مضامین

حضرت مولانا اسرارالحق قاسمیؒ وہ اک بندہ نہیں، جامع ادارہ کھودیا ہم نے

مولانا فضیل احمد ناصری استاذ حدیث و نائب ناظم تعلیمات جامعہ امام محمد انور شاہ، دیوبند

7 دسمبر کو صبح آنکھ کھلی تو ایک نہایت الم ناک خبر نے دل کو مغموم کر دیا۔ ہر طرف ایک ہی شور تھا کہ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی دنیا سے چلے گئے۔ خبر پڑھ کر ایک سناٹا چھا گیا، اداسی اور مایوسی نے دل و دماغ کو جکڑ لیا۔ ایسا لگا گویا خواب سے اٹھ کر پھر خواب میں پہونچ گیا ہوں۔ دیر تک کلمہ استرجاع زبان پر جاری رہا۔
زندگی اک گھروندا ہے
زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا منکر آج تک کہیں پایا نہیں گیا۔ بڑے سے بڑا پہلوان اس کے سامنے چت رہا اور خود سپردگی کرتا رہا۔ نہ بیماری مانعِ موت ہے، نہ صحت اس کے لیے سدِ راہ۔ وقت آتا ہے تو کم سن بچوں کو بھی جانا پڑتا ہے، جواں سال مردوں کو بھی اور عمر رسیدہ انسانوں کو بھی۔ وقتِ موعود آیا اور مولانا بھی یکا یک دارالفنا چھوڑ گئے۔ نہ پیشگی کوئی تمہید، نہ کوئی اشارہ، نہ کنایہ۔ زندگی اوروں کی طرح ان کے لیے بھی گھروندا ثابت ہوئی۔ نہ دوا دارو نے انہیں بچایا، نہ حفظانِ صحت کے اہتمام نے ان کی حیات دراز کی۔ جو سب کے ساتھ ہونا ہے، وہی ان کے ساتھ بھی ہوا۔
قابلِ رشک زندگی
ہر مخلوق کا آنا طے نہیں، مگر جانا سب کا طے ہے۔ ہاں اس طرح جانا کہ ایک بجلی سی گر پڑے، پوری قوم پر گریہ طاری ہوجائے اور چاہنے والے خود کو یتیم محسوس کرنے لگیں، ایسا شاذ و نادر ہوتا ہے۔ مولانا جب تک جیے، مثال بن کر جیے۔ وہ جیدالاستعداد عالم، شعلہ نوا خطیب، کہنہ مشق صحافی، پختہ نظر مصنف، مثالی سیاسی اور باشرع مسلمان تھے۔ ان کی پوری حیات اسلاف کے دامن سے چمٹ کر گزری۔ مطالعے کے شوقین، لکھنے کی مشین، تلاوتِ قرآن کے رسیا۔ عام نمازیں ہی کیا، 17 برسوں سے تہجد بھی فوت نہ ہوئی تھی۔ تہجد کے لیے ہی وضو سے فراغت ہوپائی تھی کہ سجدہ ریزی کے لیے تیار بندہ رب کے حضور پہونچ گیا۔
وہ اک بندہ نہیں، جامع ادارہ کھو دیا ہم نے
مولانا سے میرا کوئی تعارف اور تعلق تو اگرچہ نہ تھا۔ ملاقاتیں مگر متعدد بار رہیں، کئی جلسوں میں ان کے ساتھ شرکت بھی رہی۔ دیوبند کے ریتی چوک میں اور مدرسہ چشمۂ فیض ململ کے دو روزہ اجتماع میں، تاہم دل میں ان کی محبت کی شمع ہمیشہ فروزاں رہی۔ ململ کے اجلاس میں ایک طرف حضرت مولانا ولی رحمانی صاحب تھے اور دوسری طرف مولانا مرحوم تو طبیعت میں ایک خاص کیف اور عجیب سرور میں نے محسوس کیا۔ میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ الحمدللہ بہار کی سر زمین اکابر امت سے آج بھی مالامال ہے، انہیں دیکھ کر میرا سینہ چوڑا ہو گیا تھا ۔مولانا اپنے کمالات، خصوصیات اور امتیازات کی بناء پر جہاں ملک کے لئے ایک قابل رشک شخصیت تھے، وہیں بہار کے لیے نعمت غیر مترقبہ اور تحفۂ خداوندی بھی تھے۔ ان کی تخلیقات ،سرگرمیوں اور سیاسی کاوشوں کو دیکھ کر ہمیشہ فخر ہوتا۔ ان کی خاص بات یہ بھی کہ وہ ہمیشہ مذہبی تھے۔ خلوت میں ہوں یا جلوت میں، مسجد میں ہو یا گھر میں، آفس میں ہوں یا مجلس احباب میں، دینی اجتماعات میں ہوں یا سیاسی اجلاسات میں، حلقۂ اہل علم میں ہوں ، یا جمہوریت کی نشست گاہ میں جہاں کہیں رہے، اپنے پورے دینی تشخص اور عزیمت کے ساتھ رہے۔ہر جگہ مولوی اور مولویت کے بے باک ترجمان اور اسلامی روایات کے علمبردار۔ آج کے دور میں یہ باتیں بلاشبہ از قبیلے کرامات ہیں۔ سادگی اور درویشی کا یہ عالم کہ دیکھ کر کسی معمولی انسان کا گماں گزرتا۔ بڑے بڑے دینی مناصب ان کے گلے کا ہار ہیں مگر قلندری ایسی کہ ظاہراً دنیا و مافیہا سے بے خبر۔ ریاکاری سے گریزاں، نمود و نمائش سے نفور، پوری زندگی جہد مسلسل اور اسلامی نواسے عبارت، نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو، خدمت خلق کا جذبہ ایسا سوار کہ پہاڑوں پر بھی چڑھے اور ندی نالوں میں بھی اترے۔ کسی کی دھمکی کا ڈر، نہ کبھی موت کا کھٹکا۔ عجیب و غریب زندگی گزاری۔ مصروف اتنے کہ جاننے والے حیران ہوتے کہ یہ سوتے کب ہیں؟ دن بھر جلسے جلوس اور امت کی فلاح و بہبود میں غرق۔ رات کا ایک بڑا حصہ بھی تلقینات میں مشغول۔ اور آپ کچھ دیر بعد دیکھیں تو وہ نماز تہجد کے مصلیٰ سنبھالے ہوئے ۔فرسان بالنہار و رہبان بااللیل کی عملی تفسیر۔جس رات انتقال ہوا اس سے متصل دن میں بھی تین جلسوں میں بیانات کئے۔ پارلیمنٹ کے دو بار ممبر بنے، ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ ہے، مگر اکاؤنٹ دیکھئے تو کل اثاثہ چھیتر ہزار روپئے۔ الیکشن لڑ ابھی تو کرائے کے مکان سے،سادگی کا ایسا پتلا آپ نے کہیں اور بھی دیکھا ہے ؟
دینی تشخصات کے ساتھ جینے والا انسان
عہدے اور مناصب،نام ونسب اور اثر و رسوخ بسا اوقات انسانوں کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ یہ وہ شراب ہے جس کا نشہ تباہ کن تو ہوتا ہی ہے، جلدی اترتا بھی نہیں۔ یہ انسان کے ضمیر، مزاج اور فطرت تک پر اثرانداز ہو جاتا ہے، الاّ ما رحم ربی۔مگر مولانا اس عیب سے یکسر مستثنیٰ تھے۔ وہ فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفرحسین صاحب مظاہری کے خلیفہ و مجاز بھی تھے اور پیر طریقت حضرت مولانا قمر الزماں الٰہ آبادی کے دست گرفتہ اور مجاز بھی۔ انہوں نے لاتعداد مناصب پر کام کیے، اعزازات و ایوارڈ ان کے تعاقب میں رہتے۔ مگر غرور اور عجب انہیں چھو کر بھی نہیں گیا۔ مولانا میں تواضع اس قدر زیادہ تھی کہ کسی دیکھنے والے کو قطعی خبر نہیں ہو سکتی تھی کہ یہ شخص اس بلند عزائم کا انسان ہے۔ ان کی تواضع اور خاکساری کی بے شمار مثالیں ہیں ،وہ لباس بھی انتہائی سادہ پہنتے، معمولی قسم کی ٹوپی۔ بات چیت میں بھی انتہائی سادگی۔ یہ سادگی ہم جیسے لوگوں کے لیے واقعی بہت بڑا درس تھی۔ انہیں دیکھئے تو ایک طرف جمعیت علماء ہند کے سابق ناظم عمومی بھی ہیں، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن رکین بلکہ مجلس عاملہ کے اہم ممبر بھی ہیں۔ آل انڈیا ملی کونسل کے کرتا دھرتا بھی ہیں، اور دارالعلوم دیوبند جیسے عالمی ادارہ کے رکن شوریٰ بھی، لیکن بے نفسی اتنی کہ جہاں بول چال میں ایک عام سی ہستی نظر آتے وہیں اپنے آداب و اطوار اور طرز عمل سے بھی خود کو سادہ ہی رکھتے۔ یہ کام بلاشبہ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ آسمان پر چڑھ کر زمین بن جانا اور بڑے بن کر چھوٹوں کی طرح رہنے کا معمول اخلاص اور فنا فی اللہی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔
شخصیت کے چند پہلو
مولانا کی پیدائش 1942 میں اپنے وطن ’’تارا باڑی ٹَپّو کشن گنج‘‘ میں ہوئی۔ مکتبی تعلیم اپنے علاقے میں پائی اور فراغت دارالعلوم دیوبند سے ۔ یہ 1965 تھا۔ مولانا کی پوری تعلیمی زندگی قابلِ تقلید رہی۔ وہ ہمیشہ اپنی جماعت میں ممتاز نمبرات پاتے رہے۔
دیوبند آنے کی مختصر روداد
مرحوم کے والد جناب منشی امیر علی صاحبؒ علما کے عقیدت مند اور اہل اللہ کے مداح تھے۔ علما کی مجالس نے انہیں بھی مدارس کی فضا سے مانوس کر دیا تھا۔ اولیائے کرام کے انفاس کی یہی گرمی تھی کہ اپنے معصوم بچے کو بھی انہوں نے دینی تعلیم دلانے کی نیت کر ڈالی۔ ایک دفعہ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ پورنیہ کے دورے پر تشریف لے گئے تو مولانا کے والد بھی ان سے فیض یابی کے لیے ملاقات کو پہونچ گئے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے اپنے نونہال فرزند کی بات بھی کر ڈالی، چناں چہ ان کی خواہش پر مولانا کو اپنے ہمراہ دیوبند لے آئے اور یہیں عربی کی پوری تعلیم از ابتدا تا انتہا ہوئی۔ شیخ الاسلامؒ اور ان کے خانوادے مرحوم سے برابر قریب رہے۔
تدریس سے وابستگی
دارالعلوم کی علمی و روحانی فضا، شیخ الاسلامؒ کی سرپرستی اور جید اساتذۂ کرام کی توجہاتِ تامہ نے انہیں کندن بنا دیا۔ طالب علمی سے نکلے تو چار سال اپنے علاقے میں ہی تدریسی خدمات انجام دیں، پھر حضرت مولانا اسماعیل عظیم آبادی کی دعوت پر 1969 ء میں مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے تشریف لے گئے، مولانا اسماعیل صاحب اُس ادارے کے صدرالمدرسین بھی تھے اورجمعیۃ علماء بہار کے ذمہ دار بھی۔ وہاں انہوں نے پانچ برس گزارے۔ اس دوران ابتدائی کتب سے لے کر شرح وقایہ تک پڑھایا۔ دو برس ناظمِ تعلیمات بھی رہے۔
تحریکی زندگی کا آغاز
بدرالاسلام میں ان کی خدمات کامیابی کے ساتھ جاری تھیں، تدریس و نظامت کے ساتھ خامہ بکفی اپنے شباب پر تھی، ادھر اپنے سرپرست حضرت مولانا قاری فخرالدین صاحب گیاوی سے بھی مسلسل رابطہ تھا۔ جمعیۃ کو ایک ایسے قلم کار کی ضرورت تھی علوم شرعیہ کا گہرا شعور بھی رکھتا ہو اور لوح و قلم پر بھی اس کی گرفت ماہرانہ ہو۔ مولانا محمد میاں صاحب دیوبندیؒ کے بعد جمعیۃ کی یہ ضرورت روزبروز زور پکڑ رہی تھی۔ حضرت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے حضرت قاری فخرالدین گیاوی سے درخواست کی کہ تاریخ جمعیۃ کی ترتیب کے لئے مولانا قاسمی کو جمعیۃ سے مربوط کردیا جائے۔ حضرت قاری صاحب نے مولانا سے بات کی اور انہیں جمعیۃ علماء کے لئے دہلی روانہ کردیا۔ جمعیۃ سے یہ رشتہ اس قدر استوار رہا کہ اپنی جوانی کا پورا دور اور کہولت کا ابتدائی زمانہ اسی کی خدمات میں گذار دیا۔ وہ29 برسوں تک متحدہ جمعیۃ علمائے ہند سے وابستہ رہے، دس برس اس کے سکریٹری بھی رہے اور اس کے بعد جنرل سکریٹری بھی ۔
حیوانِ کاتب
مولانا مرحوم طالب علمی کے دور سے ہی لوح و قلم میں ممتاز تھے۔ اُس وقت ان کی نسبت پورنوی زیر استعمال تھی۔ ان کے ضلع کا دیواری پرچہ ماہنامہ’’الاصلاح‘‘ اور طلبہ بہار جھارکھنڈ، اڑیسہ اور نیپال کی متحدہ انجمن بزم سجاد کا نمائندہ پرچہ ’’البیان‘‘ بھی ان کی ادارت میں نکلتا رہا۔ تدریس کا رخ اپنایا تو ان کا صبا رفتار قلم وہاں بھی چلتا رہا۔ قیامِ بدرالاسلام کے دوران ہی انہوں نے’’مسلم پرسنل لاء اور ہندوستانی مسلمان‘‘ نامی ایک گراں قدر رسالہ بورڈکے قیام سے بہت پہلے لکھ دیا تھا۔ قاری فخرالدین صاحبؒ کے ایماء پر جمعیۃ میں پہنچے تو ان کا قلمی مذاق مزید در مزید توانا ہوگیا۔ ان کا اشہبِ قلم ہواؤں سے بات کرتا۔ جمعیۃ کے لیے ان کے قلم سے متعدد رسالے نکلے۔ کم و بیش ڈیڑھ سال انہوں نے روزنامہ الجمعیۃ کی ادارت بھی سنبھالی۔ وہ اس قدر لکھار تھے کہ مؤرخِ اسلام مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے بعد انہیں ہی حیوانِ کاتب کہا گیا۔1990ء میں کسی مسئلے پر بات بری طرح بگڑ گئی اور مولانا کو جمعیۃ کا 29 سالہ تعلق با دلِ ناخواستہ توڑنا پڑا۔
جمعیتوں میں شمولیت سے گریز
جمعیۃ علما انتشار کا شکار ہوئی تو مولانا قاسمی کے ساتھ متعدد اہلِ علم و فضل بھی وہاں سے نکل آئے۔ مولانا سید احمد ہاشمیؒ نے ’’ملی جمعیۃ‘‘ کی بنا ڈالی اور مولانا فضیل احمد قاسمیؒ نے مرکزی جمعیۃ علما قائم کی۔ ہر دو علما نے انہیں اپنے ساتھ مربوط کرنا چاہا، مگر مولانا قاسمیؒ نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ اس سے جمعیۃ کو نقصان پہونچے گا اور میں ایسا نہیں کر سکتا۔ دونوں حضرات انہیں منانے میں بری طرح ناکام رہے۔ بعد میں حضرت مولانا اسعد مدنیؒ صاحب نے انہیں پھر دعوت دی، مگر انہوں نے ایسی شرط لگادی جو ممکن نہیں تھی۔ مولانا کی شرط تھی کہ میں اس وقت تک واپسی نہیں کر سکتا، جب تک کہ نکلے ہوئے سارے ملازمین کو واپس نہ لیا جائے۔ یہ شرط نامنظور ہوئی تو مولانا کی واپسی بھی ممکن نہ ہو سکی۔
آل انڈیا ملی کونسل
زندہ دل اور باہمت شخص کبھی خاموش نہیں بیٹھتا، اس کا ذہن تعمیرِ انسانیت اور تشکیلِ آدمیت میں برابر غرق رہتا ہے۔ مولانا کی نہاد بھی ایسی ہی واقع ہوئی تھی، ان کی ملی خدمات کا دائرہ بڑھا تو بڑھتا چلا گیا،جمعیۃ سے نکلے تو آل انڈیا ملی کونسل ان کی نئی جولانگاہ ثابت ہوئی۔ یہ مشہور تنظیم فقیہ الامت قاضی القضاۃ حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے زرخیز ذہن کی پیداوار ہے۔ اس کا قیام طویل جدوجہد کے بعد مئی 1992ء میں عمل میں آیا۔ مولانا ابتداء سے ہی اس سے وابستہ رہے۔ انہوں نے یہاں بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کونسل کی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں، وہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل بھی رہے اور کونسل کے ترجمان ماہنامہ ’’ملی اتحاد‘‘ کے مدیر بھی اور اس کے طابع و ناشر بھی۔
آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن کا قیام
آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن قائم کر کے ملتِ اسلامیہ کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کا بیڑا اٹھا لیا ۔ ان کا علاقہ سیمانچل خالص جہالت زدہ اور علم سے یکسر نا آشنا تھا۔ یہ اہلِ علاقہ کے لیے دردناک صورتِ حال تھی۔ مولانا نے اسے شدت سے محسوس کیا اور علم کی شمعیں جلانے میں لگ گئے، چناں چہ اس فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام کئی ادارے قائم کیے، جن میں کشن گنج کا ’’ملی گرلز اسکول‘‘ سب سے نمایاں ہے۔ وہاں 300 سے زیادہ طالبات دینی علوم کے سائے میں عصری علوم حاصل کر رہی ہیں۔ اس ادارے نے کشن گنج کی تقدیر بدل دی اور لڑکیاں، جو فقدانِ تعلیم کے سبب رشتے کو ترستی تھیں، ان کی شادیوں کے مراحل آسان ہو گئے۔ یہ علاقے پر مولانا کا بڑا احسان ہے۔ اسکول کے علاوہ لڑکوں کی تعلیم کے لیے ’’مدرسۃ الصفہ‘‘ جاری کیا اور فرزندانِ ملتِ اسلامیہ کے لیے کشادِ علم کی علت العلل بن گئے۔ ان کے علاوہ سیکڑوں مکاتب قائم کیے،جن کی جلیل خدمات سے متعلق علاقے خوب فیض یاب ہو رہے ہیں۔
تعمیرِ مساجد سے مولانا کی دل چسپی
مولانا نے صرف فروغِ تعلیم پر ہی توجہ نہ دی، بلکہ تعمیرِ مساجد پر بھی ان کی خصوصی توجہ رہی۔ مولانا اپنے اسفار کے دوران جہاں کہیں مسجد کی ضرورت محسوس کرتے یا ان کے سامنے ضرورتِ مسجد رکھی جاتی تو اس کی تعمیر میں تن من دھن سے لگ جاتے، ایک ہی مسجد کے لیے انہیں کم و بیش تین تین چکر لگانے پڑتے تھے، سنگِ بنیاد کے لیے، تعمیراتی رفتار دیکھنے کے لیے اور تکمیل کے بعد اس کے افتتاح کے لیے۔ مولانا ہر موقعے پر خوشی خوشی جاتے۔ اس طرح انہوں نے 309 مسجدیں بنوائیں۔ جہاں مسجدیں بنواتے، وہاں کے باشندوں کو نماز کی طرف راغب بھی کرتے۔ مسجد کی بد دعا سے ڈراتے۔ اس کی حفاظت کی تلقین بھی کرتے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
مولانا کی تحریکی شخصیت اور ملی خدمات سے لگاؤ نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی، انہیں کا اثر تھا کہ ملک کے مسلمانوں کی متحدہ تنظیم ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ‘‘نے بھی ان کی خدمات حاصل کیں۔ انہیں اس کا باوقار ممبر بنایا گیا۔ بورڈ کی مجلسِ عاملہ کے آپ رکن رکین بھی رہے۔ مولانا نے اپنے مفید مشوروں اور زور دار تعلقات سے بورڈ کو خوب فائدے پہونچائے۔ اس کے اسٹیج سے دم دار تقریریں کیں۔ اسلام کے خلاف حکومتی اقدامات کی پرزور مذمتیں کیں۔ مقتدرہ کے اثراتِ بد کے خاتمے کے لیے دور رس منصوبے بنائے۔ لائحہ عمل تیار کیے۔ مولانا کی وابستگی کبھی بطورِ تبرک نہیں رہی، بلکہ جب تک اس سے جڑے رہے اس کی ساکھ بنائے رکھنے میں ہمیشہ کوشاں رہے۔
دارالعلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ کی رکنیت
مولانا کی صاف ستھری شبیہ، تعلیمی بیداری مہم اور دینی سرگرمیوں نے انہیں دارالعلوم کی مجلسِ شوریٰ تک پہونچا دیا۔ 5،6 نومبر 2017 کو ہونے والی مجلسِ شوریٰ ہوئی تو اس میں مولانا کی رکنیت کا بھی اعلان ہوا۔ وہ ایک سال اور ایک ماہ تک اس کے معزز رکن رہے۔ جب بھی اس کا اجلاس ہوا مولانا نے شوق و ذوق سے شرکت کی۔ اور صرف تائید سے ہی نہیں، بلکہ حسنِ تدبیر اور صائب رائے سے دارالعلوم کو تقویت بھی پہنچائی۔
مسلم یونیورسٹی کشن گنج کے لیے تاریخی مہم
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کشن گنج شاخ کا قیام مولانا کا تاریخی اور عظیم ترین کارنامہ ہے۔ یہ وہ لازوال کاوش ہے جس پر مسلمانانِ بہار جس قدر ناز کریں، کم ہے۔ مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے لیے ان کی قربانیاں آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ۔ کانگریس کے دورِ حکومت میں سچر کمیٹی کی رپورٹ عام ہونے کے بعد ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لئے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے 4 شاخوں کے قیام کی تجویز عمل میں آئی، انہیں ملک کے جن صوبوں میں عمل در آمد کیا جانا تھا، ان میں بہار، بنگال،مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر شامل تھے ۔ بہار میں کے لیے کٹیہار کا علاقہ متعین ہوا، مگر وہاں مناسب زمین نہ ملی ۔ وقت تیزی سے گزرنے لگا ۔ دریں اثنا 2009 کے عام انتخابات میں کشن گنج پارلیمانی حلقے سے مولانا جیت گئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ بہار میں ہنوز یونیورسٹی کے لئے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے تو وہ اس کے لیے سونیا گاندھی سے ملے۔ کشن گنج کے لیے تحریک چلائی۔ اس کے لئے طاقتور دلائل دئیے۔ علاقے کی پس ماندگی کے حوالے مضبوطی سے پیش کیے۔ باتوں میں وزن اور زور دیکھ کر مرکزی حکومت نے یونیورسٹی مسلم یونیورسٹی کی شاخ کے لیے کشن گنج کا نام منظور کر لیا، لیکن قصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس کے بعد مولانا کو جو پاپڑ بیلنے پڑے، جن مشکلات سے نبرد آزما ہونا پڑا، جن شدائد و مصائب سے گزرنا پڑا وہ عزیمت و ثابت قدمی کا نادرالمثال باب ہے۔ زمین کے حصول کے لیے بہار حکومت سے پرپیچ اور طویل جنگیں لڑنی پڑیں۔ ہرممکن کوشش کی گئی کہ کشن گنج میں یہ یونیورسٹی قائم نہ ہو سکے۔ یہ رکاوٹ حکومت نے تو ڈالی ہی، خود کشن گنج کی بعض طاقتوں نے بھی اس کے قیام کی پر زور مخالفت کی، تاہم مولانا کے پائے استقامت میں کوئی تزلزل پیدا نہ ہوا۔ انہوں نے بہار حکومت کے خلاف عظیم احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس میں کم و بیش دو لاکھ افراد شریک ہوئے۔ یہ مولانا کی زبردست عوامی مقبولیت پر صریح دلالت تھی۔ یونیورسٹی کے حصول کے لیے مرکزی حکومت سے بھی بارہا الجھتے رہے، جب کہ حکومت انہیں کی پارٹی کی تھی۔
بے غبار سیاست
سرگرم سیاست میں مولانا نے قدم رکھا تو ملتِ اسلامیہ ہندیہ کے بطلِ جلیل ثابت ہوئے۔ کانگریس کی طرف سے دوبار لوک سبھا کے ممبر بنے۔ 2009 میں بھی فتح حاصل کی اور 2014 میں بھی۔ ان کی دینی، ملی اور رفاہی خدمات کا دائرہ اس درجہ کشادہ تھا کہ چاہنے والے روز بروز بڑھتے گئے۔ مولانا 2019 کے عام انتخابات کے لیے بھی پر امید تھے اور کم و بیش تین لاکھ ووٹوں سے جیتنے کا یقین کیے ہوئے۔ اگلے الیکشن پر یاد آیا: مولانا کے معتمدِ خاص اور سفر و حضر کے رفیق جناب مولانا نوشیر صاحب کے بقول: مولانا اگلے انتخابات کے لیے آمادہ نہ تھے۔ کہتے کہ اب بڑھاپا حاوی ہے، ان جھمیلوں میں کون پڑے؟ پیرِ طریقت حضرت مولانا قمرالزمان الہ آبادی صاحب تک یہ خبر پہونچی تو انہوں نے استفسار کیا کہ اس ارادے کی وجہ فتح کی بے یقینی ہے یا کچھ اور؟ جب انہیں بتایا گیا کہ فتح کا امکان تو سابقہ فتوحات سے بھی زیادہ ہے، لیکن ضعفِ پیری اجازت نہیں دیتا، تو اس پر مولانا الہ آبادی نے فرمایا کہ:سیاست میں کوئی بوڑھا نہیں ہوتا۔ آپ اگلے الیکشن میں ضرور حصہ لیں، چناں چہ مولانا نے ہامی بھرلی۔
فقید النظیر زندگی کا ناگہانی اختتام
غرض مولانا نے ایک خوب صورت اور تحریکی زندگی گزاری۔ عمرِ مبارک کل76 برس ہوئی۔ موت بھی قابل رشک رہی۔ تہجد کے لئے وضو کرکے اٹھے تو درد سینہ سے یکایک بلبلا گئے، قبل اس کے کہ موقع پر موجود افراد انہیں ہسپتال لے جاتے، راستے میں ہی ان کی حرکت قلب بند ہوگئی۔ پسماندگان میں تین تعلیم یافتہ لڑکے اور دو لڑکیاں ہیں۔ انتقال کی خبر نے پورے ملک کو ہلادیا۔ علمی، ادبی، خانقاہی، سیاسی اور دیگر تمام شعبہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے خراج عقیدت پیش کیا۔ حتی کہ وزیر اعظم نے بھی اور کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھی۔ وزیر اعلیٰ بہار تو باقاعدہ ان کی قبر پر بھی پہنچ گئے۔ جنازے میں بھیڑ اتنی کہ 90 سالہ بوڑھوں کے بقول ایسی دیکھی نہیں گئی۔ محتاط اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ لوگوں نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ہزاروں تو وہ بھی تھے جو راستہ جام ہونے کی بنا پر شریک نماز نہ ہوسکے۔ اخبارات نے ان کی خبر وفات کو پہلی خبر کے طور پر چھاپا۔ آج بھی ان سے متعلق تعزیتی خبریں اور ان کی زندگی کے مختلف گوشے اخبار میں چھپتے رہتے ہیں۔سچ کہئے تو ان کی وفات سے ایک عظیم ملی قیادت کا خاتمہ ہو گیا۔ ایک ایسا شخص جو خالص علمی ہو، بہترین قلم کار ہو، سلاست مند مقرر ہو، روشن بصر مفکر ہو، عالی دماغ سیاسی ہو، قابلِ رشک عالمِ دین ہو، ان سب سے بڑھ کر خانقاہی بھی ہو، اسلاف کا نمونہ بھی ہو، اب شاید ملے۔ مولانا نے اپنے دم قدم سے خیرالقرون کی یادیں تازہ کردیں۔ مسلمانانِ ہند اس خلا کو ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: