اہم خبریں

حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ اسلامی علوم کے دُرِّ تابندہ تھے ان کی وفات علمی حلقوں کا ناقابل تلافی نقصان ہے!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا تعزیتی بیان

———————————————
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ مقبول مدرس، صاحب نظر مصنف اور ایک عظیم محقق تھے، انھوں نے نصف صدی سے زیادہ درس نظامی کی منتہی کتابوں کا درس دیا، اور طویل عرصہ تک بخاری اور ترمذی جیسی حدیث کی اہم کتابیں نہایت کامیابی کے ساتھ پڑھائیں، پوری دنیا میں ان کے تلامذہ مختلف جہتوں سے دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں، عام طور پر تدریس کے پیشہ سے وابستہ اہل علم تصنیف وتالیف کی طرف کم توجہ کر پاتے ہیں؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو دوہری صلاحیت کا امتزاج بنایا تھا، انھوں نے اکثر اسلامی اور عربی علوم پر قلم اُٹھایا، بخاری شریف اور ترمذی شریف کی بہت سی اردو شرحیں بر صغیر میں لکھی گئی ہیں؛ لیکن اس سلسلہ میں ان کی کاوش کو جو قبولیت حاصل ہوئی، کم ہی کسی دوسرے مصنف کو وہ مقبولیت حاصل ہوئی، مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی کتاب ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ اپنے موضوع پر ایک بے نظیر مگر دقیق کتاب سمجھی گئی ہے، آپ نے بہت خوش اسلوبی کے ساتھ اس کی شرح فرمائی ہے، جس نے اس سے استفادہ کو آسان کر دیا ہے، انھوں نے ہدایت القرآن کے نام سے قرآن مجید کی ایک ایسی تفسیر لکھی ہے جو اساتذہ وطلبہ اور عام اصحاب ذوق کے لئے فہم قرآن کی بہترین کلید ہے، درس وتالیف کے علاوہ دنیا کے مختلف ملکوں میں ان کے خطابات بھی ہوا کرتے تھے، اور ان کے بیانات پر بھی علمی رنگ حاوی ہوتا تھا، وہ واقعی علوم اسلامی کے دُرِّ تابندہ تھے، ان کی وفات سے پوری علمی دنیا کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے، اور امت کو ان کا بدل عطا کرے۔

۲۵؍ رمضان المبارک خالد سیف اللہ رحمانی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: