مضامین

حضرت مولانا محمداسرار الحق قاسمیؒ مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے کی تدریس سے جمعیۃ علماء ہند کی نظامت تک

محمد خالد حسین نیموی قاسمی ناظم تعلیمات مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے ، رکن الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین

ہر انسان دنیا میں اپنی فطری صلاحیتوں کے ساتھ وجودپذیرہوتا ہے ،کبھی ان صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کو اور انھیں جلابخشنے کا اسے بہتر ماحول اور ساز گار حالات ملتے ہیں ،بہتر خاندانی ماحول،اور وراثت میں ملنے والی شہرت وناموری اور شاندار حیثیت عرفی سے حوصلہ پاکر انسان اپنی فطری صلاحیتوں کو نکھارتا ہے اور دوسروں کی بنسبت اس کے لیے بلندیوں کو پانا زیادہ آسان ہوتاہے لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہے جنھیں اپنی فطری صلاحیتوں کو فروغ دینے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے مناسب حالات اور ساز گار مواقع نہیں ملتے ۔ منفی اور غیر اطمینان بخش حالات میں صلاحیتیں دفن ہوجاتی ہیں اور وہ شخص سماج ومعاشرہ کے لیے کوئی قابل ذکر خدمت انجام نہیں دے پاتا ۔لیکن اللہ کے کچھ منتخب بندے ایسے ہوتے ہیں جو منفی حالات سے نہیں گھبراتے اور مشکلات ومصائب میں بھی ان کی صلاحیتیں نہ گھملاتی ہیں نہ ان کے عزائم سرد پڑتے ہیں،کانٹو ں میں جو کھلنے اور،شعلوں میں پلنے کے باوجودایسے ہی غنچے گلشن کی تقدیر بدلتے ہیں ۔تندی باد مخالف سے گھبراتے نہیں بلکہ ان سے ان کی وجہ سے عزائم میں پختگی اور حوصلوں میں بلند ی پیدا ہوتی ہے ۔جن کی زندگی :چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث میں ۔اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہوجائے ۔
ان آخر الذکر ممتاز شخصیات میں ایک نمایاں نام مشہور ملی قائد ،مذہبی رہنما ،اسلامیاسکالر ،قلم کے شہسوار اور محلے کی گلی کوچوں سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک کلمہ حق بلند کرنے والی شخصیت حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کا بھی ہے ۔
حضرت مولانا اسرار الحق نے ریاست بہار کے ایک ایسے پسماندہ علاقے میں پیدا ہوئے ،جو تہذیب وتمدن اور علم وفن کی روشنیوں سے بے بہرہ تھا ،ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کی اور عزم وحوصلہ کے زینے پر سوار ہوکراز ہر ہند دار العلوم دیوبند اعلی تعلیم کی غرض سے پہنچے ۔حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کے رفیق درس اور میرے مربی ومشفق حضرت مولانا محمد شفیق عالم قاسمی مہتمم جامعہ رشیدیہ جامع مسجد بیگوسرائے وسابق صدر مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے بتاتے ہیں کہ مولانا اپنے ساتھیوں میں ممتاز مقام رکھتے تھے اور مضامین نویسی اور انشا پردازی میں خصوصی مہارت رکھتے تھے ،وہ سن ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۵ء تک میرے ساتھ از شرح وقایہ تا بخاری شریف میرے رفیق درس رہے ،جمعیۃ علماء کے موجودہ صدر اور دار العلوم دیوبند کے موجودہ استاذ حدیث حضرت مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری بھی رفیق درس تھے ،جامع المعقول والمنقول حضرت علامہ ابراہیم بلیاوی ،فخر المحدثین حضرت مولانا فخرالدین صاحب حضرت مولانا شریف الحسن ،حضرت حکیم الاسلام قاری طیب صاحب اور حضرت مولانا معراج الحق جیسے اساطین علم و فضل سے کسب فیض کے بعد علوم نبوت کے چراغ سے اپنے علاقے کومنور کرنا چاہا ،اور کچھ دنوں تک عارضی طورپراس وقت کے پورنیہ ضلع (موجودہ کٹیہار )کے پھلکا گاؤں میں خدمت انجام دیتے رہے ۔زمانہ طالب علمی ہی سے آپ کو جمعیۃ علماء کے کام اور اس کے اکابر سے کافی محبت تھی ،فراغت کے بعد جب اپنے وطن پہنچے تو بھی جمعیۃ علماء کے علاقائی اکابر سے رابطہ میں رہے ،اسی درمیان آپ کا تعلق اس وقت کے جمعیۃ علماء ہند کے ریاستی دینی تعلیمی بورڈ کے ناظم اور مدرسہ بدرالاسلام کے صدر المدرسین اور حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی کے معتمد ومتوسل حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب عظیم آبادیؒ سے ہوا ،انھوں نے مولانا اسرار الحق کی صلاحیتوں سے متاثر ہوکر اورآپ کے رفیق مولانا محمد شفیق عالم قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مونگیر ،بیگوسرائے کھگڑیا کے مشورہ سے آپ کا تقرر مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے میں تقریبا ۱۹۶۹ء میں کرلیا ۔
اس سلسلہ میں یہ روایت بھی ہے کہ مولانا اسرار الحق قاسمی کو مدرسہ بدرالاسلام میں مقرر کرنے کے لیے شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ سید قاری فخر الدین صاحب رحمہ اللہ نے بھی اشارہ کیا تھا ۔اس وقت مدرسہ بدر الاسلام بیگوسرائے شمالی ہند کا مرکزی ادارہ تھا ،مفسر قرآن استاذ الاساتذہ حضرت مولانا محمد ا دریس صاحب نیمویؒ کے عہد اہتمام میں اس ادارہ نے غیر معمولی ترقی کی ،اور ان ہی کے عہد میں اس ادارہ میں حضرت شیخ لاسلام مولانا حسین احمد مدنی،مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ،سرحدی گاندھی خاں عبد الغفار خاں وغیرہ اکابرکی تشریف آوری ہوئی ۔اور انھوں نے ہی اس ادارہ کی ترقی کے لیے حضرت مولانا اسمعیل عظیم آبادی کو صدر مدرس کے طور پر بحال کیا ۔یہ ادارہ جنگ آزادی کا بھی مرکز رہا ہے ،اور اس کی نسبت امارت شرعیہ بہارواڑیسہ وجھارکھنڈ کے پہلے امیر شریعت حضرت مولانا سید شاہ بدرالدین مجیبیؒ کی طرف ہے ۔قطب عالم حضرت مولانا عبد الرشید رانی ساگریؒ تاحیات اس کے سرپرست رہے ،اور مدرسہ بدرالاسلام کی پراپرٹی کا بڑا حصہ ان ہی کے نام سے ہے۔بہرحال حضرت مولانااسرار الحق صاحب جب اس ادارہ میں تشریف لائے اس وقت اس ادارہ کے پچاس سال مکمل ہوچکے تھے اور اس کے عروج کا ستارہ نصف النہار پر تھا ،رئیس المدرسین حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب عظیم آبادیؒ کی مشفقانہ سرپرستی میں آپ نے تعلیم وتدریس کی ذمہ داریوں کو باحسن وجوہ انجام دینا شروع کیا ،علاقے میں وعظ ونصیحت کے لیے آپ کے اسفار ہوتے تھے۔ ہر جمعہ کو مضافات کی کسی بڑی بستی میں تشریف لے جاتے اور حالات حاضرہ کے مختلف عناوین بالخصوص مسلم پرسنل اور سماجی وعائلی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر جمعہ سے قبل کے خطاب میں روشنی ڈالتے تھے ۔ان اسفار سے تبلیغ دین کا بھی فائدہ ہوتا اصلاح معاشرہ کا کام بھی ہوتا تھا اور ادارہ کی ساکھ اور مالیاتی نظام بھی مستحکم ہوتا تھا اور مولانا اسرار الحق قاسمی مجاہدانہ زندگی کی بنیاد یں بھی تعمیر ہورہی تھیں ۔آپ کا درس طلبہ کے مابین بڑا مقبول تھا ،اور دیگر اساتذہ کرام بھی آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے ،اس وقت اساتذہ کرام کی ایک بہترین ٹیم مدرسہ بدرالاسلام میں موجود تھی ،جن میں حضرت مولانا محمد جابر صاحب کٹکی صدر جمعیۃ علماء اڑیسہ ،مولانا شریف الحسن صاحب ،قاری زین العابدین صاحب قابل ذکر ہیں۔آپ کے ایک شاگرد(جنھوں نے مدرسہ بدرالاسلام میں تعلیم پائی )مضافاتی بستی سجاد نگر سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن جناب احتشام الحق لکھتے ہیں ۔ حضرۃ الاستاذ بہت ہی مشفق اور مخلص اور تواضع وانکساری کے پیکر تھے ۔وہ طلبہ سے بے انتہا شفقت کرتے تھے اور طلبہ بھی ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔دیگر اساتذہ سے کچھ الگ ہیں دل گواہی دیتا تھا کہ یہ بہت دور تک جائیں گے ۔آ پ نے درجہ اعدادیہ سے شرح وقایہ تک کی اکثر کتابیں کی تدریس کے فرائض یہاں انجام دیئے ۔
آپ کی مستقل محنت ،صلاحیت اور درس کی مقبولیت کی بنیاد پر آپ کو ترقی دے کر ناظم تعلیمات مقرر کردیا گیا ، مسلم پرسنل لاء آپ کا پسندیدہ موضوع تھا ،اس وقت تک آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ قائم نہیں ہوا تھا ،لیکن خطرات کے بادل پھیلتے جارہے تھے کامن سول کوڈ کو مسلط کرنے کی سازشیں کبھی چھپ کر اور کبھی ببانگ دہل جاری تھیں ۔حضرت مولانا نے مدرسہ بدرالاسلام میں تدریس کے ساتھ ،نہ صرف یہ کہ ان موضوعات کے سلسلہ میں بیان وتقریر سے آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی بلکہ آپ نے اس سلسلہ میں یہاں رہتے ہوئے ایک مستقل کتاب تصیف کرنے کا ارادہ کیا ،یہاں کے بزرگوں سے خواہش ظاہر کی تو ان حضرات نے ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ،خاص طور پر حضرت مولانا اسماعیل صاحب صدر المدرسین کے برادر خورد جناب مولانا اسحاق قاسمی صاحب نے اپنے اشاعتی ادار ہ کتابستان کچہری روڈ بیگوسرائے سے شائع کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔چنانچہ انتہائی بیش بہا معلومات سے پر مختصر مگر جامع کتاب ’’مسلم پرسنل لاء اور ہندوستانی مسلمان ‘‘کے نام سے سن جولائی ۱۹۷۲ شائع ہوئی ۔جس پر مقدمہ حضرت مولانا مفتی محمد عثمان غنی صدر ریاستی دینی تعلیمی بورڈ پٹنہ بہار کا ہے اور پیش لفظ حضرت مولانا اسماعیل صاحب عظیم آبادی رئیس المدرسین مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے کا ہے ۔مقدمہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حضرت مولانا اسرار الحق قاسمی کی دوسری تصنیف ہے ،البتہ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ آپ کی پہلی تصنیف کون سی تھی ۔مولانا اسمعیل صاحب کی تحریر سے اندازہ ہو ہے کہ کسی اصلاحی موضوع پر تھی ۔کتاب کے پیش لفظ میں مولانا اسماعیل صاحب تحریر فرماتے ہیں :میرے صدیق محترم فاضل اجل حضرت مولانا اسرار الحق صاحب پورنوی فاضل دیوبند وناظم تعلیمات مدرسہ بدرالاسلام بیگوسرائے جو اپنی علمی قابلیت وصلاحیت کے اعتبار سے بہت ممتاز ہیں ؛مسلم معاشرہ کو درپیش نازک حالات میں انتہائی تحقیق وتفتیش کے بعد اپنی کتاب مسلم پرسنل لا ء اور ہندوستانی مسلمان لکھ کر وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا فرمایا ہے ۔یہ الفاظ یقیناًحضرت مولانا اسرار الحق کے لیے سند کا درجہ رکھتے ہیں ،جو ان کے صدر مدرس کے قلم سے نکلے ہیں ۔مفتی عثمان غنی صاحب صدر دینی تعلیمی بورڈ نے وقیع خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ:’’ جناب مولانا اسرار الحق فاضل دیوبند ،ناظم تعلیمات مدرسہ بد رالاسلام بیگوسرائے کی تصنیف مسلم پرسنل لاء اور ہندوستانی مسلمان بھی اس موضوع پر بہت اچھی کتاب ہے ۔مصنف نے کتاب وسنت کے حوالہ کے ساتھ متعدد افاضل واکابر مستشترقین کی تحریروں کے حوالے بھی دیئے ہیں ،جن سے کتاب کی دلچسپی اور وقار میں اضافہ ہوا ہے ۔مصنف کی یہ دوسری تصنیف ہے ۔انداز تحریر قابل تحسین ہے، دینی وعلمی بھی ہے اور مؤثر بھی ہے ۔‘‘ایک نو عمر فاضل کے لیے اکابر کے اعلی خیالات کس حد تک حوصلہ افزا تھے ،وہ محتاج بیان نہیں۔مدرسہ بدر الاسلام سے متصل قیام پذیر بزرگ عالم دین حضرت مولانا ڈاکٹر محی الدین طالب صاحب خلیفہ ومجاز حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے جب اس عاجز نے یہ سوال کیا کہ حضرت آپ کے سامنے مولانا اسرار الحق قاسمی کی تقرری مدرسہ بدر الاسلام میں ہوئی ان کا آپ سے اچھا رابطہ بھی رہا ۔ان میں کون سی ممتاز خوبی آپ نے محسوس کی جس نے ان کو اتنی بلندیوں تک پہنچایا ؟جواب میں ان کے الفاظ تھے کہ: یقیناًوہ لگن شیل محنتی اور جید الاستعداد اچھے قلم کار تھے ،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کامقام ومرتبہ محض کسبی نہیں بلکہ وہبی تھا جو اللہ تعالی اپنے خال خال بندوں کو عطا فرماتے ہیں ،وہ بے انتہا متواضع اور خلیق وملنسار تھے ،اس مجلس میں اس عاجز کے علاوہ جناب مولانا عبد الباسط صاحب سکریٹری المعہد العالی امارت شرعیہ بھی تشریف فرماتھے ۔
مدرسہ بدر الاسلام میں تدریس کے درمیان متعدد بار فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ کی بیگوسرائے تشریف آوری ہوئی ۔اکثر پروگرام کو کامیاب بنانے میں مولانا اسرار الحق قاسمی پیش پیش رہتے تھے ۔کبھی خطبہ استقبالیہ پیش کرتے تھے ،کبھی پروگرام کی نظامت فرماتے تھے اور کئی کئی دن حضرت فدائے ملت کے ساتھ نیاز مندانہ طور پر شریک سفررہتے تھے ۔اس سے مولانا اسرار الحق قاسمی کی صلاحیتوں کے جوہر حضرت فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنی پر آشکاراہوتے چلے گئے ،حضرت نے اپنے معتمد مولانا اسماعیل صاحب عظیم آبادی سے اس سلسلہ میں مشور ہ فرمایا اور اپنی ضرورت بھی رکھی کہ مجھے جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر میں ایک فعال باصلاحیت قلمکار ،تنظمی صلاحیتوں سے بھر پورعالم دین کی ضرورت ہے ،مولانا اسرار کیسے رہیں گے ؟مولانا اسمعیل صاحب نے مثبت جواب دیا اور مولانا اسرار الحق قاسمی کو جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر بھیجنے پر رضامند ہوگئے ،مولانا اسرار الحق پانچ سالہ دور تدریس بیگوسرائے میں گذار کر دہلی کو روانہ ہوگئے لیکن بیگوسرائے اور مدرسہ بد رالاسلام کی محبت ہمیشہ ان کے دل ودماغ میں پیوست رہی ،جب حضرت مولانا کو ازہر ہند دار العلوم دیوبند کا رکن مجلس شوری مقر کیا گیا ،تو اس خبرسے یہاں کے اساتذہ ومنتظمین کو بڑی مسرت ہوئی اور ایک تہنیتی تحریر اور مبار کبادی کا پیغام اخبارات میں شائع کیا گیا ،جب یہ پیغام حضرت کی نظر سے گذرا تو بہت خوش ہوئے اور اس عاجز کو فون کرکے دلی مسرت کا اظہار کیا اور فرمایا کہ کسی بھی ادارہ کی تہنیت اور مبارک بادی کے پیغام سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی کہ مدرسہ بدر الاسلام کے پیغام سے ہوئی ہے ، انشاء اللہ میں حاضر ہوکر آپ حضرات کی محبتوں کا شکریہ ادا کروں گا ،اس لیے کہ درحقیقت میں نے عملی زندگی کی شروعات اسی ادارہ سے کی ہے ۔اسی طرح بیگوسرائے کی ملت اسلامیہ کو در پیش مسائل سے بھی کبھی غافل نہیں رہے ،یہاں جامعہ رشیدیہ جامع مسجد سے متصل وسیع عریض موقوفہ اراضی پر ناجائز قبضہ ہوگیا تھا ،انخلاء کے لیے یہاں کے درد مند افراد کافی فکر مند اور کوشاں تھے ،ان کے رفیق درس مولانا شفیق عالم قاسمی نے جب یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا تو انھوں نے مشورہ دیا کہ افراد میں سے کب کس کی نیت میں فتور آجائے کوئی ٹھیک نہیں ہے اس لیے بہتر ہوگا کہ اس کو وقف بورڈ میں رجسٹرڈ کرا دیا جائے اور قانونی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں ،الحمدللہ مسلسل قانونی کوششوں کے نتیجے میں ایک سال قبل ملت اسلامیہ کی یہ قیمتی پراپر ٹی ناجائز قبضہ سے واگزار کرائی جاسکی ۔چند مہینے قبل کھگڑیا ضلع کی مختلف بستیوں سے تعلق رکھنے والے تیس کے قریب معصوم طلبہ وطالبات کو ٹرین سے پولیس نیشبہ کی بنیاد پر ا تار لیا ،اور اسے انسانی اسمگلنگ کا معاملہ قرار دینے کی کوشش کی ،اس عاجز نے اس صورت حال میں متعد رہنماؤں سے رابطہ کیا۔ معزز صحافی برادرم مولانا شاہنواز بدر قاسمی نے حضرت کو بھی اس کی اطلاع دی ۔تو حضرت نے فورا اس عاجز کو کال کیا اور پوری صرت حال سے واقفیت حاصل کرکے بیگوسرائے کے اعلی حکام سے بات کی اور مستقل رابطے میں رہے یہاں تک کہ مدارس سے تعلق رکھنے والے طلبہ وطالبات کو باعزت ان کے گھر والوں کے سپر د کردیا گیا ۔اس عاجز نے ہندوستان کی جمہوریت اور الیکشن وووٹنگ کے نظام پر ایک کتاب مرتب کی اور خواہش تھی کہ اس فن کے کسی ماہر سے اس پر مقدمہ لکھواؤں ،میری نظر حضرت پر جاکرمرکوز ہوگئی ،حضرت نے فرمایا کہ آپ بیگوسرائے سے تعلق رکھتے ہیں اور صدیق محترم مولانا شفیق عالم قاسمی کے خویش ہیں ،میرے بھی قریب تر عزیز ہیں اس لیے میں اس پر ضرور مقدمہ لکھوں گا ،چنانچہ انھوں نے لکھا اور خوب لکھا ،بیگوسرائے سے تعلق کا یہ عالم تھا کہ چھوٹے سے چھوٹے پروگرام میں شرکت کو بھی منظوری دے دیتے تھے ۔ایک پروگرام میں اس عاجز نے وہ منظر دیکھا کہ آپ کے تواضع وانکساری پر عقل حیران ہے ۔آپ نے علی الصباح کے ناشتہ میں رات کی روٹی چائے کے ساتھ تناول فرمایا۔ اور اس پر نہ آپ کو کوئی تکلف ہوا نہ منتظمین سے کوئی شکایت ! مدرسہ بدرالاسلام سے جمعیۃ علماء ہند تک کا سفر کافی نشیب وفراز سے پر ہے ،جس کا اظہار بیگوسرائے تشریف آوری کے موقع سے اپنے رفیق مولانا شفیق عالم صاحب سے کیا کرتے تھے ۔ایک سفر میں وطن سے لوٹتے ہوئے بیگوسرائے رکے تو مولانا شفیق عالم نے محض اپنی قلبی کیفیت کی وجہ سے یہ خوشخبری سنائی کہ اس مرتبہ آپ کو جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری سے ترقی دے کر انشاء اللہ جنرل سکریٹری بنادیا جائے گا ۔اس وقت تو مولانا کو یقین نہیں ہوا لیکن جب اس سال آپ کو جنرل سکریٹری نامزد کیا گیا تو حضرت نے اپنے رفیق مولانا شفیق عالم قاسمی کو شکریہ کے طور پر ایک بھر پور خط لکھا ۔جس کا ایک ایک جملہ تواضع وانکساری کا نمونہ تھا ۔
حضرت کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے چاہے وہ مدرسہ بدرالاسلام کی تدریس اور نظامت تعلیمات کا عہد ہ ہو یا جمعیۃ علماء ہند کی نظامت کا ۔آل انڈیا ملی کو نسل کاقیام اور اس کا کلیدی عہدہ ہو ،یا آل انڈیا ملی وتعلیمی فاؤنڈیشن ،پارلیمنت کے دودو ٹرم ممبری یادارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری ،اور علی گذھ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ کی رکنیت ہو ۔آپ پوری مستعدی سے تمام عہدوں کے تقاضوں کو پورا کرتے رہے ۔کسی ایک حد پر قانع نہیں ہوئے ۔آپ کی زندگی اس شعر کا نمونہ تھی :
دار ورسن نہیں ہم اہل جنوں کی منزل ۔ہم مسافر ہیں بہت دور کے جانے والے
تغمدہ اللہ بواسع المغفرۃ والغفران واسکنہ فی فسیح الجنان

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: