مضامین

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجادؒ بحیثیت مجتہد فقیہ

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

حضرت مولانامحمدسجادؒ یوں توجملہ علوم وفنون کےجامع تھے،لیکن آپ کااصل میدان فقہ اسلامی اور قوانین عالم کامطالعہ تھا،اس باب میں ان کوجوخصوصی امتیازحاصل تھا،اور اسلامی قانون کی باریکیوں اوردنیاکےمختلف ملکوں کے قوانین پران کی جیسی نگاہ تھی،کہ شاید اس عصر میں ان کی کوئی نظیرموجودنہیں تھی ،مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ لکھتے ہیں کہ :
"میرے خیال میں مولاناکی اصلی خصوصیت تفقہ فی الدین کی خداداد
دولت تھی،جس میں وہ فریداوریگانہ تھےمولاناؒجس وقت الٰہ آبادسے
گیاکومراجعت کررہے تھے ،اورعمائدین کی جماعت مولاناؒکورخصت
کرنے کے لئے اسٹیشن پر آئی تھی،توہر شخص کی زبان پریہی تھاکہ
"الٰہ آباد سے فقہ رخصت ہورہی ہے” ۔
قانونی گتھیاں سلجھانا،معاملات کی تہ تک پہونچنااور ان کوچٹکیوں میں حل کردینایہ
مولاناسجادؒ کاکمال تھا،علامہ سیدسلیمان ندویؒ حضرت مولاناؒکےفقہی اورقانونی ملکہ پرروشنی
ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
"وہ اپنے وقت کےمشاق مدرس اور حاضرالعلم عالم تھے،خصوصیت
کےساتھ معقولات اورفقہ پران کی نظربہت وسیع تھی،جزئیات فقہ
اور خصوصاًان کاوہ حصہ جومعاملات سے متعلق ہے،ان کی نظرمیں
تھا ، امارت شرعیہ کے تعلق سےاقتصادی ومالی وسیاسی مسائل پران
کوعبورکامل تھازکوٰۃ وخراج وقضاوامامت وولایت کےمسائل کی پوری
تحقیق فرمائی تھی ۔۔۔۔معاملات کوخوب سمجھتے تھے،ان کوبارہابڑے
معاملات اور مقدمات میں ثالث بنتے ہوئے دیکھاہے،اورتعجب ہوا
ہےکہ کیونکرفریقین کووہ اپنےفیصلہ پرراضی کرلیتے تھےاور اسی لئے
لوگ اپنے بڑےبڑے کام بےتکلف ان کےہاتھ میں دیتےتھے ۔
انہوں نےہرمکتب فکرونظر کےعلماء اورماہرین سےاپنی علمی،فقہی اورقانونی برتری کالوہامنوایاتھا،معروف مصنف مولاناامین احسن اصلاحی صاحب رقمطرازہیں :
"مولاناؒ نےاسلامی قانون کانہایت اچھامطالعہ کیاتھا،تمام حاضرالوقت
مسائل میں وہ حیرت انگیزسرعت کے ساتھ شرعی نقطۂ نظرمتعین
کرلیتے تھے ،ان کی نظرنہایت گہری تھی،بسااوقات پہلے وحلےمیں
ان کی رائے کمزور معلوم ہوتی،مگر ان کی تنقیحات کے بعدجب مسئلہ
پوری روشنی میں آجاتاتوہرشخص ان کی اصابت رائے کی داد دیتا،پھروہ
صرف جزئیات کےمفتی نہیں تھےبلکہ اسلامی نظام کواس کے تمام اشکال
وصورمیں جانتے اورسمجھتےتھےاوراس کےاصولی وفروعی مسائل کی پوری
معرفت رکھتے تھے،ان معاملات میں بصیرت رکھنے والے ہندوستان میں
بہت کم ہیں” ۔
مجاہدملت حضرت مولانامحمدحفظ الرحمن سیوہاروی صاحب ؒ نےحضرت مولانا سجادصاحبؒ کابہت قریب سے مطالعہ کیاتھاانہوں نےاپناتجربہ تحریرکیاہےکہ:
"جمعیۃعلماء میں جب کبھی علمی مسائل پربحث ہوتی،تومولاناسجاد صاحبؒ کا
اصل جوہر اس وقت کھلتاتھا،ہماری جماعت میں مشہورہےکہ زبردست
دلائل کے ساتھ کسی بات کومدلل کرکےبیان کرناحضرت مولانامفتی
کفایت اللہ صاحب کا خاص حصہ ہے،اور یوں بھی مفتی صاحب کوفقہ
اسلامی میں بہت بڑاکمال حاصل ہے ،لیکن جماعت کے ذمہ دارارکان اور
میں نے بارہایہ منظر دیکھا ہے کہ جب کسی مسئلہ پر حضرت مولانامحمدسجاد
صاحب دلائل وبراہین فقہی کے ساتھ بحث فرماتے توحضرت مفتی صاحب
بھی بے حد متأثر ہوتے اور ان کے علمی تبحرکااعتراف کرتے ہوئےبے
ساختہ ان کی زبان سے کلمات تحسین نکل جاتے ” ۔
فقیہ النفس عالم دین
قرآن وحدیث اورمراجع فقہیہ کی مسلسل مزاولت اورعطاء ربانی کی وجہ سے
اسلامی قانون ان کےمزاج کاحصہ بن گیا تھا،تفقہ آپ کی فطرت کی گہرائیوں میں پیوست ہو گیاتھا،اورمآخذ کی طرف رجوع کئےبغیربھی مسائل کی روح تک پہونچنےکابے پناہ ملکہ انہیں حاصل تھا،بقول حضرت مولاناعبدالصمدرحمانی ؒ :
"مولاناان مسائل میں جوارتقائی اسباب کی بناپرآئے دن نئی نئی صورتوں میں
رونماہواکرتے ہیں،بلاتکلف صائب رائے دیتے تھے،اورایسامعلوم ہوتاتھاکہ
وہ اس کوپہلے سے سوچے بیٹھے ہیں ،اور اس کے شواہداور نظیرپرغوروفکرکےتمام
مراحل کوطے فرماچکےہیں ” ۔
اورمولاناامین احسن اصلاحی کے الفاظ میں :
وہ حیرت انگیزسرعت کے ساتھ شرعی نقطۂ نظرمتعین کرلیتے تھے۔۔۔۔۔
بسااوقات پہلے وحلےمیں ان کی رائے کمزور معلوم ہوتی، مگر تنقیحات کے
بعدجب مسئلہ پوری روشنی میں آتاتوہرشخص ان کی اصابت رائے کی داد دیتا
ایسے عالم کوعلمی اصطلاح میں "فقیہ النفس "کہاجاتاہے، اسلامی تاریخ میں ایسے علماء انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جو اس مقام بلند تک پہونچےہوں۔
حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمی ؒ نے حضرت مولاناسیدمنت اللہ رحمانی ؒ
کےحوالےسےنقل فرمایاکہ :
"ہفتوں کتابوں کودہراتےدہراتےجس نتیجہ تک ہم پہونچتے،تحقیق و
جستجوکی آخری سرحدکوپار کرکےوہاں مولاناسجادؒسوال سن کرپہلےلمحے
میں جواب دیتے تھےیہ ان کےفقیہ النفس ہونے کی دلیل ہےگویاذہنی
سانچہ ہی ان کافقہ میں ڈھلا ہواتھا،جواب آتاہی تھاوہ جوفکرصحیح کانتیجہ
ہوتا ۔
اسی بات کوانہوں نے”قضایاسجاد”میں اس طرح نقل فرمایاہے:
"جب نازک فقہی سوالات ابھرتےتومولانابرجستہ کتابوں کی طرف رجوع
کئے بغیر جو جواب دیتے وہی جواب ہم سب کتب فقہ اورمراجع علمی کے
مطالعہ اور غوروفکرکےبعدجس نتیجہ تک پہونچتے وہی ہوتاجومولانا اول وہلہ
میں فرمادیاکرتے تھے” ۔
حضرت امیرشریعت مولانامنت اللہ رحمانی ؒ کاایک اہم مکتوب(۲۹/مارچ ۱۹۸۶؁ء) ہےجومولانا عطاء الرحمن قاسمی صاحب چیرمین شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ دہلی کےنام ہے،مولانا موصوف نےاس کاعکس مجھےارسال فرمایا،اس میں امیرشریعت نے حضرت مولاناسجادؒکے بارےمیں اپنے گہرے تأثرات کااظہاران الفاظ میں کیاہے:
"میرے سب سے بڑے محسن حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒتھے
مولاناؒفقیہ النفس تھے،اصول پربڑی گہری نظرتھی،آیات واحادیث
سے بےتکلف استنباط مسائل کرتے تھے”
علامہ محمدانورشاہ کشمیریؒ کی شہادت
امام العصرخاتم المحدثین حضرت علامہ محمدانورشاہ کشمیری ؒ (ولادت ۱۲۹۲؁ھ مطابق
۱۸۷۵؁ء- وفات ۱۳۵۲؁ھ مطابق ۱۹۳۳؁ء) جوعلم حدیث کے ساتھ فقہ پر بھی بہت گہری نظر رکھتے تھے ،جو حافظ ابن حجر ؒجیسے محدث فقیہ کے بارے میں فرماتے تھے کہ :
"حافظ ابن حجر ؒحدیث کے پہاڑ ہیں،اگرکسی پرگریں توڈھادیں اورفقہ میں
درک نہیں ہے” ۔
اورجوعلامہ ابن تیمیہ جیسے محدث،عالم،فقیہ اور معقولی کوخاطر میں نہ لاتے تھے اورفرماتے تھےکہ:
"میراخیال ہےکہ ابن تیمیہ گوپہاڑہیں علم کےمگرکتاب سیبویہ کونہیں
سمجھ سکےہوں گے،کیونکہ عربیت اونچی نہیں ہے،فلسفہ بھی اتناجانتے
ہیں کہ کم اتناجاننے والے ہوں گے،مگرناقل ہیں حاذق نہیں ہیں”
علامہ کشمیری ؒعلماءسلف میں امام رازیؒ ،علامہ ابن نجیم مصری ؒ صاحب البحرالرائق ، اورمتأخرین میں حضرت شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ؒ(جوعلامہ شامی ؒ کےمعاصرتھے)کے فقیہ النفس ہونے کے قائل تھے ۔
علامہؒ فرماتےتھےکہ تین صدیوں سے تفقہ مفقودہے،وہ درمختاراور ردالمحتارجیسی عظیم فقہی کتابوں کےمصنفین علامہ حصکفی ؒ اور علامہ ابن عابدین شامی ؒکومحض ناقل فقہ قرار دیتے تھےاور ان کی فقہ فی النفس کےقائل نہیں تھے،ان کےمقابلےمیں عہداخیر کےعالم و فقیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا رشیداحمدگنگوہیؒ کوزیادہ بڑافقیہ(یعنی فقیہ النفس)سمجھتے تھے
اس تناظرمیں یہ بات بہت زیادہ اہم ہےکہ علامہ کشمیریؒ اپنےہی عہدکی جس دوسری بڑی علمی شخصیت کےعلم وفقاہت سےمتأثرہوئےاوران کو فقیہ النفس تسلیم کیا،وہ حضرت مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجادصاحب ؒ تھے، اس بات کے راوی علامہ کشمیری ؒکےبراہ راست شاگردحضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒہیں ،مولانا سیوہارویؒ تحریرفرماتے ہیں کہ:
"حضرت مولاناسیدمحمدانورشاہ صاحب ؒ فرمایا کرتے تھے،کہ مولاناسجاد
"فقیہ النفس "عالم ہیں،یعنی اللہ تعالیٰ نے مسائل کی روح سمجھنے کاان کو
فطری ملکہ عطافرمایا ہے۔
حضرت مولاناسیدمحمدانور شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ جواس زمانہ میں علم
حدیث کے مجدد گذرے ہیں،کایہ فرمانامیرے نزدیک مولاناسجادصاحب
کے تبحرعلمی کے لئے ایک بہترین سندہے ۔
حضرت مولاناسجادؒسےعلامہ کشمیریؒ کےگہرےتأثراورعقیدت کاایک مظہریہ بھی ہےکہ انہوں نےاپنی شہرۂ آفاق تصنیف "اکفارالملحدین "پرجن اکابرعلماء سے تقریظات لکھوائیں،ان میں زبدۃ العلماء حضرت مولاناخلیل احمدسہارن پوری ؒ،حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ،اورمفتی اعظم ہندحضرت مولانامفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ کے ساتھ مفکراسلام حضرت علامہ مولاناابوالمحاسن سیدمحمدسجاد ؒبھی شامل تھے،اورعلامہ کشمیری ؒ نے انتہائی وقیع الفاظ میں آپ کااسم گرامی کتاب میں شائع فرمایا:
"صورۃ ماکتبہ العلامۃ الفقیہ المحدث المفتی نائب
امیرالشریعۃ لولایۃ بھار مولاناابوالمحاسن محمد
سجاد ادام اللہ ظلہ ”
شیخ الاسلام علامہ شبیراحمدعثمانی ؒ کی شہادت
اوریہی رائےحضرت مولاناسجاد صاحب ؒکےبارےمیں اسی عصر کے محدث اکبر شیخ الاسلام حضرت علامہ شبیراحمدعثمانی ؒکی بھی تھی ،مولاناسیوہاروی ؒ لکھتے ہیں:
بعینہ یہی بات میں نے حضرت مولاناشبیراحمدصاحب عثمانی کی زبانی بھی
سنی ہے” ۔
مولاناؒکامسلک فقہی اوردیگر مکاتب فقہیہ کےبارےمیں نقطۂ اعتدال
اکابراورعلماء وقت کی مذکورہ بالاشہادتوں اوربیانات سے حضرت مولانامحمدسجاد صاحب کےبلندعلمی وفقہی مقام کااندازہ ہوتاہے،اورفقہی وقانونی بصیرت کےمعاملے میں وہ اپنے عہدکےسب سےبلندپایہ عالم دین نظرآتے ہیں ،جن کی نگاہ شریعت اسلامی پر بھی تھی اور قوانین عالم پر بھی،ان کے یہاں دقت نظر بھی تھی اور اعتدال فکربھی ،وہ فقہ حنفی سےمسلکی انتساب کے باوجود تمام مکاتب فقہیہ کااحترام کرتے تھے،مذاہب فقہیہ بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہ ؒ اور صاحبین کے اختلاف کووہ اختلاف برہان سے زیادہ اختلاف زمان ومکان ، یااختلاف احوال یااختلاف مدارج پرمحمول فرماتے تھے،دیگر ائمہ کےاختلافات کوبھی خاص طورپر معاملات میں مقتضیات احوال یااور دیگراسباب پرمبنی قراردیتے تھے،وہ احادیث کی طرح مسالک فقہیہ میں بھی تطبیقی فکر کےحامل تھے ،وہ کہتے تھے کہ اسلام میں مصالح کی بڑی اہمیت ہےاور ائمۂ کرام کےاختلافات کابڑا منشاء یہ مصلحتیں ہی ہیں ،حکم کے مواقع اور مدارج کی یافت ہی اصل تفقہ ہے ،اسی لئےوہ مفتیوں کوحضرت امام غزالیؒ کی کتاب اصول کے باب الاستصلاح کے مطالعہ کی ہدایت فرماتے تھےتاکہ مختلف حالات میں وہ بصیرت کے ساتھ فتویٰ دے سکیں ۔
آپ کےشاگردرشیدحضرت مولانامحمداصغرحسین بہاری صاحب ؒرقمطرازہیں:
"حضرت استاذ محترم مفکراعظم مذہب وعمل میں حنفی تھے،لیکن تنگ نظروں
کی طرح اہلسنت کے دوسرے فرقوں سے جنگ آزمانہ تھے،بلکہ فرماتے تھے
،کہ نمازکی مختلف صورتیں جواحادیث صحیحہ سے ثابت ہیں،ایک ایک مرتبہ
بھی سب پر عمل کرلینا چاہئے ، تاکہ کسی سنت کی برکات سےمحرومی نہ رہ
جائے” ۔
راہ اورمنزل کافرق فراموش نہیں کیا
مولاناؒ کایہ فکری توسع دراصل اصول وقواعد سے ان کی گہری واقفیت سے مترشح تھا،جس کی نگاہ کلیات پر جتنی گہری ہوتی ہے وہ اتناہی وسیع النظرہوتاہے،جب کہ مولاناعملی طورپرحنفی بلکہ خودان کے لفظوں میں کٹر حنفی تھے ،لیکن علمی طورپر وہ کسی کی تغلیط کے قائل نہیں تھے،وہ علمی اساس پر منشاء اختلاف کوسمجھتےتھے،اورعلامہ سیدسلیمان ندویؒ کے الفاظ میں:
"انہوں نے راہ اورمنزل کے فرق کوکبھی فراموش نہیں کیا،اوراحکام
مذہب کی پیروی میں التباس اورتصادم سےکبھی بےخبرنہیں رہے ۔
اختلافی مسائل میں منہج اعتدال
وہ فقہی اور نظری اختلافات کو علمی بنیادوں تک محدودرکھنےکےقائل تھے،اوران کوجنگ وجدل اور سب وشتم کاذریعہ بنانےکےسخت خلاف تھے،حنفی اورشافعی کی جنگ ہو، یادیوبندی ،بریلوی اوراہل حدیث کی ، وہ اس کوقومی زوال کی علامت تصور کرتے تھے، فرماتے تھے :
"مسائل میں اختلاف ہوتونہایت زوردار لفظوں کے ساتھ علمی اصول سے
بحث کیجئے،جوعلماء کے شایان شان ہےبلکہ یہ ان کافریضہ ہے،میں خود حنفی
بلکہ نہایت کٹر حنفی ہوں اورہندوستان کے اہل حدیث جماعت کےخیالات
ومسائل سےمجھ کوبھی اختلاف ہےاورسخت اختلاف ،اس لئے ان کےساتھ
گفتگواوربحث کی نوبت بھی آئی،مگر الحمدللہ آج تک جنگ وجدل اورسب و
شتم کی نوبت نہیں آئی اور خداکاشکرہے کہ ہمارے اہل حدیث احباب بھی
اسی اصول کےپابندہیں،قرآن کریم کی بھی یہی تعلیم ہےکہ :
فَإِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تَعْمَلُونَ
ترجمہ : پس اگرلوگ تمہاری نافرمانی کریں تواےرسول !ان سے کہہ دوکہ
میں تمہارےعمل سےبیزارہوں۔
پس اگر کوئی شخص ہماراہم خیال نہیں ہےاور ہماراہم مشرب نہیں ہےتوہم
اس سنت نبویہ کی اتباع میں اس کےعمل سےبیزاری توکرسکتے ہیں ،لیکن
جنگ وجدل کرکے فتنہ برپاکرناکیوں کردرست ہوسکتاہے؟غور کیجیئے عمل
سے بیزاری کاحکم دیاگیاہےذات سےنہیں،اس کے علاوہ :سباب المسلم
فسوق وقتاله كفر ” ولاتحاسدوا و لا تباغضوا وغیرہ
رسول اللہ ﷺ کے ارشادات موجود ہیں، ان سب کے ہوتے ہوئے
مسلمان اور وہ بھی اہل علم مسلمانوں سے واہیات ِخرافات اور شنیع حرکات
کاظہور سخت قابل افسوس ہے ۔
دیوبندی بریلوی اختلافات میں بھی وہ نقطۂ عدل پرقائم تھےوہ مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد سے فارغ تھے اور ان کے سب سے خاص استاذ جن کے علم وفکرکوبطوراسوہ انہوں نے قبول کیاتھا، حضرت مولاناعبدالکافی الٰہ آبادی ؒ تھے ،جومدرسہ سبحانیہ کے بانی اورناظم تھے،ان کا مسلک بھی اعتدال تھا،وہ کسی خاص مسلک کے داعی وحامی نہیں تھے ، وہ دونوں سے محبت اورحسن عقیدت رکھتے تھے،ان امور میں حضرت مولانا محمدسجادصاحبؒ بھی اپنے استاذکی روش اعتدال پرقائم بلکہ اس کےوکیل اورترجمان تھے،فتاویٰ امارت شرعیہ میں ان کاایک مفصل فتویٰ موجود ہے ،جس میں انہوں نے کسی سائل کے جواب میں اپنے استاذحضرت مولانا عبدالکافی الٰہ آبادیؒ اوراپنے "مدرسہ سبحانیہ”کے مسلک اعتدال پرروشنی ڈالی ہے اس کےپس منظر میں خود ان کااپنارجحان بھی واضح طورپرسامنےآگیاہے،اس فتویٰ کےبعض اقتباسات یہاں پیش کئے جاتے ہیں:
"حضرت استاذی مولاناحافظ الحاج محمدعبدالکافی صاحب قدس سرہ عملاًوعقیدۃً
حنفی المذہب اور صوفی المشرب تھے ، تصوف میں سلسلۂ علیہ نقشبندیہ مجددیہ
کےپیروتھے،اور فقہ و عقائد میں محققین فقہاء حنفیہ ،ومتکلمین ماتریدیہ کی
تحقیقات وتنقیحات کی اتباع آپ کامستحکم مسلک تھا،آپ کاطریق عمل اعتقاداً
وعملاًصراط مستقیم اور افراط وتفریط سے خالی تھا،اس لئے آپ کےتعلقات
علماء دیوبندواتباع حضرت مولانامحمدقاسم صاحب نانوتوی ؒ وحضرت مولانارشید
احمدصاحب گنگوہی ؒ اور علماء بریلی ومتبعین حضرت مولانااحمدرضاخان صاحب
مرحوم ومغفورکے ساتھ یکساں تھے،لیکن ان دونوں گروہوں میں سےکلیۃً
کسی ایک کے بھی ہم خیال نہ تھے مثلاً وہ مجلس میلاد شریف وقیام کےجوازکے
قائل تھےاور خودبھی اس کے عامل تھےجوعموماًعلماء دیوبندکے مسلک کے
خلاف ہے،اورعلماء دیوبندکی تکفیروتضلیل کے قائل نہ تھے،جو عموماًاتباع
حضرت مولانااحمدرضاخان صاحب کامسلک ہے۔۔۔۔انہوں نےاپنی علمی
تحقیقات اورکثرت افتاءکےدورمیں جوتقریباً۱۳۴۰؁ھ تک قائم رہا،علماء دیوبند
کےخلاف نہ علی الاطلاق فتویٰ تکفیردیااور نہ نام بنام صراحت اسم کے ساتھ
وہ توعلماء اہل حدیث اورغیرمقلدین زمانہ کوبھی کافرنہیں سمجھتے تھےچہ جائیکہ
علماء دیوبندکی تکفیر کوبنظر استحسان دیکھنا،یہ تو ان کی شان علمی اوراستقامت فی
الدین سے کوسوں دورتھاہمیں خوب یاد ہےکہ حضرت استاذ ایک مرتبہ ایک
خاص تقریب کےسلسلہ میں بدایوں تشریف لےگئے تھے،اور اسی تقریب
میں حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب بھی تشریف لائے تھے،وہیں ان
دونوں بزرگوں میں مخصوص صحبت و ملاقات میں علماء دیوبند کی تکفیر کے
مسئلہ پرگفتگو ہوئی ،چونکہ گفتگو مناظرانہ نہیں تھی،اس لئے نہایت سادگی
کے ساتھ بہت جلد معاملہ ختم ہوگیاحضرت الاستاذ نے فرمایاکہ آپ علماء دیوبند
کی جن عبارتوں پرگرفت کرکےکفرکاحکم لگاتے ہیں،کیاان عبارتوں کاکوئی صحیح
محمل نہیں ہوسکتاہے،ہمارے امام ابوحنیفہ ؒ کااصول ہےکہ عاقل بالغ کےقول
کوجہاں تک ممکن ہوکسی صحیح محمل پرمحمول کرنا چاہئے،اسی کےساتھ اصول و
معانی وبلاغت میں بھی یہ امرمتحقق ہے کہ کسی متکلم کے کلام کی مرادکوسمجھنے
کے لئےاس کے معتقدات کوبھی پیش نظر رکھناچاہئے،اب یہ دونوں اصول
ایسے ہیں،جواپنی جگہ محقق اور منصوص علیہ ہیں،اس لئے میں سمجھتاہوں کہ
آپ کسی پرحکم لگاتے وقت اس کوبھی پیش نظررکھیں،توبہترہے۔
اس مختصر سی تقریرمحبت آمیزلیکن پراز حقیقت کوسن کرحضرت
مولانااحمدرضا خان صاحب نے فرمایا،بلاشبہ جناب نےایک اہم نکتہ کی طرف
توجہ دلائی ہے،اور بلاشبہ ان اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے اگر ہم ان
عبارتوں کے لکھنے والوں کوکافر نہیں کہیں توخاطی ضرورکہہ سکتے ہیں۔
یہ واقعہ حضرت استاذنےخودمجھ سےتفصیل سےبیان فرمایاتھا۔۔۔ ۔۔مجھے
یہ بھی خوب یادہےکہ جب حضرت استاذ قدس سرہ نے اس حکایت کوختم
فرمایا تومیں نے کہاکہ یہ آپ کی صداقت اوراخلاص کا تصرف ہےاور یہ کہ
آپ نےان سےمناظرانہ اندازمیں گفتگونہیں فرمائی ،میرے اس کہنے پر
حضرت استاذ قدس سرہ حسب عادت شریفہ مسکرادئیے،اس حکایت کی نقل
سےمقصودیہ ہےکہ اس قصہ میں بھی حضرت استاذ کی حق گوئی،حق پسندی
اور میانہ روی کی ایک روشن حقیقت موجود ہے ، اسی کے ساتھ حضرت
مولانااحمد رضاخان صاحب کےاصلی خیال پرایک روشنی پڑتی ہے،۔۔۔۔
۔اس سے ظاہرہےکہ مدرسہ سبحانیہ جس کے حضرت ہی مہتمم اورنگراں
کارتھےیہ کیونکر ممکن تھاکہ اس مدرسہ کے دارالافتاء سے علماء دیوبند جیسے
متبعین سنت محمدیہ علیٰ صاحبہاالصلوٰۃ والسلام پر فتویٰ کفرجاری ہوتا۔۔۔۔
مدرسہ سبحانیہ کا اصلی مسلک اورحقیقی طریق کار وہی ہےجوہم لوگوں کے
زمانہ میں تھا۔۔۔مدرسہ سبحانیہ کی تعلیم وتربیت اورفتویٰ نویسی میں طریق
کاررضائی اوردیوبندی سےبالاترہے ۔
اس تحریرسےظاہرہوتاہےکہ حضرت مولاناسجادصاحبؒ علماء دیوبندکی عظمت کے قائل اوران کی اتباع سنت کےمعترف تھے،اوراس معاملےمیں خودمولانا احمدرضاخان صاحب کاچہرہ ان کےاصل چہرہ سےمختلف تھا،حضرت مولاناعبدالکافی صاحبؒ کی صحبت بابرکت سےجماعتی عصبیتوں اور بے اعتدالیوں کےبہت سے رازان پرمنکشف ہوگئےتھے ،اور اس سےنقطۂاعتدال تک پہونچنےمیں ان کوکافی مددملی تھی،مولاناسجاد صاحبؒ کوگوکہ اکابر دیوبند سےبہت زیادہ استفادہ کا موقعہ نہیں ملا،لیکن ان کاقلبی رجحان علمی ،دینی اور فکری ہرلحاظ سےعلماءدیوبندسےقریب ترتھا،اسی لئےطالب علمی کے زمانے میں وہ خودبھی دیوبندپڑھنے کےلئےتشریف لےگئے،اس کےبعداپنےاکلوتےصاحبزادے”حسن سجاد”کی تعلیم کےلئے بھی انہوں نے دارالعلوم دیوبندکاانتخاب فرمایا،اورصاحبزادۂ محترم نےدیوبندہی سےفراغت حاصل کی،اس بات کاذکر دیوبندمیں”مولانا حسن سجاد”صاحب کےرفیق درس مولاناسیدمنت اللہ رحمانی صاحب ؒنےکیاہے ۔
احوال زمانہ اورمدارج احکام پرنظر
ایک فقیہ کےلئے سب سے اہم چیزیہ ہے کہ وہ احکام فقہی کے مدارج کوسمجھے ، احوال زمانہ سے واقف ہو،وسائل اورمقاصدکافرق اس کی نگاہ میں ہو،کون سادورکس حکم کامتقاضی ہے، اس سے پوری طرح باخبرہو،بعض احکام حالات کےبدلنے سے بدل جاتے ہیں،اس ضابطہ کامنشاء کیاہے؟اوراس کاغلط استعمال کہاں ہوسکتاہے؟ان چیزوں پر اس کی عمیق نظر ہو،حضرت مولاناسجادصاحب ؒکی فقہ ان محاسن سے پوری طرح متصف تھی۔۔۔۔
تبدل احوال سےتبدل احکام کی حقیقت
بعض لوگوں کوشبہ ہوتاہےکہ دینی احکام تو ہمیشہ کے لئے نازل ہوئےہیں،پھر تبدیلی ٔاحکام کےکیامعنیٰ؟حضرت مولاناسجادصاحبؒ نےاس کی تشریح کی کہ دراصل حکم شرعی کامحل بدل جاتاہے اور جب وہ محل باقی نہ رہاتوجوحکم تھاوہ بھی باقی نہ رہا،اس کی مثال یہ ہےکہ دھوبی کےیہاں سے ایک کپڑاآیاجس پرکوئی نجاست نہیں ہےتواس کےپاک ہونےکاحکم لگایاجائے گا،لیکن اگر اس میں نجاست لگ جائے توناپاک قراردیاجائے گا،توحقیقتاً حکم شرعی نہیں بدلا،بلکہ وہ چیزباقی نہ رہی،جس پرحکم لگایاگیاتھااس لئے حکم بھی باقی نہ رہا،اگر کپڑے کی نجاست صاف کردی جائے توپھر وہی حکم طہارت لوٹ آئےگا،تو ہرمحل کے لئے ایک حکم مقرر ہے،محل بدلنےسےحکم بدل جاتاہے،ایسانہیں ہےکہ محل واحدپرکئی طرح کےاحکام واردہوتے ہوں، یہی وجہ ہےکہ اگرحالات کی تبدیلی سےمحل نہ بدلے توحکم بھی تبدیل نہ ہوگا،مثلاًکسی کاقتل ناحق حرام ہے،عام حالات میں یہی حکم ہے،لیکن اگراکراہ کی صورت پیداہوجائے،اوراپنی جان کااندیشہ ہو،اس کےباوجودحرمت قتل کاحکم برقرار رہےگا،اور اس کاقتل جائزنہ ہوگا، حالانکہ حالات بدل چکےہیں،لیکن چونکہ محل حکم نہیں بدلااس لئے حکم بھی تبدیل نہیں ہوگا۔
یہ وہ گہری حقیقت جسے ہرشخص نہ سمجھ سکتاہے اور نہ بتاسکتاہے،اس اصولی فرق تک رسائی کےلئے ملکۂ فقہی کی ضرورت ہے،خودمولانامحمدسجادؒ کےالفاظ میں:
"اس تبدل حکم کابتانابھی ہرشخص کاکام نہیں ہے”
مصالح شریعت پرنظر
اسی لئےحضرت مولاناسجادصاحبؒ علماء اوراصحاب افتاکوتاکیدفرماتےتھےکہ مصالح شریعت پرنگاہ رکھیں،اور اس کےلئے امام غزالی ؒ کی کتاب کے”باب استصلاح” کا مطالعہ کریں”
بلکہ مولانا اس موضوع پرخودایک”رسالۂ استصلاح” لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے:
"جس میں بتایاجائےکہ مصلحت کی حقیقت کیاہےاوراس کےکتنے معانی
ہیں؟ شریعت اسلامیہ مصلحت کےکس معنیٰ کواختیارکرتی ہے؟اور پھر
مصلحت کےکتنےمدارج ہیں؟ اور بہ اعتبارمدارج مصالح کسی مصلحت کی
رعایت کاکیاحکم ہے؟اس رسالہ سے یہ مقصودہےکہ رعایت مصلحت کے
باب میں جتنی غلط فہمیاں ہیں دورہوجائیں گی،اور یہی وہ حقیقت ہےکہ جس
کےعدم انکشاف کےباعث علماء اور جدیدتعلیم یافتہ افرادکا ایک مرکزپر
پورے اخلاص کے ساتھ اجتماع نہیں ہورہاہےبلکہ روزبروزدونوں کے
درمیان تفریق کی خلیج وسیع ہورہی ہےاناللہ واناالیہ راجعون- اس رسالہ
کوبھی تینوں زبانوں (اردو،عربی ،انگریزی)میں شائع کیاجائے” ۔
گوکہ عمرعزیزکےمصروف ترین لمحات میں مولاناؒاس اہم ترین اصولی کتاب کے لئے وقت نہ نکال سکے،کاش ان کےقلم سے یاان کی نگرانی میں ایسی کوئی کتاب تیارہوجاتی
توبالیقین وہ فقہ اسلامی کاقابل افتخارسرمایہ ہوتی،قدراللہ ماشاء۔
مصالح کی رعایت کےحدود
مدارج احکام اورمصالح احکام میں توازن کوبرقراررکھنااورافراط وتفریط سےمحفوظ رہ جاناہر فقیہ کےبس کی بات نہیں ،حضرت مولاناسجادصاحبؒ کویہ کمال حاصل تھا،مولاناکے یہاں مصلحت کاخانہ تھامگرمداہنت کی گنجائش نہیں تھی ،مثلاًوہ ہندوستان کے حالات میں مصلحتاً ہندومسلم اتحاد کےحامی تھے،مگر غیرمسلموں کی رعایت میں کسی حکم اسلامی یاقومی خصوصیت کے ترک کےروادارنہ تھے،ترک گاؤپرآپ کاتفصیلی فتویٰ اسی نقطۂ عدل کاشاہکارہے، اس کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
"ان جمیع وجوہ کی بناپرذبح گاؤ سےپرہیزکرناناجائزہے،ہندوکےخیال
سےکہ ان کادل دکھتاہے،ذبح گاؤ کوترک کرنا قطعاًحرام ہے،کیونکہ
اس صورت میں تائیدعلی الشرک ہوتی ہے۔۔۔۔۔جب تک ہندؤں
کےاندرجذبۂ گاؤپرستی موجودہےاس وقت تک ذبح گاؤ سرزمین ہند
میں ایک شعارتوحیداورشعاراسلام ہے،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہےکہ :
لئن اتبعت اھوائھم من بعدماجاء ک من العلم انک
اذالمن الظالمین ۔
نظریۂامارت مولاناؒکےفقہی شعوراورزمانہ شناشی کاآئینہ دار
اسلام کےفقہی ذخیرہ میں کون سانظریہ کن حالات پرمنطبق ہوگا؟اس کوسمجھنے کےلئےبھی بےپناہ قوت ادراک کی ضرورت ہےمثلاًحضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ نےجب پہلی بارنظریۂ امارت پیش فرمایاتوبعض حضرات کویہ خلجان ہواکہ غیرمسلم حکومت میں امارت شرعیہ کانظریہ خالص اسلامی حکومت کے نظریہ سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے ، جب کہ خلافت ،جمعیۃ،مسلم لیگ اور کانگریس سب کامتحدہ نصب العین ملک کی مکمل آزادی کا حصول تھا،اس مشترکہ نصب العین کے بالمقابل برطانوی ہندوستان میں امارت کانظریہ غیرمسلم اسٹیٹ کوجوازفراہم کرتاہے،اور مکمل آزادی کے منشور کےبجائے جزوی آزادی پر قناعت کےہم معنیٰ ہے،۔۔۔جوحضرات دین کے اصول ولمیات سےواقف تھے ان کوتوزیادہ دقت نہیں ہوئی لیکن جن کی نظرصرف ظواہر شریعت یامحض فقہی جزئیات وفروع پرتھی انہوں نے مولاناؒکے خلاف ایک محاذکھڑاکردیا، جب کہ حقیقت یہ تھی کہ مولاناکلی آزادی کے خلاف نہ تھے ،بلکہ اسلامی حکومت کاحصول ان کابھی نصب العین تھا،لیکن مولانا کا کہنا تھا کہ جب تک وہ نصب العین حاصل نہیں ہوتا،مسلمانوں کی اجتماعیت اور دینی وملی تشخصات کی حفاظت کاامارت شرعیہ سے بہتراور قابل عمل راستہ کوئی نہیں ہے،اور اسی لئےانہوں نےامارت شرعیہ کے زیرنگرانی سیاسی انتخابات میں حصہ داری کوبھی قبول فرمایا،۔۔۔۔
مولاناؒاس فرق سے واقف تھے کہ اسلامی ہندمیں مسلمانوں کافریضہ کیاہے؟ اور غیرمسلم ہندوستان میں ان کی شرعی ذمہ داری کیابنتی ہے ؟اسی فرق کونہ سمجھ پانے کی بناپر مولاناؒکےخلاف غلط فہمیوں کاطوفان کھڑاکیاگیا،اوران کےنظریۂ امارت کو ناکام بنانے کی ہرممکن کوشش کی گئی،حضرت سحبان الہندمولانااحمدسعیددہلوی ؒ اول ناظم عمومی جمعیۃ علماءہندجوحضرت مولاناؒسے بزرگانہ عقیدت رکھتے تھے ،اوروالدکی طرح ان کااحترام کرتے تھے ، سفروحضر میں مولاناؒکے ساتھ رہنے اور ان کے خیالات سے مستفیدہونے کاانہیں موقع ملاتھا،وہ اس معاملے میں خودحضرت مولاناؒکےبیانات کی روشنی میں ان کا نظریہ نقل فرماتے ہیں:
"وہ فرمایاکرتے تھے،کہ اسلام ایک تنظیمی مذہب ہے،اس مذہب کی
روح ڈسپلن اور نظم چاہتاہے ، اگر مسلمان منتشررہیں ،اور کسی ایک
شخص کی اطاعت نہ کریں ،اور اپناکوئی امیرمنتخب نہ کریں تویہ زندگی
غیرشرعی زندگی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کانظریہ یہی تھا،کہ جب تک
حکومت کافرہ کامسلمانوں پر تسلط ہےاور جب تک مسلمان اس ابتلاء
میں مبتلا ہیں اورجس وقت تک مسلمان سیاسی اقتدارکےمالک نہیں
بنتے،اس وقت تک اپنے اقتصادی اورمعاشرتی کاموں کےلئے اپنا
ایک امیر منتخب کریں ،اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری پربیعت
کریں ، تاکہ اس کفرستان میں جس قدر ممکن ہوسکےمسلمان اپنی
زندگی کوشرعی بناسکیں،وہ اس مسئلہ پرفقہاء حنفیہ کی تصریحات پیش
کرتے تھے،اس پرانہوں نے ایک مفصل فتویٰ بھی مرتب کیاتھا،
اور جمعیۃ علماء نے جوتجویزامارت شرعیہ کےسلسلےمیں پاس کی تھی،
وہ بھی انہی کی سعی کانتیجہ تھا” ۔
چنانچہ اس کےبعدجمعیۃ علماء ہندکے متعدد جلسوں میں اس نظریہ کی بازگشت سنائی دی،اورامارت شرعیہ بہارکوپورے ملک کےلئےایک معیاری اورقابل تقلیدنمونہ کے طور پر پیش کیاگیا،مثلاً گیا(جومولاناکااصل علمی وفکری صدرمقام تھا)کےاجلاس(۱۹۲۲؁ء)میں حضرت مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ (متوفیٰ ۱۳۴۸؁ھ مطابق ۱۹۳۰؁ء)سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خطبۂ صدارت دیتے ہوئے ارشادفرمایا:
"ایسی حالت میں کہ مسلمان ایک غیرمسلم طاقت کےزیرحکومت
ہیں اور ان کواپنے معاملات میں مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے،
ضروری ہے کہ مسلمان اپنےلئےوالی اورامیرمقرر کریں ،دارالقضا
قائم کرکے قضاۃ اور مفتین کا تقرر کریں ،جمعیۃ علماء میں یہ تجویز
منظور ہوچکی ہے اور جمعیۃ العلماء کےاجلاس لاہورمیں یہ طے ہوا
تھاکہ ایک سب کمیٹی کااجلاس بدایوں میں منعقد کیاجائےجس میں
امیرشریعت کی شرائط وفرائض واختیارات وغیرہ مسائل کوطے کر
لیاجائے، اوراس کےبعدانتخاب امیرکامسئلہ پیش کیاجائے۔۔۔۔
علماء ومشائخ اور کبراء صوبہ بہارکامسلمانوں پربھاری احسان ہےکہ
انہوں نے اپنے صوبہ میں امیرشریعت قائم کرکےمسلمانوں کے
لئے ایک سڑک تیارکردی ہے،۔۔۔ہم ان حضرات کادلی شکریہ ادا
کرتے ہیں اورامیدکرتے ہیں کہ دوسرے صوبوں کےعلماء بھی جلد
ازجلدصوبۂ بہارکی تقلیدکریں گے” ۔
اسی طرح جمعیۃ علماء ہندکے اجلاس ہشتم پشاور(۶تا۸/جمادی الثانیۃ ۱۳۴۶؁ھ مطابق ۲تا۴/دسمبر۱۹۲۷؁ء)میں حضرت علامہ انورشاہ کشمیری ؒ (متوفیٰ ۱۳۵۲؁ھ مطابق ۱۹۳۳؁ء) نے اپنے خطبۂ صدارت میں فرمایا:
"مسلمانوں پرواجب ہے کہ وہ خوداتفاق یاکثرت رائے سے امیرشریعت
منتخب کریں ،ایسے ہی امراء صوبہ وار ہونے چاہئیں ،اور امراء کےاتفاق
رائے سے تمام ہندوستان کے لئے ایک امیراعظم ہوگااگرچیکہ حکومت
برطانیہ کے قیام اورتسلط کی وجہ سے ان صوبہ واراور امیراعظم کی کوئی
حیثیت نہ ہوگی ،مگرمذہبی ضروریات ان کےفیصلوں اور ان کےاحکام
سےصحیح طورپرواقع اورنافذہوسکیں گے اور مسلمانوں کاایک بڑامذہبی
فرض نصب امارت اداہوجائےگاجس میں وہ آج کل مبتلاہیں” ۔
مولاناکی نگاہ صرف آج پرنہیں زمانۂ مابعد پربھی تھی ،اجلاس مرادآبادکےخطبۂ
صدارت میں حضرت ابوالمحاسنؒ نےارشادفرمایاتھاکہ:
"مسلمانوں کے لئےجس چیزکی آج ضرورت ہے اورحصول سوراج کے
بعدبھی ضرورت ہوگی بلکہ ہندوستان کی آزادی کی منزل کوقریب کرنے
کےلئےجوچیز سب سےزایدمفیدہوگی،یہی نظام اسلام یعنی امارت شرعیہ
ہے” ۔
جہاں تک مسئلۂ امارت شرعیہ کی فقہی حیثیت کاتعلق ہے توخودحضرت ابوالمحاسن نےمولاناعبدالباری فرنگی محلی ؒکےنام اپنےایک تفصیلی خط میں اس پرروشنی ڈالی ہے،جو "امارت شرعیہ –شبہات وجوابات”کے نام سے مستقل کتابچہ کی صورت میں شائع ہوچکا ہے، جس کاخلاصہ امارت شرعیہ کےباب میں پیش کیاجائے گا،ان شاء اللہ ۔
مسائل کی روح تک رسائی
حضرت مولاناؒ کاذہن ہرمسئلہ کی شرعی بنیادتک انتہائی سرعت اورصحت کے ساتھ
منتقل ہوتا تھا، گویا وہ پہلےہی سےاس مسئلہ کوسوچ کراور حل کرکے بیٹھےہوں ،یہ آپ کاوہ امتیازی وصف تھا،جس میں بہت کم لوگ آپ کی ہم سری کرسکتےتھے،ممتازمحدث و مصنف حضرت مولانا منظورنعمانی ؒ صاحب نےلکھنؤمیں مدح صحابہ ایجی ٹیشن کےموقعہ کاخود اپناآنکھوں دیکھاایک واقعہ نقل کیاہے،جس سےحضرت مولاناسجادؒکی دقت نظراورفقہی انفرادیت صاف طور پرنمایاں ہوتی ہے،مولانانعمانی صاحب ؒ لکھتےہیں:
"لکھنؤ میں مدح صحابہ ایجی ٹیشن تھاحضرت مولاناحسین احمدصاحب مدظلہ
اور مولانامرحوم اس کی قیادت فرمارہے تھے،جمعہ کا دن تھا،جس دن کہ
قانون امتناع مدح صحابہ کی خلاف ورزی کرکےاجتماعی سول نافرمانی کی جاتی
تھی،ٹیلے کی مسجد اس جنگ کامحاذ تھا،نمازجمعہ کے بعدوہیں پرپہلے جلسہ ہوتا
تھا،اس کے بعد سول نافرمانی کی جاتی تھی،مردوں کے علاوہ عورتوں کابھی بڑا
مجمع ہوجاتاتھا،اور ان کے لئے قناتوں کے ذریعہ پردہ کاانتظام کیاجاتاتھا،جب
گرفتاریوں کاسلسلہ شروع ہواتوپردہ نشیں عورتوں کے مجمع میں سے ایک خط
ایک بچہ کے ذریعہ صدرجلسہ کے نام پہونچا،اس میں ایک عورت نے اپنے
دینی ولولہ کااظہارکیاتھا،اور لکھاتھاکہ "اس ایجی ٹیشن میں عملی حصہ لینے کا
موقعہ مجھ کواور میری اوربہنوں کوبھی دیاجائے”اس کے لئے اس خط میں
صحابیات کی شرکت غزوات کاحوالہ بھی دیاگیاتھا،حضرت مولاناحسین احمد
صاحب مدظلہ نے جواس دن جلسہ کےصدرتھےراقم الحروف سے فرمایاکہ
لاؤڈاسپیکر کے پاس جاکر تم اس خط کامیری طرف سے زبانی جواب دے دو
اور ان بہنوں کوبتلادوکہ ابھی توہم لوگ باقی ہیں ،جب تک ہم میں سےایک
بھی موجودہےیہ گوارانہیں ہوسکتاکہ آپ اس راہ میں کوئی تکلیف اٹھائیں۔
میں چلنے لگا تو حضرت امیر صاحب مرحوم نے فرمایاکہ اس کے علاوہ
مستورات کویہ بھی سمجھادیناکہ "حرب سلمی(یعنی آئینی جنگ یاسول نافرمانی
)اور تلوار کی جنگ کے احکام شریعت میں جداگانہ ہیں،تلوار کی لڑائی میں تو
خاص حالات میں عورتوں کے لئے بھی شرکت کاموقعہ ہوجاتاہےمگریہ آئینی
جنگ جس میں اپنے آپ کوگرفتار ہی کرایاجاتاہےاس میں شرکت کاعورتوں
کے لئے کوئی موقع نہیں ہوتا،بلکہ شرعاًان کے لئے یہ ناجائز ہے،کہ وہ اپنے
کوغیرآدمیوں کے ہاتھوں گرفتارکراکے قیدمیں جائیں ،لہٰذا ان بہنوں کاجذبۂ
قربانی توقابل قدر ہےلیکن سول نافرمانی میں عملی شرکت کے خیال کووہ قطعی
طورپردل سے نکال دیں کہ ان کے حق میں یہ معصیت اورخداکی نافرمانی ہے
یہ تھی حضرت مولاناسجادؒ کی نظر،کہ فوراًمسئلہ کی شرعی بنیادتک پہونچ گئے ،جہاں عام حالات میں علماء کاذہن بھی نہیں جاسکتاتھا،نیزاس واقعہ میں مدارج احکام پر مولاناکی جونگاہ تھی اس کی طرف بھی رہنمائی ملتی ہے۔
مجالس میں کثرت رائے پرفیصلہ کی بنیاد
اسی کی ایک مثال وہ واقعہ بھی ہےجسےمولاناعبدالصمدرحمانی صاحب ؒ نے نقل فرمایا ہےکہ:
"جمعیۃ علماء ہند اور اس طرح کی دوسری کمیٹیوں کی مجلس منتظمہ اور
مجلس عاملہ پر ایک مرتبہ گفتگوآئی،اور اس سلسلہ میں یہ مسئلہ بھی
سامنے آیا کہ موجودہ طریقہ پرانتظامی امورمیں کثرت رائے سے جو
فیصلہ کیاجاتاہے،یاصدرکی رائے کوترجیحی حیثیت دی جاتی ہے،اس کی
کوئی نظیرعہدرسالت یاخلافت راشدہ میں ہے؟تومولانانےفوراًجواب
دیاکہ ہاں اس کی نظیروہ کمیٹی ہے جس کوحضرت عمرؓنےانتخاب خلیفہ
سوئم کےلئےمقرر کیاتھااور فرمایاتھاکہ اگرچھ(۶)آدمیوں کی کمیٹی میں
سے تین تین دونوں طرف ہوجائیں توعبدالرحمن جس طرف ہوں
ان کوخلیفہ مقرر کرو،ورنہ اکثریت کی رائے پرعمل کرو” ۔
یہ واقعہ متعدد کتب حدیث وتاریخ میں موجودہے:
٭عن أبي جعفر قال: قال عمر بن الخطاب لأصحاب الشورى: تشاوروا في أمركم؛ فإن كان اثنان واثنان فارجعوا في الشورى وإن كان أربعة وإثنان فخذوا صنف الأكثر. "ابن سعد”
٭عن أسلم عن عمر قال: وإن اجتمع رأي ثلاثة وثلاثة فاتبعوا صنف عبد الرحمن بن عوف واسمعوا وأطيعوا. "ابن سعد”
اس سے حضرت مولاناسجادؒکی وسعت مطالعہ اورمآخذتک تیزرسائی کی صلاحیت کااندازہ ہوتاہے۔
وقف علی الاولادکامسئلہ
ایسےکئی واقعات ہیں کہ بڑے بڑےعلماء کاذہن مسئلہ کی اصل بنیادتک پہونچنے سے قاصررہااوراس کی وجہ سے حکم شرعی کی تطبیق میں غلطیاں ہوئیں،لیکن حضرت ابوالمحاسنؒ عموماًایسی غلطیوں سے محفوظ رہتےتھے،وہ راست مسئلہ کی اسی بنیادتک پہونچتےتھےجس سےحکم شرعی منقح ہوجاتاتھا اوردوسرے حضرات سے کہاں چوک ہورہی ہےوہ بھی سامنے آجاتی تھی۔
اس کی ایک مثال وقف علی الاولاد کامسئلہ ہے،جس کےچشم دیدراوی رئیس القلم
علامہ مناظراحسن گیلانی ؒ ہیں ،تحریرفرماتےہیں کہ:
” دارالعلوم ندوۃ العلماءکےمرکزسےمولاناشبلی مرحوم نے وقف علی الاولاد کا مسئلہ اٹھایا،ٹونک کےعلماء اورمحکمۂ شریعت وغیرہ سےدستخط حاصل کرنے کاکام میرےسپرد ہوا،بڑےجوش وخروش سےاس کام کوانجام دیا،تعطیل میں گھر(گیلانی بہار )آیا،استھانواں جومیری نانیہال تھی وہاں بھی گیا،وہاں الفلاح نامی انجمن تھی ،جس کے سیکریٹری میرے مرحوم ماموں مولانافضل الرحمن صاحب (علیگ)تھے،جوکچھ دن علی گڑھ کالج میں تاریخ کے پروفیسربھی رہےتھے،انجمن الفلاح کاسالانہ جلسہ تھامجمع اچھاخاصا تھا، منجملہ اورمسائل کے وقف علی الاولادکی تجویزپاس ہونےکے لئےپیش ہوئی،ماموں مرحوم نےمسلمانوں کی جائیدادکی حفاظت کی اس قانون کوواحدشکل قراردے کرایک مبسوط تقریرکی،تقریرمیں ان کوکمال تھا،پھول برستےہوئےکم ازکم ان کی تقریرکے سوااب تک کسی دوسرے مقرر کی زبان سےان آنکھوں نےنہیں دیکھاہے،۔۔۔ بہرحال تقریرجب ختم ہوچکی اورمیں سمجھےتھاکہ بحث بھی ختم ہوچکی،اورمسئلہ بلا اختلاف پاس ہوجائے گا،کہ اچانک ایک درازقد،چھریرے بدن ،سانولےرنگ کے آدمی کودیکھاکہ تقریرکی میزکےسامنےکھڑاہے، اورہکلاہکلاکرچند باتیں کہہ رہاہے، پہلے توتوجہ نہ ہوئی،لیکن جب بحث کےنکات سمجھ میں آنےلگےتوذراسنبھلا کہ یہ توکوئی غیر معمولی گفتگوہے،غورسے سننے لگا،(فرمارہےتھے)کہ:
"شرعی وارثوں کےحرمان سےمسلمانوں کی جائیدادکی حفاظت کاکام
لیناشریعت کےحکم سےانحراف ہے،اس قانون (وقف علی الاولاد)کو
پاس کرنےکےیہ معنیٰ ہیں کہ خدانےجن لوگوں کووارث ٹھہرایاہے
مورث چاہیں گےتوان کوان کےشرعی حق سے محروم کردیں گے،یہ
خدائی قانون میں دست اندازی ہے،اس لئےاس کوپاس نہ ہوناچاہئے ۔
بالآخریہ قانون ترمیم کےمراحل سے گذرکرپاس ہوا ۔
یہ حضرت مولاناسجاد صاحبؒ تھے،مولاناگیلانیؒ نے اس وقت تک مولاناسجاد صاحبؒ کاصرف نام ہی سناتھا،کبھی زیارت کاموقعہ نہیں ملاتھا۔۔۔یہ پہلاموقعہ تھاجب وہ مولانامحمدسجادصاحبؒ کی تقریرسن کرمتأثرہوئے،اوروہ بھی ایسی تجویزکےخلاف جس کوندوۃ العلماء سے لے کرملک کےمختلف حصوں کےممتازعلماء نےپاس کردیاتھا،اورخود ان کابھی خیال یہی تھاکہ گویایہ تجویزباتفاق رائے منظورہوچکی ہے،لیکن حضرت مولاناسجادؒاس مسئلہ میں چھپی اس کمزوری تک پہونچ گئےجہاں کسی عالم وفقیہ کادماغ اب تک نہیں پہونچاتھا،یہ تھی حضرت مولاناسجادؒکی علمی عبقریت،فقیہ النفسی اورمعاصرعلماء میں ان کاامتیاز،جس کےناقل خود ایک بڑےعلامۂ زمانہ ہیں۔
؎ ایں سعادت بزوربازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
غیرمسلم ملکوں میں نظام قضا یاشرعی پنچایت؟
اس کاایک اورنمونہ غیراسلامی ہندوستان میں نظام قضاء کامسئلہ ہے،ہندوستان سے اسلامی حکومت کےخاتمےکے بعد ۱۸۶۴؁ء میں انگریزوں نے اسلامی قاضیوں اور مفتیوں کے تقرر پرپابندی لگادی تھی جوصدیوں سےاس ملک میں چلاآرہاتھا ،اورجن پر مسلمانوں کے ملی اورسیاسی مسائل ہی نہیں بلکہ ان کےبہت سےعائلی اورمذہبی مسائل کابھی مدارتھا،مثلاًفسخ وتفریق کی کئی صورتوں میں قضائےقاضی کی ضرورت پڑتی ہے،یہ اس ملک میں مسلمانوں کے لئےانتہائی مشکل وقت تھا،مسلمانوں کی دینی زندگی کاتحفظ خطرہ میں پڑگیاتھا،عورتوں کے ارتدادتک کےواقعات پیش آنے لگےتھے،پورے ملک کےعلماء اورملی رہنمااس صورت حال سےبے حدپریشان اورفکرمندتھے،اور اپنے اپنےحدودمیں ان مشکلات کےحل کی تدابیرپر غورکررہےتھے،بلاشبہ اس دورکےعلماء میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کوسبقت حاصل ہےکہ انہوں نےعلماء ہندوحجازکےمشورہ سے "الحیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ” جیسی وقیع اوردستاویزی کتاب لکھی،حضرت تھانویؒ کےاس انقلابی قدم کی ہرطرف سےتحسین کی گئی ،حضرت تھانوی ؒنےاس کتاب میں ملک کے موجودہ حالات میں نظام قضاء کےمتبادل کے طورپرمسلک مالکی سے”جماعۃ المسلمین العدول ” (شرعی پنچایت)کی تجویزبھی پیش فرمائی تھی، کتاب تیارہونےکےبعدحضرت تھانوی ؒ نےاپنی یہ کتاب استصواب رائےکے لئےملک کے اکثرممتازعلماء ومفتیان کرام کوارسال فرمائی،حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒکوبھی اس کاایک نسخہ موصول ہوا،حضرت مولاناسجادصاحبؒ نےکتاب کےبنیادی مندرجات سےاتفاق کرتے ہوئے حضرت تھانویؒ کے”جماعۃ المسلمین”والےنظریہ سےاختلاف کیا،حضرت ابوالمحاسن ؒ کاخط الحیلۃ الناجزۃ میں شائع شدہ ہے،حضرت کامکتوب گوکہ بہت مختصرہےلیکن یہ ان کےفقہی شعوراور بالغ نظری کاعکاس ہے،انہوں نےچندجملوں میں جن بنیادی نکات کی طرف توجہ دلائی ہے، وہ بے حداہم ہیں ،خط سے سے معلوم ہوتاہے وہ مسئلہ کی روح تک پہونچ چکےتھے،اور ہندوستان کےماضی ،حال اورمستقبل سب پران کی گہری نگاہ تھی ،مکتوب کایہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
"اس وقت جزودوم کامقدمہ سرسری طور پر دیکھا،دارالکفرمیں قضابین
المسلمین کی ضرورت کوپوری کرنےکےلئےفقہاء حنفیہ رحمہم اللہ نے جو
صورت تجویز فرمائی ہیں وہ نہ معلوم کیوں اس رسالہ میں مذکور نہ ہوئیں ،
یعنی:
یصیرالقاضی قاضیاً بتراضی المسلمین اوران یتفقوا
علیٰ واحدیجعلونہ والیاً فیولی قاضیاً الخ ۔
اورجب یہ صورت موجود ہے توپنچایت کی صورت اختیارکرنابلاضرورت
مسئلۂ غیرکااختیار کرنا ہوگا ۔۔۔۔
٭اس مسئلہ کی ضرورت واہمیت کےعلاوہ پنچایت کی عملی دقتیں بہت زیادہ
ہیں ،اور ان شرائط کی نگہداشت بھی بہت مشکل ہوگی ۔
حضرت مولاناسجادصاحبؒ نے جن نکات کی نشاندہی فرمائی ہےوہ ان کےگہرے تفقہ اوربلندعلمی مقام کی علامت ہے،اس زمانہ میں ان کےنظریہ کوگوخاطرخواہ التفات نہ حاصل ہوسکا ہو(حالانکہ یہ خروج عن المذہب سےمحفوظ شکل تھی)لیکن زمانۂ مابعد میں جس طرح ان کے نظریۂ امارت وقضاکوقبولیت عامہ حاصل ہوئی،اور علماءمحققین کی بڑی تعداد اس نظام کوامت میں جاری کرنے کےلئےسرگرم عمل ہوئی یہاں تک کہ فقہ مالکی کےشرعی پنچایت کانظریہ نظام قضاکےبالمقابل اس ملک میں اجنبی سابن کررہ گیا،اس سےحضرت مولاناسجادؒکی بےنظیرفقہی بصیرت اورزمانہ آگہی کا اندازہ ہوتاہے،ان کےدیگرافکارونظریات کی طرح نظریۂ امارت شرعیہ اورنظریۂ قضاکو جوغیرمعمولی قبولیت حاصل ہوئی،اور جس کامیابی کےساتھ ان کےتجربات کئےگئے،غیرمسلم ہندوستان میں اس کی دوسری نظیرنہیں ملتی،خودحضرت تھانوی ؒ کےخلیفۂ ارشداوراس ملک میں علم وحکمت کے بے تاج بادشاہ حضرت حکیم الاسلام قاری محمدطیب صاحب ؒ سابق مہتمم دارالعلوم دیوبندوصدراول آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈنےاعتراف فرمایاکہ:
” حضرت تھانوی ؒ نے شرعی کمیٹی کے نام سےفقہ مالکی کی روسےجوحل
پیش فرمایاہے،وہ اپنے زمانے کےاعتبارسےاہم اقدام ہے،لیکن اس
میں بڑی دشواری یہ ہےکہ فقہ مالکی کی روسے تمام ارکان کمیٹی کااتفاق
فیصلہ میں ضروری ہے اگر یہ اتفاق حاصل نہ ہوسکے تو دعویٰ خارج
کردیاجائے گا۔۔۔
٭علاوہ ازیں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ خود فقہ مالکی میں جماعت المسلمین کے اختیارات بہت محدودہیں ،بلکہ زیادہ صحیح لفظوں میں یہ محض عارضی حل ہے ،ان کے نزدیک بھی حقیقی حل نظام قضاہی ہے،یہی وجہ ہےکہ اگرکسی مقام پرقاضی موجود ہوتوجماعۃ المسلمین
کوحق تفریق حاصل نہیں ہوتا،فقہ مالکی میں اس کی تصریحات موجود ہیں:
والنقل أنهاإن أرادت الرفع ووجدت الثلاثةوجب للقاضي،فإن رفعت لغيره حرم عليهاوصح،وإن رفعت لجماعةالمسلمين مع وجود القاضي بطل، فإن لم يوجدقاض فتخير فيهما
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ عارضی حل کےبجائےہندوستان میں مسلمانوں کے لئےدائمی اورپائیدارنظام کےخواہاں تھے،اوراس کےلئے امارت وقضاکے علاوہ کوئی دوسری صورت موجود نہ تھی ،ان کی نگاہ وقتی اورعارضی تدابیر سے بہت آگے تک تھی۔
باقی اس مسئلہ کی پوری علمی تحقیق نظام قضاکی بحث میں آئے گی ان شاء اللہ ۔
ترک موالات کےمسئلہ پرجامع فتویٰ-خصوصیات
جب ملک میں انگریزی اقتدارکےخلاف جنگی کوششوں کےحصہ کےطورپر مختلف سیاسی اورملی تنظیموں کی جانب سےحکومت کےساتھ عدم تعاون اور ان کے اداروں اور اشیاء کابائیکاٹ کرنےکی تحریک چلی،جن کی پشت پرخودعلماء ہی کی جماعت تھی،توملک کے مختلف اداروں اورعلمی شخصیات سےاس موضوع پرسوالات کئے گئے ،اورتقریباًتمام ہی قابل ذکرعلماء -علماء دیوبند،علماء دہلی،علماء فرنگی محل ،علماء سہارن پور،علماء بدایوں ،علماء کان پور،علماء بہار-اور-حضرت شیخ الہندمولانامحمودحسن دیوبندیؒ سےامام الہندمولاناابوالکلام آزادؔؒ تک سب نےحکومت سےعدم تعاون اورترک موالات کے فتاویٰ جاری کئے،بلاشبہ یہ تمام فتاویٰ اس موضوع پرایک قیمتی ذخیرہ اوردستاویزی حیثیت کےحامل ہیں،بالخصوص حضرت شیخ الہندؒ اورحضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ کے فتاویٰ میں بڑی گہرائی اور گیرائی پائی جاتی ہےاور مسئلہ کےمختلف گوشوں کااحاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے،لیکن اس موقعہ پر حضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادصاحبؒ کےفتوی ٔ ترک موالات کوجوشہرت وقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی فتویٰ کونہ ہوئی،آپ کافتویٰ نسبتاًتفصیلی ہے، آپ کے فتوٰی کاامتیاز یہ ہےکہ :
٭آپ نےاس فتویٰ کاسررشتہ استاذالکل اورمسندالہندحضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ سےجوڑدیاہے،اور اپنے فتویٰ میں حضرت شاہ صاحب ؒ کے تفصیلی فتویٰ کے فارسی متن کےاقتباسات نقل فرمائےہیں،ہندوستان پرانگریزی تسلط کےخلاف سب سےپہلی معتبرآوازحضرت شاہ صاحب ؒ کی طرف سے اٹھی تھی،اور۱۲۳۹؁ھ مطابق ۱۸۲۳؁ء میں حضرت شاہ صاحبؒ نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کافتویٰ جاری کیاتھا،اس کے بعد جنگ آزادی کی جتنی تحریکیں اٹھیں ان سب کے پیچھے شاہ صاحب ؒکے اسی فتویٰ کی بازگشت کام کررہی تھی ، حضرت مولاناسجاد صاحبؒ نےاس فتویٰ کارشتہ شاہ صاحب ؒ سے قائم کرکے ایک طرف فتویٰ کےاندراستناداورقبولیت کی شان پیداکی،دوسری طرف اس کوتاریخی تسلسل دےکرتحریکی رنگ عطاکیا،اس سےفتویٰ میں جوقوت وزندگی پیداہوتی ہے،وہ اصحاب ادراک سےمخفی نہیں۔
٭اس فتویٰ کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس پرہندوستان کے تمام ہی مکتب فکرکےمعتبرعلماء اورمفتیان کےدستخط موجودہیں،اس طرح اس میں اجتماعی رنگ پیداہوگیا اوریہ فتویٰ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کی مشترکہ آوازاورانگریزی سامراج کےخلاف متحدہ طاقت میں تبدیل ہوگیاہے۔
٭اس کےعلاوہ اس میں مسئلۂ ترک موالات کےایک ایک جزوپرقرآن وحدیث
کےنصوص اورفقہی عبارات کی روشنی میں جس بصیرت اورسلیقہ کےساتھ کلام کیاگیا ہےاور ہرہرجزوپرکئی کئی دلیلوں کااہتمام کیاگیاہے،اس سےان کاتبحرعلمی اورکمال تفقہ صاف متبادر ہوتاہے،بطورنمونہ موالات کےتشریحی حصہ کایہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں،اورتفہیم مسئلہ کا اسلوب کتناواضح اوربلیغ ہے اس پرغورفرمائیں:
"موالات کےدومعنی ہیں ایک معنی محبت و مودت اور پھر محبت کی
دو جہتیں ہیں ایک دینی و مذہبی ،دوسری دنیاوی، اور محبت دنیاوی
کی بھی دوصورتیں ہیں اختیاری و اضطراری الغرض کافر کے ساتھ
محبت کی تین صورتیں ہیں:نمبر ایک دینی محبت من جہۃ الدین یعنی
کسی کافرکی دوستی اس طرح پرہو کہ اسکے دین و مذہب کو پسند کیا
جائے تو یہ عین کفر ہے٭نمبر۲:-محبت من جہۃ الدنیا ہواور اختیاراً
ہویعنی کسی کافر کےساتھ دلی محبت ہومگرنہ اس جہت سےکہ اس کے
دین کو اچھا سمجھتا ہو بلکہ کسی دنیاوی وجہ سے محبت ہو مگر یہ دنیاوی
اختیار کی ہوئی محبت یعنی اپنی خواہش و اعتبار سے کسی کافر سے کوئی
دنیاوی مقصد اور غرض کےحصول کےلئے محبت کرتا ہو اور فطری
اسباب اس محبت کے پیدا ہونے کے لئے موجود نہ ہوں تو یہ محبت
بھی حرام ہے مگر کفر نہیں۔ ٭ نمبر ۳ :-محبت من جہۃ الدنیا مگر
اضطراراًہواور اس محبت کا سبب غیر اختیاری ہو جیسے کسی مسلمان کا
باپ یا بھائی کافرہواوربسبب رشتہ داری اور قرابت کے مسلمان کے
دل میں کافر باپ بھائی کی محبت ہوتو یہ محبت جائز ہے بشرطیکہ اس
دلی محبت کا اثر مسلمان کے ایمان پر نہ پڑے۔
محبت کی پہلی صورت یعنی من جہۃ الدین اوردوسری صورت یعنی من
جہۃ الدنیا اختیاراً کاجو حکم بیان کیا گیا ہے وہ ہر کافر کے ساتھ یکساں
اور برابر ہے عام ازیں کہ کافر محارب ہو یا غیر محارب ۔۔۔اور یہ
حکم دوامی اور بہر حال ہے،لیکن محبت کی تیسری قسم یعنی محبت من
جہۃ الدنیا اضطراراً اس میں محارب اورغیرمحارب میں فرق ہے وہ یہ
کہ غیر محارب کے ساتھ تو یہ محبت جائز ہے لیکن محارب کے ساتھ
یہ محبت بھی حرام ہے ، بقولہ تعالیٰ (مجادلہ/۲۸)۔۔۔۔اور موالات
کےدوسرےمعنی نصرت اورمددکےہیں جس کا تعلق افعال وجوارح
سے ہے دل سے اس کو کوئی سروکار نہیں اس معنی کے اعتبار سے
کافروں کےساتھ موالات کرنےکےمتعلق شرعی احکام مختلف احوال
اورمختلف اسباب اورمختلف مقتضیات کی وجہ سےمختلف ہوتےہیں”
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کایہ فتویٰ”متفقہ فتویٰ علماء ہند”کےنام سے۱۳۳۹؁ھ مطابق ۱۹۲۰؁ء میں مطبع ہاشمی میرٹھ سے شائع ہوا،اب یہ فتویٰ "فتاویٰ امارت شرعیہ” ج ۱ ص ۲۷۲ تا۲۸۳ میں شامل ہے،ترک موالات کے مسئلہ پرباقی دیگراکابرعلماء اورمفتیان عظام کےفتاویٰ بھی فتاویٰ امارت شرعیہ میں شائع کردئیے گئےہیں ۔
تعلیق طلاق کےمسئلہ پرمولانامحمدسجادؒکامحاکمہ
۱۹۲۴؁ء میں تعلیق طلاق کی ایک صورت موضوع بحث بن گئی تھی،اورہندوستان
کےمشاہیرعلماء ومفتیان کرام اس معرکہ میں شامل ہوگئے،علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ تھی کہ اس صورت میں شرط پوری ہوجانے کی وجہ سےطلاق واقع ہوگئی،اس جماعت میں مفتی اعظم حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلویؒ مفتی مدرسہ امینیہ دہلی بھی شامل تھے،اس کےبالمقابل زیادہ ترعلماء کی رائے یہ تھی کہ جس شرط پرطلاق معلق تھی اس کے دوجزو ہیں جب تک دونوں جزوپائے نہیں جائیں گے شرط پوری نہیں ہوگی،اورزیربحث واقعہ میں صرف ایک جزوپایاگیاہےدوسراجزومفقودہےاس لئےطلاق واقع نہیں ہوئی،اس رائے کےحاملین میں بھی بڑی بڑی شخصیتوں کےنام شامل تھے، مثلاً:مولاناابوالعلیٰ محمدامجدعلی صدرمدرس دارالعلوم معینیہ اجمیرشریف،حضرت مولانامحمدالیاس کاندھلویؒ بانی جماعت تبلیغ،مولانامحمدشفیع صاحب

ترک موالات پرحضرت مولاناابوالمحاسن محمدسجادؒ کاتحریرکردہ فتویٰ(ٹائیٹل پیج)جومتفقہ فتویٰ علماء ہند کےنام سےپہلی بار۱۹۲۰؁ء میں میرٹھ سےشائع ہوا۔
مدرسہ عبدالرب دہلی،مولانااحمدعلی صاحب صدرمدرس مدرسہ فتحپوری وعلماء مدرسہ فتحپوری،مولانامفتی مظہراللہ صاحب امام مسجدفتحپوری دہلی،حضرت مولاناابوالکلام آزادؒوعلماء کلکتہ،مولانامحمدحسین صاحب صدرمدرس مدرسہ رمضانیہ کلکتہ،صاحب اصح السیر مولانا عبدالرؤف داناپوری وغیرہ ۔
حضرت مولانامحمدسجاد صاحبؒ کےپاس جب یہ سوال اوراس کےمختلف جوابات موصول ہوئے توآپ نے صاحب واقعہ کوبلاکر اس سے زبانی طورپربھی تحقیق کی،اور سوال کےپس منظرکوسمجھنے کی کوشش کی ،پھرتمام جوابات کوسامنے رکھ کرایک تفصیلی محاکمہ تحریرفرمایا،آپ نےمسئلہ کاانتہائی متوازن تجزیہ کرنے کےبعداس کےایک ایک جزوپرفقہی لحاظ سے روشنی ڈالی ،یہ محاکمہ آپ کی فقہی بالغ نظری کانقطۂ عروج ہے،آپ نے جلیل القدرعلماء کی آراء کےدرمیان جس توازن اورعلمی شعورکےساتھ فیصلہ کن گفتگو کی ہےوہ آپ کی علمی تحریرات میں شاہکارکی حیثیت رکھتی ہے،بطورنمونہ آپ کےجواب کی آخری چند سطریں ملاحظہ فرمائیں :
"پس اس امر کوپیش نظررکھ کرصورت مسئولہ میں یہ خیال رکھناچاہیئے،
کہ یہاں بھی تعلیق میں نفس بہترطرزعمل وحق معاشرت شرط نہیں
ہے، بلکہ ایساطرزعمل کہ جس سے بیوی کو خوش رکھنےاورتعلقات
خوش گواررہنےکااطمینان ہوجائےاور بیوی کااطمینان ایک قلبی فعل
ہےاس لئےاس امرمیں اس کےقول کااعتبارہوناچاہئے،بشرطیکہ اس
کےقول کےجھوٹ ہونےکایقین نہ ہو،لہٰذااگرواقعات وقرائن سے
اس کا جھوٹ ثابت ہوجائے تواس صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔
الغرض محض عبدالمجید کی بیوی کے بیان پر وجودشرط طلاق کایقین
کرکےحکم طلاق نہیں دیاجاسکتاہے،بلکہ تحقیق واقعات وحالات کے
بعد ،فقط واللہ اعلم بالصواب وعندہ ام الکتاب ۔
تفصیلی فتوی اوردیگرعلماء امت کےفتاویٰ”فتاویٰ امارت شرعیہ”میں موجود ہیں ۔
مسجدکی منتقلی کامسئلہ
ہندوستان کےموجودہ حالات میں مسجدکی منتقلی کےمسئلےپربھی حضرت مولانامحمد سجادصاحبؒ کافتویٰ بےحد اہم ہے،انہوں نےدوٹوک الفاظ میں مسجدکی جزوی یاکلی ہرطرح کی منتقلی کوشرعی طورپرناممکن قراردیاہے،اس لئے کہ :
"جس زمین پرمسجدبنی وہ زمین سےلےکرآسمان تک اورزمین کےنیچے
تحت الثریٰ تک قیامت تک کےلئے مسجدہے،مسلمانوں پرواجب ہے
کہ اس ویران مسجدکوآبادکریں اورجس شخص نےقبضہ کرلیاہےاس
سےمسجد کو واپس لیں ،پہلے اہل محلہ پرواجب ہےاگران سے انجام نہ
پائے توجولوگ ان سے قریب ہوں وہ اس میں حصہ لیں،اسی ترتیب
سےتمام اہل شہرپھرپورےضلع الٰہ آباد کےمسلمانوں پرواجب ہےکہ
ان مسجدوں کوواپس لےکرآبادکریں ورنہ سخت گنہ گار ہونگے”

دیہات میں جمعہ کامسئلہ
اسلامی ہند کےسقوط کےبعد ہندوستانی مسلمانوں کےلئےجمعہ کےجوازکامسئلہ بہت نازک بن گیاتھا،اس لئےکہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت حنفی ہے،اور حنفیہ کےنزدیک جوازجمعہ کے لئے مصر بھی شرط ہےاور مسلمان حاکم کی موجودگی بھی شرط ہے ،حاکم جمعہ میں حاضر ہویااس کی اجازت سےکوئی اس کانائب جمعہ قائم کرے،۔۔۔ہندوستان پرغیراسلامی تسلط کےبعد کسی مسلم حاکم کاتصور بھی باقی نہ رہا،حنفیہ کےنزدیک مصر یاقریۂ کبیرہ کی شرط بھی دراصل حاکم کی شرط کی تقویت کےلئے ہے ،اس لئے کہ عموماً سرکاری حکام بڑے مقامات پر ہی ہوتے ہیں ،اس طرح دیہات تودیہات شہر میں بھی جمعہ کاجوازمشکل ہوگیا،یہ اس ملک میں بالکل نئی صورت حال تھی ،صدیوں سے مسلمان شہر شہر اور قریہ قریہ جمعہ پڑھتے آئے تھے،وہ کسی بھی حال میں جمعہ سے دستبردار نہیں ہوسکتے تھے،اس دور کےدیگر علماء وفقہاء کی طرح مولاناسجادؒ بھی اس مسئلہ کے حل کے لئے فکرمند تھے ،جمعہ کاترک دین اور نصح وخیرکے بہت سےدروازوں کوبندکرسکتاتھا،مسجدیں ویران ہوسکتی تھیں،علماء سے عوام کارابطہ کٹ سکتا تھا،چنانچہ انہوں نےایک طرف مذہب کی ان روایات اورعلماء مذہب کےان اقوال کو لائحۂ عمل بنانےکافیصلہ کیاجوقبل سےمعمول بہ کادرجہ نہ رکھتے تھے،لیکن خروج عن المذہب کےمقابلےمیں یہ محفوظ راستہ تھااسی پس منظرمیں انہوں نےحضرت شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ کی رائےکےمطابق ہرایسےمقام پرجمعہ کےجوازکافتویٰ دیاجہاں تھوڑاسابھی تمدن پایاجاتاہو،اور چالیس(۴۰)یاپچاس(۵۰) گھرکی آبادی ہو اس طرح مصر اور حاکم دونوں شرطوں کے معروف تصورات کی لازمیت ختم کردی گئی،اس لئے کہ غیرمسلم ہندوستان کےحالات مسلم ہندوستان سے مختلف تھے،حضرت مولاناسجاد صاحبؒ اپنے ایک فتویٰ میں تحریرفرماتے ہیں:
"دیہاتوں میں نمازجمعہ کےجوازوفرضیت میں علماء ہندصدیوں سےمختلف
الخیال ہیں ،عالمگیرؒ سلطان ہندکےزمانے میں بھی اس مسئلہ میں اختلاف رہا،
ملاجیون صاحب نےتفسیرات احمدیہ میں لکھاہے،کہ ہمارے زمانہ کےعلماء
کےتین(۳)گروہ ہیں٭ایک یہ ہےکہ ہرگاؤں میں نمازجمعہ کوجائزسمجھتے
ہیں اور پڑھتے ہیں،اور لوگوں کوپڑھنے کاحکم دیتے ہیں ،٭دوسراگروہ وہ
جو دیہاتوں میں جمعہ اگرہوتوخودپڑھتے ہیں،لیکن دیہاتوں میں پڑھنےکا
عام حکم نہیں دیتے، ٭ اورتیسراگروہ وہ ہےجودیہاتوں میں نمازجمعہ کو
حرام کہتا ہے ،اور لوگوں کو منع کرتاہے،اور یہ تمام گروہ علماء احناف ہی
کےہیں ۔
ہمارے نزدیک جس گاؤں میں مسلمانوں کی مستقل آبادی ہواور جماعت
کےلئے بالغ مرد کافی ہوں،وہاں نمازجمعہ ہوسکتی ہے،حضرت شاہ ولی اللہ
صاحب دہلوی ؒبھی اس کےقائل ہیں،صرف وہ یہ فرماتے ہیں کہ چالیس
(۴۰)مسلمان وہاں موجود ہوں، حجۃ اللہ البالغۃ وغیرہ میں انہوں نے
بوضاحت لکھاہے” ۔
٭دوسری جانب فقہ حنفی کی تصریحات کی روشنی میں امارت شرعیہ کےذریعہ آپ نے اس مسئلہ کوحل فرمایا،فقہاء نے صراحت کی ہےکہ:
٭مجتہد فیہ مسائل میں حکم حاکم رافع اختلاف ہوتاہے:
( قوله:وإذا اتصل به الحكم إلخ ) قد علمت أن عبارة القهستاني صريحة في أن مجرد الأمررافع للخلاف بناء على أن مجرد أمره حكم
٭اسی طرح اگر امیرکسی دیہات یاچھوٹےمقام پربھی جمعہ قائم کرنے کی اجازت دےدے تووہ مقام حنفی نقطۂ نظرسے بھی محل جمعہ بن جاتاہے:
قال أبو القاسم هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه وفيماذكرناإشارة إلى أنه لاتجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر و خطيب كمافي المضمرات والظاهرأنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة ألا ترى أن في الجواهرلوصلوافي القرى لزمهم أداء الظهر وهذا إذا لم يتصل به حكم فإن في فتاوى الديناري إذا بنى مسجد في الرستاق بأمرالإمام فهوأمر بالجمعة اتفاقاعلى ماقال السرخسي اه فافهم والرستاق القرى كمافي القاموس
حضرت مولانامحمدسجادصاحبؒ امارت شرعیہ کوبہت سے دینی ،ملی اورعائلی مسائل کاحل قراردیتے تھے،اور بحیثیت فقیہ ہندوستان کے بدلے ہوئےحالات میں وہ اس کی پوری اہمیت سمجھتے تھے،چنانچہ آپ نے بحیثیت نائب امیرشریعت کئی بستیوں میں اجراء جمعہ کافرمان صادر کیا،اور اس طرح بڑےبڑے فتنے ٹل گئےاور جمعہ کی نمازفقہ حنفی کےاصولوں کےمطابق جاری ہوگئی،یہ مولانامحمدسجادصاحب ؒکی وہ انفرادیت ہے،جوان کےفقیہ النفس ہونے کامظہرہے، فتاویٰ امارت شرعیہ میں اس نوع کےکئی فتاویٰ موجودہیں، ایک فتویٰ کی عبارت ہے:
"الجواب:صورت مذکورۃ الصدرمیں بمقام قاسمہ(ضلع گیاعلاقہ رفیع گنج
کی ایک بستی )مسجدمیں نمازجمعہ محققین حنفیہ کےنزدیک بھی جائزہے،
اورمیں بحیثیت قائم مقام امیرشریعت اجازت دیتا ہوں کہ مسلمانان
قاسمہ ومسلمانان اطراف قاسمہ وہاں نمازجمعہ پڑھاکریں۔۔۔۔۔ہماری
اس تحریری اجازت کے بعد اب کوئی ذی علم اختلاف نہیں کرے گا،
کیونکہ ان کومعلوم ہے کہ مسئلۂ مجتہد فیہامیں حکم حاکم اختلاف کورفع کر
دیتا ہے، جوحکم حاکم دیتاہے وہی سب کے لئے قابل عمل ہوتا ہے،اور
نمازجمعہ کی بابت توخاص تصریح ہےکہ جب امیرکسی چھوٹےگاؤں میں
بھی جمعہ قائم کردےتوسب کوپڑھناچاہئے ۔
امارت شرعیہ کے ذریعہ اجراء جمعہ کےحل کو اہل علم کےحلقہ میں کافی پذیرائی ملی ، اوردیگرمفتیان کرام بھی چھوٹی بستیوں میں جمعہ کے جوازکے لئے مسلمانوں کوامارت شرعیہ سے رجوع کرنے کامشورہ دینے لگے،فتاویٰ امارت شرعیہ میں ایک فتویٰ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ کاہے جس پر مفتی ابراہیم احمدآبادی ؒ ،مفتی سہول احمدبھاگلپوری ؒ سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ وسابق صدرمفتی دارالعلوم دیوبنداور مولانااصغرحسین بہاریؒ صاحبان کےدستخط ہیں ،استفتاء میں ایک چالیس(۴۰) گھرکی آبادی والےگاؤں(اکٹیر)میں جمعہ کےجوازکے بارے میں دریافت کیاگیاہے ،مذکورہ بالاعلماء نےمسلک حنفی کےمطابق یہ جواب تحریرفرمایا:
"مذکورہ دیہات میں جمعہ جائزنہیں ہے،اٹھادیناچاہئے،ہاں اگراہل
دیہات جمعہ قائم کرناچاہتےہیں،توان کوچاہئےکہ امیرشریعت صوبہ
بہارکی خدمت میں دیہات کی آبادی وغیرہ بیان کرکےدرخواست
کریں،اگروہ جمعہ قائم کرنے کاحکم دیں توجمعہ جائزہوگاورنہ نہیں ۔۔
(آگے حوالے کی عبارت ہے)
چنانچہ حضرت ابوالمحاسنؒ نے اس گاؤں میں جمعہ کی اجازت مرحمت فرماتےہوئے تحریر فرمایا:
"موضع اکٹیرمذکورالصدورمیں مشائخ وائمۂ حنفیہ کےاصول وفروع و
مصالح امت کو پیش نظررکھ کر اقامت جمعہ کی میں بحیثیت نائب
امیرشریعت کےاجازت دیتاہوںفقط ابوالمحاسن محمدسجاد۲۱ صفر۱۳۴۷؁ھ ”
مسئلہ رویت ہلال
رویت ہلال کامسئلہ بھی ہردورمیں انتہائی حساس اورمعرکۃ الآراء رہاہے،شبہ ہمیشہ یہاں سےکھڑاہوتاہےکہ رویت ہلال کی شہادتوں کی تحقیق میں وہ معیار کیوں اختیارنہیں کیاجاتاجوعام عدالتی معاملات و مقدمات کی شہادتوں میں اختیارکیاجاتاہے؟ بلکہ بعض مواقع پرتو محض خبرکی بنیادپربھی رویت کافیصلہ کردیاجاتاہے۔۔ یہی شبہ اکثر رویت ہلال کی خبروں اور فیصلوں کےردوقبول میں اختلافات کاباعث بنتاہے۔
حضرت مولانامحمدسجادصاحب ؒ کےسامنے جب یہ سوال آیاتو انہوں نے جزئی مباحث میں جانےکےبجائےایک ایسی اصولی بات تحریرفرمائی جس سے اس قسم کےتمام شبہات کاازالہ ہوجاتاہے ،آپ کے جواب کاخلاصہ یہ ہےکہ رویت ہلال کامسئلہ فریقین کے خصومات ومقدمات کی طرح نہیں ہے،بلکہ یہ ایک دینی معاملہ بھی ہے،اس سےنماز،روزہ، عیدین،فطرہ،قربانی وغیرہ متعددمسائل وابستہ ہیں ،اور دینی معاملات میں شریعت کے نزدیک شہادت کی وہ شرطیں مطلوب نہیں ہیں جوعام انسانی مقدمات میں ہوتی ہیں ،بلکہ یہاں شہادت محض خبرموجب کے معنیٰ میں ہے ،یعنی ایسی خبرجس سےعلم اورغلبۂ گمان حاصل ہوجائے،اسی لئے دینی معاملات میں اخبارآحادبھی مقبول ہوتی ہیں، بشرطیکہ غلطی اور کذب کاغالب گمان نہ ہو،جس طرح کہ طلوع وغروب ،زوال یا مثلین وغیرہ سےنمازپنجگانہ کاتعلق ہےان کےوجوب کےلئےکسی بھی خبرسے ان کاعلم ہوجانا کافی ہے،خبردینے والےمیں شہادت کی شرطیں مطلوب نہیں ہوتیں،یہی حال رویت ہلال کی خبر کابھی ہے،اس کواصطلاحی شہادت کےمعیارپرپرکھنا غلط ہے،حضرت سجادؒکایہ فتویٰ گومختصرہے لیکن بہت سی اصولی باتوں ،علمی نکات اورحوالہ جات کتب پرمشتمل ہے،اس کاایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
"مختصراًجواب یہ ہےکہ رویت ہلال کی شہادت بمعنیٰ شہادت عند
مجلس القضاء فی الخصومات نہیں ہے،باتفاق ائمۂ حنفیہ وغیرہم ۔اس
لئے شہادت ہلال میں شہادت کےتمام شروط ہی مشروط نہیں ہیں،
حالانکہ شہادت کےشروط نصوص سے ثابت ہیں جوغیرمنسوخ ہیں،
اورفقط شہادت ہی شرط نہیں ہےخلافاًللشافعی،پس تحقیق عندالاحناف
یہ ہےکہ اس باب میں شہادت بمعنیٰ خبر موجب للعلم وغلبۃ الظن
ہے،اگرچہ خبرآحادہو،صرف شرط یہ ہےکہ غلط اورکذب کاگمان
غالب نہ ہودرایۃ یابدلالۃ المحل،اور مناط یہ ہےکہ ثبوت ہلال سے
متعلقہ احکام محض اموردینیہ محضہ ہیں،مثلاًصوم،صلوٰۃ،وعیدین،فطرہ
،قربانی،جس طرح اوقات طلوع ، غروب ،زوال ،غیبوبت شمس و
مثلین سےنمازپنجگانہ متعلق ہے،ان تمام احکام کی تکلیف اسی وقت
ہوجاتی ہےجس وقت اس کےاوقات کاعلم ہو،اگرچہ خبرواحدسے
ہو،جس طرح احکام طہارت ونجاست الماء کی تکلیف عائدہوتی ہے،
ہاں شرط یہ ہےکہ مخبرمسلم عادل یامستورالحال ہواورخبرمظنۂ غلط و
کذب سےبعیدہو،ائمۂ حنفیہ وفقہاء حنفیہ کی کتب سےمع لحاظ اصول
مسلمہ حنفیہ یہ ہی امرثابت ہے ،اور یہ ہی ظاہرالروایۃ ہے،مبسوط
سرخسی،زیلعی،شامی ،رحمتی،بدائع وغیرہ کامطالعہ بنظرامعان فرمائیے
اس میں سب کچھ ہے،ان میں سےبعض کتابوں میں بعض تصریحات
اس تمہید کےخلاف معلوم ہونگی،بلکہ خودان کےاقوال میں تعارض
معلوم ہوگا،لیکن باصول جمع وتطبیق وہ مؤول ہیں،یامردودومرجوح
ہیں،۔۔۔۔
چونکہ آپ لکھتے ہیں کہ اہل علموں کااختلاف ہے،اس لئے میں لکھتا
ہوں،”ارشاداہل الملۃ الیٰ اثبات الاہلۃ "کاصرف مطالعہ کافی ہوگااس
کتاب میں ائمۂ اربعہ کےمسلک کومع نقل عبارات فقہیہ واضح طورپر
لکھاگیاہے،اورجامعیت کےساتھ،مصرمیں چھپی ہے” ۔
قطرہ ازدریا
یہ صرف چندمثالیں ہیں جن سے حضرت ابوالمحاسن مولانامحمدسجادصاحب ؒکے علمی وفقہی کمالات کااجمالاً اندازہ کیاجاسکتاہے،ورنہ آپ کامقام اس سے کہیں زیادہ بلندہے،کیونکہ آپ کےعلم کابہت مختصر حصہ زیب قرطاس وقلم ہوسکا،ایک توملی اورقومی مسائل کےہجوم میں لکھنے کی فرصت آپ کوکم ملی،دوسرےجوکچھ لکھاوہ پورے طورپرمحفوظ نہ رہ سکا،بڑا حصہ ضائع ہوگیا،مثلاًآپ کے فتاویٰ کی جوایک جلد ہمارے سامنےہے اس میں صرف وہ فتاویٰ ہیں جوامارت شرعیہ کےرجسٹرمیں محفوظ تھے،جن کی تعداد ان پرڈالےگئےنمبرات کےمطابق محض ایک سواٹھانوے( ۱۹۸)ہے ۔۔۔
مدرسہ انوارالعلوم گیاکےشعبۂ افتاسےآپ نےجوفتاویٰ تحریرفرمائے تھےان کی تعداد بھی بقول حضرت مولاناقاضی مجاہدالاسلام قاسمیؒ قریب اتنی ہی تھی،مگروہ ضائع ہوگئے ۔
علاوہ الٰہ آباد مدرسہ سبحانیہ کےدارالافتاء سےبھی آپ نےبےشمارفتاویٰ لکھے تھے ،
جن کی بناپرآپ وہاں "فقیہ شہر”کہلاتے تھے،اگریہ تمام فتاویٰ میسر آجاتے تو فقہ وفتاویٰ کی
ایک پوری لائبریری تیارہوجاتی۔
اس لئے حضرت ابوالمحاسنؒ کی فقہیات کے تحت یہ جوکچھ بھی عرض کیاگیا یہ محض آپ کے علم وکمال کامحض ایک شمہ ہے "قطرہ ازدریا”یا”مشتے نمونہ ازخروارے”بلکہ اس سےبھی کم۔
میری توہستی ہی کیا،بڑےبڑےاصحاب علم وکمال بھی مولاناکی عظمت علم کے آگےعاجزودرماندہ نظرآتے ہیں،سحبان الہندحضرت مولانااحمد سعید دہلویؒ کےالفاظ میں:
"جوکچھ لکھاگیاسچ جانئےکہ سمندرمیں سےایک قطرہ کی حیثیت بھی نہیں
ہے۔ان کاعلم ،ان کی ذہانت،ان کاتقویٰ،ان کی سمجھ اورسوجھ بوجھ،ان
کی مستعدی اورکام کرنے کی قوت ،ان کی غربت اورافلاس،ان کاصبر
اوران کاعزم،ان کےاخلاق کی بلندی ،اوران کاکیرکٹر،خداکاخوف اور
نبی کریم ﷺکی محبت ،مسلمانوں کی اصلاح کاشوق،ممالک اسلامیہ
کی آزادی اور ان کی بقاکاخیال،یہ سب باتیں وہی لوگ سمجھ سکتےہیں،
جنہوں نےمولانامحمدسجادؒکوقریب سےدیکھاہے” ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close