا سجاد
مرحوم ،مولانا کفایت اللہ صدر جمعیۃعلماءئےہند ،مولانا احمد سعید ناظم
جمعیۃ علمائے ہند اور مولانا حسین احمد صاحب قائدانہ حصہ لے رہے
تھے ،اس اجلاس اول نے مسلم لیگ کے دور جدید کا آغاز کیا اور اس کا
وہ پارلیمنٹری پروگرام وضع کیا جو آج تک اس کا پروگرام ہے،کیونکہ
اس کی تنسیخ کسی دوسرے ریزو لیشن کے ذریعہ اب تک نہیں کی گئی
ہے ۔
جمعیۃ علماء ہندکی مذہبی سربراہی کودستوری حیثیت حاصل
یہ دفعہ مولاناسجادؒنےبڑھائی
٭لیگ کا یہ پارلیمنٹری پرو گرام چودہ(۱۴) دفعات پر مشتمل تھا ،جس
کی دفعہ اول کا لفظی ترجمہ مطابق ذیل :
"مسلمانوں کے مذہبی حقوق کی حفاظت کرنا ،تمام ایسے معاملات میں
جوخالص دینی نوعیت کے ہیں جمعیۃ علماء ہند اور مجتہدین کی رایوں کو واجبی
وزن دیا جائے گا ”
لیگ کے پروگرام کی یہ دفعہ اول حقیقت میں حضرت مولانا سجادؒ کی تصنیف تھی۔اس سے ظاہر ہےکہ حضرت مولانا سجادؒ نہ صرف یہ کہ مسلم لیگ کے جدیدپروگرام کے خلاف نہ تھے بلکہ اس کے واضعین میں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری جمعیۃ علماء کے اندر مولانا سجادؒ ہی مسلم
لیگ سے سب سے زیادہ قریب تھے” ۔
مسلم لیگ سےحضرت مولاناسجادؒکی علٰحدگی۔اسباب ووجوہ
لیکن اس قدرقربت وتعلق کےباوجودحضرت مولاناؒاس سے الگ ہوگئے،کیوں ؟
امارت شرعیہ یااپنی سیاسی پارٹی کی وجہ سے؟
(۱)کیاامارت شرعیہ کی وجہ سے؟جیساکہ جناب راغب احسن صاحب کاخیال ہے:
"حقیقت اصلی یہ ہے کہ مولانا سجاد ؒنے لیگ کو اپنی زندگی کی سب سے چہیتی
اور اکلوتی اولاد امارت کے لئے ترک کردیا اور اسی کے لئے اپنوں سے جنگ
مول لی”
لیکن یہ خیال اس لئےصحیح نہیں کہ امارت شرعیہ بہار۱۹۲۱؁ء ہی میں قائم ہوگئی تھی ،اورمسلم لیگ سےمولاناسجادؒکےتعلقات ۱۹۳۷؁ء کےبعد خراب ہوئے،اس سے پہلے خود جناب راغب صاحب کےبیان کےمطابق مولاناؒمسلم لیگ میں شریک تھےبلکہ اس کےاصول وقواعد کےواضعین میں بھی شامل تھے۔۔۔راغب صاحب ایک جگہ لکھتےہیں:
” مسلم لیگ ۱۹۳۶؁ء میں جب کہ مولانا سجاداور ان کی جمعیۃ اس کے حامی
تھے ،ایک کاغذی انجمن تھی ،لیکن لکھنؤ کےتاریخی اجلاس اکتوبر ۱۹۳۷؁ء
کے بعد ایک حقیقی طور سے جمہوری نمائندہ تنظیم ہو چکی تھی ،جس کا خیر
مقدم مولانا سجادؒ کو کرنا چاہئے تھا ۔
٭اسی طرح حضرت مولاناؒ کی سیاسی پارٹی "بہارمسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی”اس میں
عذرنہیں بن سکتی تھی اس لئےکہ وہ صرف بہارتک محدودتھی ،جب کہ مسلم لیگ آل انڈیا پارٹی تھی ،ظاہرہےکہ ایک ریاستی پارٹی کےلئے کل ہندپارٹی سےترک تعلق کی حماقت کوئی نہیں کرسکتا۔
البتہ امارت شرعیہ جیسی مذہبی اوردینی ادارہ کی مسلم لیگ کی طرف سےجس طرح تخفیف کی گئی اوراس کی تجاویزکوجس اندازمیں مستردکیاگیاوہ حضرت مولاناسجادؒکےلئے باعث تکلیف ضروررہی ہوگی ،اس کی ایک مثال یہ ہےکہ امارت شرعیہ نے۱۹۳۸؁ء میں جب "نظارت امورشرعیہ” کامسودہ تیارکیا،اورملک کےتمام اہل علم اوراصحاب دانش کو استصواب رائے کےلئےارسال کیا،تومسلم لیگ کےمرکزی لیڈرمسٹرجناح نےاس کاکوئی جواب نہیں دیا،البتہ صوبائی قائدجناب سیدعبدالعزیزصاحب نےاس کاجواب عدم اتفاق سےدیا،جب کہ ملک کےتمام دیگراداروں اوراہل علم نے اس مسودہ کی تصویب وتائیدکی تھی،بات یہیں تک رہتی توکوئی بات نہیں تھی ،جناب سیدعبدالعزیزصاحب نےجواب کاجولہجہ اختیارکیاوہ بالکل جارحانہ بلکہ گستاخانہ تھا،انہوں نےجواب کی تمہیدی سطروں میں حضرت مولاناسجادؒ کومخاطب کرتے ہوئےتحریرکیا:
"مسودےکےمتعلق میں آپ کوبحیثیت نائب امیرشریعت جواب نہیں
دےسکتا، بلکہ آپ کوایک ذی علم مسلمان اورقومی معاملات سےدلچسپی
رکھنےوالےانسان کی حیثیت سےجواب دےسکتاہوں،جس ادارےیا
چنداشخاص کی جماعت کوآپ "امارت شرعیہ "کہتے ہیں،اس کوزیادہ سے
زیادہ ایک انجمن کی حیثیت دی جاسکتی ہے،لیکن جہاں تک امیرشریعت
اورنائب امیرشریعت کےمسئلہ کاتعلق ہےاس دعویٰ کومیں غیرشرعی
اورنہایت مضرسمجھتاہوںاس لئےمیں آپ کوآپ کی ذاتی حیثیت سے
ایک ممتازہستی قراردیتے ہوئے مخاطب کرتاہوں،(اس تمہیدکے
بعدآگے چل کرارشادفرماتے ہیں)آپ سے اورمولوی محی الدین
صاحب سےدرخواست ہےکہ امارت کےدعویٰ سےبازآجائیں”
جوچیزحضرت مولاناکےنزدیک واجب اورنصب العین کےدرجہ میں تھی،اس کوغیر شرعی اورمضرکہنااوراس دعویٰ سےبازآنےکی تلقین کرنادومتضادراستےہیں،ظاہر ہےکہ دو متصادم فکررکھنےاشخاص بہت دیرتک ایک ساتھ سفرنہیں کرسکتےتھے۔
مسلم لیگ ہندوستانکیآزادیٔ کاملکےمطالبہسےدستبردارہوگئی تھی؟
(۲)دوسراسبب یہ تھاکہ مسلم لیگ نےاپنےمنشورسےملک کی آزادیٔ کامل کے مطالبہ کی شق خارج کردی تھی۔جبکہ حضرت مولاناسجادؒآزادیٔ کامل کےمطالبہ سےدستبردار نہیں ہوسکتےتھے۔۔۔
حالانکہ جناب راغب احسن صاحب کواس سےانکارہے کہ مسلم لیگ اس شق سے دستبردار ہوگئی تھی لکھتے ہیں:
"مسلم لیگ ۱۹۳۶؁ء میں ڈومنیین اسٹیٹس کے کریڈ پر راضی تھی ،لیکن لکھنؤ
کے اجلاس کے بعد آزادی کامل اور مسلم آزادی کی حامی تھی اور یہ چیز لیگ
کو مولانا سجاد ؒاور جمعیۃ سے بہت قریب کرنے والی تھی ،لیگ مذہبی معاملات
میں جمعیۃ کی سیادت کو اپنے دستور اساسی کی رو سے قبول کر چکی تھی ،لہذا یہ
کہنا کہ مسلم لیگ اپنے ۱۹۳۶؁ کے اصول سے ہٹ گئی تھی ،اس لئے مولانا
سجاد ؒاور جمعیۃ علماء والے حضرات اس سے الگ ہو گئے ،قطعاً غلط اور بے بنیاد
ہو گا”
لیکن راغب صاحب کایہ انکارواقعہ کےمطابق نہیں ہے،حضرت مولاناسجادؒ نے۲۳/ جنوری ۱۹۳۹؁ء کومسٹرجناح صاحب کےنام جوتفصیلی خط(تقریباً۵۸صفحات پر مشتمل ہے) تحریرفرمایاہے،اس میں حضرت مولاناؒنے اپنے بہت سے وجوہ اختلاف میں سے ایک بڑی وجہ آزادیٔ کامل سےدستبرداری کوقراردیاہے،مولاناؒکےمکتوب کایہ اقتباس ملاحظہ کیجئے:
"معلوم ہوتاہےکہ مسلم لیگ کی رہنمائی جن ہاتھوں میں ہےان کی اکثریت
آج بھی انگریزوں پراعتماد رکھتی ہے،اورکم ازکم مسلمانوں کےاصلی اور
سب سے بڑےدکھ کےلئےجنگ کرنانہیں چاہتی ہے۔
اجلاس(پٹنہ جس میں جناح صاحب خود بھی شریک تھے)کےدوران ہی
میں ۲۵/دسمبر کوآپ کےایک دست راست اورزبردست مرکزی لیڈر
۲/دسمبر۱۹۳۸؁ء والے خط کوبغورپڑھ کرکہاکہ”ان کامقصدتویہ ہےکہ
انگریزوں کوہندوستان سے نکال دیاجائے”ان سےکہاگیاکہ ہاں مقصد تو
یہی ہے،کیاآپ اورمسلم لیگ آزادیٔ کامل کانصب العین قبول کرنے
کےبعدبھی یہ نہیں چاہتے؟انہوں نےاس کےجواب میں بلاتکلف یہ
فرمایاکہ "پھراس کاراستہ کانگریس ہےاس میں شریک ہوجائیے”ان سے
کہاگیاکہ جولوگ مسلم لیگ سےمایوس ہیں وہ تواسی لئےاس میں آج بھی
شریک ہیں،مگرمسلم لیگ کےہائی کمانڈرتوان کوصرف کافروں کی
جماعت کہہ کرمسلمانوں کواس سےعلٰحدہ رکھنےپرمصرہیں،اس لئےمیں
چاہتاہوں کہ مسلم لیگ جس کےمتعلق کہاجاتاہےکہ خالص مسلمانوں
کی جماعت ہےوہ اسلامی مقاصد ،اسلامی سیاست اوراسلامی حقوق کی
حفاظت کےلئےآگے بڑھے،جان ومال کی قربانی کی راہ اختیارکرے،
تمام مسلمان متحدبھی ہوجائیں گےاورکانگریس بھی آخرمسلم لیگ کی
متابعت کرےگی،مگروہ صاحب بارباریہی فرماتے رہےکہ "اس مقصد
کی راہ کانگریس ہے”
میں نہیں کہہ سکتاکہ مسلم لیگ کےتمام لیڈروں کایہی خیال ہے،لیکن
ایک بات اوربھی میرےسامنےہےکہ مسلم لیگ کاجولیڈروائسرائے
یاوزیرہندسےمل کراپنی جگہ پہونچتاہےتووہ مسلم لیگ کاداعی اوربہت
بڑاحامی بن کرآتاہے،اللہ ہی بہترجانتاہےکہ اس میں کیارازہے؟
ان باتوں کےعلاوہ جب یہ غورکیاجاتاہےکہ جب سےمسلم لیگ نےاپنا
نصب العین کامل آزادی مقررکیاہے،اس وقت سےلےکراجلاس پٹنہ
تک مسلم لیگ کے جتنے جلسےاور اجلاس ہوئےخواہ وہ آل انڈیاہوں یا
صوبہ جاتی، کسی ایک کے خطبہ میں بھی اس نصب العین کاتذکرہ
تک نہیں ہے ، اور نہ اس مقصد کے لئےآج تک کوئی تجویزمنظور
ہوئی ہے” ۔
خودبہارمسلم لیگ کےصدرجناب سیدعبدالعزیزصاحب کےبعض ایسےبیانات شائع جن سے آزادیٔ کامل کےنصب العین کی حوصلہ شکنی ہوتی تھی،مثلاً:
"نہ مکمل آزادی کاتخیل بڑاہے،نہ اس کےصرف اعلان سےکوئی
شخص بڑاحوصلہ مندشمارکیاجاسکتاہے،اس لئےکہ اس سےبھی بڑے
حوصلےاورہمت کےجذبات بہت سےدلوں میں موجودہونگے،جیسے
مسلمانوں کی یہ خواہش کہ ہندوستان غیروں کی حکومت سےنہ صرف
آزادہوجائےبلکہ یہاں پھرمسلمانوں کی سلطنت قائم ہوجائے(بیان عزیز)
ایک دوسرے بیان میں کہا:
"اول تواتحادنہیں ،دوم پوری صلاحیت نہیں،سوم سامان حرب نہیں،
اس پرمکمل آزادی حاصل کرنے کاحوصلہ یادعویٰ کہاں تک دانشمندی
کاثبوت دیتاہے”
جمعیۃعلماء ہندسےکئےگئےوعدےپورےنہیں کئےگئے
(۳)حضرت مولاناسجادؒاورعلماء سے مسلم لیگ نےجووعدے کئےتھےوہ پورےنہیں کئے، جمعیۃ علماءہند کی مذہبی سربراہی کو دستوری طورپرتسلیم کیاگیاتھا،لیکن اس کوعملی طورپر برتانہیں گیا،اور اسلام اورعلماء اسلام کانام لےکراس کےتقاضوں کوپورانہیں کیاگیا،جس سے مولاناسجادؒاوران کی جماعت کومایوسی ہوئی۔۔۔
بالیقین یہ بھی ایک بڑی وجہ تھی ،اورصرف مفکر اسلام حضرت مولاناسجادؒہی نہیں ، بلکہ حضرت شیخ الاسلام مولاناسیدحسین احمدمدنیؒ اور دیگرکئی مقتدرعلماء اسی وعدہ خلافی اور مایوسی کی بناپرمسلم لیگ سے علٰحدہ ہوگئے۔

شیخ الاسلام حضرت مدنی ؒ کی شہادت
اس کی پوری تفصیل حضرت شیخ الاسلام مولاناحسین احمدمدنی ؒ کےرسالہ”مسٹر محمد علی جناح کا پراسرار معمہ اور اس کا حل’’میں موجودہے،حضرت مدنی ؒنےاس رسالہ میں مسلم لیگ سے اپنی اوراپنےرفقاء کی علٰحدگی کےاسباب پرتفصیلی روشنی ڈالی ہے،اسی رسالہ سے کچھ اقتباسات پیش کئےجاتےہیں:
"(الف)کیا یہ واقعہ نہیں ہےکہ خود مسٹر جناح، مولانا شوکت علی، چودھری عبدالمتین، چودھری خلیق الزماں صاحب، نواب اسمعیل خاں صاحب وغیرہ حضرات مارچ ۳۶ء ؁ سے آئندہ الیکشن کے لیے بورڈ وغیرہ بنانے میں بے قرار نظر آتے تھے۔ جلسے اور اجتماعات اس کے لیے کیے جاتے تھے اور ان پر غور کیاجاتا تھا کہ کس طرح اس میں حسب منشا کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے اور جس طرح یونیٹی بورڈ میں کوشش کرکے جمعیۃ علماء کو داخل کیا گیا تھا اور ان کی مختلف جماعتوں میں صلح کرائی گئی تھی اسی طرح آئندہ بورڈ کے لیے ان کی امداد واعانت حاصل کرنے کی مساعی کی جاتی تھیں ،جس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ مسلم عوام پر جمعیۃ کے اراکین کا اثر تھا۔
)ب)کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ مسٹر جناح نے اراکین یونیٹی بورڈ کو مشورہ دیا کہ
وہ زیر قیادت مسلم لیگ مشترکہ بورڈ بنائیں جو کہ مسلم نیشنلسٹ پارٹی، جمعیۃ
علماء، خلافت کمیٹی، احرار پارٹی وغیرہ سب کو حاوی ہو، اس کے لیے جلسے
خصوصی کیے گئے اور اراکین جمعیۃ کو باربار بلایا گیا۔
)د)کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ دو یا تین اجتماع کے بعد قرار پایا کہ حسین احمد
کو بلایا جائے اور اس کو اس مفاہمت میں شریک کیا جائے اور باوجودیکہ چند
رجعت پسندوں نے یہ کہا کہ ہم سبھوں کے ساتھ اشتراک عمل کرسکتے ہیں
مگر حسین احمد کے ساتھ اشتراک عمل نہیں کرسکتے، تاہم مجھ کو تار دے کر
ملتان سے (جب کہ میں وہاں بعض جلسوں میں شرکت کی غرض سے گیا ہوا
تھا) بلایا گیا۔
)و)کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ صبح کو تقریباً آٹھ سے دس بجے تک تبادلۂ
خیالات اور گفت وشنید ہوتی رہی اور مسٹر جناح نے زور دیا کہ پارلیمنٹری بورڈ
میں شریک ہوکر آپ لوگوں کو الیکشن میں حصّہ لینا اور عمدہ سے عمدہ آزاد خیال
لوگوں کو امیدوار اورکامیاب بنانا چاہیے۔
)ی)کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ان اسامی میں اُن اراکین جمعیۃ اور احرار کانام
خود چن کر جب کہ وہ کشمیر میں تھے شائع کرایا اور پھر لاہور کے اجلاس میں
دعوتی خطوط بھیج کر سب کو بلایا۔
)ک)کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ میری بلا خواہش اور اسی طرح بغیر خواہش
صدر وناظم جمعیۃ العلماء یہ نام چنے گئے اور پھر میرا نام بلامیری خواہش صوبہ
یوپی کی مجالس میں بھی چنا گیا اور باوجود ہرقسم کی مشکلات اور اعذار کے مجھ
پروَرک (کام)کرنے اور ہر امید وار کے حلقے میں جانے کا حکم دیا گیا جس کو
میں نے بغیر کسی قسم کے لالچ اور نفع مالی کے انجام دیا۔۔۔۔
بیشک مسٹر محمد علی جناح نے نہایت زوردار الفاظ اور طریقوں سے ہم کو اطمینان دلایا کہ رجعت پسند طبقہ اور خود غرض لوگوں کو ہم آہستہ آہستہ لیگ سے نکالیں گے اور آزاد خیال، قوم پرست مخلص لوگوں کی اکثریت کی کوشش کریں گے اور ایسے ہی لوگوں کے انتخاب کو عمل میں لائیں گے، ہم نے بعد بحث ومباحثہ اس پر اطمینان کیا اور تعاون پر آمادہ ہوگئے جس کی زور دار خواہش مسٹر محمد علی اور ان کے رفقاء کار کی اس وقت تھی۔
مولانا بشیر احمد صاحب کٹھوری ایک جلسے کی مفصل روداد بتاتے ہوئے اور
مسٹر جناح سے بحث وگفتگو کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’لہٰذا ہم کو تو یہ بتلایا جائے کہ ہم یا آپ کسی طرح بھی اس میں کامیاب نہ ہوسکے کہ پارلیمنٹری بورڈ آزاد خیال منتخب ہوتو پھر آپ کی پوزیشن کیا ہوگی؟ اس پر بہت جوش کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر میں کسی طرح بھی اس پر قادر نہ ہوا تو مسلم لیگ کو چھوڑکر آپ کے ساتھ آجاؤں گا۔ اس پر بے انتہا خوشی کا اظہار کیا گیا اور سب حضرات نے فرمایا کہ ہم بھی یہی چاہتے تھے اور پوری مسرت کے ساتھ جلسہ ختم ہوگیا۔۔۔
ہرعقل سلیم رکھنے والا شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اب اس سے بڑھ کر اطمینان
حاصل کرنے اور وعدہ لینے کی دوسری اور کیا شکل ہوسکتی تھی۔ مسٹر جناح کے
اخباری بیان کا صرف ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے جس سے یہ حقیقت اور واضح
ہوجائے گی۔ مسٹر جناح کا ایک بیان ‘‘بمبئی کرانیکل’’ میں جون ۱۹۳۶ء ؁ میں شائع
ہوا تھا، اس کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ کے ساتھ فروری ۱۹۳۷ء ؁ کو مدینہ اخبار میں
شائع ہوا۔
)۱(مسلم لیگ کی پالیسی کا مقصد ایک ایسے نظام کا بروئے کار لانا ہے جس کے
ماتحت ترقی پسند اور آزاد خیال مسلمانوں کے اعلیٰ ادارے متحد ہوجائیں۔
)۲(مسلم لیگ موجودہ دستور سے بہتر ایسا دستور حاصل کرنے کے لیے جو سب
کو پسند ہوگا کانگریس کا ساتھ دے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالے گی۔
)۳(مسلم لیگ اس اصول کو برقرار رکھتی ہے کہ بطور اقلیت مسلمانوں کو کافی
تحفظ حاصل ہو۔
)۴( اسمبلی میں لیگ تمام قومی معاملات میں کانگریس سے تعاون کرے گی اور
اس کے ساتھ رہے گی۔
)۵( لیگ کے صدر کی حیثیت سے میرا خیال ہے کہ ایسے چالاک لوگوں کو جن
کا مقصدحکومت کے ماتحت عہدے حاصل کرناہے اور جنھیں عوام کے حقوق،
ضروریات اور مفاد کی مطلق پروا نہیں، سیاسی میدان سے نکال دیا جائے ۔
یہ تھے وہ تمام وعدے، معاہدے، شروط اور پیمان جن کی بنا پر جمعیۃ کے ارکان جن میں حضرت مولانا سجاد ؒبھی تھے آل انڈیا مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ سے اشتراک عمل پر تیار ہوئے تھے اور انھوں نے الیکشن میں پوری پوری مدد دی تھی، لیکن الیکشن کے بعد مسٹر محمد علی جناح نے اپنے تمام وعدےاور معاہدے بھلا دیئے۔اورایسےحالات پیداکئےکہ علماء مسلم لیگ سے نکلنےپرمجبورہوگئے، مولانا محمد اسماعیل، سنبھلی اِیم. ایِل. اےبیان کرتے ہیں:
’’۱۹۳۶ء ؁ میں مسلم الیکشن کے سلسلے میں جب کہ مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ
کی تشکیل عمل میں آئی تو ہم لوگ اِس بورڈ میں صرف اس توقع پر داخل ہوئے
تھے کہ یہ جماعت آزاد خیال افراد پر مبنی ہوگی اور اس کی تمام تر مساعی اور
کوششیں آزادی وطن اور رجعت پسند طبقہ کو زیر کرنے کے لیے ہوں گی ،
چنانچہ صاف اور واضح الفاظ میں مسٹر محمد علی جناح نے اِس کا وعدہ کیا اور ہر
طرح جماعت علماء کو اطمینان دلایا اور بڑی حد تک الیکشن کے زمانے میں اس
وعدہ کی پابندی بھی کی گئی لیکن الیکشن سے فارغ ہونے کے بعد فوراً ہی جناح
صاحب نے (جو کہ اس بورڈ کے ڈکٹیٹر مطلق تھے) نہ معلوم کن مخفی وجوہ کی
بنا پر اپنی روش بدل دی اور باوجود ہماری زبردست مخالفتوں کے انھوں نے اس
رجعت پسند طبقہ کو شامل کرنا چاہا جس سے دوران الیکشن میں مقابلہ رہا تھا اور
اس مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کو جو مسلم لیگ جمعیۃ العلماء ہند، مجلس احرار اور
کانگریس کے ممبران سے ترکیب دیا گیا۔ کانگریس کے مدمقابل بنانے کی انتہائی
کوشش کی اور کانگریس کو خالص ہندوؤں کی جماعت قرار دینا شروع کیا۔ جب
ہم نے اس معاملے میں احتجاج کیا اور جناح صاحب کو ان کے مواعید یاد دلائے
اور بتلایا کہ جماعت علماء اس بورڈ میں صرف اس بنا پر داخل ہوئی تھی کہ کانگریس
کے ساتھ مل کر آزادئ وطن کے لیے کوشش کی جائے گی اور رجعت پسند طبقہ
کو ایک ایک کرکے علاحدہ کردیا جائے گا اور یہ صرف آزاد خیال لوگوں کی
جماعت رہے گی۔ آج آپ رجعت پسندوں کو اس میں داخل کر رہے ہیں اور
کانگریس کے ساتھ بجائے اشتراک عمل اور اتحادعمل کے جوآپ کےمینو
فسٹو میں درج ہےمخالف جارہے ہیں، تب جناح صاحب نے اوربعض دوسرے
لوگوں نے بورڈ کی میٹنگ میں ہتک آمیزرویہ اختیار کیا اور کہا کہ ہمارے
سارے وعدے ایک سیاست تھی۔ علماء سیاست سے بالکل ناواقف ہیں۔ اگر
جماعت علماء ہمارے اس طرز عمل کو نہ پسند کرے تو ہمیں مطلق اس کی پروا
نہیں ہے”
مسلم لیگ نےمسلمانوں کی دینی توقعات پوری نہیں کیں
(۴)اوراسی کےساتھ ایک بڑامحرک مسلم لیگ سے علٰحدگی کایہ تھاکہ مسلم لیگ نے اپنےبلندبانگ اسلامی دعوؤں کےباوجودوہ دینی توقعات پوری نہیں کیں جوایک مسلم تنظیم کےناطے مسلمانوں نےاس سےقائم کی تھیں،ملک میں انگریزی قانون نافذتھا،جوکئی اہم مسائل میں اسلامی عقائدونظریات اورشرعی قوانین سےمتصادم تھا،مثلاً:
٭کسی مؤمن کے لئےکسی نص قرآنی پرعمل نہ کرنےکااختیارہونا،جیسےمسلمان رہتےہوئےاسلامی قانون وراثت کونہ ماننا
٭انگریزی حکومت کی طرف سےاسلامی دارالقضاء کی تنسیخ ،اورجمعیۃ علماء ہندکی طرف سے جب مسودۂ فسخ نکاح(جس کوحضرت مولاناسجادصاحب ؒنےمرتب کیاتھا،) اسمبلی میں پیش کیاگیاتواس میں مسلم حاکم کی دفعہ خارج کردی گئی ،جب کہ کمیٹی میں مسلم ممبران بھی موجودتھے،اسی طرح اس میں یہ دفعہ بغیراجازت جمعیۃ علماء ہندوامارت شرعیہ بڑھادی گئی کہ مسلمان عورت کاارتدادخودبخودموجب فسخ نکاح نہیں ہے۔
٭کرشچین میرج ایکٹ کےذریعہ اسلامی قانون نکاح میں مداخلت کی گئی ۔
٭الٰہ آبادہائی کورٹ کےذریعہ مسلمان کےلئےجمع بین الاختین کی اجازت دی گئی ،وغیرہ حضرت مولاناسجادؒچاہتےتھےکہ ایسےقوانین کی مخالفت کی جائے ،اورحکومت کومجبور کیاجائےکہ وہ اپنےقوانین میں ترمیم کرے،مسلم لیگ اثرورسوخ اوراہم عہدوں پرفائز ہونے کے باوجوداس سےکوئی دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔
٭علاوہ اوربھی کئی اہم قومی وملی مسائل تھے جن میں مسلم لیگ سیاسی بصیرت رکھنےوالےعلماء سے الگ رائےرکھتی تھی ،بلکہ وہ ان علماء کوموردطعن بھی بناتی تھی۔
٭نیزاسلامی تہذیب وتمدن مثلاًڈاڑھی ،لباس ،پردہ ،سلام وکلام اوردولت کا استعمال وغیرہ میں مسلم لیگ نےکبھی اسلامی غیرت اورحساسیت کاثبوت نہیں دیا، حضرت مولاناسجادؒنےمسٹرجناح کےنام اپنےاٹھاون (۵۸)صفحات کےمکتوب میں اپنے اختلافات کی مکمل اورمدلل تفصیل لکھی ہے،حضرت مولاناؒکی علٰحدگی کی اس سےبہترسندکوئی اورنہیں ہوسکتی،”مکاتیب سجاد”میں یہ پورامکتوب شائع شدہ ہے ۔
بہرحال حضرت مولانامحمدسجادؒآخری دنوں میں مسلم لیگ سے علٰحدہ ہوگئے تھے،اور جس طرح انہوں نےکانگریس سے بہت سے مسائل میں اختلاف کیا،مسلم لیگ سےبھی ان کےکئی اختلافات تھے جس کااظہار انہوں نےاپنےمکاتیب ،مضامین اوربیانات میں کیاہے۔
نظریۂ پاکستان سےحضرت مولاناسجادؒکےاختلاف کی وجہ
حضرت مولاناسجادؒمسلم لیگ کےنظریۂ پاکستان کےاس لئےخلاف نہیں تھےکہ مسلم لیگ دنیاکے نقشہ پرکسی نئی اسلامی ریاست قائم کرنےکی آرزومندتھی،بلکہ اس لئےکہ اس نےاقلیتی حیثیت سےبسنےوالےلاکھوں مسلمانوں کےتحفظ کاانتظام اورتیاری کئےبغیرعجلت میں یہ خوشنمانظریہ پیش کردیاتھا،اس لئےکہ اگراکثریتی علاقوں کےمسلمان ایک نیاملک بنابھی لیں تو اقلیتی مسلمانوں کےساتھ جوانتقامی ردعمل ہوگااس کاحل کیاہوگا؟نیزان کمزور مسلمانوں کی دینی وملی اجتماعیت کی صورت کیاہوگی؟اس حقیقت کااظہارحضرت مولاناسجادؒ نےبارہااپنےمضامین اورمکاتیب کےذریعہ کیاہے،مثلاًحضرت مولاناسجادؒ کاایک تفصیلی مضمون ۱۴/اپریل ۱۹۴۰؁ء کےنقیب میں شائع ہواتھا،جس کاعنوان تھا:”مسلم انڈیااورہندو انڈیاکی اسکیم پرایک اہم تبصرہ”اس میں حضرت مولاناؒنےاس مسئلہ کاانتہائی عمدہ تحلیل وتجزیہ پیش فرمایاہے،جب کہ ابھی تک نظریۂ پاکستان کی پوری تفصیل سامنےنہیں آئی تھی۔اس میں تاریخی ،جغرافیائی اوربعض واقعاتی پس منظرمیں ثابت کیاگیاہےکہ یہ نظریہ نہ مسلمانوں کے حق میں بہترہے اورنہ اس ملک کے حق میں،خوداس فیڈریشن کےاجزائے ترکیبی پربھی سوالات اٹھائے گئےہیں،مولاناؒکےنزدیک یہ بغیر سوچاسمجھاپرفریب نعرہ تھا،جس کی آندھی میں اکثرلوگ بہہ گئے،حضرت مولاناؒ کایہ مضمون آج بھی جب کہ پاکستان بن چکاہےتازہ اور قابل مطالعہ محسوس ہوتاہے،اورمولاناؒکی روحانیت مسلمانوں سے مخاطب معلوم ہوتی ہے،یہ پورامضمون "مقالات سجاد”میں شائع شدہ ہے ۔
اوراس کااعتراف کسی نہ کسی درجہ میں خود جناب راغب احسن صاحب کوبھی تھا، لکھتےہیں:
” حضرت مولانا قمر الدین صاحب قمرؔ ؒکے واسطہ سے مجھ تک یہ روایت
پہنچی ہے کہ مولانا سجاد صاحب ؒاپنی پرائیوٹ مجلس میں یہ فرماتے تھے کہ:
‘‘ پاکستان ہی وہ نصب العین ہے جو مسلمانان ہند کا صحیح سیاسی نصب العین
ہو سکتا ہے ،البتہ ہمارا اعتراض صرف یہ ہے کہ یہ قبل از وقت پیش کیا گیا
ہے ’’ ۔
اسی بات کوعلامہ مناظراحسن گیلانی ؒ نےاس طرح بیان فرمایا:
” اگر یہ مطلب ہے کہ وہ ایک ایسی حکومت کے قیام کے خواہاں تھے جو
اسلامی قانون کی روشنی میں چلائی جائے،تو بتایا جائے کہ مسلمانوں کی ایسی
کون سی جماعت ہے جو اس مقصد کو غلط مقصد قرار دے سکتی ہے، بلکہ
جہاں تک میں جانتا ہوں ‘‘پاکستان’’ کے نام سے اسی نصب العین کو پیش
کرکے مسلمانوں کی سیاست کی تنظیم کا ارادہ کیا جارہا ہے۔ فرق اگر کچھ
ہوسکتا ہے تو یہی کہ مسلمانوں کی جن صوبوں میں اکثریت ہے ان ہی کی
حد تک اِس نظام کو محدود رکھا جائے، یا اکثریت والے صوبے ہوں یا
اقلیت والے مسلمان جہاں کہیں بھی ہوں ، حتی الوسع ان کے لیے
اسلامی اصول کے تحت زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ جہاں
تک میرا خیال ہے مولانا سجاد مرحوم آخرالذکر نظریہ کے نہ صرف قائل
بلکہ اپنی استطاعت کی حد تک عملاً اسی کی جدوجہد میں مصروف تھے اور
اِسی خیال کے زیراثر انہوں نے بہار کے صوبہ میں امارت شرعیہ کا نظام
قائم کیا تھا، پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ دونوں مخالف پارٹیوں میں آخر نقطۂ
اختلاف کیا ہے؟ آخر یہ مولانا ؒ کا کیا قصور تھا کہ جس چیز کو لوگ اکثریت
کے صوبوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں مولاناؒ علاوہ اکثریت کے اقلیت کے
صوبوں میں اسی کو مروّج کرنا چاہتے تھے ۔
قیام پاکستان کےسلسلےمیں حضرت مولاناسجادؒ کاایک اورتاریخی قول خودراقم الحروف نے حضرت الاستاذمولانامفتی محمدظفیرالدین مفتاحی ؒسے سناکہ:
"جن حالات میں یہ پاکستان تشکیل دیاجارہاہے،پاکستان بننےکے
بعدمسلمانوں کوآپس میں لڑنےکےسوا کوئی کام نہ رہےگا،ان کو
اسلام کی قطعی فکرنہ ہوگی،جب کہ جولوگ ہندوستان میں رہیں گے
ان کوکفرکےمقابلےمیں اپنےاسلام کی فکرہوگی ،اوراس بنیادپران
میں باہم اتحادبھی قائم رہےگا”
یہ بات مجھےتحریری صورت میں کہیں نہیں ملی ،لیکن میرے قیام دیوبندکےزمانے (۱۹۸۵؁ء تا۱۹۹۰؁ء)میں حضرت مفتی صاحبؒ نے حضرت مولانا سجادؒکی یہ بات ایک سےزائد بارنقل فرمائی،اورآج پاکستان کاقومی اورسیاسی منظر نامہ اس قول حق پرمہر تصدیق ثبت کررہا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: