مضامین

حضرت مولاناسجادؒکی بےنظیرسیاسی بصیرت-اورعملی اقدامات

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادؒکی بےنظیرسیاسی بصیرت-اورعملی اقدامات
اس تفصیل سےظاہرہوتاہےکہ اسلامی سیاست اوراس کی تاریخ پرحضرت مولانا سجادؒکی کتنی گہری نگاہ تھی،مولاناسجادؒہندوستانی علماء میں واحدایسے عالم دین تھے جوبے انتہاتبحر علمی کےساتھ کامل درجہ کاسیاسی شعوربھی رکھتےتھے،جس کی پشت پران کےپاس مضبوط علمی دلائل بھی تھےاورپختہ عملی تجربات بھی،انہوں نےجن مخلصانہ جذبات کے ساتھ اپنےسیاسی سفرکاآغازفرمایا،اورجس قوت کےساتھ انہوں نےمسلمانوں کےتعلیم یافتہ طبقہ کوبالخصوص جماعت علماء کوملکی سیاست میں حصہ داری کی دعوت دی ،اگرمسلمانوں نےان کاساتھ دیاہوتاتو اس ملک کی سیاست کانقشہ مختلف ہوتا،لیکن ان کی دعوت ایک ویرانہ کی صدا بن کررہ گئی ، مولانانےاس ملک کو سیاسی نظریات بھی دئیے اوران کوعملی رنگ بھی دیا،ان کی سیاسی صلاحیت پرایک دنیانےاعتمادکیا،آپ کی سیاسی اصابت رائےپر موافق و مخالف سب یقین رکھتے تھے۔
مولاناسیدشاہ حسن آرزوصاحب کابیان ہےکہ :
"مجھے مولاناؒسےمدتوں بعض اموراوربعض مسائل میں سخت ترین
اختلاف رہااورباوجودمتعددگفتگوؤں کےمولاناؒکی منطق میری سمجھ
میں نہیں آئی،لیکن ان کی نیک نیتی اوراپنےسےبہت زیادہ قابل اعتماد
سیاست دانی پربھروسہ کرتے ہوئےمولاناؒکے اس اجتہاد پر وقت
کاانتظارکرتارہا،مجھےاپنی شکست اورنافہمی کااقرار ہے کہ مولاناؒجیتے
اورمیں ہارا”
حضرت مولانامنظورنعمانی صاحب ؒلکھتےہیں:
"۳۷؁ء سےآخر ۳۹؁ء تک اسلامی ہندکی سیاست میں جوبحرانی دورگذرا،
جس میں ہرخیال کےکارکنوں کادماغی توازن بگڑچکاتھااس وقت جوچند
چیدہ حضرات اس رومیں بہنےسےمحفوظ رہے،ان میں ایک ممتازہستی
حضرت مولانامرحوم کی تھی،میں اس دورمیں ان کے خیالات سے
اگرچہ کلیتاًیعنی سوفی صدی تومتفق نہ تھا،بلکہ صرف قریب ترتھالیکن اگر
کسی کی رائےکواپنےشرح صدرکےبغیرمانناہوتاتوحضرت مرحوم کی رائے
کو یقیناًاس کامستحق سمجھتاتھا”
علماء وقائدین کےاعترافات
اس دور میں جس کوبھی حضرت اقدس ابوالمحاسن ؒسے ملنے اورآپ کاطرزعمل دیکھنے
کاموقعہ ملاوہ آپ کی شخصیت اورسیاسی حکمت عملی سےمتأثر ہوئے بغیرنہ رہ سکا،بڑی بڑی شخصیتوں نےآپ کی سیاسی عظمت کالوہا مانااورفکری عبقریت کااعتراف کیا،مولاناعبدالماجد دریاآبادیؒ کےالفاظ میں:
"اگلوں نےتعظیم دی ،پچھلوں نےتکریم کی،اوراب جودیکھاتوان
کےقدم کسی سےپیچھے نہیں،منزلت کےدربارمیں ان کی کرسی کسی
سےنیچےنہیں ۔۔۔۔امتیازناقصوں میں نہیں کاملوں میں پایا،ذلک
فضل اللہ یوتیہ من یشاء ۔۔۔۔۔۔چمک جگنوکی نہیں جوہر
اندھیرےگھپ میں روشنی پیداکرسکتی ہے،نورماہتاب کاجوجگمگاتے
ستاروں کوماندکردیتاہے”
مجاہدملت مولاناحفظ الرحمن سیوہارویؒ لکھتےہیں کہ:
حضرت مولاناؒکوجس طرح علوم عقلی ونقلی میں کمال حاصل تھا،اسی
طرح بلکہ اس سےزیادہ سیاسی،اجتماعی مسائل میں بھی ان کویدطولیٰ
حاصل تھا،ہندومسلم یونیٹی کانفرنس لکھنؤ ،الٰہ آبادمیں انہوں نےجس
بصیرت کاثبوت دیاہےاس کااعتراف شرکائےکانفرنس ہندومسلم دونوں
نےکیا،اوربعض سیاسی مبصرین نے خودمجھ سےکہا،کہ یہ شخص جب
بات کرناشروع کرتاہے،تولکنت اورعجزگفتگودیکھ کریہ خیال ہوتاہے،
کہ خواہ مخواہ ایسےاہم مسائل میں کیوں دخل دیتاہے،لیکن جب بات
پوری کرلیتاہےتویہ اقرارکرناپڑتاہےکہ اس شخص کادماغ معاملات کی
گہرائی تک بہت جلد پہونچ جاتاہےاور تہہ کی بات نکال کرلےآتاہے۔
مرادآبادمیں جب جمعیۃ علماء ہندکاسالانہ اجلاس منعقدہوااورمولانانے
بہ حیثیت صدرخطبہ ٔ صدارت سنایاتوزمیندار ،انقلاب اور دوسرے
اسلامی اخبارات نےخطبۂ صدارت پرریویوکرتےہوئےیہ لکھاتھا،کہ
مولاناسجادؒکی صورت اورگفتگوسے یہ اندازہ لگانامشکل ہےکہ ایساشخص
بھی اسلامی سیاسیات بلکہ سیاست حاضرہ کااس قدرمبصراورعمیق النظر
ہوسکتاہے،اورواقعہ بھی یہ ہےکہ مولاناکایہ خطبۂ صدارت سیاسیات
اسلامی کی بہترین انسائیکلوپیڈیاہے ۔
علامہ مناظراحسن گیلانیؒ فرماتےہیں:
"سیاسی مہارت جوان کوحاصل تھی اس کاتجربہ تو مجھ سے زیادہ ان
لوگوں کوہوتارہا جن کی عمر گذری تھی اسی دشت کی سیاحی میں ۔
حضرت مولانامنظورنعمانی صاحبؒ اپنےتجربات اورقلبی تأثرات ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:
"میں نے پہلی باریہ اندازہ کیاکہ یہ شخص اپنی شان کانرالاعالم ہے،اسی دن
میرےقلب پران کی عظمت کاسکہ بیٹھ گیا،اورمیں ان کودورحاضرمیں کم
ازکم طبقۂ علماء میں اسلامی سیاست کااعلیٰ ماہرسمجھنےلگا،میں صاف کہتاہوں کہ
پھراس کےبعدسےآج تک اس باب میں حلقۂ علماء میں سے کسی کی بھی
عظمت وجلالت کااس درجہ قائل نہ ہوسکا۔۔ہندوستان کےسیاسی مسائل
میں بھی بس”اسلام اورمسلمانوں کی مذہبی ضروریات "ہی آپ کےغور
وفکر کامرکزاورمحورتھے۔۔۔۔
اس تحزب الاحزاب کےزمانہ میں ہمارےعلمی اوردینی حلقوں میں بھی جو
"رشتے "مثلاً ہم استاذی ،ہم شیخی ،یاکسی ایک خاص”سلسلہ "میں انسلاک
وغیرہ وغیرہ جوعموماًاتحادوارتباط میں مؤثر سمجھے جاتے ہیں،مجھےحضرت
ممدوح سےکوئی ایک بھی ان میں سےحاصل نہ تھا،لیکن ان کےاخلاص
،ورع وتقویٰ،دین کی بےلوث فدائیت،اورسب سےزیادہ سیاسیات میں
ان کےپختہ اسلامی اندازفکرنےمجھےان سےاس قدروابستہ کردیاتھا،کہ
اپنےجن محترم بزرگوں سےمجھےاس قسم کی نسبتیں بھی حاصل ہیں ،ان
کےساتھ بھی مجھےاس سےزیادہ وابستگی نہیں ہے۔
واللہ العظیم اگرمیرےبس میں ہوتاتومیں سیاسی کام کرنےوالے،کم از
کم نوجوان علماء کے لئے توفرض قراردیتاکہ وہ پہلےکچھ دنوں حضرت
مرحوم کی زیرنگرانی ٹریننگ حاصل کریں ‘
جناب محمدیونس صاحب سابق وزیراعظم بہاراپنےمشاہدات کی رودادبیان کرتے ہیں:
"مولانامرحوم کی یہ عجیب خصوصیت تھی کہ وہ وقت کےتقاضاکوخوب
سمجھتےتھے،اوربروقت اس کاحل بھی نکال لیتےتھے،مولانامرحوم کے
ساتھ قومی،سیاسی، دستوری، اور آئینی ہرطرح کےکام کرنے کامجھ کو
شرف حاصل رہااورمولاناؒکےذہن رساکےمتعلق مجھ کوعملاًہرقسم کے
معاملہ میں اس کااندازہ کرنےکاموقع ملاہے،کہ وہ کس طرح معاملہ کی
روح اوراس کی سیاست کوسمجھ جاتے تھے ،اور اگرسیاسی اورآئینی معاملہ
کے متعلق یہ کہوں کہ مولانامرحوم کی شخصیت باوجوداس کےکہ موجودہ
سیاسی لٹریچرکی زبان سےوہ ناآشناتھے،اورآئین ہند کے دفاتر واسفارکے
مطالعہ سےوہ بالکل دورتھے،وہ اس قدرقریب سےاس کودیکھتے تھے،کہ
اس کےجوارمیں رہنےوالاششدر ہوجاتاتھا، تومیری یہ شہادت قیاس و
تخمین نہیں ہوگی، بلکہ عملی تجربہ ہوگاجس کی بنیاد واقعات پر ہوگی ،اور
ایسے واقعات پرہوگی جس کےدامن میں میری سعی بھی تھی”
مولاناشاہ سیدحسن آرزوصاحب اپناذاتی مشاہدہ بیان کرتے ہیں :
"میں نےپہلی ہی ملاقات میں اس دبلےپتلےنحیف وکمزور”عالم دین”
سےمل کریہ محسوس کیاکہ اس کےجسم کےاندرگوشت کالوتھڑانہیں
،دہکتی آگ کاشعلہ ہے، اس کی نظرکی گہرائی ،اس کےدماغ کی بلندی
،اور فہم وفراست ،ارتقائے ملک کےلئےصاف اورسیدھانظام عمل
اپنے اندرمخفی رکھےہوئےہے ،لکھنؤکی وہ صحبت یقینی ایک تاریخی
صحبت تھی،کہ مخصوص مسلمانوں کا ایک مجمع تھا،اورکم ازکم میری
زندگی کاایک تاریخی دن تھامجلس مضامین کی مخصوص صحبت میں پتہ
چلاکہ مولاناسجادؒکی دینی پہونچ کیاہے،اورسیاسی معلومات میں وہ کس
درجہ ماہرہیں ۔
امیرشریعت رابع مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ لکھتے ہیں :
"مولاناؒکی سیاسی زندگی پرجوبھی قلم اٹھائےگاوہ یہ لکھنےپرمجبورہے
کہ مولاناؒنےکامیاب اورشاندارسیاسی زندگی گذاری،ایک طرف
مولاناؒنےامارت شرعیہ قائم کرکے اس اہم ترین مسئلہ کوحل کیا
کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں زندگی کس طرح گذارنی چاہئے،
دوسری طرف مولاناؒنےاسمبلی اورکونسل پر قبضہ کرکےوزارت
قائم کی اورسیاسی اقتداروقوت اپنےہاتھ میں لی،اوربتلایاکہ طاقت
وقوت کاکیامصرف ہےاوردنیاکس طرح چلائی جاتی ہے؟
مجھے بہت سےرہبروں اوررہنماؤں سےشرف ملاقات حاصل ہے،
لیکن وہ مولاناکی طرح مذہب کی لگن،قوم وملک کا جنون، کام کا
سودا ،اورپھراس سلسلہ میں پوری طرح "خودفراموشی”میں نے
کسی اورمیں نہیں دیکھی”
مفکراسلام حضرت مولاناسیدابوالحسن علی ندویؒ تحریرفرماتےہیں:
"سیاست وتمدن اورتاریخ کاانہوں نےگہری نظرسےمطالعہ کیاتھا
،خاص طورپرقانونی ودستوری باریکیوں اورہندوستان کےدستوراور
سیاسی نظاموں سےوہ گہری دلچسپی رکھتےتھےاوران کاانہوں نےبنظر
غائرمطالعہ کیاتھا۔۔۔۔۔جب کوئی مشورہ ہوتاتوسب کی نگاہیں مولانا
مرحوم کی طرف اٹھی رہتیں اوران کی رائےفیصلہ کن سمجھی جاتی
حضرت مولاناسجادؒ کےسیاسی مخالف اورمسلم لیگی رہنماعلامہ راغب احسن صاحب جنرل سکریٹری مسلم لیگ کلکتہ نےحضرت مولاناکی سیاسی شخصیت وعظمت کانہایت بلندالفاظ میں اعتراف کیاہے:
” مولانا سجاد ؒجدید اسلامی ہند کی صف اول کے رجال دین وسیاست میں
ممتاز درجہ رکھتے تھے ،وہ ان چند واقعی لائق ترین سیاسین میں تھے ، جن
کو تحریک خلافت نے پردۂ گمنامی سے ابھار کر ہندوستانی سیاست کی صف
اول میں کھڑا کیا تھا ،پھر وہ تحریک خلافت کے رہنماؤں میں اپنی اصابت
رائے ،سیاست دانی ،معاملہ فہمی ،نکتہ رسی،ذہانت ، عملی صلاحیت ، تنظیمی
طاقت، کاردانی ،کارپردازی،عزم و استقلال کے ساتھ ایک نصب العین
کے لئے مسلسل یکسوئی سے محنت کرنے کی قابلیت ،حالات و ضروریات
کے مطابق زمانہ کے ساتھ چلنے اور ساتھ دینے کی اہلیت اور اپنے مقاصد
کے لئے معیار و اصول سے فروتر لوگوں اور چیزوں سے مصالحت کر لینے
کی قوت کے لئے ممتاز تھے۔
مولانا سجاد علمائے ہند میں نہ صرف سب سے زیادہ سیاسیات حاضر ہ کے ماہر
تھے بلکہ سب سے بڑے عملی سیاست کار بھی تھے ،سیاسیات مغرب کے
متعلق نہ صرف ان کا علم دوسرے مولویوں سےزیادہ بہتر تھا ،بلکہ وہ ان
سے زیادہ موجودہ سیاسی ادارات سے کام لینے کی قابلیت رکھتے تھے اور غالباً
مسلمانان ہندوستان میں ان سے بڑ ھ کر کوئی دوسرا تنظیمی صلاحیت کا انسان
نہیں تھا ۔ ۔۔۔۔۔ اگر قوم ان کا ساتھ دیتی تو جیسا کہ مولانا داناپوریؒ نے
فرمایا تھا کہ وہ ایک نئے ہندوستان اور کم از کم ایک جدید اسلامی ہندوستان
کی تعمیر میں ایک اول درجہ کے معمار کاپارٹ ضرور ادا کرتے ۔
مولانا سجادؒ ہندوستان کے تمام علماء میں سب سے زیادہ عملی سیاست اور
دنیاوی معاملات کو سمجھنے اور ان کے برتنے والے کارواں مدبر تھے ،وہ
انگریزی نہیں جانتے تھے ،لیکن انگریزی سیاست و دستور اور مغربی تمدن
و قانون کو خوب سمجھتے تھے اور ان کی ماہرانہ سیاست دانی اور سیاست کاری
کایہ بہترین اور نا قابل تردید ثبوت ہے کہ انہوں نے بہت سے انگریزی
داں سیاست دانوں کو شکست دے دی تھی ۔
نظری سیاست سےعملی سیاست کی طرف
حضرت مولاناسجادؒکاخیال تھاکہ ہرقوم یاجماعت کی ترقی کےلئےسیاسی اورآئینی
طاقت کاحصول ناگزیر ہے،خصوصاًاس آئینی دورمیں تواس کےبغیرکسی جماعت کازندہ رہناہی مشکل ہے ،اس طرح مولانا نےنہ صرف یہ کہ اپنےسیاسی افکارونظریات سےدنیاکومتأ ثر کیابلکہ آگےبڑھ کراس کاعملی نمونہ بھی پیش فرمایا،وہ صرف خیالی دنیاکے بادشاہ نہیں تھے بلکہ اپنےخیالات کوعملی قالب میں ڈھالنےکاہنربھی جانتےتھے،وہ خالص عملی آدمی تھے،وہ زمینی سطح پرکام کرناپسندکرتے تھے،اورجس چیزکی دوسروں کودعوت دیتےتھے،خودان کےقدم
اس میدان میں کسی سےپیچھےنہیں تھے۔
آپ کی عملی سیاست کاآغازکب ہوا؟حضرت مولانامنت اللہ رحمانیؒ فرماتے ہیں کہ:
” یوں تو مولاناؒ میں سیاسی خیالات کی نشو ونما۱۹۰۸؁ء و۱۹۰۹؁ء ہی سے
ہورہی تھی۔ لیکن ۱۹۱۵؁ء سے وہ زمانہ شروع ہوگیا۔ جہاں سے مؤرخ
"مولانا کی سیاسی خدمات” کا باب شروع کرسکتا ہے ۔
ایک سیاسی جماعت قائم کرنےکافیصلہ
حضرت مولاناسجادؒنےملک کےآئینی پس منظراور بدلے ہوئے حالات کے تناظر میں مسلمانوں کی ایک ایسی سیاسی جماعت بنانےکافیصلہ کیا،جو ملک کی کامل آزادی کی حامی ہواور مسلمانوں کےدینی وقومی تشخصات کی محافظ بھی۔
سحبان الہندمولانااحمدسعیددہلوی ؒحضرت مولاناسجادؒ کےاس اہم ترین تاریخی فیصلہ کے پس منظراورآپ کی سیاسی فکرپر روشنی ڈالتےہوئےتحریرفرماتےہیں:
"وہ (حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ) موجودہ تسلط اوراستبدادیت
کوزیادہ سےزیادہ کمزورکرنےکی فکرمیں تھے،ایک جانب ان کی توجہ
تعمیرکی طرف مائل تھی ،اورزندگی کادوسراپہلوان نظامہائےحکومت
کی تخریب پرمنعطف تھا،ان کےسامنے ۱۸۵۷؁ء کی پوری تاریخ تھی
،اسلامی حکومت کی تباہی ،مسلمانوں کی بربادی کا تمام نقشہ ان کی
آنکھوں میں تھا،پٹنہ کی وہابی تحریک اوراس کی ناکامی کابھی ان کوعلم تھا،
سرحدی علاقہ میں حضرت شہیدؒ کی بچی کھچی جماعت کاجوحشر ہوااس کووہ
جانتے تھےحضرت شیخ الہندؒکی آخری نہضت اورمولاناعبیداللہ سندھی
کی جلاوطنی اورریشمی رومال کی تحریک کاانجام بھی ان کومعلوم تھا، وہ
ان تمام تحریکات کی ناکامی کےبعداس نتیجہ پرپہونچےتھےکہ اس ملک
میں نظام حکومت کی تخریب تنہامسلمانوں کےہاتھوں سےنہیں ہوسکتی
،نظام حکومت کی تخریب جب ہی ہوسکتی ہےجب دونوں قومیں مل کر
اس کام کوکریں،اوردونوں قوموں پرپوراپورااشتراک عمل ہویہ رائے
انہوں نےبہت سوچ سمجھ کرقائم کی تھی”
سیاسی جماعت کےقیام کاپس منظر –تجویزمقاطعہ کی واپسی
اس سیاسی جماعت کےقیام کاپس منظرمولانامحمدعثمان غنی اول ناظم امارت شرعیہ ( جواس تحریک میں روزاول سےشامل تھے)کےقلم سے ملاحظہ فرمائیے:
"جمعیۃ علماء ہندنے ترک موالات کےسلسلہ میں مجالس مقننہ کابھی مقاطعہ
کیاتھا، لیکن انتخاب کےموقعہ پرمسلمانوں کی نشستوں سےمسلمان کھڑے
ہوتے تھے،اور منتخب ہو کر مجالس مقننہ میں جاتے تھے،اوربعض لوگ
وہاں پہونچ کرصرف اپنےمفاد کے پیش نظر کام کرتے تھے ،دینی اور
جماعتی مفادکوفراموش کرجاتے تھے ،صوبہ کی کونسل اورمرکزی اسمبلی
میں ایسےبہت سے واقعات پیش آئے۔
راقم الحروف نےحضرت مولاناؒسےعرض کیا کہ مجالس مقننہ کےارکان
جس طرح منتخب ہوکرجاتے ہیں وہ دین وملت اورملک وقوم کےلئےسخت
نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں،اس لئےمسلم ارکان پرآئندہ کوئی پابندی عائد
کرنی چاہئے،حضرت مولاناؒنے فرمایاکہ جب تک جمعیۃ علماء ہندمقاطعہ کی
تجویزکوواپس نہ لےلےاس وقت تک ہم لوگ کس طرح کسی کی تائید یا
حمایت کرسکتےہیں؟
میں نےعرض کیاکہ مجالس مقننہ کےارکان کی جوروش ہےاس کودیکھتے
ہوئےمقاطعہ کوقائم رکھناجائزقرارنہیں دیاجاسکتا(اذاابتلی ببلیتین
فاختراھونھما)پرعمل کرناچاہئےمثال میں ہم نےقاضی احمدحسین
صاحب کےوقف بل کی ناکامیابی کوبیان کیاکہ صرف مسلمان ارکان کی
حکومت پرستی نےاس مفیدبل کو ناکامیاب کیا،نیزمرکزی اسمبلی کے
بعض ارکان جیسی حرکتیں کررہےتھے،اس کوعرض کیا۔
حضرت مولاناؒنے فرمایاکہ تم جریدۂ امارت میں لکھواگرجمعیۃ علماء ہنداپنی
عائد کردہ پابندی ہٹالےتوپھرآئندہ حصہ لیاجائےگا،چنانچہ راقم الحروف
نےجریدۂ امارت میں مضامین لکھناشروع کردئیے،اس کےبعدنقیب میں
بھی کچھ مضامین لکھے۔
حضرت مولاناؒکی عادت تھی کہ جس معاملہ میں ان کاقلب مطمئن ہوجاتا
تھاپھراس کوجلدسےجلدانجام دینےکی کوشش کرتے تھے،چنانچہ اس
معاملہ میں بھی جب ان کاقلب مطمئن ہوگیاکہ مجالس مقننہ کےانتخاب
میں ہمارے حصہ لینےسے کسی حدتک دینی فائدہ کی توقع ہے اور امارت
شرعیہ کےمقاصدکےلئےہماری شرکت مفیدہوسکتی ہے،توانہوں نے
جمعیۃ علماء ہندکی مجلس عاملہ (منعقدہ ۱۳۵۳؁ھ مطابق ۱۹۳۴؁ء مرادآباد)
مجالس مقننہ(اسمبلی)کےانتخاب میں حصہ لینےکی تجویزپیش کردی ،جو
منظورہوگئی ،اس کےبعد امارت شرعیہ کی مجلس شوریٰ (ربیع الاول
۱۳۵۳؁ھ مطابق جون ۱۹۳۴؁ء)میں اسی مضمون کی تجویزپیش کی،جس کو
مجلس شوریٰ نےمنظورکیا،تمہید کےبعداصل تجویزکےالفاظ یہ ہیں:
"امارت شرعیہ اس امرکااعلان کرتی ہےکہ اگرصوبہ بہارواڑیسہ میں کوئی
مجلس اس اصول کےماتحت قائم ہوئی اور اس کےدستوراساسی وقواعد
امارت شرعیہ کےنزدیک قابل اعتمادہوئے،اوراس نےخصوصیت کے
ساتھ اپنےدستوراساسی میں اس امرکوداخل کیاکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔مجلس (
پارٹی)تمام ایسےامورمیں جن کاتعلق مسلمانوں کےمذہب سےہویاان
کےمذہبی معاملات پراس کااثرپڑتاہو،امارت شرعیہ کی ہدایت ورہنمائی
کی پابندہوگی،توامارت شرعیہ کی پوری ہمدردی وتائیداس مجلس کےساتھ
ہوگی ،لیکن اگربدقسمتی سے اس نازک دورمیں بھی مسلمانوں کی کوئی مجلس
اس قسم کی قائم نہ ہوئی ،یااس کےدستوروقواعد پرامارت شرعیہ کااعتمادنہ
ہوا،توامارت شرعیہ ان ہی مقاصدواغراض کےماتحت اپنےصوبہ کےمسلم
امیدواروں کےلئے ایک عہد نامہ مرتب کرکےشائع کردےگی،تاکہ
جوامیدواراس پردستخط کرکے امارت شرعیہ کے دفتر میں بھیجیں ان
پرغورکرکےامارت شرعیہ کی مختصر مجلس (سب کمیٹی) جن امیدواروں
کےانتخاب کوترجیح دےگی،امارت شرعیہ کی پوری ہمدردی و تائید اس
کےساتھ ہوگی”
اسی تجویزکی بنیادپر”امارت شرعیہ بورڈ”کی تشکیل عمل میں آئی،جس
کےذمہ آئندہ اسمبلی الیکشن کی فکر،امیدواروں کاانتخاب اور ان کی
حمایت کرناتھا ۔
گوکہ بعض لوگوں کوامارت شرعیہ کایہ فیصلہ ناگوارگذرا،لیکن حضرت مولاناؒ نے پورے خلوص کےساتھ اس کام کوکامیابی کی منزل تک پہونچایا،آپ کےتلمیذرشیدمولانااصغر حسین صاحب بہاریؒ سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ لکھتےہیں کہ:
” بعض اعتدال پسند دوستوں نے مولانا ؒ کو ان تمام خوبیوں کا حامل تسلیم
کرتے ہوئے بتایا کہ ان سے ایک بڑی غلطی ہوئی کہ امارت شرعیہ کو پارٹی
الیکشن میں استعمال کر کے امارت کو صدمہ پہنچایا کیونکہ امارت ایک ہمہ گیر
ادارہ ہے اس کی شان مسلمانوں کی پارٹی بندیوں کی لعنت دور کرنا تھی نہ کہ
خود ایک فریق کی حیثیت اختیار کرنا ۔ اس میں شک نہیں کہ ظاہر میں یہ
اعتراض وقیع معلوم ہوتا ہے ،لیکن حقیقت میں یہ ایک بڑا مغالطہ ہے جس
کے ہمارے دوست شکار ہو گئے بیشک پارٹی بندیوں اور تفرقہ اندازیوں
کو ختم کر کے یا کم سے کم سب پارٹیوں میں ہم آہنگی پیدا کر کے وحدت
قائم کرنا امارت کا نصب العین ہے ،لیکن ساتھ ہی اسلامی قوانین و شعائر
کے احترام کو باقی رکھنا بھی امارت کا اولین فریضہ ہے ،اور آئین شرع کو
اغراض پرستوں کے ہاتھ کھلونا ہونے سے بچانا عین مقصد امارت ہے ۔
اب دیکھئے کہ موجودہ حکومت نے نمائندگان عوام کو ملکی قوانین بنانے
کا اختیار دے رکھا ہے،مگر بد قسمتی سے مسلمانوں کا نمائندہ کونسلوں میں
جا کر اسلامی آئین ،مذہبی قوانین کے خلاف بلوں پر مہر تصدیق ثبت
کر کے توہین اسلام کا مظاہرہ پیش کرتا ہے اور جب علمائے مذہب کی
جمعیت تنبیہ کرتی ہے تو لبیک کہنے کے بجائے اس کو ٹھکرا دیتا ہے تو کیا
آئین اسلام کے استحفاظ کے لئے کونسلوں میں ایسے ممبران بھیجنا
ضروری نہیں جو اسلامیات کے متعلق علماء دین کے فیصلہ کو شاہراہ عمل
قرار دیں ؟ اور ایسے افراد کو ممبر ہونے سے روکنا فرض نہیں جو کونسلوں
میں پہنچ کر بلوں کے پاس کرنے میں شریعت کا پاس نہ رکھیں؟ اب اگر
اس سلسلہ میں پارٹی بندی لازم آتی ہے تو امارت اس کی ذمہ دار نہیں ہے
بلکہ و ہ مطلق العنان امیدوار ذمہ دارہے ۔ اس واسطے پارٹی بندیوں کے
الزام و جرم سے امارت کا دامن بالکل پاک ہے” ۔
بدلےہوئےحالات
تحریک خلافت اورتحریک عدم تعاون کےدوران ملک میں انگریزوں کے خلاف جو
اتحاداورمحبت کاماحول بناتھا،اورمسلمان اورہندوشیروشکربن گئےتھے،ان تحریکات کےختم ہو جانےکےبعدوہ ماحول کمزورپڑنےلگاتھا،نفرت وتنگ نظری کاتعفن پھرفضامیں پھیلنےلگاتھا،اور ماحول کےاس بگاڑمیں کانگریس کی غلط پالیسیوں کابھی بڑادخل تھا، کانگریس کی منفی پالیسیوں نےمسلمانوں کےجذبات مجروح کیےتھے،یہاں تک کہ انتخابات کےموقعہ پر بھی کانگریس نے مسلم حلقوں کونظراندازکردیاتھا۔اس کی وجہ سےپورےملک کے مسلمان کانگریس کے خلاف ہوگئےتھے ،مسلم لیگ نےاس کومزیدہوادی اورملک کےاکثر مسلمان کانگریس مخالف لہروں میں بہہ گئے،بہارمیں مسلم لیگ کی یونٹ اتنی مضبوط نہیں تھی،اس لئے بہارکا ماحول کانگریس کےخلاف اتناگرم نہیں تھا۔
مسلم یونیٹی بورڈکاقیام
مانٹیگوچیمسفورڈایوارڈ کےمطابق جب ہندوستان کےلئےنیادستورنافذہوا،جس کے ذریعہ کونسلوں میں منتخب ہندومسلمان آسکتے تھےتومرکزی اورصوبائی اسمبلیوں کےلئے انتخاب کامسئلہ کھڑاہوا، چنانچہ مرکزی اسمبلی چناؤ(۱۹۳۴؁ء)کےموقعہ پریوپی اوربہارکانگریس کےمسلم رہنماؤں نےانتخابات میں حصہ لینےکےلئےخلافت ،لیگ اورجمعیۃ العلماء کےقدیم رہنماؤں کی مدد سے”مسلم یونیٹی بورڈ”قائم کیا،اورمحبان وطن اورآزادیٔ ہندکےخواہاں مسلمانوں کوالیکشن کےلئےکھڑاکیا،اس بورڈکےقیام اورانتخاب کی حکمت عملی میں حضرت مولاناسجادؒ کابنیادی کردارتھا،۔۔۔اس بورڈ میں حضرت مولاناؒکی مرکزی اہمیت کا اندازہ مولانامسعود عالم ندوی صاحب ؒکی اس رپورٹ سے ہوتاہےجو انہوں نے اپنےمشاہدے کی
بنیادپرلکھی ہے:
"مسلم یونیٹی بورڈ کے جلسے غالباً ۱۹۳۲؁ء کے اواخر میں ہوئے اور اس سلسلہ
میں مولانا ؒ کا لکھنؤ میں ہفتوں قیام رہا ،اس دوران راقم برابر حاضر ہوتا ،اور
ان کے افادات سے اپنی کم مائیگی دور کرنے کی کوشش کرتا ،مولاناؒکی
نوازش سے راقم یوینٹی بورڈ کی مجلس مضامین میں برابر شریک ہو سکا، اور
حقیقت میں یہی یونیٹی بورڈ کے جلسے تھے جہاں مولاناؒکے سیاسی تدبر کا لوہا
موافق و مخالف سب ماننے پر مجبور ہوئے ،یوں کہنے کو تو جمعیۃ کی پوری مجلس
انتظامی موجود تھی،بورڈ میں اس کے نمائندے بھی موجود تھے ،پر دماغ
ایک تھا اور سب جسم محض کی حیثیت رکھتے تھے ۔
امارت شرعیہ کی”مجلس انتخابات” کاقیام
امارت شرعیہ کی مذکورہ بالاتجویزکےمطابق ایک سب کمیٹی”مجلس انتخابات”قائم کی گئی،وہ درج ذیل افرادپرمشتمل تھی:
صدر: مولانالطف اللہ صاحب ؒ سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر
نائب صدر: مولاناشاہ قمرالدین صاحب ؒ(جو بعدمیں امیرشریعت
ثالث ہوئے)
سیکریٹری : قاضی احمدحسین صاحب ؒ۔
جوائنٹ سیکریٹریز : (۱)مولاناسیدمنت اللہ رحمانیؒ(جو بعد میں امیرشریعت
رابع ہوئے(۲)شرف الدین صاحب رئیس باڑھ۔
(۳)سعیدالحق صاحب وکیل دربھنگہ
ارکان
۱-حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ
۲-مولوی مجتبیٰ صاحب مظفرپور
۳-محمداسمعیل صاحب وکیل چھپرا
۴-مولاناعبدالوہاب صاحب صدرجمعیۃ علماء بہار
۵-مولانانورالحسن صاحب قاضی شریعت بہار
۶-مولانا حافظ محمدثانی صاحب صدرالنقیب بتیاچمپارن
۷-شیخ عدالت حسین صاحب رئیس النقباء دیوراج ۔
امیدواروں کااعلان
اس مجلس نےحسب ذیل حضرات کومرکزی اسمبلی کےانتخابات کےلئے نامزد کیا:
(۱)مولوی بدیع الزماں صاحب وکیل کشن گنج
(۲)مولوی عبدالحمیدصاحب وکیل دربھنگہ
(۳)مولوی محمدنعمان صاحب پٹنہ ڈویزن
حضرت امیرشریعت ثانی مولاناشاہ محی الدین پھلوارویؒ نےان نامزدگیوں کی تصویب فرماتے ہوئےحسب ذیل نوٹ تحریرفرمایا:
"جن لوگوں کواسمبلی کےلئےمنتخب کیاگیاہے،ان کاانتخاب مناسب
ہے،اللہ تعالیٰ مسلمانوں کواس دعوت حق پرعمل کرنےکی توفیق عطا
فرمائے،میں اجازت دیتاہوں کہ مجلس کی طرف سےاس اعلان کو
شائع کیاجائے”
دستخط محمدمحی الدین پھلواری امیرشریعت ثانی
انتخابات کےنتائج
حضرت مولاناسجادؒ کی کامیاب حکمت عملی کی بدولت مرکزی اسمبلی کےانتخابات میں بہارکےتین (۳)امیدواروں میں سےدو(یعنی مولوی بدیع الزماں وکیل کشن گنج،اور مولوی محمد نعمانی پٹنہ )توبلامقابلہ منتخب ہوگئے،صرف ترہت کی نشست پرمقابلہ ہوا،امارت کےامیدوار جناب عبدالحمیدخان صاحب تھے،اوران کےمقابلےمیں جناب مولوی شفیع داؤدی صاحب انتہائی بااثرشخصیت کےمالک تھے،حضرت مولانامنت اللہ رحمانی ؒ کابیان ہےکہ :
"ذاتی حیثیت میں ان دوامیدواروں میں کوئی نسبت ہی نہ تھی،مولوی شفیع
کےمقابلےمیں مولوی عبدالحمیدکی کوئی شخصیت ہی نہ تھی،پھربھی مولاناؒ
کے تدبرنےاس انتخاب کوبہت اہم بنادیا ،گرچہ امارت کوتقریباًایک سو
(۱۰۰)ووٹ سے ناکامی ہوئی ،مگر وہ نتیجہ تھا اپنی غلطیوں کا،کاش مولاناؒ کی
ہدایتوں پرعمل کیاجاتا تو یہاں بھی کامیابی قدم چومتی ۔
لیکن حضرت مولاناؒنےہارنہیں مانی،مولوی سیدمجتبیٰ صاحب بیان کرتے ہیں کہ:
” مولانا سجاد ؒ نےالکشن کو خلاف قانون قرار دینے کے لئے مقدمہ دائر کیا
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ الکشن ٹریبونل کی تحقیقات مولوی شفیع داؤدی کی
مو افقت میں ہونے کے باوجود وائسرائے نے انتخاب کومسترد کردیا ”
نتائج کےاعلان کےبعدامارت شرعیہ کےساتھ کانگریس کارویہ
مرکزی اسمبلی کےانتخابات کےنتائج سےیوپی اوربہارمیں نئی امنگوں اورنئی
توقعات کاآغازہوا، کانگریس کو بھی مسلم حلقوں کےتئیں سنجیدگی سےتوجہ دینے کی فکرپیدا ہوئی ،خاص طورپربہارمیں امارت شرعیہ کےاثرات کااس کوپورااندازہ ہوگیا،لیکن کانگریس نے اس سے سبق حاصل نہیں کیا،اوراس نےصوبائی الیکشن کےموقعہ پرامارت شرعیہ کونظر اندازکرکےمسلم لیگ کےتعاون سےانتخاب لڑنےکافیصلہ کیا،حالانکہ بہارمیں مسلم لیگ کے بہت زیادہ اثرات نہیں تھے،بلکہ تحریک خلافت کی مخالفت کرکےمسلم لیگ نے بہارکے مسلمانوں کوجوجذباتی صدمہ پہونچایاتھا،اس کی وجہ سےیہاں کےمسلمان مسٹرمحمدعلی جناح اور مسلم لیگ دونوں سےبدظن ہوگئےتھے،اس کےبالمقابل امارت شرعیہ نےتحریک خلافت میں پرجوش حصہ لےکرمسلمانان بہارپراپنی گرفت مضبوط کرلی تھی۔
نئے حالات میں امارت شرعیہ کااہم فیصلہ
دوسری طرف کانگریس سے انتخابی اتحادکےبعدمسٹرجناح نےبہارمیں مسلم لیگ کوتنظیمی طورپر مضبوط کرنے کاارادہ کیا،اورریاست کی بعض نمائندہ شخصیتوں کواپنے پارلیامنٹری بورڈ میں شامل کیا،مثلاً:حضرت مفتی کفایت اللہ صاحبؒ ،حضرت مولانامحمد سجادصاحبؒ،قاضی احمدحسین صاحبؒ،مولوی عبدالحفیظ ایڈووکیٹ،اورشاہ مسعوداحمد وغیرہ ،۔۔۔لیکن ان حضرات نےبہارکےمسلمانوں کاسیاسی مزاج اوررجحان دیکھتےہوئےمسلم لیگ کےلئے مہم چلانامناسب نہیں سمجھا ۔
حضرت مولاناسجادؒکی ان حالات پرگہری نظرتھی ،آپ نےامارت شرعیہ کے سربراہوں کی ایک بیٹھک طلب کی اوراس میں فیصلہ کیاگیاکہ :
(۱)امارت شرعیہ مسلمانوں کی سربراہی کےلئےخودآگےبڑھےاورانتخابی
مہم کوسرکرنےکےلئےایک نئی پارٹی تشکیل دی جائے۔
(۲)اگرکوئی مجلس امارت شرعیہ کےضابطوں اوراصولوں کےمطابق تشکیل
دی جائےتوامارت شرعیہ اس کی حمایت کرےگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: