مضامین

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ جمعیت علمائے ہند کے دماغ

محمد یاسین جہازی 9891737350

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ جمعیت علمائے ہند کے دماغ
محمد یاسین جہازی
9891737350
آپ کا اسم گرامی ابوالمحاسن محمد سجاد ابن مولوی حسین بخش ابن سید فرید الدین ؒ ہے۔ والدہ ماجدہ کا نام بی بی نصرین (نصیر النساءؒ) جب کہ نانا بزرگوار سید داود علی ؒ تھے۔آپ کا تعلق جاجنیری سادات سے تھا۔ پنہسہ، بہار شریف نالندہ ریاست بہار میں آپ کی پیدائش بتاریخ دسمبر1881میں ہوئی۔ آپ پانچ سال کی عمر میں ہی یتیم ہوگئے تھے۔ 1886میں آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ اپریل 1993میں مدرسہ اسلامیہ بہار شریف میں داخل کیے گئے۔ مارچ 1897میں دارالعلوم کانپور میں داخلہ لیا۔ پھر فروری 1899میں دارالعلوم دیوبند کے طالب علم بنے۔چھ مہینے بعد خانگی ضروریات کے پیش نظر دیوبند سے وطن واپس آئے، تو جولائی 1899میں آپ کا نکاح کردیا گیا۔آپ دوبارہ دیوبند نہ جاسکے۔لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے، فروری 1900میں مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں داخل ہوگئے۔اور نومبر 1902میں یہیں سے فراغت حاصل کی۔جس کے بعد شادی کی رخصتی کردی گئی۔ 1902میں ہی آپ حضرت قاری سید احمد شاہ جہاں پوری نقش بندیؒ سے بیعت ہوئے۔ ۳/ تا ۵/ جون 1904میں مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں دستار بندی عمل میں آئی۔1904میں مدرسہ اسلامیہ بہار شریف سے تدریسی زندگی کا آغاز کیا۔13/ فروری 1907کو مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد میں بحیثیت نائب صدر مدرس آپ کا تقرر عمل میں آیا۔جون 1907میں آپ مدرسہ سبحانیہ سے مدرسہ اسلامیہ بہار شریف واپس آگئے۔ بعد ازاں اکتوبر 1908میں بہار شریف سے دوبارہ الٰہ آباد واپس آگئے، جہاں آپ 1911تک قیام پذیر رہے۔
1908میں آپ کی سیاسی افکار کا آغاز ہوا۔ جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے اگست 1911میں آپ الٰہ آباد سے گیا،بہار تشریف لائے، اور اسی مہینے میں مدرسہ انوارالعلوم گیا کی تاسیسی نشاۃ ثانیہ فرمائی۔پورے بھارت کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے، ریاستی سطح پر اس کا آغاز کرتے ہوئے15/ دسمبر 1917کو انجمن علمائے بہار کی داغ بیل ڈالی اور کل ہند سطح پر اس کو وسعت دینے کے لیے مسلسل کوشاں رہے۔ 1918میں آپ کا دوسرا نکاح بی بی شاکرہ سے ہوا۔ 1918میں مولانا عبد الباری فرنگی محلیؒ کے ساتھ مل کر خلافت کمیٹی قائم کی۔اور خلافت کمیٹی بمبئی قائم ہونے کے بعد اس کی ایک شاخ اپریل 1919میں گیا بہار میں قائم کی۔ 18/ ستمبر 1919کو لکھنو میں ہونے والی مسلم کانفرنس کی قیادت فرمائی۔ 23/ نومبر 1919کو دہلی میں منعقد جمعیت علمائے ہند کی تاسیسی میٹنگ میں شرکت فرمائی۔ جمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس منعقدہ 28/ دسمبر1919تا یکم جنوری 1920میں تشکیل دی جانے والی پہلی مجلس منتظمہ میں آپ کا اسم گرامی شامل کیا گیا۔ 14/ مئی 1920کو جمعیت علمائے بہار کے تحت دارالقضا قائم کیا۔ 25/26/ جون 1921کو امارت شرعیہ کی تاسیس فرمائی اور آپ کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔ 15/ جولائی 1921کو پٹنہ میں امارت شرعیہ کے دفتر کا سنگ بنیاد رکھا۔ سیاسی تحریکات کو فروغ دینے کے لیے 23/ جون 1923کو حزب اللہ کا قیام اور دسمبر 1924میں قومی تعلیمی مرکز قائم فرمایا۔ 11/تا13/ جنوری 1925میں جمعیت علمائے ہند کے چھٹے اجلاس عام کی صدارت کی۔ 1930اور 1932میں چلنے والی جمعیت علمائے ہند کی جنگی تحریک دائرہ حربیہ کے سربراہ رہے۔25/ اگست 1935میں بہار مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی بنائی۔1938میں مدح صحابہ ایجی ٹیشن لکھنو کی قیادت کی۔ 9/ جون 1940کوجمعیت علمائے ہند کا ناظم عمومی منتخب کیا گیا۔
آپ جمعیت علمائے ہند کی مرکزی شخصیات و عہدیداروں میں ایسی شخصیت ہیں، جن کا انتقال سب سے پہلے ہوا۔ آپ کی تاریخ وفات 18/ نومبر1940 بروز سوموار ہے۔ قبرستان خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ میں مدفون ہیں۔ کل عمر مبارک ہجری حساب سے 59سال 10ماہ اور عیسوی حساب سے تقریبا 58/ سال 10/ ماہ ہے۔
مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب علیہ الرحمہ بیسویں صدی کے غلام بھارت میں اسلامی وسیاسی قیادت کے شہ دماغ تھے۔آپ بیک وقت فقہی، قانونی اور سیاسی بصیرت میں امتیاز رکھتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ علما اپنی خانقاہوں اور اداروں سے نکل کر سیاسیات میں بھی قوم کی رہبری کریں۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم بڑھاتے ہوئے، کل ہند سطح پر علما کی جمعیت قائم کرنے کی کوشش کی؛ لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ملی، تو ریاستی سطح پر اس کی شروعات کرتے ہوئے 15/ دسمبر 1917میں انجمن علمائے بہار قائم فرمایا، جو بعدمیں جمعیت علمائے بہار کہلایا۔1918میں مولانا عبد الحی فرنگی محلیؒ کے ساتھ مل کر خلافت کمیٹی کی تشکیل کی۔دہلی میں منعقد آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر، 23/ نومبر 1919میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیسی میٹنگ میں شرکت فرمائی اور اس طرح آپ کا کل ہند سطح پر علما کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔28/ دسمبر 1919تا یکم جنوری 1920میں منعقد جمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس میں پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی، جس میں آپ کو اس کا رکن منتخب کیا گیا۔19/20/21/ نومبر1920کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا اجلاس عام ہوا، جس میں برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کا مفصل فتویٰ آپ نے ہی مرتب فرمایا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے اور یہ فتویٰ متفقہ فتویٰ علمائے ہند کہلایا۔حضرت مولانا ابوالمحاسنؒ غیر اسلامی ہندستان میں نصب امیر کو ایک ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم اٹھاتے ہوئے 25و26 جون 1921ء کو پٹنہ میں امارت شرعیہ کی داغ بیل ڈالی، جس میں آپ کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔اور مرکزی سطح پر اس کے قیام کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ 18،19،20/ نومبر1921ء کو جمعیت علمائے ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس لاہور میں ہوا تو اس میں آپ ہی کی کوششوں سے امارت شرعیہ فی الہند کی تجویز باتفاق رائے منظور کی گئی۔
”جمعیت علما نے جو تجویز امارت شرعیہ کے سلسلہ میں پاس کی تھی، وہ بھی انھی کی سعی کا نتیجہ تھا۔“(حیات سجاد، ص/105۔ مضمون مولانا احمد سعید صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند)
اسی اجلاس میں امیر شریعت کے اختیارات و فرائض کے تعین کے لیے ایک سب کمیٹی بنا ئی گئی،جس میں پندرہ اراکین میں سے ایک رکن آپ بھی تھے۔آپ ؒہی نے ”نظام نامہ امیر الشریعۃ فی الہند“ کے نام سے ایک مستقل مسودہ تیار کیا، جسے13/ دسمبر1921ء کوبدایوں میں منعقد اجلاس میں پیش کیا گیا۔ 20، 21/ ستمبر 1923 کو مجلس منتظمہ کا اجلاس کا اجلاس ہوا، جس میں جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے پاک کرنے کے وسائل اور بالخصوص حجازی و برطانوی معاہدہ کو اٹھا دینے کے ذرائع پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی، جس میں آپ کو رکن نامز د کیا گیا۔
قادیانیوں کے خلاف فتویٰ
6/نومبر1923ء بہ مقام دہلی انسداد فتنہ قادیانی کا اجلاس ہوا، جس میں قادیانیوں کے متعلق فتویٰ مرتب کرنے کے لیے حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب ؒاور مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحبؒکے ساتھ، آپ کا اسم گرامی بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ 7/ نومبر1923ء میں جمعیت تبلیغیہ کے اجلاس میں، شدھی اور سنگٹھن کے ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے جمعیت تبلیغیہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کا ایک رکن مولانا ابوالمحاسن ؒ کو بھی بنایا گیا۔اسی اجلاس کی ایک تجویز میں مولانا مبارک صاحب اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس پر زور دیا کہ شعبہ تبلیغ کا اخبار جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور جب مناسب موقع معلوم ہو تو ایک ہفت وار اخبار ضرور نکالنا چاہیے۔ (خلاصہ کارروائی جمعیت تبلیغیہ، ص/1، تا/5)۔
نومسلم لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم اور صنعت کے لیے تعلیم گاہ کی تجویز
شعبہ تبلیغیہ کے اسی اجلاس میں نومسلموں اور مسلمات کی تعلیم و تربیت اور صنعت و حرفت سکھانے کے لیے ایک درس گاہ کے قیام کی ضرورت پر تجویز پاس کرتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جو اس درس گاہ کے قیام کی اسکیم اور ایسی تدابیر کی رپورٹ پیش کرے، جس کی وجہ سے غیر مستحقین پیشہ ور نو مسلمانوں کا انسداد ہوجائے اور یہ کام کامیابی کے ساتھ جاری ہوسکے۔ اس کمیٹی میں (1) مولانا محمد مظہر الدین صاحب(2) مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے علاوہ تیسرا نام مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کا ہی تھا۔ اور مولانا کا اس با ت کا بھی ذمہ دار بنایا گیا کہ وہ 30/ ستمبر1924ء تک مسودہ تیار کرکے دہلی ارسال فرمائیں گے۔ اسی طرح اس جلسہ میں مولانا محمد منیر الزماں صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ بنگالہ کا خط پیش ہوا، جس میں صوبہ بنگال میں تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے کے لیے ڈھائی ہزار روپیے کی امداد طلب کی گئی تھی، اس پر غور ہوا اور طے ہوا کہ ایک وفد کلکتہ جاکر جماعت منتظمہ کے کارکنوں وغیرہم سے مل کر صوبہ بنگال کے تبلیغی کاموں کے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن صاحب شامل کیے گئے۔
انہدام مساجد بھرت پورکے خلاف ایکشن
مجلس عاملہ 23 تا 25جون 1924میں انہدام مساجد بھرت پور راجستھان کے بارے میں بحث و گفتگو کی گئی۔واقعہ یہ ہواتھا کہ مساجد بھرت پورکی مسلسل انہدامی کار روائیوں کے خلاف وہاں کے راجہ کرشن سنگھ نے کوئی ایکشن نہیں لیا، تو جمعیت کا ایک سولہ رکنی وفد ا ن کے دربار میں پہنچا اورکسی رعب و خوف کے بغیر دس نکات پر مشتمل ایک ایڈریس پیش کیا، جس میں مساجد کی شرعی اہمیت و حرمت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ شامل تھے۔ (رپورٹ انہدام مساجد بھرت پور، ص/ 9)
چھٹے اجلاس عام کی صدارت
11/ جنوری 1925ء کو جمعیت کا چھٹا اجلاس عام مرادآباد میں ہوا۔ اس کی صدارت ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد صاحب نائب امیر الشریعہ صوبہ بہار و اڑیسہ نے فرمائی۔ اس اجلاس کی تجویز نمبر 24 میں عدمِ تعاون کے پروگرام پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی، جس میں وقت کے اکابرین کے ساتھ آپ کا نام نامی و اسم گرامی بھی شامل تھا۔
ساتویں اجلاس کی کامیابی پر خصوصی مشکور
کلکتہ میں جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام منعقدہ 23مارچ1926 میں ایک تجویز پاس کر کے، اجلاس کی شاندار کامیابی پر ایک طرف جہاں تمام علمائے کرام کا عموماً شکریہ ادا کیا گیا،وہیں مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیرالشریعت صوبہ بہار و اڑیسہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔
مدارس عربیہ کے لیے ضروریات زمانہ کے مطابق نصاب
جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں سالانہ اجلاس منعقدہ 2/تا4/ دسمبر1927ء کی تجویز نمبر 6میں مسلمانوں کی مشغولیت اور کم فرصتی اور ضروریاتِ زمانہ کا لحاظ رکھتے ہوئے مدارسِ عربیہ دینیہ کے نصاب کو ایسے طور پر مرتب کرنے کی بات کہی گئی، جو ان کی مذہبی حالت کو درست کرنے اور مذہبی واقفیت بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ زمانہ کی ضرورتوں کو بھی ایک حد تک پورا کرسکے، اور تمام مدارسِ عربیہ دینیہ کا ایک نظام ہو، اور سب اسی نظام کی پابندی کریں تاکہ یہ تفرق اور انتشار جو مذہب و قوم کے لیے سب سے زیادہ مضرت رساں ہے، دور ہو اور منظم طور پر دینی تعلیم عام ہوجائے، اور تعلیم کا حقیقی فائدہ حاصل ہو۔چنانچہ نصاب بنانے اور اسے مدارس عربیہ میں رواج دینے کی کوشش کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی، اس میں ایک نمایاں نام آپ کا بھی تھا۔
غیر اسلامی ہندستان میں قاضی کے تقرر کا مطالبہ
اسی اجلاس کی تجویز نمبر 15میں، غیر اسلامی ہندستان میں مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور دیگر عائلی مسائل ومشکلات کے حل کے لیے بااختیار شرعی قاضی مقرر کرنے کے حوالے سے، گورنمنٹ سے اختیارات دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی آپ کا نام شامل کیا گیا۔
بتیا فساد کے خلاف ایکشن
4/ اگست 1927کو بتیا میں ہندو مسلم فساد برپا ہوگیا۔ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اس وقت امارت شرعیہ پٹنہ میں تھے، وہ اطلاع پاتے ہی فورا بتیا کے لیے روانہ ہوئے اورجائے حادثہ کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے قانونی کارروائی کی کوشش کی۔
نہرو رپورٹ پر تنقید
16/ اگست 1928ء کو نہرو رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ پر مفصل تبصرہ کرنے کے لیے جو سب کمیٹی بنائی گئی،اس میں حضرت مولانا ابو المحاسن سجاد صاحب ؒ نے نمایاں حصہ لیا۔
جمعیت کے صدر و ناظم کے استعفوں کا استرداد
جمعیت کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس11و 12اگست1929کو مرادآباد میں ہوا۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فرمایا کہ چوں کہ مجھے بعض چیزیں بحیثیت رکن پیش کرنی ہیں، اس لیے اس جلسہ کی صدارت کے لیے کسی دوسرے صاحب کو منتخب کرلیا جائے اور خود ہی مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب کو منتخب فرمایا، جسے ارکان نے منظور کیا۔ فرائض صدارت تفویض کرنے کے بعد مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے صدارت سے اور مولانا احمد سعید صاحب نے عہدہ نظامت سے استعفیٰ پیش کیا۔لیکن دونوں حضرات کے استعفےٰ نامنظور کردیے گئے۔اس نامنظوری کی تائید کرنے والوں میں آپ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
شاردا ایکٹ کی مخالفت
اسی اجلاس میں شاردا ایکٹ یعنی تحدید عمر ازدواج و مباشرت کی سفارشات سے متعلق ایک تجویز پاس کرتے ہوئے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ
”ان سفارشات کو مسلمانوں کے حق میں ہرگز قانونی شکل نہ دی جائے۔ ورنہ مسلمان اس قانون کو ہرگز تسلیم نہ کریں گے اور جن صورتوں میں کوئی شرعی اجازت موجود ہوگی، اس میں قانون کی مزاحمت کی ہرگز پروا نہ کریں گے۔
اس تجویز کے اصل محرک حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ ہی تھے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا اجلاس 26، و 28 اکتوبر 1929کو دہلی میں ہوا۔اس اجلاس کی تجویز نمبر 3میں ساردا بل کو مسترد کرانے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کا رکن آپ کو منتخب کیا گیا۔چنانچہ آپ نے علیٰ الفور ایک مسلم کانفرنس کرنے کی اپیل کی اور لوگوں کو مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے تئیں بیدار کیا۔اسی طرح جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے اختلافات (جس کی وجہ سے وہاں دو جمعیتیں قائم ہوگئی تھیں) کوختم کرانے کے لیے سہ رکنی کمیٹی میں آپ بھی شریک تھے۔
کانگریس میں شرکت کے فیصلے کی جرات مندانہ تائید
تحریک آزادی کا مشترکہ پلیٹ فارم کانگریس میں شرکت اور عدم شرکت کا مسئلہ کفر و شرک کا مسئلہ بنا ہوا تھا، ایسے حالات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنے نواں سالانہ اجلاس منعقدہ 6مئی 1930بمقام امروہہ میں جب تجویز نمبر 2میں برادران وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا، تو بلا کسی پس و پیش کے دیگر اکابرین کی طرح مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ نے بھی اس تجویز کی تائید فرمائی۔ ساتھ ہی آپ کی رائے پر مشتمل یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ
”چوں کہ نہرو رپورٹ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے کا لعدم قرار پاچکی ہے اور اس کا کوئی حل اور کوئی حصہ بطور فیصلہ شدہ امر کے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب تک ہندستان کے لیے کوئی ایسا دستورِ اساسی مرتب نہ کرلیا جائے جس پر مسلمان اور دوسری اقلیتیں پورے طور پر مطمئن ہوجائیں اور وہ متفقہ طریقہ سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (Round Table Conperence) میں پیش کیا جاسکے؛ اس وقت تک اس اجلاس کی رائے میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کسی طرح مفید نہیں ہے۔“
حالات حاضرہ پر غور کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک ضروری اجلاس 12جولائی 1930کو دفترجمعیت علمائے میں بمقام دہلی منعقدکرنے کا فیصلہ ہوا، جس میں آپ نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ (الجمعیۃ 16جولائی1930)
جمعیت کی نظامت و صدارت کی نیابت
جمعیت علمائے ہند نے 1930میں جب دائرہ حربیہ کی سرگرمیاں شروع کیں، جس کی پاداش میں جہاں دیگر اکابرین جمعیت کی گرفتاری عمل میں آئی، وہیں حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند بھی گرفتار کرلیے گئے۔ آپ کی گرفتاری کے بعد آپ ہی کو ناظم مقرر کیا گیا۔
”چوں کہ حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند 20ستمبر1930کو صبح کے وقت گرفتار کرلیے گئے تھے، اس لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ان کی جگہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ناظم مقرر فرمادیا۔ اور مولانا نور الدین صاحب بہاری کو جو آج کل دفتر جمعیت میں ہی مقیم ہیں اور خدمات جلیلہ انجام دے رہے ہیں، نائب ناظم مقرر فرمادیا ہے۔ یہ دونوں تقرریاں جمعیت عاملہ کی منظوری کی امید پر فوری ضرورت کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہیں۔“ (الجمعیۃ24ستمبر1930)
اجلاس مجلس عا ملہ منعقدہ 15ء16ء جنوری1931ء کی کارروائی رپورٹ میں آپ کے نام کے ساتھ”قائم مقام صدر جمعیت علمائے ہند،ناظم جمعیت علما ئے ہند اورنا ئب امیر الشر یعۃ صوبہ بہار واڑیسہ لکھا ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو انھی دنوں میں جمعیت علمائے ہند کی نظامت کے ساتھ قائم مقام صدر بھی بنایا گیا تھا۔
سیلون کے مسلمانوں کے لیے فتویٰ
سیلون کے مسلمانوں کے لیے شریعت اسلامیہ کے بجائے رومن ڈچ قانون نافذ کرنے کے لیے وہاں کی مجلس آئین ساز میں ایک مسودہ پیش کیا گیا، جس کے خلاف وہاں کے مسلمانوں نے جمعیت سے مدد طلب کی، تو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے فتویٰ دیا کیا کہ
مسلمانوں پر شریعت اسلامیہ کے سوا اور کوئی قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔ آپ کو اس قسم کے مسودہ قانون کے خلاف نہایت سختی کے ساتھ احتجاج کرنا چاہیے۔ …… مسلمانان سیلون کو چاہیے کہ اس قانون کو ہرگز منظور نہ ہونے دیں۔ جمعیت علمائے ہر قسم کی امداد کے واسطے تیار ہے۔“ (الجمعیۃ 5جنوری 1931)
آپ کے خلاف مقدمہ
حاسدین جمعیت نے جمعیت علمائے ہند کی عمومی مقبولیت کے پیش نظر جن اکابرین جمعیت کے خلاف مقدمہ کیا، ان میں حضرت علامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند،حضرت مولانا حاجی احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہندکا نام بھی شامل تھا۔ (الجمعیۃ 16جنوری1931)
تحفظ حقوق مسلم کا مسودہ
19مارچ 1931جمعرات کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ اس کی تجویز نمبر6 میں مسلم حقوق کی حفاظت کے لیے تیار کیے جانے والے مسودہ پر نظر رکھنے کے لیے ایک دس رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں سرفہرست آپ کا نام شامل رکھا گیا۔
مسلم نیشنلسٹ کانفرنس میں شرکت
مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں ان دنوں ہندو مسلم مفاہمت کے فارمولے تلاش کرنے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کر رہی تھیں۔ اسی مقصد سے نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کرنے کا فیصلہ ہوا، تو جمعیت نے از 31/ مارچ تا یکم اپریل 1931کو منعقد اپنے دسویں اجلاس عام کراچی میں اس میں شرکت کا فیصلہ کیا اورحضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اورحضرت مولانا احمد سعید صاحب کے ہمراہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے کانفرنس میں شرکت کی۔ (الجمعیۃ20 اپریل 1931)
آزاد ہندستان کا دستور اساسی
3/ اگست 1931کو جمعیت نے اپنے اجلاس سہارن پور میں آزاد ہندستان کے لیے دستور اساسی کا مسودہ ”جمعیت علما کا فارمولہ“ کے نام سے پیش کیا، جس میں تمام مذاہب کی آزادی اور تمام مسلم حقوق کی رعایت کی گئی تھی۔ یہ فارمولہ بھی حضرت مولانا محمد سجاد صاحب ؒ کی فکری کاوش کا نتیجہ تھا۔(حیات سجاد، ص150۔ مضمون حضرت مولانا حفظ الر حمان صاحب سیوہاروی۔ مولانا ابوالمحاسن سجاد حیات و خدمات، ص/297۔ مضمون مولانا اسرار الحق قاسمیؒ۔ تذکرہ ابوالمحاسن، ص/448۔ مصنف: مفتی اختر امام عادل صاحب)
الجمعیت اخبار آپ کی ملکیت میں
گول میز کانفرنس کے اختتام پر حکومت برطانیہ نے مختلف کمیٹیوں کی رپورٹوں، سفارشوں اور تجاویز پر مبنی ایک وضاحتی قرطاس ابیض White paperمارچ 1933ء میں شائع کر دی۔جسے بھارتیوں نے بالکل بھی قبول نہیں کیا اور بھارت کی مکمل آزادی کے لیے دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک چھیڑ دی۔ چنانچہ اس کے لیے جمعیت نے 29فروری سے 2مارچ 1932 کو دفتر جمعیت میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس کیا، جس میں دیگر تجویزوں کے ساتھ تحریک سول نافرمانی کو پوری قوت کے ساتھ شروع کرنے کے تعلق سے دو اہم فیصلے کیے۔ ایک فیصلہ تو یہ کیا کہ مجلس عاملہ کے تمام عہدوں کو ختم کرکے مکمل اختیارات حضرت صدر محترم مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو دے دیا گیا۔ اور دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا کہ اخبار الجمعیۃ کی ملکیت کو تبدیل کرکے مکمل اختیارات حضرت ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب کے سپرد کردیے گئے۔
ڈکٹیٹری نظام کی سربراہی
چنانچہ مفتی صاحب نے اپنے اختیارات اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر سکریٹری کے عہدے کے بجائے ڈکٹیٹر کا سلسلہ قائم کیا۔ اور طے کیا کہ ہر ایک ڈکٹیٹر گرفتار ہونے سے پہلے دوسرے ڈکٹیٹر کو نامزد کردے۔ اسی طرح اس تحریک میں رضاکاروں کی بھرتی کی ذمہ داری حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دی گئی۔ حضرت مولانا نے بھی اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے اتنی خوب صورتی سے اس نظام کو چلایا کہ اہل دانش مولانا کو ”جمعیت کا دماغ“ کہنے پر مجبور ہوئے۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب لکھتے ہیں کہ
”……مگر وہ ڈاکٹر جس کو بہت سے انجکشن دے دیے گئے تھے: ابو المحاسن مولاناسجاد صاحب (نائب امیر شریعت صوبہ بہار) تھے، رحمہم اللہ۔ ’دائرہ حربیہ“ کے کلیدبردار یہی حضرت تھے۔۔(الجمعیۃ مجاہد ملت نمبر ص88)
مجلس تحفظ ناموس شریعت کی نظامت
انگریز حکومت کی طرف سے موقع بموقع اسلامی قوانین کے خلاف کبھی شاردا ایکٹ اور کبھی مسودات حج کے خلاف قوانین پاس ہوتے رہتے تھے۔ چنانچہ ان تمام امور پر تحفظاتی نگاہ رکھنے کے لیے مجلس تحفظ ناموس شریعت قائم کی گئی، تو اس کے ناظم حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ہی بنایا گیا۔ چنانچہ آپ نے مسودات حج کی مخالفت کرتے ہوئے10جون 1932کو پورے ملک میں عام مظاہرے کا اعلان کیا۔
متفقہ سمجھوتہ کی تلاش
ہندستان کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے پہلے انگریزوں نے گاندھی جی اور والیان ریاست کو لڑانے کی کوشش کی، لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی، تو میدان عمل میں موجود الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی تنظیموں کو آپس میں لڑانے کی سازش رچی۔ چنانچہ انگریزوں کو اس میں کامیابی مل گئی۔ ایک طرف انگریزوں نے جہاں ہندو کو مسلمانوں سے لڑاکر فرقہ وارانہ فسادات کرائے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں بھی آپس میں دس و گریباں رہیں، جن میں آپسی سمجھوتہ اور معاہدہ کے لیے لکھنو کے سیلم پور ہاوس میں میں 16 اکتوبر1932کومسلم کانفرنس ہوئی، جس میں جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت، نیشنلسٹ پارٹی، شیعہ کانفرنس، مسلم لیگ اور اراکین مسلم کانفرنس نے شرکت کی۔کانفرنس شروع ہونے سے پہلے جمعیت علمائے ہند کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس 15اکتوبر 1932کومنعقد ہوا، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے بھی شرکت کی۔
مسودات حج کی مخالفت
حج کے متعلق تین مسودے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش ہونے والے تھے، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے وائسرائے کو ایک تار بھیج کر ان پر بحث کو ملتوی کرنے کی گذارش کی اور یہ بتایا کہ مسلمانوں کی رائے معلوم کیے بغیر ان پر بحث خطرناک نتائج پیدا کردے گی۔
”حج کے متعلق جو تین مسودارت قانون منتخب کمیٹی میں پیش ہونے والے ہیں، مہربانی کرکے ان پر بحث و تمحیص اور غوروفکر کو ملتوی کردیجیے؛ کیوں کہ یہ مسودات پورے طور پر مسلمانوں کی آگاہی کے لیے شائع نہیں کیے گئے ہیں۔ موجودہ حالات میں جب کہ بہترین دماغ کے مسلمان جیلوں میں محبوس ہیں، اگر حکومت نے ان مسودات کو بغیر مسلمانوں کی صحیح رائے معلوم کیے پاس کردیا تو اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے۔“ (الجمعیۃ 28 مئی 1932)
اس کے بعد مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب ؒ نے ایک مفصل خط مسلم ممبران اسمبلی کے نام لکھ کر ان سے اسمبلی میں ان مسودوں کی مخالفت کی اپیل کی۔ یہ خط الجمعیۃ 5اگست 1932کے شمارہ میں موجود ہے۔
یوم حج اور احترام مساجد منانے کی اپیل
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم مرکزی مجلس تحفظ ناموس شریعت نے 30ستمبر 1932کو ”یوم احترام مساجد“ منانے کا اعلان کیا۔ جو پورے ملک میں پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ (الجمعیۃ 28ستمبر1932)
الور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج
ریاست الور میں ہندوں کی طرف سے طرح طرح کے مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے، جس کے بعد وہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ہجرت کرکے دہلی چلے آئے۔ان ظلم و ستم کے خلاف حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے آواز اٹھاتے ہوئے مہاراجہ الور کو درج ذیل تار بھیجا
”29مئی کو حضرت سید مبارک کی مزار کی زیارت کے سلسلہ میں الور کے مسلمانوں پر سخت مظالم ہورہے ہیں۔ ان کی جان اور عزت خطرہ میں ہے۔ فوری توجہ کیجیے اور الور کی روایات ا نصاف اور رواداری کو قائم رکھیے۔“ (الجمعیۃ 5جون 1932)
ضبط شدہ معابد اور اوقاف کو واگذاشت کرانے کی جدوجہد
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ نے مساجد و اوقاف پر حکومت کے ناجائز قبضہ کے خلاف زبردست جدوجہد کی۔ مسلم اراکین اسمبلی کو خط لکھ کر متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ علاوہ ازیں 13ستمبر1932کو اسمبلی کے ارکان سے اپنے فرض کی ادائیگی کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی اپیل کی کہ تمام مقبوضہ مساجد اور اوقاف کے فوٹو بھی حاصل کیے جائیں۔
”ایسٹ انڈیا کمپنی یا اس کے بعد جتنی مساجد اور اوقاف پر حکومت کا قبضہ ناجائز ہے، ان کو آئینی طور پر واگذاشت کرانے کے لیے ممبران اسمبلی کے نام میں ایک اپیل شائع کرچکا ہوں۔ امید ہے کہ وہ حضرات اس پر خاص توجہ کریں گے۔ اور اگر انھوں نے غفلت کی تو سمجھا جائے گا کہ وہ اسمبلی میں پبلک کی نمائندگی اور ملت کی خیر خواہی کے لیے نہیں جاتے۔ اور اس صورت میں بہت ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ہی غفلت ان کی ماہ میں مشکلات پیدا کردے۔“ (الجمعیۃ13 ستمبر 1932)
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو نوٹس
”حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو 5ستمبر1932کی رات سوا گیارہ بجے، آر ڈی نینس اختیارات خصوصی کی دفعہ 54کے ماتحت ایک نوٹس دیا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں دہلی کو چھوڑ دیں اور پھر آئندہ نوٹس تک آپ دہلی واپس نہ آئیں۔ نوٹس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”اس نوٹس کی خلاف ورزی پر دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ آپ کو یہ نوٹس جامع مسجد کی آزادی قائم رکھنے اور مجلس تحفظ ناموس شریعت کی طرف سے مسودات حج کے متعلق آپ کی سرگرمیوں کو روکنے لیے جاری کیا گیا۔ (الجمعیۃ 5ستمبر 1932)۔
رکن مجلس عاملہ منتخب
29فروری تا 2مارچ 1932کی مجلس عاملہ میں مجلس عاملہ کو توڑ کر کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے حوالے کردیے گئے تھے۔ اور پھر ڈکٹیٹری کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند نے اپنے اختیارات سے مجلس عاملہ کی عارضی نامزدگی کی۔ سولہ اراکین میں ایک نام آپ کا بھی شامل تھا۔(الجمعیۃ9دسمبر1932)
دائرہ حربیہ کا اختتام
بارھویں ڈکٹیٹر کے بعد19،20،21اگست 1933کو مرادآباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں سول نافرمانی کی تحریک کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، دائرہ حربیہ یا مجلس حربی کے اس نظام کو بند کردیا گیا۔اور آئندہ کے لیے عملی پرو گرام مرتب کرنے کی غرض سے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ (جمعیت العلما کیا ہے، جلد دوم، ص/177)
لکھنو یونی بورڈ میں شرکت
10/11/12/ اگست1934 کو مرا د آباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں حضرت مولانا حسین احمد صاحب،مولانا بشیر احمد صاحب،مولانا احمد سعید صاحب اور مولانا مفتی محمد کفا یت اللہ صاحب کے ساتھ حضرت مولاناابو المحاسن محمد سجاد صاحب کو لکھنؤ یونٹی بورڈ کے جلسہ مجوزہ19 / اگست1934 ء میں جمعیت کی جانب سے شریک ہوکر انتخابات میں یونٹی بورڈ کے امید واروں کی تائید اور عدم تائید کا فیصلہ کرنے کا پابند بنایا۔ چنانچہ ان اکابرین کے ساتھ آپ نے بھی شرکت کی اور جمعیت کے فیصلے کے مطابق یونٹی بورڈ کو فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔
انڈیا ایکٹ 1935اور جمعیت کی تنقید
اس ایکٹ میں ہندستانی فیڈریشن، وہ ہندستانی صوبے جات جن سے مل کر فیڈریشن بنائیں گی اور برما کے متعلق تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ اس میں گورنر جنرلوں کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے اور وزیروں کو صرف مشورہ دینے کا حق دیا گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: الجمعیۃ یکم فروری 1935)۔ اس ایکٹ میں بھارتیوں کو کوئی بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا، حتیٰ کہ مذہبی امور بھی گورنر جنرل کے اختیار میں دے دیا گیا تھا۔
”خارجی تعلقات، دفاعی ماور اور مذہبی معاملات میں گورنر جنرل کو خاص الخاص ذمہ داری حاصل ہوگی۔ لیکن گورنر جنرل ان امور کی انجام دہی کے لیے مشیر مقرر کرے گا، جن کی تعداد تین سے زیادہ نہ ہوگی، جن کی تنخواہ و شرائط ملازمت ملک معظم باجلاس کونسل مقرر کریں گے۔“ (الجمعیۃ 5فروری1935)
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس بل پر زبردست تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ
”ہندستانی مسلمانوں کے لیے مذہبی تحفظات کا کوئی اور طریقہ سوائے اس کے ممکن ہی نہیں تھا کہ دستور اساسی میں مستقل دفعات کو بنیادی حقوق کے ماتحت درج کرایا جاتا اور جیسا کہ ابھی عرض کیا جاچکا ہے تمام اسلامی جماعتوں نے اس مطالبہ کو متفقہ حیثیت سے پیش بھی کیا تھا؛ مگر حکومت برطانیہ کے مدبرین نے اس مطالبہ کو مسترد کرکے ہندستان کے اندر قانون کی دستبرد سے مذہب کو آداز رکھنے کے تمام امکانات کو ختم کردیا اور اب جب کہ پارلمینٹری رپورٹ کی سفارشات کے مطابق جدید دستور اساسی مرتب ہوکر ہمارے سامنے آچکا ہے، اور ہم ان مباحث و دلائل کا نتیجہ بھی دیکھ رہے ہیں، جو مذکورہ رپورٹ میں خاص طور پر بیان کیے گئے ہیں، ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کی یہ خواہش کہ ان کے مذہب میں کسی قسم کی آئینی مداخلت نہ کی جائے، اور اس اصول کو صاف الفاظ میں دستور اساسی کے اندر داخل کردیا جائے، پامال کردی گئی ہے۔“ (الجمعیۃ 20جون1935)
مولانا مرحوم اپنے اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں کہ
”اس گر بنیادی حقوق کی دفعہ کو دستور میں داخل کردیا گیا تو مداخلت مذہبی کا دروازہ کامل طور سے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ کیا اس کے بعد بھی کسی کو شبہ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی حیثیت سے آئین و دستور میں جو چیز ضروری تھی، وہ صرف بنیادی حقوق کی صراحت تھی، جس کے لیے جمعیت علمائے ہند کے محترم ارکان ابتدا سے آواز بلند کر رہے ہیں۔ مگر برطانوی حکومت کو منظور نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے مذہبی مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے۔“ (الجمعیۃ 24جون 1935)
کوئٹہ کے قیامت خیز زلزلہ میں امداد
31مئی 1935کو کوئٹہ بلوچستان میں خطرناک زلزلہ آیا۔ 5جون 1935کی الجمعیۃ میں چھپی خبر کے مطابق کوئٹہ کے قرب و جوار کا علاقہ بالکل نیست و نابود ہوگیا۔بیس ہزار انسان ملبہ میں دب گئے۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹ گیا۔ پہاڑیاں زمین میں دھنس گئیں۔اس قیامت خیز تباہی سے متاثرین کی امداد و اعانت کے لیے آگے آئی۔ایک طرف جمعیت کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے لوگوں سے مدد کے لیے آگے آنے کے لیے اپیل کی، وہیں دوسری طرف بچشم خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ جائے حادثہ کا دورہ کیا اور راحت رسانی کی ہر ممکن کوشش کی۔
قانون فسخ نکاح کی تسوید
اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲/ فروری 1936ء میں آپ کا تیار کردہ قانون فسخ نکاح کا مسودہ کو منظور کرلیا گیا۔ اس مسودہ کے حوالہ سے پاس کردہ تجویز میں کہا گیا کہ
”جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ مسلمان عورتوں کی ان ناقابل برداشت مصائب پر نظر کرتے ہوئے- جن میں وہ مبتلا ہیں اور شرعی دارا لقضانہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی صحیح حل مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے-اس مسودہ قانون کو منظور کرتا ہے۔ اور مسلم ارکان اسمبلی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ علما کی مشترک مجلس شوریٰ اور جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا منظور کردہ مسودہ اسمبلی میں پاس کرانے کی متحدہ قوت سے سعی کریں گے۔
درگاہ بل پر غور کمیٹی
اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲/ فروری 1936ء میں راجہ غضنفر علی خا ں صاحب کے درگاہ بل پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، تو اس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔
پنجاب کی مسجد شہید گنج
پنجاب کی مسجد شہید گنج کے تعلق سے بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں۔ چنانچہ آپ نے حکومت پنجاب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ
اس وقت حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو اس فیصلہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حکومت کے مفاد کے لیے اس گزارش پر میں مجبور ہوں کہ جب متنازعہ فیہ جگہ کا اس فیصلہ کی رو سے حکومت کے نزدیک مسجد ہونا متعین ہوگیا، حکومت اس کے احترام و وقار کے لیے اس جگہ کو سر دست اپنی نگرانی میں لے لے، تاکہ اس کی بے حرمتی کی وجہ سے فساد کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ و نیز مزار کاکو شاہ کی جگہ کو بھی سردست اپنی نگرانی میں رکھ کر اس کے فیصلہ کی نگرانی استغاثہ کی طرف سے جلد از جلد دائر کردے۔“ (الجمعیۃ یکم جون 1936)
مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی کے حق میں دورہ
جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ 14تا 16/ جنوری 1934 مرادآباد میں مجالس مقننہ میں شرکت کی تجویز منظور کرلی گئی، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمۃ نے مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی 25/ اگست 1935کو بنائی، جس کے امید واروں کو کامیاب بنانے کے لیے آپ نے بھی زبردست کوششیں کیں۔
”حضرت مولانا محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار آج کل دور پر ہیں اور انڈی پنڈنٹ پارٹی کے حق میں امارت شرعیہ کی طرف سے مسلمانوں کو متحد فرمارہے ہیں۔“ (الجمعیۃ ۹ / جنوری 1937)
یکم اپریل کو یوم مخالفت منانے کی اپیل
”یکم اپریل1937۔ یکم اپریل 1937کو انڈیا ایکٹ 1935کا عملی طور پر نفاذ کردیا گیا۔ اس کے تحت تمام صوبوں میں وزارتیں قائم کردی گئیں۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/679)
اس یکم اپریل کو جمعیت نے یوم مخالفت آئین منانانے کا فیصلہ کیا اور مسلمانان ہند سے خصوصی اپیل کی کہ وہ آئین جدید کے خلاف اظہار ناراضگی کے لیے عام ہڑتال کیا جائے۔اس اپیل میں صدر و ناظم جمعیت کے ساتھ ساتھ آپ بھی شریک عمل تھے۔ (الجمعیۃ 24مارچ1937)
اخبارات کی رپورٹوں کی شہادت کے مطابق پورے ہندستان میں زبردست ہڑتال ہوا اور یکم اپریل کو پورا ہندستان ٹھہرگیا۔
سیالوکے ہندو مسلم فساد کی تحقیقات
/11اپریل1937 کو موضع سیالوتھانہ بھوئی میں ایک زبردست فرقہ وارانہ فساد ہو گیا،جس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ
فی الحال یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈویژنل آفیسر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا اس ڈویژن سے فورا تبادلہ کر دیا جائے اور تحقیقات کے بعد اگر وہ اس فساد کو مشتعل کرنے کے ذمہ دار ثابت ہوں، تو ان کو مناسب تادیب کی جائے۔(الجمعیۃ 20/ اپریل 1937)
یوم فلسطین کی تجویز
وقت کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔جس کو حل کرنے کے لیے 29تا 31اکتوبر1937کو میرٹھ میں آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلس عمل کا اجلاس کیا گیا۔ اس میں ایک تجویز پاس کرکے یہ فیصلہ لیا گیا کہ (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ۔ (۲) دربار تاجپوشی کا بائیکاٹ۔ (۳) آئندہ عالم گیر جنگ میں برطانیہ کی ہرقسم کی امدادبند کردیا جائے۔ اور ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے مجلس تحفظ فلسطین بنائی گئی۔اس میں جمعیت احرار اسلام ہند، مجلس عمل فسلطین کے علاوہ جمعیت علمائے ہند کے جن نمائندوں کو شامل کیا گیا، ان میں ایک نام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کا بھی تھا۔ اس مجلس نے 15دسمبر سے درج بالا مقاطعات ثلاثہ پر عمل درآمد کرانے کے لیے ملک گیر سطح پر مہم چلائی۔ تفصیل کے لیے دیکھیں (الجمعیۃ ۵/ نومبر 1937)
قبول وزارت کا فیصلہ
انڈیا ایکٹ 1935میں بھارتیوں کے وزیروں کو صرف مشورہ دینے کے اختیارات دیے گئے تھے، جب کہ کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛ اس کے برعکس بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کے صدر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ گاندھی جی کی شرط کو لازمی سمجھے بغیروزارت کو قبول کریں۔
”دستور جدید کے متعلق کانگریس نے جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ بہت خوش آئند ہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نقائص کا موثر مظاہرہ بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ ذمہ داریوں کو قبول کیا جائے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 1936میں بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے بھی اسی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ مگر کانگریس نے قبول وزارت کی جو شرط ظاہر کی ہے وہ بالکل بے معنی ہے۔
مسلمانان ہند کا فرض ہے کہ وہ بغیر ان قرار دادوں کودیکھے ہوئے کوئی رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کریں۔
(مولانا) ابوالمحاسن محمد سجاد(بہاری)۔“ (الجمعیۃ 24مارچ 1937)
حالات حاضرہ پر غور کے لیے اکابرین کی میٹنگ
18ستمبر1937کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور سیاسیات حاضرہ پر جدید حالات کی روشنی میں غور و فکر کرنے کے لیے حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ا ور مولانا احمد سعید صاحب کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے بھی اپنے خیالات پیش فرمائے۔ مستقبل میں عظیم نتائج کی توقع ہے۔“ (الجمعیۃ 20ستمبر1937)
واردھا تعلیمی اسکیم کا جائزہ
۳/ اگست 1938کو دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں واردھا کی تعلیمی اسکیم پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں ایک نام آپ کا بھی تھا۔ اس کمیٹی نے ایک جامع رپورٹ پیش کی جو مولانا محمد سجاد صاحب کی نظرو فکر کی شاہ کار تھی۔
بھاگلپور فساد پر ایکشن
29جولائی 1938کو بھاگلپور میں ایک رتھ یاترا کو لے کر ہندو مسلم فساد ہوگیا، جس کے خلاف ایکشن لینے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت و پرسیڈنٹ بہار مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ (الجمعیۃ ۹/ اگست 1938)
زرعی انکم ٹیکس سے اوقاف کو مستثنی کرنے کی کامیاب کوشش
صوبہ بہار میں مسلم اوقاف کی جائیداوں کو زرعی انکم ٹیکس کے تحت ٹیکس دینے کا پابند کردیا گیا تھا۔ اس کے خلاف مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اور مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ نے زبردست جدوجہد کی اور بالآخر آپ کو کامیابی ملی۔ مولانا کی اس کامیابی کا اعتراف جمعیت علمائے بہار کے عظیم الشان اجلاس منعقدہ 27،28، 29مئی 1938ضلع چھپرا میں کیا گیا۔
نظارت امور شرعیہ کا مسودہ
۳،۴،۵ / مارچ 1939بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا گیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس میں مسلمانوں کی ملی و معاشرتی ضروریات کے پیش نظر حکومت سے ناظر امور اسلامی کے عہدہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اور اس کے لیے خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو اس کا داعی اور روح رواں بنایا گیا۔ چنانچہ آپ نے بڑی عرق ریزی سے اس کا مسودہ تیار کیا، جسے جمعیت نے منظوری دی۔
مدح صحابہ
1939بھی گذشتہ سالوں کی طرح لکھنو شیعہ سنی اختلافات اور فسادات کا مرکز رہا۔ اس کا اندازہ خود مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار کے اس بیان کے ابتدائی اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے کہ
”لکھنو میں حکومت یوپی کے ایک ریزولیشن اور آرڈر سے ابتدا میں سال میں تین دن (عشرہ محرم، چہلم اور اکیس رمضان) مدح صحابہ یعنی مدح خلفائے ثلاثہ کو پبلک مقامات پر ممنوع قرار دیا گیا۔ لیکن مقامی انتظامی حکام نے اس تین دن کی ممانعت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر تمام سال کے ایام میں مدح صحابہ کو پبلک مقامات پر روک دیا؛ بلکہ بعض اوقات مجالس خاص میں مدح صحابہ کو قابل سرزنش سمجھا گیا۔“ (الجمعیۃ 24اپریل 1939)
چوں کہ یہ سراسر مداخلت فی الدین تھا، اس لیے تمام مسلمانوں نے اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہوئے حکومت یوپی کے اس ریزولیشن کے خلاف جدوجہد شروع کرتے ہوئے اس وقت تک تحریک سول نافرمانی جاری رکھنے کا اعلان کیا، جب تک کہ پورے سال مدح صحابہ کرنے کی اجازت نہ مل جائے۔اس تحریک کی قیادت مولاناؒ نے فرمائی۔
مسئلہ فلسطین
فلسطین کے حالات اور برطانیہ کی دو رخی پالیسی پر مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے آگے کے لیے منزل عمل طے کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر11/ فروری1939 کو فلسطین کی آزادی کے متعلق زبردست جلسے کیے جائیں۔ اور اسی تاریخ کو جلسہ کے بعد ایک موقروفد صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کرے۔چنانچہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے دریافت رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں مولانا محمد صادق صاحب کی قیادت میں، صوبہ سرحد میں مولانا عبد الحق صاحب نافع مدرس دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں، صوبہ سی پی میں مولانا چراغ الدین صاحب کی زیر قیادت اور صوبہ بہار میں مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحبؒ کی زیر قیادت وفد نے اپنے اپنے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور فلسطین کے تعلق سے اپنے مطالبات پیش کیے۔(الجمعیۃ 20و 24فروری 1939)
نظامت عمومی کے عہدہ پر
13/14/ جولائی 1940ء،بمقام دفتر جمعیت علمائے ہند گلی قاسم جان دہلی، دو روزہ مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب مدظلہ العا لی نے آئندہ نظامت علیا کی خدمات انجام دینے سے قطعاً معذوری ظاہر فرمائی اور شدید اصرار کے باوجود اس خدمت کا بار برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ تو مجلس عاملہ نے حضرت ابو المحاسن مولانا محمد سجاد و صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا۔آپ کا دور نظامت 14/ جولائی 1940سے شروع ہوا اور 18/ نومبر1940آپ کی وفات تک جاری رہا۔
مکمل آزادی کے بغیر کوئی مطالبات قبول نہیں
جنگ عظیم دوم میں ہندستانیوں کے تعاون حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے کئی کوششیں کیں؛ لیکن جمعیت اور کانگریس مکمل آزادی کے بغیر کسی بھی قسم کا تعاون پیش کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جب برطانوی سامراج نے دیکھا کہ ہندستانی عوام کے رویہ میں کوئی لچک پیدا نہیں ہورہی ہے، تو وہ خود جھک گئی اور 8/ اگست 1940کو اپنے ہندستانی ایجنٹ وائسرائے ہند کے ذریعہ یہ اعلان کرایاکہ
”حکومت جنگ کے خاتمہ کے بعد فورا ایک نمائندہ جماعت قائم کرے گی اور تمام متعلقہ مسائل کے جلد از جلد تصفیہ کرنے میں حتیٰ المقدور امداد دے گی۔…… عارضی گورنمنٹ کے سلسلہ میں کہا کہ ”ایگزیکیٹو کونسل میں ہندستان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا اور ایک جنگی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی،جس میں ریاستوں اور مجموعی طور پر ہندستان کی قومی زندگی کے دوسرے مفاد کے نمائندے شامل ہوں گے۔
جمعیت علمائے ہند کے رہنماوں نے وائسرائے کی اس پیشکش کو سنا،تو اسے در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا؛ کیوں جمعیت علمائے ہند کے سامنے تو ہندستان کی مکمل آزادی کا نصب العین ہے، جب تک اس کا واضح اعلان نہیں ہوتا، جمعیت علمائے ہند جنگ میں انگریزوں کی امداد سے قطعا انکار کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ 12/اگست 1940کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا:
”گذشتہ ستمبر میں ہم نے جو فیصلہ کیا تھا کہ برطانوی حکومت کی مدد کے لیے ہم کوئی وجہ جواز نہیں پاتے ہیں، وہ صداقت و دیانت کی حکمت پر مبنی تھا، اس لیے جمعیت علما ان بیانوں اور پیش کشوں پر کوئی دھیان نہیں دے سکتی ہے؛ کیوں کہ ہندستان کی مکمل آزادی ہمارا فطری حق ہے“۔ (تاریخ جمعیت علمائے ہند، جلد اول، ص/101- 102۔ مدینہ بجنور، 13و 17/ اگست 1940۔ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد سوم، ص/140)
وائسرائے کو مکتوب
یورپ کی موجودہ جنگ کے متعلق جمعیت علمائے ہندکی عدم شرکت کی پالیسی کے علاوہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب نے مورخہ ۳/ جنوری1940ء کو وائسرائے کو ایک مکتوب بھی لکھا جس میں انھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ بات پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند کا یہ فیصلہ مذہبی اصول اور قرآن مجید کی تصریحات پر مبنی ہے۔حضرت کا یہ مکتوب کوئی عام مکتوب نہیں؛ بلکہ ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے اعلان حق اور جرات آمیز اقدام کاعملی مظاہرہ ہے۔
جمعیت کی تاریخ نویسی
حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ نے جمعیت کی تاریخ پر ایک مختصر؛ مگر مستند کتابچہ لکھا تھا۔ جسے حکومت دہلی نے ضبط کرلیا۔اس کتاب کے بار میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ؒ نے لکھا ہے کہ
”جمعیت علما کی بیس سالہ تبلیغی، دینی، سیاسی، اجتماعی خدمات اور عملی جدوجہد کا ایک مرقع تالیف فرمایا، جو ”تذکرہ جمعیت علمائے ہند“ کے نام سے معنون کیا گیا اور یہ عجیب بات پیش آئی کہ باوجود اس امر کے کہ اس ”تذکرہ“ میں جمعیت علمائے ہند کی گذشتہ خدمات کی فہرست مرتب کرنے اور مسلمانان ہند کے سامنے ان خدمات کی تفصیل کو یکجا کرکے ان کی توجہ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف زیادہ متوجہ کرنے کے سوائے اور کچھ نہ تھا؛ مگر حکومت دہلی اس کو بھی برداشت نہ کرسکی اور فورا اس کو ضبط کرلیا اور دفتر کی تلاشی لے کر اس کی تمام کاپیاں حاصل کرلیں۔“ (حیات سجاد، ص/151)۔
مفتی اختر امام عادل صاحب اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ
”افسوس کہ اس دستاویزی کتاب کی ایک کاپی بھی شاید آج محفوظ نہیں ہے۔ اگر یہ تذکرہ محفوظ رہتا،تو ہمیں یقین ہے کہ یہ جمعیت علمائے ہند کی سب سے مستند تاریخ ہونے کے علاوہ فن تاریخ نویسی کا بھی شاہ کار نمونہ ہوتا؛ لکن قدراللہ ماشاء۔“ (تذکرہ ابوالمحاسن، ص/ 450)
حادثہ وفات
نو دن کی مختصر علالت کے بعد حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے 17/ شوال المکرم 1359، مطابق 18/ نومبر 1940بروز سوموار شام پونے پانچ بجے پھلواری شریف میں آخری سانس لی۔ دس بجے رات نماز جنازہ ادا کی گئی اور تقریبا ساڑھے دس بجے خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ وفات کی خبر بجلی کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ متعلقین و متوسلین پر سکتہ طاری ہوگیا۔علمی و سیاسی دنیا میں سناٹا پسر گیا۔ جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ کے لیے سب سے زیادہ صدمہ کے باعث تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ تجویز تعزیت پیش کی گئی۔ ۵ /۶/ جنوری1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تجویز پاس کرتے ہوئے کہا گیا کہ
”جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ زعیم الا مۃ، مجاہد ملّت، مفکر جلیل، عالم نبیل حضرت مولانا ابو المحاسن سید محمد سجاد صاحب ناظم اعلی جمعیت علمائے ہند و نائب امیر شریعت صوبہ بہار کی وفات پر (جو17/ شوال 1359(18/ نومبر1940) کو پھلواری شریف میں ہوئی) اپنے عمیق رنج وا ندوہ کا اظہار کرتا ہے اور اس سانحہ روح فر سا کو مسلمانانِ ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان سمجھتا ہے۔ مولانا کی ذات گرامی مذہب و ملّت اور اسلامی سیاست کی ماہر خصوصی تھی۔ ان کی مذہبی،قومی، وطنی خدمات صفحات تاریخ پر آبِ زر سے لکھی جائیں گی اور مسلمانان ہند ان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔
یہ مجلس مولانا کی اہلیہ محترمہ اور ان کے صاحبزا دے اور دیگر اعزا کے ساتھ اپنی دلی ہمددری ظاہر کرتی ہے۔ اور رب العزت جل شانہ کی بار گاہ میں دست بد عا ہے کہ مولانا کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ اور ان کی تر بت کو اپنی رحمتوں کی بارش سے سیراب کرے۔ آمین۔
تیرھواں اجلاس عام منعقدہ 20/21/22/ مارچ 1942کے موقع پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ خطبہ صدارت میں اپنے قلبی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ
”حضرات! رُفقائے کار کے اس اجتماع میں ہم حضرت مولانا ابوالمحاسن سیّد محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور برگزیدہ شخصیت کو فراموش نہیں کرسکتے، جنھوں نے گذشتہ تیس سال میں مسلمانانِ ہند کی زبردست خدمات انجام دی ہیں۔ اس عرصہ میں مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں ہے،جس میں مرحوم نے پورے جوش اور سرگرمی کے ساتھ نمایاں حصہ نہ لیا ہو۔ جمعیت علمائے ہند میں ان کی شخصیت بہت اہم تھی۔ اُنھوں نے اپنی تمام زندگی جمعیت علما کی خدمت اور اس کو ترقی دینے کے لیے وقف کردی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں مرحوم جمعیت علمائے ہند کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی وفات مسلمانان ہند کے لیے عموماً اور جمعیت علمائے ہند کے لیے ایک ایسا قومی و ملّی صدمہئ عظیم ہے، جس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔“
بعد ازاں پہلی تجویز آپ کی وفات حسرت آیات پر ہی پاس کی گئی۔
خلاصہ کلام
قصہ مختصر یہ ہے کہ درج بالا سطور میں تاریخی ترتیب کے اعتبار سے مطالعہ کرلیا کہ بیسویں صدی میں جمعیت علمائے ہند اور مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایسی تحریک نہیں ہے، جس میں مولانا محمد سجاد ؒ کا خون جگر اور سوز دماغ شامل نہ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو جمعیت علمائے ہند کا دماغ کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: