مضامین

حضرت مولاناسجادؒ کانظریۂ تعلیم

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولاناسجادؒ کانظریۂ تعلیم
بحیثیت عظیم مفکرتعلیم
حضرت مولاناسجادؒکی شخصیت ایک مفکرتعلیم کی حیثیت سے بھی بےحد ممتازہے ، درس وتدریس سےمسلسل اشتغال اورطویل تعلیمی تجربات کی بناپر وہ تعلیم اورنظام تعلیم کے بارےمیں کچھ مخصوص نظریات رکھتے تھے،جن میں سے بعض کےعملی تجربات بھی انہوں نےکئےتھے۔

اپنےنظریۂ تعلیم پرکام کی مہلت نہیں ملی
لیکن افسوس وقت نےانہیں زیادہ مہلت نہ دی اوران تجربات کا تسلسل قائم نہ رہ سکا،حضرت مولاناؒپرافکارواشغال کااس قدرہجوم تھاکہ وہ یکسوئی کےساتھ دیرتک اس سلسلہ کوجاری نہ رکھ سکے،کاش ان تجربات کاامتدادقائم رہتاتو بدلے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں کےلئےایک نیانظام تعلیم روشناس ہوتا،اورایک نئی تعلیمی تجربہ گاہ اورافرادسازی کی ایک نئی طاقت وجودمیں آتی،جس سے قدیم وجدیددونوں طرح کےتعلیمی ادارے مستفید ہوسکتےتھے
قدیم نظام تعلیم کو مفیدتربنانےکامنصوبہ
حضرت مولاناؒکےذہن میں قدیم دینی مدارس کےنظام تعلیم کےلئےایک مرتب اسکیم موجودتھی،اکثر جدیدخیال کےحاملین مدارس اسلامیہ کےنصاب ونظام پرصرف تنقیدیں کرتے ہیں اوران کوفرسودہ قراردینےکےلئےکیڑے نکالتے ہیں ،لیکن ان کی روح اور بنیادی چیزوں کوبرقراررکھتےہوئےنئےتجربات سےان کو کس طرح ہم آہنگ کیا جاسکتا ہے اس کاکوئی مرتب خاکہ ان کےذہنوں میں نہیں ہوتا،قدیم مدارس پرتنقید کرکےاوران کے نظام تعلیم کوبےمعنیٰ ثابت کرکےوہ اپنےخیال میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوجاتے ہیں ،یاپھرایسی جدید کاری کی کوشش کرتے ہیں کہ مدارس کی روح ہی فنا ہونےلگتی ہے،جو ارباب مدارس کےلئےہرگزلائق قبول نہیں ہوسکتی،حضرت مولاناسجادؒخودقدیم اداروں کے پروردہ تھے،وہ پرانےعلوم وفنون کی اہمیت اورقدیم طرز تربیت کی افادیت پریقین رکھتے تھے، لیکن موجودہ تقاضوں کےساتھ ان کوکس طرح ہم آہنگ کیاجائے،اوران کےفضلاء کی افادیت عصرجدیدمیں کس طرح دوچندہوسکتی ہے،ان کےذہن میں اس کاایک خاص منصوبہ تھا۔۔۔
اس سلسلےمیں مولاناامین احسن اصلاحی صاحب نےخوداپناایک تجربہ لکھاہے، مولانا اصلاحی صاحب کاشماربھی انہی متجددین میں ہوتاہے جومدارس کےنظام پرتنقیدکرنا اپنا منصبی فرض تصورکرتے تھے،لیکن خودان کےذہن میں کوئی مرتب اصلاحی اسکیم موجودنہیں تھی، اس کا مکمل خاکہ ان کو حضرت مولانامحمدسجادؒکےپاس ملا،وہ لکھتے ہیں:
"چند سال ہوتے ہیں (سنہ ٹھیک یاد نہیں ) مظفر پور کے ایک عربی مدرسہ
کے جلسۂ تقسیم اسنادو دستاربندی میں شرکت کا اتفاق ہوا،خوش قسمتی سے
مولاناؒ صدر تھے ،اور میں مقرر ،دستاربندی کی تقریب سے علماء کی دستار
ہی کو میں نے عنوان تقریر قراردیا اور اس کی گذشتہ عظمت کو یا د دلاتے
ہوئے ان خطرات کی طرف تفصیل سے توجہ دلائی جن سے مستقبل میں
اس دستار کو دو چار ہونا ہے ،مجھے بھی اچھی طرح یاد ہے کہ اس تقریر میں
میں نے قدیم طرز تعلیم ،قدیم نصاب اور علماء کی روش پر نہایت تند لہجہ
میں تنقید کی اور ان تمام تبدیلیوں کے لئے بے جھجھک دعوت دی ،جو عربی
تعلیم اور خود علماء کی بقا کے لئے نا گریز ہیں۔۔جلسہ ختم ہونے پر(انہوں
نے)میری قیام گاہ پر مجھے ملاقات کی عزت بخشی۔۔۔۔وہ میری تقریر
پر اظہار خیال کرتے کرتے عربی مدارس کی اصلاح سے متعلق خود اپنے
خیالات ظاہر فرمانے لگے، اور تھوڑی دیر کے بعد جب انہوں نے گفتگو
ختم فرمائی تو مجھے دفعۃً ایسا محسوس ہوا کہ خود میرے منتشر خیالات اب
ایک مرتب و مہذب اسکیم کے قالب میں ڈھل گئے ہیں” ۔
نئےنظام تعلیم کےلئےعملی کوششیں
حضرت مولاناسجادصاحب ؒنصاب تعلیم کی اصلاح کےلئےشروع سے فکرمند رہے اوراس باب میں ان کوخصوصیت واولیت حاصل تھی ،مدرسہ انوار العلوم گیاکےقیام کے پس منظرمیں ایک نئے نظام تعلیم کےقیام کاجذبہ ہی اصلاً کارفرماتھا،آپ کےتلمیذرشید حضرت مولانا عبد الصمدرحمانیؒ تحریرفرماتے ہیں:
” مولاناؒ الٰہ آباد چھوڑکر گیا (صوبہ بہار) کیوں تشریف لائے، اس کے
اسباب سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ دراصل اس کا باعث ایک تو مولاناؒ
کا تعلیمی نظریہ تھا،دوسرے مدارس عربیہ کی زبوں حالی اور علمی کیفیت
کی روزبروز انحطاط پذیری تھی، جو مولاناؒ کو بے چین اور مضطرب رکھتی
تھی۔ ۔۔۔
ان جملہ وجوہ کے ساتھ بہاری طلبہ کے اصرار کو بڑا دخل تھا، جو ہمیشہ
مولاناؒ کو مراجعت گیا کے لیے اُبھارتے رہتے تھے، اور کہتے رہتے تھے
کہ جب تک آپ معیاری حیثیت کی تعلیم گاہ کی بنیاد رکھ کر جس میں
کسی کا دخل نہ ہو، نمونہ قائم نہ کردیں گے، اور براہِ راست جدوجہد کو
کام میں نہیں لائیں گے۔ مدارسِ عربیہ کے بوسیدہ نظام میں انقلاب
نہیں پیدا ہوگا ”
ایک انقلابی مفکرتعلیم
اس لئےیہ فکرمولاناؒسےکبھی جدانہیں ہوئی،اوروہ انفرادی واجتماعی ہرسطح پراس
کےلئےبرابرکوشاں رہے،وقتاًفوقتاًعلماء اورارباب مدارس کواس جانب متوجہ فرماتے رہے، اوراس دورمیں مولاناؒکےسواکوئی دوسرانام ایسانہیں ملتاجس نےاس فکرکواپنی مہم کاحصہ بنایاہو ،اوراس قدرمحنتیں کی ہوں ،مولاناؒاپنےعہدکےواحدانقلابی مفکرتعلیم تھے جنہوں نےالٰہ آباد کی بھری پری زندگی ترک کرکےرنج ومحن والی زندگی کوگلےلگایا ،پھولوں کاراستہ چھوڑکر کانٹوں بھراراستہ قبول کیا،اوراس فکرکاعملی نمونہ پیش کرنےلئے متعددتعلیم گاہیں قائم کیں ،مدرسہ انوارالعلوم گیا آپ کےمجوزہ نصاب تعلیم کاپہلاعملی شاہکارتھا،مولانا عبدالصمد رحمانی ؒکےیہ الفاظ مبنی برحقیقت ہیں کہ :
” بالآخر مولاناؒ نے اس دعوت رنج ومحن کو قبول کرلیا، اور گیا کی مراجعت
کے لیے تیار ہوگئے۔۔۔ان غیرمعمولی حالات میں مولاناؒ کو میں نے کبھی
نہیں دیکھا کہ وہ اس رنج ومحن کے کٹھن ایّام میں کبھی بھی مایوس ہوئے
ہوں، یا یہ کہ ان کو کبھی خیال ہوا ہو، کہ بیٹھے بٹھائے کیوں الٰہ آباد کی
طمانیت کی خوش عیش اور خوشگوار زندگی کو چھوڑ کر اس دردِسر کو خریدا۔
مولانا ؒہمیشہ پراُمید رہتے تھے، اور طلبہ کو پراُمید رکھتے تھے، مشکلات سے
نہ گھبراتے تھے، نہ کام کے ہجوم سے پریشان ہوتے تھے” ۔
انقلابی تعلیمی تحریک کاآغاز
حضرت ابوالمحاسن ؒنےاس فکر کوعام کرنے اوردیگر مدارس کوبھی اس میں شریک کرنے کےلئےایک تعلیمی تحریک کاآغازفرمایا،حضرت مولانا ؒکےذہن میں تعلیم و امتحان دونوں کے لئےایک قومی بورڈبنانےکاتخیل تھا،جس سے بہارکےتمام مدارس منسلک ہوں اور سب میں ایک ہی نصاب تعلیم جاری ہواوران کےامتحانات بھی اسی بورڈکےتحت کرائےجائیں ،اس سے مدارس کاتعلیمی معیاربلندہوگا،اورطلبہ میں مسابقت کاجذبہ بیدارہوگا، البتہ مولانا مدارس کاسرکاری بورڈبنائے جانےیااس کےساتھ مدارس کےالحاق کومضرقراردیتےتھے، اسی لئےبہار میں جب مدرسہ اکزامینیشن بورڈ شروع ہواتوآپ نےاس کو سخت ناپسندفرمایا، اوراس کوامت کی تعلیمی روحانیت اوردینی اصالت کےمنافی قراردیا ہے۔
ایک قومی تعلیمی بورڈکاتصوراورقیام
حضرت مولاناؒکےذہن میں قومی تعلیمی بورڈکاایک مکمل خاکہ موجودتھا، مولانا عبدالصمدرحمانی صاحب لکھتےہیں کہ:
"مولاناچاہتےتھےکہ:
(۱)موجودہ نصاب بدل دیا جائے۔
(۲) صوبہ بہار کے تمام مدارس میں ایک نصاب جاری کیا جائے۔
(۳)مدارس عربیہ کے امتحان کے لیے لائق علماء کی ایک مجلس ممتحنہ ہو
، جو امتحان کے سوالات مرتب کرے اور ان کے نتائج کو شائع کرے۔
(۴)تمام مدارس میں جو بڑا مدرسہ ہو، اس کو جامعہ کلیہ قرار دیا جائے۔
(۵) ہر قابل اعتناء مدرسہ کے ذمہ ایک مخصوص فن دے دیا جائے،
جس کی تکمیلی تعلیم وہاں ہو، اور ابتدا ہی سے غیرمحسوس طریقہ پر اس
کا وہاں کے ہردرجہ میں لحاظ رکھا جائے مثلاً کسی مدرسہ کا خصوصی فن
حدیث ہو، کسی کا فقہ ہو، کسی کا قرآن ہو وغیرہ” ۔
بہارشریف میں تعلیمی کانفرنس اورقومی تعلیمی مرکزکاقیام
چنانچہ اس سلسلہ کی ایک کانفرنس حضرت مولاناسجاد نے(جب آپ جمعیۃ علماء بہار کےناظم تھے)جمادی الثانیۃ ۱۳۴۳؁ھ مطابق دسمبر۱۹۲۴؁ء میں مدرسہ عزیزیہ بہارشریف میں طلب فرمائی،جس میں جدیدوقدیم اصحاب علم کےہرطبقہ سےبہارکی انتہائی مقتدر شخصیات نے شرکت کی،ان میں خصوصیت کےساتھ درج ذیل حضرات قابل ذکرہیں :
٭حضرت مولاناعبدالوہاب صاحب مہتمم مدرسہ امدادیہ دربھنگہ(صدرنشیں)
٭ حضرت مولاناابونعیم محمد مبارک کریم صاحب (سپرٹنڈنٹ اسلامک اسٹڈیز
بہار)
٭مولانا حکیم شرف الحق صاحب بہاری
٭مولاناشاہ نورالحسن صاحب پھلوارویؒ
٭مولاناعبدالشکورصاحب لوگانواں
٭مولانانورالدین صاحب مہونی
٭مولاناشاہ قمرالدین صاحب پھلواری شریف
٭مولاناسیدعثمان غنی صاحب گیا
٭مولاناشاہ ابوالخیرات صاحب سیوان
٭مولاناحافظ محمدثانی صاحب بتیا
٭مولانانعمت اللہ صاحب مظفرپور
٭مولاناحکیم عبدالعزیزصاحب دربھنگہ
٭مولاناعبدالصمدصاحب مونگیر
٭مولاناحکیم محمدیعقوب صاحب مونگیر
٭مولاناسیدظہورالحسن صاحب بھاگلپور
٭حضرت مولاناجمیل احمد(سیوان)بوجہ ضعف خودتشریف نہ لاسکےالبتہ طریقۂ تعلیم کی اصلاح پراپنی ایک قیمتی تحریرارسال فرمائی جسے شرکاء اجلاس نےبہت پسندکیا۔
٭مولاناعزالدین ندوی نواسہ حضرت شاہ سلیمان پھلوارویؒ
٭شاہ فصیح احمدکاظمی ایف اے
٭علاوہ اکثربڑے مدارس کےمہتممین اورمدرسین شریک ہوئے
کانفرنس میں مدارس اسلامیہ کےگرتے ہوئےمعیاراوراصلاح نصاب کی بات زیر بحث آئی اورحضرت مولاناسجادؒنےاس کےلئےایک”قومی امتحانات بورڈ” کی سفارش فرمائی ، اورکئی اہم تجاویزمنظورکی گئیں۔مشہورعالم دین اورحضرت مولاناسجادؒکےقریب ترین عزیز مولانا مسعودعالم ندویؒ ان دنوں مدرسہ عزیزیہ میں زیرتعلیم تھے،کانفرنس کی چشم دید رپورٹ ان کےقلم سے ملاحظہ فرمائیے:
"مدرسہ کی تعلیم کے دوچار زینے طے ہوچکے تھے کہ مدرسہ(مدرسہ عزیزیہ
بہارشریف) ہی کے احاطہ میں اصلاح نصاب تعلیم کے متعلق علماء کی ایک
کانفرنس منعقد ہوئی ،شوال کی ابتدائی تاریخیں تھیں ،مدرسہ۸؍شوال کو
کھلتا تھا لیکن جلسہ کے شوق میں وقت سے پہلے بہار آگیا اور تمام نشستوں میں حاضر رہا۔اس وقت مجھے پہلی مرتبہ مولاناؒ کی عظمت کا احساس ہوا،
بڑے بڑے علماء کا مجمع تھا ،مولانا عبدالوہاب صاحب مہتمم مدرسہ امدادیہ
دربھنگہ صدر نشیں تھے ، حصہ لینے والوں میں مولانا ابو نعیم محمد مبارک
کریم صاحب (سپرٹنڈنٹ اسلامک اسٹڈیزبہار)اورمولانا حکیم شرف
الحق صاحب بہاری خاص طور پر قابل ذکر ہیں، لیکن اجلاس کے روح
رواں مولانا محمد سجاد علیہ الرحمۃ ہی تھے،مولانا ؒچاہتے تھے کہ صوبۂ بہار
کے تمام عربی مدرسےا یک نظام کے ماتحت آجائیں اور ایک نصاب تعلیم
پر ہر جگہ عمل درآمد ہو، اس تجویز کے ذریعہ در حقیقت وہ مدرسہ
اگزامنیشن بورڈ کے نئے فتنہ کا سد باب کرناچاہتے تھے، ان کی خواہش
تھی کہ سرکاری امتحانات کے بدلے آزاد قومی امتحانات ہوں ،تجویز یہ
تھی کہ مدرسہ عزیزیہ کو اس نئے قومی تعلیمی نظام کا مرکز قرار دیا جائے،
اور اپنی پائیدار مالی حیثیت کی وجہ سے وہ اس کا اہل بھی تھا،اجلاس تو
کامیاب رہا اور ہم ناسمجھ تو بڑی امیدیں لے کر اٹھے تھے، لیکن کچھ ہی
دنوں بعد معلوم ہوا کہ خودہمارامدرسہ سرکاری اگزامنیشن بورڈ سے
ملحق کردیا گیا ،جب حریفوں نے مجوزہ مرکز ہی کو توڑ لیا تو پھر کیاامید
ہوسکتی تھی ۔
قومی تعلیمی بورڈکاخاکہ
اس اجلاس کےموقعہ چندتجاویزپرمشتمل ایک تحریربھی حضرت مولاناسجادؒنے
پیش فرمائی تھی ،جس میں کچھ اضافہ اورکاروائی اجلاس وغیرہ شامل کرکےافادۂ عام کی غرض سے”اصلاح تعلیم ونظام مدارس عربیہ "کےنام سےخودحضرت مولاناؒہی نےاس کوشائع فرمادیا تھا،یہ مضمون اب مقالات سجادکاحصہ ہےبطورنمونہ اس کےکچھ ضروری نکات پیش کئے جاتے
ہیں:
"چوں کہ مدارس عربیہ اسلامیہ میں جونصاب تعلیم رائج ہےاورجوطریق
تعلیم وتربیت عموماًشائع ہے،وہ ایک حدتک موجودہ ضروریات کالحاظ رکھتے
ہوئےکافی نہیں ہے،انہی وجوہ سےکثرت مدارس کےباوجودعلمی کیفیت
روبروزانحطاط پذیرہوتی جاتی ہے،اگرچہ علماء کی تعدادمیں ہرسال ایک غیر
معمولی اضافہ ہوتارہتاہے،لیکن اس کےساتھ ہی بہت سے حضرات کے
دلوں سےمدارس عربیہ اسلامیہ کی وقعت زائل ہوگئی ہے،اورانہی وجوہ
سے ملک میں ایک عام بددلی پھیلتی جاتی ہے،اس لئےجمعیۃ علماء بہار کایہ
جلسہ(جس میں ارکان جمعیۃ علماء بہارکےعلاوہ مدارس اسلامیہ صوبہ بہار
کے مدرسین ومہتممین و دیگراہل الرائےشریک ہیں) متفقہ طورپریہ
تجویزکرتا ہےکہ اسلامی عربی تعلیم کوترقی دینےاوراس کی عزت ووقار
کے قائم رکھنے کےساتھ ساتھ عربی تعلیم کوزیادہ مفیدوبااثربنانےاور
تمام مدارس اسلامیہ کی عظمت بڑھانےکےلئےحسب ذیل اصول اختیار
کئےجائیں:
(الف)صوبہ بہارکےتمام مدارس عربیہ اسلامیہ میں ایک ہی نصاب رائج
کیاجائے،اورموجودہ نصاب مروج میں جن امورکی ضرورت ہواس کولحاظ
کرتے ہوئےکمی بیشی کرکےنصاب کی مزیدتکمیل کی جائے۔
(ب)صوبہ بہارکےتمام مدارس اسلامیہ کےلئےایک مجلس ممتحنہ قائم کی
جائے، جس کے اندرنہایت لائق وفائق مدرسین شریک ہوں،یہی مجلس
تمام مدارس کے امتحان کے اصول و نوعیت باعتبارکتاب ودرجات قائم
کرے اور تمام مدارس کےنتائج کوباضابطہ شائع کیاجائےاوربغیرکامیابی
طلبہ کو ترقی نہ دی جائے ،لیکن جامعہ کلیہ (جوآئندہ قائم ہوگا)کے
امتحانات میں اگر کسی خاص ایک مضمون میں ناکامیاب ہوجائےتواس کا
دوبارہ امتحان اسی مضمون خاص میں لیاجائے،اوربصورت کامیابی ترقی
دی جائے ،اور نیچے درجےکے امتحانات میں ہرمدرسہ کےمدرس اعلیٰ
ناکامیاب طلبہ کوان کی استعدادکی بناپرترقی دے سکتےہیں۔
(ج)تمام صوبہ کے اندر درجہ متوسط سےاعلیٰ تعلیم تک کےدرجات
میں جو لڑکے سب سےاعلیٰ کامیابی حاصل کریں ان کےلئےایک سال
تک انعامی وظیفہ مقررکیاجائے۔
(د)صوبہ بہارکے جملہ مدارس اسلامیہ میں نہایت پابندی کےساتھ یہ
نظام قائم کیاجائے کہ جولڑکاکسی مدرسہ سےنکل کرکسی اورمدرسہ میں
داخل ہوناچاہے ،توجب تک وہ سابق مدرسہ کی سندپیش نہ کرےداخل
نہ کیاجائے،اس صوبہ میں اس کی پابندی کےبعدبیرونی صوبہ کےمدارس
سےبھی معاہدہ کرنےکی کوشش کرنی چاہئے،تاکہ طلبہ کی لاپرواہی کاسد
باب ہوجائےاورتعلیم و تربیت کی نگرانی کامیاب ہوسکے،لیکن اگرکوئی
لڑکاسندنہ پیش کرنےکی وجہ سابق مدرسین کی عدم توجہی یامدرسین
ومہتممین کےدوسرےناجائزوجوہ کوبیان کرے، توایسی صورت میں اہل
مدرسہ کافرض ہوگاکہ کامل تحقیقات کےبعدلڑکےکےبیان کردہ وجوہ
کےثابت ہونےکی صورت میں اس کوداخل مدرسہ کرلیں۔
(س)اور اگر کوئی طالب علم کسی معقول وجہ سےکسی دوسری تعلیم گاہ
میں جاناچاہے اوراس کی سنداہل مدرسہ سے طلب کرےتواہل مدرسہ
کافرض ہوگاکہ اس کودےدیں۔
(ہ)صوبہ بہارکےکسی ایک بڑےمدرسہ کوجامعہ کلیہ کادرجہ دیاجائے” ۔
اسی موقعہ پرجمعیۃ علماء بہارکی مجلس منتظمہ کابھی اجلاس ہوا،ان تجاویزکواس مجلس نےبھی منظورکیا،کانفرنس کےاخراجات جناب سیدشاہ محمدقاسم صاحب بیرسٹر متولی صغریٰ وقف اسٹیٹ نےبرداشت کئے” ۔
مدرسہ شمس الہدیٰ بورڈکےلئےایک جامع نصاب تعلیم کی ترتیب
بہارمیں ڈاکٹرسیدمحمودکی وزارت تعلیم کےزمانہ میں جب مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کےحوالےسےنصاب تعلیم کی اصلاح کی آوازاٹھی اورایک جامع نصاب تعلیم کی منظوری کےلئےایک کمیٹی تشکیل دی گئی،توحضرت مولاناسجادؒاس کمیٹی کے رکن رکین مقرر ہوئے،اوراس کمیٹی نےآپ کی فکروتجربات سے پورااستفادہ کیا،اورایک جامع نصاب تعلیم مرتب کیا،علامہ مناظراحسن گیلانیؒ کوامیدتھی کہ اگربہاران نئے نصابی خطوط پراپناتعلیمی سفر جاری رکھتاتوہندوستان کاکوئی صوبہ تعلیم کےمیدان میں اس کی ہمسری نہ کرسکتاتھامولانا مناظراحسن گیلانیؒ کابیان ہےکہ مولاناؒایک روایتی قدیم نصاب تعلیم کےپروردہ تھے اور اکثر تعلیمی زندگی بھی اسی ماحول میں گذاری اس لئے شروع میں ہمیں مولانا کےبارےمیں اندازہ نہیں تھا،بلکہ یکگونہ خوف کااحساس تھا لیکن نصاب تعلیم کےتعلق سےمولاناکی دقت نظر، فکرمندی اوردوربینی دیکھ کرہمیں اپنی جھوٹی روشن خیالی پر ندامت ہونے لگی،اس نصاب تعلیم کاابتدائی مسودہ علامہ گیلانی ؒ اورعلامہ سیدسلیمان ندوی ؒ نےتیارکیاتھا،لیکن آخری شکل دینےوالی کمیٹی میں مفکرتعلیم حضرت علامہ محمدسجادؒکے تعلیمی نظریات نےاس نصاب کوایک طاقتورتعلیمی نصاب میں تبدیل کردیا،مولانا گیلانیؒ تحریر فرماتےہیں:
"ڈاکٹر محمود صاحب وزارت تعلیمات کے زمانہ میں میرے اور سید سلیمان
صاحب کے بنائے ہوئے نصاب متعلقہ مدرسہ شمس الہدیٰ پر بعض
جہات سے اعتراضات ہوئے ، کمیٹی نظر ثانی کے لئے بنی ، مولانا ؒبھی اس
کمیٹی کے رکن تھے ، مجھے کچھ اندیشہ تھا کہ شاید تعلیمی حیثیت سے مولانا کے
قدیم نقطۂ نظر میں تبدیلی نہیں ہوئی ہے ، کہیں اعتراضات ان ہی کی طرف
سے نہ ہوں ، خوف زدہ تھا کہ ان کی گرفتوں کا جواب آسان نہ ہو گا ،لیکن جو
شکلاً ،صورۃ، لباساً ، ووضعاً بالکل ملا قدیم ملاؤں کے پختہ رنگ میں رنگین تھا ،
کمیٹی کے وقت ان کی دوررس نظر کو دیکھ کر اپنی جھوٹی روشن خیالی پر
مجھے شرمندہ ہو نا پڑا ، ترمیم نصاب کے مسئلہ میں مولانا ؒ کا قدم ہم سے آگے
تھا ، نتیجہ یہی ہوا کہ تحتانی کلاسوں کی چند جزئی ترمیمات کے سوا مخالفین کی
اس مطلوبہ کمیٹی کا کوئی نتیجہ بر آمد نہ ہوا، بحمدا للہ وہ نصاب اپنے موجودہ حال
میں جاری ہے اور ان شاء اللہ پچیس تیس سال کے اندر اندر ہندوستان کو
ماننا پڑے گا کہ اسلامی علوم کے سلسلہ میں بہار کا قدم تمام صوبوں سے
آگے ہے ، بشرطیکہ اس نصاب کو ان ہی شرائط کے ساتھ پڑھایا جائے جو
تدریس کے لوازم ذاتی ہیں ” ۔
مکاتب کانصاب تعلیم
حضرت مولاناسجادؒمدارس کےساتھ مکاتب کے تعلیمی نظام کےلئےبھی بہت فکرمندتھے ،اس لئےکہ مکاتب کادائرہ مدارس سے زیادہ وسیع ہے،ہرمسلمان مدرسہ تک نہیں پہونچ سکتا،لیکن مکتبی تعلیم سے ہرشخص کوگذرناپڑتاہے،مولاناؒچاہتے تھےکہ مکاتب کے لئےبھی ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کردیاجائےجواس کوپڑھنےوالےطالب علم کی پوری زندگی کےلئےمشعل راہ (گائڈلائن)ہو،اوراس کےبعدمزیددینی تعلیم حاصل کرنےکے مواقع میسرنہ بھی ہوں تو انسان اپنےمذہب کی بنیادی چیزوں اورضروری عقائد ومسائل سے بےبہرہ نہ رہے،اوپرمدرسہ عزیزیہ بہارشریف کی جس کانفرنس کاذکرآیاہے، اس میں مولاناؒ نےمکاتب کےلئےبھی اپنےعزم کااظہارفرمایاتھا،اورشرکاء سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنےذوق کےمطابق نصاب کے اصولوں کی نشاندہی کریں اوراگرکوئی صاحب علم مسودہ کاخاکہ تیار کرسکیں توتیارکرکے ارسال کردیں تاکہ نصاب کی ترتیب میں آسانی ہو،اورآئندہ کسی نشست میں اس پرغوروخوض کیا جاسکے۔۔۔خودحضرت مولاناسجادؒکےمضمون میں اس کا ذکرموجود ہے،تحریرفرماتے ہیں:
"ایک اوراہم مسئلہ رہ گیاہےجواس مسئلہ سےکم اہم نہیں ہے،اور
وہ ابتدائی مکاتب کے نصاب کامسئلہ ہےاس کےلئےان شاء اللہ
تعالیٰ آئندہ آپ حضرات کو تکلیف دی جائے گی،لیکن آپ
حضرات اس پرآج ہی سےغوروخوض شروع کردیں کہ وہ نصاب
کن اصولوں پربنایاجائے، اورکس حدتک رکھاجائے،اورجو
حضرات اس کےمتعلق کوئی مسودہ تیارکریں ہمارےنام روانہ
فرمائیں،تاکہ ترتیب میں مجھےسہولت ہو،اورآئندہ آپ کوبھی
آسانی ہواسی سلسلہ میں ناظم(حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ)
نے یہ بھی بتایاکہ کتابی تعلیم اورمذہبی تعلیم وتعلم کلیۃًوعموماً
فرض ہے اور یہ فرض زبانی تعلیم سےپوری ہوسکتی ہے،اس
پربھی غورکرناچاہئے ۔
آج جامعات سےزیادہ مکاتب کی ضرورت ہے
حضرت مولاناسجادؒمکتبی تعلیم پربہت زیادہ زوردیتےتھے،ان کےنزدیک آج کے دورمیں بڑےمدارس اورجامعات کےبجائےچھوٹےچھوٹےمکاتب قائم کرنےکی زیادہ ضرورت ہے، آج علماء کا بڑامرض یہ ہےکہ وہ جامعہ ،کلیہ اوردارالعلوم سے کم پرراضی نہیں ہوتے ،حضرت مولاناسجادؒاکثرلوگوں کواس جانب متوجہ کرتے تھے،ایک مضمون میں انہوں نےاپنایہ دردبیان کیاہےتحریرفرماتے ہیں:
"اس میں شک نہیں کہ جابجامدارس بھی جاری ہیں،مگران مدارس
سےزیادہ فائدہ متصورنہیں ہے،کیونکہ جہاں مدرسہ قائم ہوتاہے،تو
اس کےمنتظمین اورمدرسین کی خواہش یہ ہوتی ہےکہ ہرمدرسہ گویا
ایک جامعہ کلیہ ہو ،اوراقل درجہ یہ ہےکہ عربی کی تعلیم دی جائے
،اورعلماءپیداکئےجائیں،بےشک خیال تونہایت مبارک ہےمگریہ عملاً
ناممکن ہےاوراصلی مرض کاعلاج نہیں ہے،بلکہ ضرورت یہ ہےکہ
دیہات وقصبات میں چھوٹے چھوٹےمکاتب ہوں،جہاں صرف
کلام مجیداوربذریعہ اردودینیات کی تعلیم دی جائےتاکہ معمولی لکھنا
پڑھناآجائے،اگرکوئی لڑکااس سےزائدتعلیم حاصل کرناچاہےتوپھر
اس کےلئےصدرمقامات کےمدارس کےدروازےکھلےہوئےہیں،
مجھے افسوس ہےکہ ہمارےعلماء کرام وزعمائےملت ابتدائی تعلیم کی
طرف توجہ نہیں کرتے جوسب سےزیادہ قابل توجہ چیزہےاکثر
صحبتوں میں میں نےاپنےخیالات اس باب میں ظاہرکئےہیں،اوران
شاء اللہ کسی فرصت میں اب اس مسئلہ پرمستقل مضمون لکھوں گا ”
مکاتب میں زبانی طریقۂ تعلیم کوفروغ دینےکی ضرورت
مکاتب کی تعلیم کوزیادہ سےزیادہ وسیع کرنےکےلئےحضرت مولاناؒ کاایک خیال یہ بھی تھاکہ کتابی سے زیادہ زبانی طریقۂ تعلیم کوفروغ دیناچاہئے،اس سےہرعمراورہرصلاحیت کے لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں،بعدمیں اس کوطلب ہوگی توکتابی تعلیم بھی حاصل کرلےگا،خیر القرون کاطرزتعلیم یہی تھا،اس میں بڑی مصلحتیں اور فائدےپوشیدہ ہیں،اس کودوبارہ زندہ کرنےکی ضرورت ہے،حضرت مولاناسجادصاحب ؒ نےاپنےمضامین اورخطابات میں اس جانب لوگوں کی توجہات مبذول فرمائی ہے:
٭مدرسہ عزیزیہ میں اصلاح نصاب کانفرنس(۱۹۲۴؁ء)کےموقعہ پرآپ نےجو فکر انگیزخطاب فرمایا،اس میں بھی اس کی طرف اشارہ موجودہے:
” کتابی تعلیم اورمذہبی تعلیم وتعلم کلیۃًوعموماًفرض ہےاوریہ فرض
زبانی تعلیم سےپوری ہوسکتی ہے ، اس پر بھی غور کرنا چاہئے .
٭اسی طرح آپ کےایک مضمون کایہ اقتباس بھی بہت اہم ہے:
"تعلیم دین جوفرض عین ہےاس کےحصول کاذریعہ صرف کتابی
تعلیم نہیں ہے، اور یہ فرض صرف کتابی تعلیم سےادابھی نہیں
ہوسکتا،بلکہ سب سےاول زبانی تعلیم کی حاجت ہے،کیونکہ تعلیم
کےعام ہونےکی یہی صورت ہے،اس کے بعد کتابی تعلیم ہونی
چاہیئے،
اس لئے ابتداءً بچوں کوبھی زبانی تعلیم دینی چاہئے،اورپانچ چھ ماہ
زبانی تعلیم دینےکےبعدکتابی تعلیم شروع کی جائے، اور بڑے
بوڑھوں کوتوعموماًصرف زبانی ہی تعلیم دینی ممکن ہے،جس قدربھی
وقت میسرآئےاس کےاندران کوعقائد،عبادات اوراخلاقی مسائل
کی تعلیم دی جائے،مذہبی وقومی روایات یاد کرائے جائیں،مگرہم
لوگوں نےتعلیم کے اصلی طریقوں کو اختیار نہیں کیا، حالانکہ
خیرالقرون کےزمانہ میں تعلیم کےیہی طریقےمروج تھےاس لئے
اس عام جہالت کی ذمہ داری صرف عوام الناس پر نہیں ہے
بلکہ سب سےزائد اس کی ذمہ داری ہماری قوم کے رہبروں ،
بالخصوص ہمارے علماء کرام پر ہے ،ہمیں معاف کیاجائےتوہم
عرض کریں گےکہ ہم نےاپنی زندگی کامقصدزائدسےزائدیہ بنالیا
ہےکہ کچھ لوگوں کوہم عالم دین بنادیں مگرافسوس کہ ہم اس مقصد
میں بھی اب حقیقتاًناکام ہورہےہیں ”
عربی مدارس میں صنعتی تعلیم
حضرت مولاناسجادؒمسلمانوں میں صنعتی تعلیم کےفروغ پربھی بہت زوردیتےتھے ،یہاں تک کہ عربی مدارس کےطلبہ کےبارے میں بھی ان کاخیال تھاکہ کوئی نہ کوئی صنعتی تعلیم ان کوبھی دی جائے تاکہ وہ معاشی طورپرکسی کےمحتاج نہ رہیں اوران کی غربت وافلاس کا استحصال نہ کیاجاسکے،علامہ مناظراحسن گیلانیؒ لکھتےہیں:
"سب سےبڑی بات یہ ہے کہ عربی مدارس میں کےطلبہ کی معاشی سہولتوں
کےلئےیہ پرانی تجویز کہ ہرمدرسہ میں کسی ایسی مقامی غیر مقابلاتی صنعت
اور ہنر کی طلبہ کو تعلیم دی جائے ، جس کے ذریعہ وہ اپنی روزی کے لئے
مسلمانوں کے سینوں کے بوجھ یا غیر مسلموں کے مقاصدکےآلہ کار نہ بنیں
۔اس تجویز کا آغاز جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ اسی متولی کے ذریعہ سے بہ
شکل خطاطی و کاپی نویسی مدرسہ عزیزیہ میں شروع ہوا جسے حضرت مولانا محمد
سجاد صاحب ؒ کی نگاہ انتخاب نے اس عہدہ تک پہنچایا تھا ۔ پس سچ یہ ہے کہ
وقف اسٹیٹ کے دور یوسفی کے ڈھائی سال کے زمانہ کو اگر دور سجادی قرار
دیا جائے تو یہ ایک واقعہ کا اظہار ہو گا” ۔
صنعتی تعلیم کےلئےمستقل ادارہ کاقیام
حضرت مولاناسجادؒنےمسلمانوں کی صنعتی تعلیم کےلئےدیدارگنج پٹنہ کی وسیع و عریض شاہی مسجد(جولب دریاواقع ہے)میں باقاعدہ ایک بڑی درسگاہ کی بنیادبھی ڈالی تھی، اور اس کوبڑے پیمانہ پرلےجاناچاہتے تھے،آپ کےتلامذہ میں حضرت مولاناعبدالصمد رحمانی نےاس ادارہ کاذکر کیاہے ،جس کاتفصیلی ذکرپیچھےآچکا ہے۔
حضرت مولاناؒچاہتے تھےکہ مسلمان سرکاری ملازمتوں پرانحصارنہ کریں ،بلکہ خود اپنےپاؤں پرکھڑے ہوں ،نیزاس صنعتی دورمیں کوئی ملک صنعتی ترقیات کےبغیرترقی یافتہ نہیں ہوسکتا،آپ کی خواہش تھی کہ ہندوستان خودہندوستانیوں کی بدولت آگے بڑھے۔
علاوہ آج کے دورمیں سرکاری ملازمتوں کےلئےبالخصوص مسلمانوں کےلئےجو مشکلات ہیں ان کے تناظر میں حضرت مولاناسجادؒکےاس نظریہ کی معنویت اوربھی دوچند ہوجاتی ہے۔
عصرحاضرمیں مسلمان سائنس میں کمال پیداکریں
حضرت مولانامسلمانوں کےلئےعصری علوم میں انگریزی زبان کےساتھ سائنسی علوم کوترجیح دیتے تھے،مولاناچاہتےتھےکہ مسلم طلبہ سائنس میں کمال حاصل کریں اوراس کے ذریعہ اسلام کی خدمت کریں،اس لئےکہ آج کےدورمیں سب سےزیادہ اسی راستے سے تشکیک پیداکی جارہی ہے، شاہ محمدعثمانی صاحبؒ کابیان ہےکہ:
"ایک بار اپنے ایک دوست کے ساتھ مولانا ؒسے ملا تھا وہ ایم اے میں
فلسفہ کے طالب علم تھے ۔ مولانا نے کہا کہ انگریزی پڑھئے تو سائنس لیجئے
جس میں مسلمان پیچھے ہیں ، ادب اور فلسفہ کے میدان میں مسلمان پیچھے
نہیں ہیں ۔ مولانا ؒ در اصل اسلام اور سائنس کے ربط کے حامی تھے اور
چاہتے تھے کہ مسلمان ایک طرف اسلام سے واقف ہوں اور دوسری
طرف جدید سائنس پر بھی ان کی نظر ہو ۔مولاناؒ کے عہد میں کم علماء
ہوں گے جن کے اندر یہ حقیقت پسندی ہو گی” ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: