مضامین

حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی رحمۃ اللہ علیہ پراسرارشخصیت کے مالک تھے!

عبدالخالق القاسمی:مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور,مظفرپور

آہ 7 دسمبر جمعہ کا دن صبح کا سہانا وقت آج بھی ہمیں یاد ہے,جب یہ خبر بجلی بن کر ملت اسلامیہ پر گری کہ رہبر ملت,واعظ اعظم,گلشن قاسمی کا بلبل,غریبوں کے مسیحا,سیاسی و سماجی اور ملی قائد, ممبر پارلیمینٹ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی ہمارے بیچ نہیں رہے,اور نظام الہی کے تحت ملت اسلامیہ کے مت والوں کو روتا بلکتا اور غمزدہ کرکے شہر خموشاں میں آباد ہوگئے,پہلے تو اپنی قوت سماعت پر یقین ہی نہیں آیا,اور جب یقین آیا تو ہوش ہی نہ رہا,کچھ دیر کے لئے عقل و خرد کی دنیا سے الگ ہوگیا,جب ہوش آیا تو بے ساختہ زبان سے انا للہ و انا الیہ راجعون نکلا,بلاشبہ حضرت مولانا اسرارالحق قاسمی کی ذات ایک شمع ضو فشاں تھی,آپ عصر حاضر میں امت مسلمہ کے لئے درخشندہ و تابندہ ستاروں کے مانند تھے,آپ ہمت و استقلال کے پہاڑ تھے, ملت اسلامیہ کے تئیں آپ کی بے شمار قربانیاں قابل رشک ہیں,آپ نے قوم کی خدمت کے لئے اپنی زندگی کو وقف کردیا تھا,امت کی ہدایت کے لئے محنت و جفا کشی کو اپنا شعار بنا رکھا تھا,اور امت کا دردو غم آپ کے رگ و ریشہ میں پیوست تھا,اور مشقت و پریشانی کو جھیلنا آپ کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی,بدعت و جہالت کے مقابلہ میں سینہ سپر ہونا مقصد حیات بن چکا تھا اوردین و سنت کی ترویج و اشاعت زندگی کی خوراک بن چکی تھی,حضرت مولانا کو اللہ تبارک وتعالی نے زبان و قلم ہر دو کی قوت دی تھی جب مرحوم اسٹیج پر جلوہ افروز ہوتے تو انداز تکلم پر تقریر رشک کرنے لگتی تھی،مولانا کی فکر میں وسعت وتازگی تھی جس کی تاثیر سے تکلم اور تحریر کاحسن دوبالا ہوجاتاتھا,مرحوم کی بے باکانہ جرات حوصلہ مندانہ تحریر و تقریر میں نسل نو کے لئے قیمتی پندو نصائح تھے,آپ کی تحریر پڑھنے اور تقریر سننے کے بعد رنجور و مغموم دل بھی تازم دم اورپرجوش عزم وحوصلہ کے ساتھ اٹھتاتھا,آپ کی تحریر و تقریر صرف قوم و ملت کی آواز نہیں تھی بلکہ وہ آپ کے دل کی صدا تھی,جس کے ہر ہر الفاظ میں گنگا جمنی تہذیب کا کیف وسرور تھا,خلاف شرع کوئی تحریر ان کی نظر سے گزرتی یا یا شریعت کے خلاف کوئی تقریر ان کی قوت سماعت سے ٹکراتی تو اس کا جواب لکھنے میں ان کا قلم بے قابو ہو جاتا تھا,اور جب اسلام کے خلاف کوئی زہر افشانی کرتا تو ان کا قلم صدائے احتجاج بن جاتا تھا,الغرض مولانا علیہ الرحمہ نے قوم و ملت کی مختلف جہتوں سے رہنمائی کی ہے,قوم کی علمی,سیاسی,ملی,اقتصادی,اور سماجی مسائل کا حل پیش کیاہے،انہیں ملی شعور سے ہم آہنگ کیاہے،اور انہیں دین کے خاطر مرنے اور جینے کے لئے زندہ رہنے کاگڑسکھایا,
حضرت رحمۃ اللہ علیہ بڑے ہی خلیق و ملنسار تھے,مسکراہٹ ہمیشہ چہرے پر دوڑتی رہتی تھی,اتنے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ہر چھوٹے بڑے سے. خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے خیرو عافیت پوچھتے تھے,پیارو محبت سے باتیں کرتے تھے,آپ تواضع وانکساری کے اعلی مقام پر فائز تھے,اپنی ذات کو سب سے کمتر اور اپنے آپ کو عوام الناس کا خادم سمجھتے تھے,گفتگو میں اتنی سادگی تھی کہ ایک ادنی دیہاتی بھی آپ سے متاثر ہوکر آپ کا گرویدہ بن جاتا تھا,اپنے خلاف سننے کا حوصلہ ہر انسان میں ہونا چاہیے لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے خلاف سننا پسند کرتے ہیں,مگر یہ جذبہ مولانا مرحوم کے اندر بدرجہ اتم موجود تھا,وہ اپنے خلاف سنکر بہت خوش ہوتے تھے,اور وقت آنے پر اس کا گرم جوشی سے استقبال بھی کرتے تھے,اور رہنمائی بھی,آپ اپنے دوست و دشمن چھوٹے ، بڑے,امیروغریب,شاگردو خادم,خویش و اقارب سب سے یکساں طور پر پیش آتے تھے,آپ کے تعلقات بحیثیت سیاسی اور ملی قائد ہونے کے نہایت وسیع تھے اس کے باوجود عام لوگوں سے بھی اس طرح ملتے تھے کہ ان کو اجنبیت کا احساس تک نہیں ہوتا تھا,گفتگو کرنے کا انداز بڑا نرالا اور دلچسپ بات آپ میں یہ تھی کہ آپ نے اپنے سیاسی دور میں تانا شاہی حکومت تک ببانگ دہل اپنی آواز پہنچائی اور حکومت ہند کو للکار کر ملک و ملت کی آبرو بچانے کی مکمل فکرکی,اشاعت اسلام کے لئے ملک بھر میں سینکڑوں مدارس و مکاتب اور اسلامک اسکول کا جال بچھایا تاکہ امت مرحومہ کے نونہال بچے علم وعمل سے اپنی زندگی سیراب کرتے رہیں۔
,الغرض مولانا مرحوم بہت ساری خوبیوں کے جامع تھے,جن کا احاطہ اس چھوٹے سے مقالہ میں دشوارو مشکل ہے,بالآخر عرصہ دراز تک علم و عمل کی شمع جلائی رکھنے کے بعد وہ لمحہ آ پہونچا کہ آپ دارالفناسے اپنا رشتہ توڑ کر دارالبقا کی طرف رخصت ہوگئے۔آپ کی زندگی جہاں مشعل راہ تھی آپ کی موت بھی اس سے کم نہیں ہے آپ 29 جمادی الاولی 1440ھ مطابق 7 دسمبر 2018ء پنج شنبہ کو کئی دینی سرگرمیوں سے فارغ ہوکر جمعہ کی رات گزانے کے بعد باوضو ہوکر مصلی پر اپنے پروردگار سے سرگوشی کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ ملک الموت نے یہ مزدہ سنایا کہ اللہ نے بلایا ہے 3 بجے کے قریب دل کا دورہ پڑا اور اپنے مالک حقیقی سے جاملے,آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے,مولانا مرحوم کے انتقال پر ملال کی جانکاہ خبر سن کر ملک و بیرون ملک کے سیاسی,سماجی,ملی,اور مذہبی قائدین و دانشواران نے نہایت رنج و غم اور صدمہ کا اظہار کیا,ملک بھر میں پھیلے مدارس و مکاتب کے طلبہ و اساتذہ نے حضرت رحمت اللہ علیہ کے ایصال و ثواب کے لئے قرآنی خوانی کااہتمام کیا,اور ترقی درجات کے لئے دعائیں کیں,
دل چاہتاہے کہ اور لکھوں مگر درازی مضمون کی فکر دامن گیر ہے,اس لئے اب اس دعا کے ساتھ خامہ فرسائی کو بند کرتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالی حضرتؒ کے گناہوں کومعاف فرمائے،جنت الفردوس میں اعلی مقام عطافرمائے ،اہل خانہ اورمتعلقین کو صبر جمیل عطافرمائے اور امت مسلمہ کو ان کا بہترین نعم البدل عطافرمائے فرمائے آمین یار ب العالمین۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: