اہم خبریں

حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی کی وفات پر جمعیۃ علماء ہند کا اظہار رنج وغم

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے مایہ ناز فقیہ اور دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاذ حدیث حضرت مولانا برہان الدین سنبھلی کی وفات حسرت آیات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے. حضرت مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند کے اجل فضلاء میں سے تھے .ابتدا میں مدرسہ عالیہ فتح پوری میں درس و تدریس سے وابستہ ہویے. بعدہ حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت پر مرکز علم وفن دارالعلوم ندوۃ العلماء سے وابستہ ہویے. آپ نے پوری زندگی کمال دیانت و ایمانداری کے ساتھ دین اسلام کی خدمت کی. آپ متعدد کتابوں کےمصنف اور قرآن کریم کی تفاسیر پر گہری نظر رکھنے والے تھے.
اس کے علاوہ اپنی ذاتی زندگی میں بہت سنجیدہ مزاج، خوش وضع، خوش خصال انسان تھے.مولانا تقریباً بارہ سالوں سے فالج زدہ تھے، وہیل چیئر پر چلتے تھے ، مگر اس آزمائش کی کیفیت میں بھی چہرے کی بشاشت اور طبیعت کی لطافت قابل دید تھی. ادارہ مباحث فقہیہ جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام فقہی اجتماعات میں اعذار کے باوجود پابندیوں کے ساتھ شریک ہوتے اور اپنا مقالہ بھی پیش کرتے. اکثر آپ کی طبعی کمزوری دیکھ کر یقین نہیں ہوتا، یقینا یہ آپ کی بلند ہمتی کی علامت تھی.

مولانامدنی نے کہا کہ ان کی وفات ایک عظیم علمی خسارہ ہے. دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے اور حضرت مولانا کے اہل خانہ ودیگر لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے.
مولانا مدنی نے اس موقع پر حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صاحب صدر جمعیۃ علماء ہند کے سمدھی محترم عتیق صاحب کی وفات پر بھی رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کی ہے.
مولانا مدنی نے مرحومین کی درجات عالیہ کے لیے دعا کرتے ہویے تمام جماعتی احباب و اہل مدارس سے اپیل کی ہے کہ وہ ایصال ثواب اور دعاء مغفرت اہتمام کریں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close