مضامین

حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

خود نوشت

احوال و کوائف اور تعارف
حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم
شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات
نام و نسب :
محمد شوکت علی بن محمد عمید علی بن حاجی بخر الدین۔
خاندان : صدیقی۔
وطن اور جائے پیدائش :
مقام : َبکھڈَّا ، پوسٹ وتھانہ : سنہولہ ہاٹ ، ضلع : بھاگلپور ، بہار ، انڈیا۔
تاریخ پیدائش :
والد صاحب کی ڈائری میں اندراج کردہ تاریخ کے مطابق بندہ کی اصل تاریخ پیدائش ہے : ۲۶؍صفر المظفر ۱۳۸۶؁ھ مطابق ۱۶؍ جون ۱۹۶۶؁ء بروز جمعہ ڈھائی بجے دِن ۔ لیکن دارالعلوم دیوبند کے داخلہ فارم پر اندازے سے ۱۶؍ جون ۱۹۶۷؁ء جمعہ لکھ دیاتھا، اِس لیے شہادۃ المیلاد میں یہی تاریخ درج ہے ، اُسی شہادۃ المیلاد کی بنیاد پر پہلی مرتبہ پاسپورٹ بنوایا تھا اور اُس کے بعد کے تمام ڈیکیومینٹ (ووٹر آئی ڈی ، آدھار کارڈ ، پین کارڈ وغیرہ ) پاسپورٹ کی بنیادپر بنوائے اِس لیے اُن سب دستاویزات میں یہ دوسری تاریخ ہی درج ہے۔
تعلیم کی ابتدا :
والدین کے پاس اور گاؤں کے پرائمری اسکول میں ، جو اُن دنوں عمارت گرجانے کی وجہ سے ہمارے بنگلے پر ہی چلتاتھا ، ماسٹر یونس صاحب مہیلا، اور ماسٹر شرافت صاحب انجنا کے پاس ہوئی۔
قاعدہ ، ناظرہ اور فارسی :
وطن کے قدیم ترین مشہورو معروف ادارہ ’’ مدرسہ سلیمانیہ سنہولاہاٹ ، ضلع : بھاگلپور ، بہار ‘‘ میں فرشتہ صفت اور مشفق استاذ حضرت مولانا سلیمان صاحب قاسمیؔ سریچک ، حضرت مولانا لیاقت علی صاحب چکمودھراکرہریا ،حضرت مولانا یار محمد صاحب مِیر غیاث چک (عُرف مُرغیاچک) ، حضرت مولانا سہراب قاسمیؔ صاحب بھورا کھاب ، حضرت مولانا قاری قطب الدین قاسمیؔ صاحب جہاز قطعہ ، حضرت مولانا عبد المجید صاحب گورگانواں ، حضرت قاری محسن صاحب نیاڈیہہ ، بونسی وغیرہ ـ؛ اساتذۂ کرام زیدت معالیہم کے پاس قاعدہ ، ناظرہ ، فارسی اور تجوید کی تعلیم حاصل کی۔
جامعہ عربیہ محمدیہ شاہ جنگی :
گھر قریب ہونے کی وجہ سے مدرسہ سلیمانیہ میں شبانہ قیام نہیں ہوتا تھا، صبح مدرسہ آتے اور شام کو گھر واپس ہوجاتے ، طالب علم کے لیے جس محنت و یکسوئی کی ضرورت رہتی ہے وہ یہاں حاصل نہیں تھی ، اس لیے والد محترم نے گھر سے دور کسی مدرسے میں مجھے داخل کرنے کا اِرادہ فرمایا ، والدہ محترمہ کے سگے مامو زاد بھائی حضرت مولانا اطہرقاسمیؔ صاحب بیربلپوری اُن دِنوں ’’جامعہ عربیہ محمدیہ شاہ جنگی ،بھاگلپور ‘‘ میں پڑھاتے تھے ، والد صاحب نے اُن سے بات چیت کر کے شوال میں مجھے جامعہ کے اندر داخل کرادیا ، وہاں ایک سال رہ کر حضرت مولانا قمر الحسن قاسمیؔ صاحب سیلم پوری صدر مدرس جامعہ عربیہ شاہ جنگی، حضرت مولانا اطہر قاسمیؔ صاحب بیربلپوری اور حضرت مولانا رفیع الدین قاسمیؔ صاحب دمکوی زیدت معالیہم سے میزان الصرف و منشعب ، نحومیر اور فارسی کی دوسری کتاب ؛ وغیرہ پڑھیں، مگر سال کے اخیر میں جامعہ والوں کو بتائے بغیر والدصاحب نے کسی کے کہنے پر بہار مدرسہ بورڈ کا وسطانیہ کا امتحان دلوایا ، جو یہاں کے اُصول میںان دنوں ناقابلِ معافی جرم تصور کیا جاتا تھا ، اِس لیے جب میں آیا اور حضرت مولانا قمر الحسن صاحب کو معلوم ہوا تو میرا اخراج کردیا گیا ،اور سامان ضبط کر کے شام کو خالی ہاتھ گھر بھیج دیا گیا ، میںنے رات بھر بے کسی کے عالم میں بس اسٹینڈ پر گزارا صبح دس بجے تک گھر پہنچا ، تو جھوٹا عذر نہ کرنے پر والد صاحب بہت ناراض ہوئے ،بہر کیف میں اپنی غیرت مندی کے سبب جھوٹ نہیں بول سکا ، اِس صدق مقالی کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جامعہ کے نظامِ تعلیم سے سال بھر سے زیادہ وابستہ نہ رہ سکا ، اور پھر حسب سابق مدرسہ سلیمانیہ سنہولہ ہاٹ میں پڑھنے لگا۔
عربی اوّل مکمل :
اس درمیان والد صاحب کی ملاقات حضرت مولانا مستقیم احمد صاحب مظاہری ساکن مُرغیاچک (صدر مدرس مدرسہ حفظ القرآن جھبریڑہ ، ضلع: سہارنپور ، یوپی) سے ہوئی ، والد ِ گرام کو میری اچھی تعلیم و تربیت کی فکر ہمہ وقت دامن گیر رہتی تھی ، مولانا موصوف سے میری تعلیم کے بارے میں بات چیت کی ، اُنہوں نے مجھے جھبریڑہ بھیجنے کا مشورہ دے دیا ، میرے دو تایا زاد بھائی حافظ شمشیر و حافظ اظہر ، مرغیاچک کےچند ساتھی ، اِسی طرح علاقے کے اور بھی بہت سے طلبہ حضرت مولانا مستقیم صاحب کی سرپرستی میں جھبر یڑہؔ کے مدرسے میں پہلے سے ہی زیر ِ تعلیم تھے ، میرا بھی وہاں جانا طے ہوگیا ، چنانچہ عید الفطر کے دوسرے ہی دِن گھر سے روانہ ہوکر مؤرخہ : ۴؍ شوال ۱۴۰۱؁ھ کی صبح مدرسہ حفظ القرآن جھبریڑہؔ پہنچ گئے ، وہاں عربی اول کی تمام کتابیں حضرت مولانا مستقیم احمد مظاہری صدر مدرس مدرسہ ہٰذا اور حضرت مولانا شمشاد صاحب قاسمیؔ ساکن نیاڈیہہ ، بونسی ، بھاگلپور ، بہار ، استاذ مدرسہ ہٰذا کے پاس ایک سال میں مکمل کی ، یہاں اِس سے آگے کی تعلیم کا نظم نہیں تھا۔
عربی دوم تا پنجم :
بنا بریں آگے کی تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ، ضلع سہارنپور ، یوپی، جاناطے ہوا- یہ ادارہ ضلع : سہارنپور کے قدیم ترین اِداروں میں سے ایک ہے ، جو اپنی ٹھوس عمدہ تعلیم ، حسنِ تربیت ، بہتر نظم و نسق اور طلبہ کی محنت و یکسوئی کے لحاظ سے اطراف و اکناف میں خاصا مشہورو معروف ہے – گھر سے ۸؍ شوال ۱۴۰۲؁ھ کی رات تک مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور حاضری ہوئی اور ۱۰؍ شوال ۱۴۰۲؁ھ کی صبح مولانا عبد العزیز مظاہری صاحب ساکن منگاچک کے ہمراہ ’’جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ ‘‘ پہنچے ، داخلہ فارم بھرا ،حضرت مولانا جمشید صاحب قاسمیؔ دامت برکاتہم استاذ جامعہ ہٰذا نے امتحان لیا ، اعلیٰ نمبرات سے کامیابی ملی ، عربی دوم میں داخلہ منظور ہوگیا، ساری کارروائی مکمل کر کے شام تک سہارنپور واپس ہوگئے ، اور تیسرے دِن سامان لے کر ریڑھی پہنچ گئے دوتین دن میں دفتری کارروائی مکمل ہوگئی ، کتابوں اور کمرے کی تقسیم ہوگئی، اور ساتویں دن حسب معمول تعلیم کا آغاز ہوگیا ، یہاں عربی دوم ، سوم ، چہارم ، اور پنجم تک کی ساری کتابیں حضرت مولانا اصغر حسین قاسمیؔ صاحب ، حضرت مولانا ہاشم مظاہری صاحب، حضرت مولانا ابوالحسن مظاہری صاحب ، حضرت مولانا قاری عاشق اِلٰہی مظاہری صاحب ، حضرت مولانا مفتی مقصود احمد قاسمیؔ صاحب ، حضرت مولاناجمشید قاسمیؔ صاحب ، حضرت مولانا مفتی محمدشاہد قاسمیؔ صاحب ، حضرت مولاناعبد الخالق مظاہری صاحب ، حضرت مولانا اخترقاسمیؔ صاحب مہتمم جامعہ ہٰذا ، زیدت معالیہم، جیسے ماہرین فن ، مشفق و محسن افاضل اساتذۂ کرام کے پاس تین سال میں مکمل کیں ، بفضلہ تعالیٰ تمام ہی اساتذہ نے انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرماکر ، بہت ہی فکر و لگن اور کامل محنت و یکسوئی کے ساتھ ہماری تعلیم و تربیت کا اہتمام فرمایا ، (فـجزاھم اللہ خیرًا) یہاں کے تین سالہ قیام کے دوران جامعہ کی ہفتہ واری انجمن کے تحت تقریر و مناظرہ کی مشق بھی کرتا رہا۔
دارالعلوم دیوبند میں داخلہ :
ریڑھی میں عربی پنجم کے دوران دل میں دارالعلوم دیوبند جاکر آگے کی تعلیم مکمل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا، اور طے کیا کہ رمضان میں گھر جانے کے بجائے دیوبند رہ کر داخلہ امتحان کی تیاری کروں گا ، چنانچہ ریڑھی تاجپورہ کی سالانہ چھٹی کے بعد مؤرخہ ۱۹؍ شعبان ۱۴۰۵؁ھ کی شام تک دیوبند پہنچ گیا ، اور طے شدہ نظام کے مطابق اپنے نانھیال کے دو ساتھی (۱) مولانا عبد الرشید صاحب (۲) مولانا اسرائیل صاحب کے کمرہ نمبر۵۸؍ دارِجدید میں قیام کر کے داخلہ امتحان کی تیاری میں مصروف رہا ، اس دوران اِن دونوں ساتھیوں نے میری راحت رسانی کا بڑا خیال کیا ، جس کی وجہ سے مجھے اِمتحان کی تیاری میں بہت مدد ملی ، میں یکسوئی کے ساتھ اِمتحان کی تیاری میں جٹا رہا (فجزا ھم اللہ خیرا) شوال ۱۴۰۵؁ھ میں امتحان دیا ، ۴۱؍ اوسط سے کامیابی ملی ، داخلہ ہوکر کھانا جاری ہوگیا ، کمرہ مل گیا ، کتابیں حاصل ہوگئیں ، ساری کارروائی مکمل ہوکر حسبِ معمول اخیر شوال سے تعلیم کا آغاز ہوگیا ، دار العلوم دیوبند میں ششم ، ہفتم اور ہشتم (یعنی دورۂ حدیث شریف ) تک اتنہائی جانفشانی، محنت و لگن اور کامل یکسوئی کے ساتھ حصولِ علم میں لگارہا ، دورانِ تعلیم علمی انہماک ، لا یعنی سے احتراز ، خوش خلقی ، ملنساری ، یکسوئی ، عبارت خوانی ، تکرار و مذاکرہ اور احترامِ اساتذہ وغیرہ جیسی خوبیوں کی وجہ سے اساتذۂ کرام ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور بے انتہا محبت فرماتے رہے ، اور بفضلہ تعالیٰ آج بھی اساتذہ کے یہاں قدر و منزلت حاصل ہے ، تقریر وتحریر کی مشق کے لیے ضلعی انجمن ’’بزمِ سہول‘‘ ’’ النادی الادب العربی‘‘ اور شعبۂ مناظرہ کی معروف انجمن ’’تقویۃ الایمان‘‘ سے بھی بحمدہٖ تعالیٰ سرگرمی کے ساتھ وابستہ رہا ، بلکہ دار الحدیث تحتانی میں منعقد ہونے والے اُس کے چودہ بڑے عمومی اجلاس میں بحیثیت مناظر شریک رہا ، بعض اجلاس میں اناؤنسری کے فرائض بھی انجام دیئے ۔
حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ سے وابستگی :
ایک قابل ذکربات یہ ہے کہ۱۴۰۴؁ھ کے وسط میں مدرسہ مظاہرعلوم سہارنپور کے قضیۂ نامرضیہ کے بعد ، حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ حالات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ساؤتھ افریقہ چلے گئے تھے ، اور قریب ڈیڑھ سال تک وہیں تشنگانِ راہِ سلوک کو ہدایت و معرفت کا جام پلاتے ، اور علوم و معارف کا دریا بہاتے رہے ، ڈیڑھ سال بعد غالباً اواخر ذی الحجہ ۱۴۰۵؁ھ میں واپسی ہوئی ، دیوبند تشریف لائے ، اربابِ شوریٰ دار العلوم دیوبند ، اور حضرت مہتمم صاحب کی درخواست پر خلوت گاہ قاسمیؔ چھتہ مسجد میں مستقل قیام منظور فرماکر ، اصلاح و تربیت کا سلسلہ پھر سے شروع فرمادیا ، دیکھتے ہی دیکھتے چھتہ مسجد کی پرانی بہاریں پھرسے لوٹ آئیں ، مہمانوں کی آمدو رفت ، حلقۂ ذکر،اصلاحی ، تربیتی ، روحانی خصوصی مجالس اور عصرو عشاء بعد کی عمومی مجالس کی بہاریں روز افزوں ہوگئیں ، بندہ بھی عصرو عشاء بعد کی مجلسوں میں شریک ہوکر علمی سوالات کرنے لگا ، اور حضرت سے اتنا مانوس ہوگیا کہ : کئی بار تو مناظرانہ اندازِ گفتگو تک کی نوبت آجاتی، حضرت کوئی بات فرماتے تو میں عرض کرتا کہ : سُلّم میں ایسا لکھاہے ، حضرت اُس کا جواب دیتے تو میں پھر عرض کرتاکہ : حضرت شرح عقائد میں ایسا لکھاہے، کبھی کسی اور کتاب کا حوالہ دے کر اِشکال کرتا ، حضرتِ والا انتہائی شفقت و محبت سے اِس قدر آسان انداز میں جواب مرحمت فرماتے کہ : پوری بات سمجھ میںآجاتی، حضرتِ والا نے اپنے اندازِ ظریفانہ و دلبرانہ سے میرا دل ایسا موہ لیاکہ : ایک دومہینے کے اندر بندہ حضرت والا پر بدل و جان فریفتہ و گرویدہ ہوگیا ، اِس دوران حضرتِ والا نے میرا نام ہی ’’ٹانٹ والا‘‘ رکھ دیا ، پھر ایک دِن خود ہی فرمایا : ارے جانو ہو! ٹانٹ والا کسے کہیں ؟ ٹانٹ کہیں ہندی میں عقل کو ، ٹانٹ والا کا مطلب ہے ’’عقل والا‘‘، الغرض ! اِن چند مہینوں میں حضرت کا اتنا گرویدہ ہوگیاکہ : ایک دِن کے لیے بھی مجلس چھوڑنا گوارہ نہیں ہوتا ، روزانہ پابندی سے مجلس میں حاضر ہوتا ، اب روز بروز دل میں حضرت والا سے بیعت ہونے کا داعیہ پیدا ہونے لگا ، بالآخر یہ یقین پختہ ہوگیا کہ : حضرت سے ہی میری اصلاح و تربیت ہوگی،اسی خیال کے ساتھ ایک روز فجر کے بعد حضرت کے پاس پردے میں پہنچ گیا۔ (فجر بعد حجرہ میں ذکر کی مجلس ہواکرتی تھی ، حجرہ ذاکرین سے کھچا کھچ بھرا رہتا تھا ، اِس لیے حضرت کی چار پائی کے اِرد گرد کپڑے کا پردہ لگا دیا گیا تھا ، حضرت اندر لیٹے لیٹے ذاکرین کی طرف متوجہ رہتے اور اسم ذات کا ذکر بھی جاری رہتا) اور جاکر بیعت کی درخواست کی،پوچھاکون ؟ میں نے عرض کیا : ٹانٹ والا، حضرت ہنسے اور فوراً بیعت فرمالیا ، پھر تو حضرت ہی کا ہوکر رہ گیا ، رمضان بھی ہمیشہ حضرت ہی کے ساتھ گزارا ، عید بھی حضرت کے ساتھ ہی کی ، کبھی گھر کی عید نہیں کی ، بس حق تعالیٰ شانہٗ قبول فرمائے ، آمین ثم آمین !
اِفتاء :
۱۴۰۸؁ھ میں دورۂ حدیث شریف کے سال اِفتاء کی کتابین بھی خارجی اوقات میں حضرت مفتی صاحب رحمہٗ اﷲ کے پاس پڑھتا رہا ، چنانچہ دورہ کے سال مولانا سلمان صاحب گنگوہی کے ساتھ مل کر حضرت رحمہٗ اﷲ سے مکمل’’ سراجی‘‘ پڑھی اور مفتی سعید صاحب پالنپوری دامت برکاتہم کے پندرہ روزہ بیرونی سفر کے دوران ، مفتی شفیق الاسلام و مفتی سلمان منصورپوری کے ہمراہ مغرب بعد حضرت سے ۱۳؍ دِن میں ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ مکمل پڑھی ، اسی طرح الاشباہ والنظائر فن اول کے کافی سارے اسباق بھی حضرتؒ سے پڑھ لیے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ تمرین اِفتاء کا سلسلہ بھی جاری رہا ، حضرت رحمہٗ اﷲ سوالات لکھواتے ہم اُن کے جوابات لکھ کر حضرت والا کو سناتے رہتے تھے ، حضرت والا حسب ضرورت اِصلاح و ترمیم فرماتے ، دورۂ حدیث شریف سے فراغت کے بعد شوال ۱۴۰۸؁ھ میں تقابل کی وجہ سے شعبۂ افتاء میں داخلہ نہیں ہوسکا اِس لیے حضرت والا کے حکم سے تکمیل تفسیر میں داخلہ لیا ، اور ساتھ ساتھ تمرین افتاء کا سلسلہ بھی جاری رہا ، چنانچہ فتویٰ نویسی کی اجازت دے کر اواخر محرم ۱۴۰۹؁ھ میں حضرت والا نے بغرض تدریس میرٹھ بھیج دیا تھا، وہاں تدریس کے ساتھ فتویٰ نویسی کا کام بھی کرتا رہا۔
دارالعلوم دیوبند کے ہمارے اساتذۂ کرام :
دار العلوم دیوبند کے زمانۂ تعلیم میں حسبِ ذیل اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تلمذطے کیا :
(۱) حضرت مولانامفتی یوسف صاحب تاؤلوی۔
(۲) حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب بستویؒ۔
(۳) حضرت مولانا مجیب اﷲ صاحب گونڈوی۔
(۴) حضرت مولانا حامد حسن صاحبؒ بن حضرت مولانا اعزاز علی صاحبؒ۔
(۵) حضرت مولانا اَحرار الحق صاحب بہرائچیؒ۔
(۶) حضرت مولانا زبیر صاحب دیوبندیؒ۔
(۷) حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ
(۸) حضرت مولانا قمرالدین صاحب گورکھپوری۔
(۹) حضرت مولانا ارشد صاحب مدنی۔
(۱۰) حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری۔
(۱۱) حضرت مولانا مولانا نعمت اﷲ صاحب اعظمی۔
(۱۲) حضرت مولانا نصیر احمد خاں صاحب بلند شہریؒ
(۱۳) حضرت مولانا معراج الحق صاحب دیوبندیؒ۔
(۱۴) حضرتِ اقدس مفتی محمود حسن صاحب گنگوہیؒ۔
(۱۵) حضرت مولانا احمد حسین صاحب بہاریؒ۔
(۱۶) حضرت مولانا عبد الحق صاحب اعظمیؒ۔
(۱۷) حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی۔
(۱۸) حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلی۔
(۱۹) حضرت مولاناقاری جلیل الرحمان صاحب عثمانیؒ دیوبندی۔
(۲۰) حضرت مولانا عزیزبی اےصاحب فیض آبادیؒ۔ (دامت برکاتہم و عمت فیوضہم)۔
کس استاذ سے کیا کیا کتابیں پڑھیں :
ذیل میں یہ تفصیل درج کی جاتی ہے کہ : اِن اساتذۂ کرام میں سے کن سے کیا کیا کتابیں پڑھیں :
(۱) حضرت مولانا مفتی یوسف صاحب تاؤلوی سے ـ؛ منتخب الحسامی ۔
(۲) حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب بستویؒ سے ؛ المیبذی۔
(۳) حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلی سے؛ صف عربی زیر ِنگرانی حضرت مولانا وحید الزماں صاحب کیرانویؒ۔
(۴) حضرت مولانا مجیب اﷲ صاحب گونڈوی سے ؛ جلالین ثانی معہٗ الفوز الکبیر ، شرح عقائد ، سراجی ۔
(۵) حضرت مولانا حامد حسن صاحبؒ بن شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب امروہویؒ سے ؛ جلالین اوّل۔
(۶) حضرت مولانا قاری جلیل الرحمان صاحب عثمانی دیوبندیؒ سے ـ؛ فوائد مکیہ اور مشق قرأت وغیرہ۔
(۷) حضرت مولانا عزیز بی-اے صاحب فیض آبادیؒ سے ؛ جنرل سائنس ، اصول حفظانِ صحت اور اصول معاشیات یہ تینوں کتابیں حضرت ہی کی تصنیف تھیں۔
(۸) حضرت مولانا احرار الحق صاحب بہرائچیؒ (خلیفہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ) سے ؛ مشکوٰۃ شریف ثانی معہٗ نزھۃ النظر شرح نخبہ۔
(۹) حضرت مولانا عبد الخالق صاحب مدراسی سے ؛ دیوانِ متنبی اور شمائل ترمذی۔
(۱۰) حضرت مولانا زبیر احمد صاحب دیوبندیؒ سے ؛ نسائی شریف۔
(۱۱) حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوریؒ سے ؛ ابن ماجہ شریف۔
(۱۲) حضرت مولانا ارشد صاحب مدنی سے ؛ مشکوٰۃ شریف اول اور ترمذی شریف ثانی۔
(۱۳) حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری سے ؛ ترمذی شریف اوّل ، طحاوی شریف اور حجۃ البالغہ کا مقدمہ۔
(۱۴) حضرت مولانا معراج الحق صاحب دیوبندیؒ سے ؛ ترمذی شریف ثانی کی کتاب التفسیر کا آخری باب مع اجازتِ جمیع کتب۔
(۱۵) حضرت مولانا احمد حسین صاحب بہاریؒ سے ـ؛ ابو داؤد شریف اور موطا امام مالکؒ۔
(۱۶) حضرت مولانا نعمت اﷲ صاحب اعظمی سے ؛ ہدایہ ثالث ، مسلم شریف اول اور موطا امام محمدؒ۔
(۱۷) حضرت مولانا قمرالدین صاحب گورکھپوری سے ؛ تفسیر بیضاوی سورۂ فاتحہ وبقرہ، اورمسلم شریف ثانی۔
(۱۸) حضرت مولاناعبد الحق اعظمیؒ سے ؛ ہدایہ رابع،بخاری شریف ثانی اور مسلسلات مکمل۔
(۱۹) حضرت مولانا نصیر احمد خان صاحب بلند شہریؒ سے ؛ بخاری شریف اوّل۔
(۲۰) سیدی و مرشدی حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نور المرقدہٗ سے ؛ بخاری شریف کا پہلا اور آخری باب ، شرح عقود رسم المفتی مکمل، سراجی مکمل ، اور الاشباہ والنظائر کا فن اول۔
ًً دورۂ حدیث کی کتابیں جن اساتذۂ کرام سے پڑھی ہیں اُن سب نے اپنی اپنی سندوں سے تمام کتب حدیث کی روایت کی اجازت بھی مرحمت فرمائی ہے (فـجزاھم ﷲ خیرا فی الد ارین) اور اُن سب کی سندیں ’’الکلام المفید فی تحریر الاسانید‘‘ میں چھپی ہوئی ہیں، اُس کتاب کے اندر سند کے تمام راویوں کے حالات بھی درج ہیں ، تفصیل وہاں دیکھ لی جائے۔
آغازِ تدریس :
دیوبند سے رسمی تعلیم کی تکمیل کے بعد حضرۃ الاستاذ مولانا نصیر احمد خان صاحب بلند شہری نوراﷲ مرقدہٗ کی تجویز پر سیدی و مرشدی حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نوراﷲ مرقدہٗ نے اواخر محرم الحرام ۱۴۰۹؁ میں بغرضِ تدریس میرٹھ کے قدیم ترین ادارہ ’’مدرسہ اِمداد الاسلام میرٹھ کینٹ ، یوپی‘‘بھیج دیا ، وہاں بفضلہ تعالیٰ دوسال تک مشکوٰۃ ثانی ، ہدایہ اخیرین ، سراجی ، سلم العلوم ، قدوری ، نور الایضاح اور مرقات منطق ؛ وغیرہ کتابوں کا نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ کامیاب ترین درس دیا ، اِس دوران قریب ایک سال تک روڈویز والی مسجد کے اندر امامت و خطابت کی ذمّہ داری بھی انجام دی۔
مدرسہ عبد الرب دہلی میں تدریس :
محرم الحرام ۱۴۱۱؁ھ میں مولانا عبد الستار صاحب سلام قاسمیؔ سنبھلی مہتمم مدرسہ عبد الرب دہلی ، کے تقاضے پر حضرت مولانا اسماعیل صاحب مدنی دیوبندیؒ (بن مولانا عبد الحق مدنی ؒ صاحب) خلیفہ حضرت فقیہ الامت ؒ کی وساطت سے بغرض تدریس مدرسہ عبد الرب دہلی منتقل ہوا ، وہاں تین سال تک ابو داؤد شریف ، مشکوٰۃ شریف ، بیضاوی شریف ، جلالین ، سراجی ،قدوری وغیرہ اہم کتابوں کا کامیاب ترین درس دیا ، قریب دو سال تک’’مسجد صغیر حسن نیاریان دہلی‘‘ میں امامت و خطابت اور فجربعد تفسیر قرآن کی ذمّہ داری بھی انجام دی۔
دار العلوم جامعہ زکریا جوگواڑ آمد :
محرم الحرام ۱۴۱۳؁ھ میں ’’دارالعلوم جامعہ زکریا،جوگواڑ،ضلع نوساری،گجرات‘‘ میں قیامِ دورۂ حدیث شریف کا نظام بنا ، تو حضرت مولانا ہاشم صاحب جوگواڑی دامت برکاتہم (محدّث دار العلوم ہولکمب بری، انگلینڈ ، و خلیفۂ اجل شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحبؒ کاندھلوی) نے سیدی و مرشدی حضرتِ اقدس مفتی محمودحسن گنگوہیؒ کی خدمت میں اِس خاکسار کو جوگواڑ بھیجنے کے سلسلے میں متعدد خطوط بھیجے ، جن میں مجھے جوگواڑ بھیجنے کی پیہم گزارش کی گئی تھی اور اپنے فرزند ارجمند مولانا خلیل احمد لندنی اور مولانا بدرعالم ریونین – جو اُن دنوںحضرت مفتی صاحبؒ کی خدمت میں رہا کرتے تھے – کے ذریعہ زبانی بھی مسلسل اصرار کرتے رہے ، تو بالآخرحضرت مولانا ہاشم صاحب کے پیہم اصرار پر حضرتِ اقدس مفتی صاحب رحمہٗ اﷲ نے وسط محرم الحرام ۱۴۱۳؁ھ میں بحیثیتِ شیخ الحدیثـ؛ ’’دار العلوم زکریا ،جوگواڑ‘‘ بھیج دیا ، میری آمد پر دارالعلوم زکریا جوگواڑ میں دورۂ حدیث شروع ہوا، بخاری شریف ، ترمذی شریف ، جلالین اور شرح عقائد وغیرہ کتابیں متعلق ہوئیں، جن کا بحمدہٖ تعالیٰ دوسال تک کامیاب درس دیا ، طلبۂ کرام درس سے بڑے مطمئن و محظوظ ہوتے ، تاہم اِس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ سب محض فضلِ الٰہی اور حضرتِ اقدس مفتی صاحبؒ کی توجہاتِ عالیہ اور الطاف و عنایات کااثر تھا ؎ وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم۔
مگر مدرسہ اور گاؤں والوں کے نامساعد حالات کی وجہ سے آئے دِن کچھ نہ کچھ انتشار اورپریشان کن حالات پیش آتے رہتے تھے ، اِس لیے اُن حالات سے دل برداشتہ ہوکر دو سال بعد جوگواڑ سے واپس ہوگیا۔
جامعہ حسینیہ اکولہ میں تدریس :
رمضان المبارک ۱۴۱۵؁ھ حضرت رحمہٗ اﷲ کی خدمت و صحبت میں مدرسہ مفتاح العلوم میل و شارم (مدراس) تمل ناڈو کی ’’مسجد خضر‘‘ میں بحالت اعتکاف گزارا ، رمضان بعد ۱۵؍ دِن سمندر کے کنارے اکّرے مدارس کے اندر حضرت والاکے میل و شارم کے دل و جان نچھاور کرنے والے مخلص میزبان محترم الحاج ہاشم ملک صاحب کے چھوٹے بھائی الحاج عبد الحلیم ملک صاحب (زید مجدھما) کے فارم ہاؤس میں گزارا ، حضرتِ والاکی خرابیٔ صحت وناسازئ طبع کی بناپر ڈاکٹروںنےکچھ دن کسی ہوا دار خوشگوار جگہ قیام کا مشورہ دیا تھا، یہ فارم ہاؤس سمندر کے بالکل کنارے اور کھلی فضا میں واقع ہونے کی وجہ سے انتہائی ہوا دار ہے ، اور آبادی سے دور کھلی جگہ میں واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کی آب و ہوا بھی بے حد موزوں صحت بخش ، اور یہاں کی فضا انتہائی پربہار و خوشگوار ہواکرتی ہے ، اِس لیے ۱۵؍ دِن کے لیے یہاں حضرت کا قیام طے کیا گیا تھا ، مجھ سمیت کئی خدام بھی حضرت والا کے ساتھ یہاں مقیم رہے ، فجر ، مغرب اور عشاتینوں نمازیں سمندر کےکنارے پانی کے قریب ریت پرچٹائیاںبچھا کر باجماعت اداکی جاتی تھیں ، حضرت چونکہ معذوری کی وجہ سے لیٹے لیٹے نماز ادا کرتے تھے اِس لیے حضرت کی خاطر قبلہ رو ایک چارپائی بچادی جاتی تھی ، فجر کے بعد ذکر کی مجلس ہوتی ، ذاکرین ذکر کرتے ، حضرت چارپائی پر لیٹے لیٹے آرام فرماتے ، دیرتک یہ سلسلہ جاری رہتا ، دھوپ سے بچاؤ کے لیے چارپائی کے قریب ایک بڑی چھتری نصب کی جاتی تھی ، اشراق سے فارغ ہوکر حضرت کو قیام گاہ پر پہنچا دیا جاتا ، اور خدام واحباب کچھ دیر سمندر میںنہانے کا لطف اُٹھاتے ، پھر باغ میں جاکر میٹھے پانی سے نہاکر کپڑے بدلتے ، اور قیام گاہ پہنچ کر ناشتے سے فارغ ہوتے، ایک دو مرتبہ حضرت کو بھی سمندر میں نہلایا گیا تھا ، پھر بعد میں میٹھا پانی لاکر نہلایا گیا تھا، یہ لمحہ بڑا ہی پرکیف ہوتا تھا کہ : حضرت والا کرسی پر ہوتے اور ہم سب ریت سے حضرت کا بدن رگڑ تے اور اوپر سے پانی بہاتے، شام کو عصر کی نماز کے کچھ دیر بعد جب دھوپ کی تیزی ختم ہوجاتی تو پھر سمندرکے کنارے پہنچ جاتے ، مغرب سے پہلے ہی مجلس شروع ہوجاتی ، جو نوبجے رات تک جاری رہتی ، جس میں حضرت کے فتاویٰ سنائے جاتے، سنانے کی ذمّہ داری یہ خاکسار انجام دیتا ، صبح و شام کی مجلسوں میں مقامی و بیرونی مہمانوں اور واردین و صادرین کا بڑا مجمع رہتا تھا ، خاص کر شام کو کبھی کبھی اس کی تعداد سو ڈیڑھ سو تک پہنچ جاتی تھی، میزبان کی طرف سے فارم ہاؤس میں دونوں وقت کے کھانے اورصبح کے ناشتے کا انتظام رہتا تھا ، مقامی حضرات صبح آٹھ بجے ناشتہ کر کے ، اور رات دس بجے کے قریب کھانا کھاکر حضرت سے ملاقات کر کے واپس ہوجاتے ، مہمان حضرات یہیں قیام فرماتے ، دوپہر کے کھانے میں مقامی احباب میں سے دوچار ہی شریک ہوتے ، زیادہ تر بیرونی مہمان ہی ہوتے۔
بہر حال اُسی زمانۂ قیامِ مدراس میں حضرت رحمہٗ اﷲ کے زمانۂ کانپور کے ایک قدیم ترین شاگرد حضرت مولانا ابوالحسن صاحب دامت برکاتہم (بانی و مہتمم جامعہ حسینیہ اکولہ ، مہاراشٹر) کے تقاضے پر حضرت رحمہٗ اﷲ نے میرا اکولہ جانا طے فرمادیا تھا، چنانچہ حضرت والا کے حکم سے یہ خاکسار ۱۵؍ شوال ۱۴۱۵؁ھ کو مدراس سے بذریعہ نوجیون اکسپریس اکولہ پہنچا ، حضرت مولانا ابو الحسن صاحب سے ملاقات ہوئی وہ بہت خوش ہوئے ، بڑی محبت سے پیش آئے، موصوف نے اہتمام کی ذمّہ داری اُن دنوں مفتی اکرام الدین صاحب پاتورڈوی خلیفہ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کے سپرد کر رکھی تھی، اُن سے ملاقات ہوئی وہ بھی بہت خوش ہوئے ، یہاں چار سال تک ؛مسلم ، ترمذی ، ابو داؤد، مشکوٰۃ ، اور جلالین وغیرہ متعدد کتابوں کا عمدگی اور نیک نامی کے ساتھ درس دیا ، وہاں کے قیام کے تیسرے سال یہ بڑا حادثہ پیش آیاکہ : مجھ جیسے بہت سے بے کسوں کے سہارا ہمارے ملجا ٔ و ما ٔویٰ حضرت فقیہ الامت رحمہٗ اﷲ افریقہ میں ہم سے ہمیشہ کے لیے پردہ فرماگئے ، اناللہ و انا الیہ راجعون !
دل بجھ سا گیا، حضرت والا کی وفات کے فوراً بعد یہ خاکسار بلا تاخیر حضرت کے مزاج شناس خادمِ خاص حضرت اقدس مولانا ابراہیم پانڈور صاحب دامت برکاتہم (خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ) کےدامن تربیت سے وابستہ ہوگیا ، اور زبان قال و حال سے عرض کردیا کہ : ؎
سپردم بتومایۂ خویش را تودانی حسابِ کم و بیش را
(اپنی زندگی کی پونجی آپ کے حوالے کردی ہے۔ اب آپ جانیں اُس میں کیا کمی بیشی کرنی ہے)۔
دار العلوم ستپون آمد :
ضلع: بھروچ کی ایک نامی گرامی بستی ’’ستپون‘‘ ہے ۔ جو قدیم زمانے سے اکابر اہل اﷲ کی توجہ کا مرکز اور آماجگاہ رہی ہے ، جہاں قدیم زمانے سے بزرگانِ دین کا ورود مسعود ہوتا رہا ہے، اُن کی اصلاح وتربیت اور ہدایات کانمایاں اثر باشندگانِ قریہ کی دینی ، فکری ، خانگی ، خارجی ، سماجی اور معاشرتی زندگی میں نمایاں طورپر نظر آتاہے۔ اس بستی کے کچھ درد مندوں کی فکرو لگن کے نتیجے میں علومِ دینیہ کی ترویج و اشاعت کے لیے اکابر اہل اﷲ کے ہاتھوں ۱۴۰۹؁ھ موافق ۱۹۸۹؁ء میں ’’ دار العلوم سعادتِ دارین ‘‘ کے نام سےایک تعلیمی و تربیتی ادارہ قائم ہوا ، جس میں درجۂ فارسی سے تعلیم کی شروعات ہوئی اور جب یہ سلسلہ ہر سال درجہ بدرجہ ترقی کرتےہوئے مشکوٰۃ تک پہنچ گیا ،تو انتظامیہ نے دورۂ حدیث شریف کے قیام کا ارادہ کیا اوربخاری شریف پڑھانے کے لیے کسی مناسب شخصیت کی تلاش شروع کردی ،اِس سلسلے میں حضرت مولانا ابراہیم پٹیل صاحب ستپونی حال مقیم برطانیہ – جو مدرسہ کے فکرمند اور سرگرم ٹرسٹی ہیں- نے انتظامیہ کے باہمی مشورہ سے حضرت اقدس مفتی احمد خانپوری صاحبْ خلیفہ حضرت فقیہ الامت و شیخ الحدیث جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل اور مفکر ملت فخر زمن حضرت اقدس مولانا عبد اﷲ صاحب کاپودرویؒ سرپرستانِ جامعہ ہٰذا سے کسی مناسب شخصیت کے انتخاب کی درخواست کی ، حضرت مفتی احمد صاحب خانپوری دامت برکاتہم مدتِ دراز سے مجھے جانتے تھے ، میری تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں اور حضرت فقیہ الامت نور اﷲ مرقدہٗ کے ساتھ میرے گہرے روابط و مراسم سے اچھی طرح واقف تھے ، کیونکہ دیوبند میں طالبعلمی کا زمانہ حضرت فقیہ الامت کی خدمت میں گزرا ، پھر سیدی حضرت اقدس مولانا ابراہیم پانڈور صاحب دامت برکاتہم نے بندہ کو اُن کی سرپرستی و نگرانی میں کام میں لگا رکھا ہے، جس کا موصوف بڑاخیال بھی فرماتے ہیں ، بنا بریں حضرت مفتی احمد صاحب کی نگاہِ انتخاب مجھ خاکسار پر پڑی اور شعبان ۱۴۱۹؁ھ کے سفرِ عمرہ کے دوران حرم مکی میں، دار العلوم ستپون کی ضرورت اور تقاضہ بتاکر مرشدی حضرت اقدس مولانا ابراہیم پانڈور صاحب کے سامنے رمضان المبارک کے بعد مجھے ستپون بھیجنے کی تجویز رکھی ، تقاضے تو اور جگہ سے بھی تھے ، مگر حضرت والانے غور و فکر کے بعد میرے ستپون بھیجے جانے کی تجویز منظور فرمالی ، اِس طرح حرم شریف میں رمضان المبارک کے بعد میرا ستپون آنا طے ہوگیا ، بندہ شعبان کی تعطیل میں گھر گیا ، لیکن رمضان چونکہ زمانۂ طالب علمی سے ہی ہمیشہ اپنے شیخ کے ساتھ اعتکاف میں گزارتاہے ، اور یہ رمضان میل و ؔشارم کا طے ہوا تھا، اِس لیے ۲۷؍ شعبان ۱۴۱۹؁ھ کو اپنے خانقاہی ساتھی اور دیرینہ رفیق حضرت مولانا اکرام الحق صاحب کے ہمراہ وطن سے براہِ کلکتہ میل وؔشارم کے لیے روانہ ہوکر ، ۲۹؍ شعبان ۱۴۱۹؁ھ کو عشاء تک میل وؔشارم پہنچے اور رمضان شروع ہوتے ہی مدرسہ مفتاح العلوم میل وؔشارم ، کی مسجد خضر میں معتکف ہوگئے ، ۱۴؍ رمضان کو حضرت مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم خانقاہِ محمودیہ مسجد خضر میل وؔشارم تشریف لائے ، ۱۵؍ رمضان کو مغرب بعد اوّابین سے فارغ ہوکر حضرت مفتی صاحب نے مسجد کے اندر مصلّی پر ہی مجھے بلایا ، اور تفصیلات سے آگاہی دیتے ہوئے یہ خبر سنائی کہ : رمضان بعد تمہیں تدریس کے لیے دارالعلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع بھروچ جاناہے ؛ حضرت مولانا سے حرم شریف میں پوری بات ہوگئی ہے ، اُنہوں نے منظوری دے دی ہے ، تم اکولہ اپنا استعفا نامہ بھیج کر آئندہ سال نہ آنے کی اطلاع دے دو ، تاکہ وہ حضرات اپنا دوسرا انتظام کرسکیں ، میں نے اُس وقت پہلی بارستپون کانام حضرت مفتی صاحب کی زبانی سناتھا،اِس لیے حیران ہواکہ کس طرح پہنچوںگا؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایاکہ : رمضان بعد میرے پاس آجانا ، ستپون جانے کی ترتیب بنا دوں گا، بہرحال دونوں بزرگوں سے مذاکرہ کے بعد ، رمضان ہی میں اکولہ استعفا اور معذرت کا خط بھیج دیا گیا ، اور رمضان بعد خانقاہ سے سیدھے حضرت مفتی صاحب کے پاس ڈابھیل پہنچا ، انہوں نے مجھے مفکرِ ملت فخرِگجرات حضرت اقدس مولانا عبد اﷲ صاحب کاپودرویؒ سرپرست دارالعلوم ستپون کے پاس بھیجا ، حضرت مفتی صاحب کی پہلے ہی اُن سے تفصیلی بات چیت ہوچکی تھی ، بندہ کاپودرہ اُن کے گھر پر حاضر ہوا، حضرت سے ملاقات ہوئی وہ بہت خوش ہوئے ، انتہائی متواضعانہ انداز میں ملے ، اور اپنی عادت کریمانہ کے مطابق بڑا اکرام فرمایا ، موصوف سے تفصیلی بات چیت کر کے سورت واپس ہوگیا ، وہاں چند ایام مدرسہ صوفی باغ کے مہمان خانے میں گزارکر مؤرخہ ۱۰؍ شوال ۱۴۱۹؁ھ مطابق ۳۰؍ جنوری ۱۹۹۹؁ء بروز جمعہ صبح ۱۰؍ بجے دار العلوم سعادتِ دارین ، ستپون ، ضلع بھروچ ، گجرات بغرضِ تدریس حاضری ہوئی، اساتذۂ کرام و مہتمم صاحب سے ملاقات ہوئی، میری تقرری اور آمد پر سب نے مسرت کا اظہار کیا ، دو دِن میں داخلے کی کاروائی مکمل ہوگئی اور حسبِ معمول تیسرے دِن تعلیم شروع ہوگئی ، چونکہ یہاں ابھی تک دورہ شروع نہیں ہوا تھا اِس لیے پہلے دو سالوں میں مشکوٰۃ ثانی ، نزھہ شرح نخبہ معہٗ الفوز الکبیر ، مختصر المعانی اور شرح وقایہ کا درس احقر سے متعلق رہا ، پھر جب تیسرے سال شوال ۱۴۲۱؁ھ مطابق جنوری ۲۰۰۱؁ءمیں دورہ شروع ہوا تو اکابر کی تجویز و مشورہ پر بندہ کو جامعہ کا شیخ الحدیث مقرر کیا گیا ، اور حضرت اقدس مفتی احمد خانپوری صاحب دامت برکاتہم کے حکم پر بخاری شریف اوّل ، ترمذی شریف مکمل ، شمائل ترمذی ، نسائی مع موطا امام محمد اور نزھہ شرح نخبہ معہٗ الفوز الکبیر وغیرہ کتابیں بندہ سے متعلق ہوئیں ، چند سالوں کے بعد مشکوٰۃ ثانی کی جگہ اول دی گئی ، اُس کے چار سال بعد مشکوٰۃ اول کی جگہ جلالین ثانی دی گئی اور امسال بخاری شریف کی دونوں جلدیں ذمے میںکردی گئیں ہیں ، جبکہ ترمذی مکمل پہلے ہی سے ذمے میں ہے ، اﷲ ہی مدد فرمائے ، آمین یا ربّ العالمین !
بفضلہٖ تعالیٰ بزرگوں کی توجہات کی برکت سے محنت و لگن ، کامل یکسوئی ، انشراحِ صدر اور شرح و بسط کے ساتھ سبق پڑھانے کا اہتمام کرتاہوں، پوری کوشش رہتی ہے کہ طلبہ توجہ سے سنیں ، سمجھیں اور اسے یاد بھی رکھیں ، اِس کا اثر یہ ہوتاہے کہ : بحمدہٖ تعالیٰ طلبہ مسرور و مطمئن اور محظوظ ہوتے ہیں اورہمہ وقت محبت و گرویدگی کا مظاہرہ کرتےہیں ، اور فراغت کے بعد بھی بہت سے خوش نصیب مربوط رہتے ہیںاور بہت سے اُمور میں مشاورت بھی کرتے رہتے ہیں ، (فللہ الـحمد والمنۃ)
بیعتِ سلوک اور اصلاحِ احوال کی فکر :
ربیع الاول ۱۴۰۶؁ھ میں بندہ حضرت اقدس فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ مفتی ٔ اعظم ہند (خلیفہ حضرت مولانا عبد القادر رائپوریؒ و خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ) کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوا ، دیوبند کے چار سالہ قیام کے دوران حضرت ہی کی خدمت میں رہا، وہاں سے نکل کر خدمت کے زمانے میں بھی رمضان المبارک ہمیشہ حضرت ہی کے ساتھ گزارا کرتا ، اور ہرسال کل ملاکر تین مہینے حضرت کی خدمت میں رہتا ، اِس دوران سفر و حضر ، خلوت و جلوت ہر حال میں حضرت کی رفاقت و صحبت حاصل رہی ، حضرت کے خطوط لکھنے ، مواعظ نقل کرنے ، اور فتاویٰ سنانے کا شرف بھی حاصل رہا ، بفضلہ تعالیٰ یہ بارہ سالہ دورانیہ حضرت مفتی صاحب رحمہٗ اﷲ کی خدمت میں پوری خود سپردگی کےساتھ گزارا ، چھوٹا بڑا ہرکام حضرتِ والا کےمشورے سے ہی انجام دیتا ، حضرتِ والا بھی پوری شفقت و اپنائیت کا معاملہ فرماتے ، اصلاح و تربیت میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھتے، زندگی کے ہر موڑ پر کامل رہبری بلکہ ہمیشہ دستگیری فرماتے (فـجزاھم ﷲ خیراً) بندہ ہمیشہ یہ محسوس کرتا ہے کہ آج اگر خاکسار شعبۂ تدریس اور خدمت حدیث سے وابستہ ہے ، تو یہ محض حضرت رحمہٗ اﷲ کی توجہات عالیہ اُن کی خصوصی تربیت اور فضلِ الٰہی کی برکات ہیں ، اِس میں اپنا کوئی ذاتی کمال نہیں ہے (ذٰلک فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاۗءُ) مگر اتنا قریبی تعلق ہونے کے باوجود حضرتِ والا نے بندہ کو کسی خاص وجہ سے خلافت و اجازت سے سرفراز نہیں فرمایا، کئی بار حضرت والا نے بندہ کے سامنے اِس کا اظہار بھی فرمایا، حضرتِ والا میری مزید اصلاح و تربیت کے خواہاں تھے ، لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتاہے ’’ذٰلک تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ‘‘ کسی نے کہا ہے ’’کُلُّ اَمْرٍ مَرْھُوْنٌ بِاَوْقَاتِہٖ‘‘ اﷲ کے نظام میں ہرچیز کا وقت مقرر ہے ، وقت سے پہلے کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی ۔
اجازت و خلافت :
حضرت فقیہ الامت ؒ کی وفات کے معاً بعد بندہ بلاتاخیر حضرت اقدس مولانا ابراہیم پانڈور صاحب دامت برکاتہم (خادِمِ خاص حضرت فقیہ الامتؒ و خلیفہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ) سے وابستہ ہوکر حسبِ معمول پورا رمضان حضرتِ والا ہی کی صحبت و خدمت میں بحالت ِاعتکاف گزارا کرتا ہے ، اور بفضلہ تعالیٰ ہر رمضان میں حضرتِ والا کی طرف سے معتکفینکی تعلیم و تربیت کی خدمت بھی انجام دیتا ہے ،اور حضرت والا نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے حرم مکی سے فون کر کے حضرت اقدس مفتی احمد خانپوری صاحب کی معرفت مؤرخہ ۴؍ ذی الحجہ ۱۴۲۳؁ھ مطابق ۶؍ فروری ۲۰۰۳؁ء بروز جمعرات نو بج کر تیس منٹ پر بیعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی، مولائے کریم سلسلے کی برکت سے اصلاحِ حال فرماکر استحضار و دھیان کی دَولت سے مالا مال فرمائے ، آمین ! بندہ کو اِس کے علاوہ اور بھی تین بزرگوں سے بیعت کی اجازت و خلافت حاصل ہے ، آگے اس کی تفصیل درج ہے :
(۲) دوسری اجازت حضرت اقدس مولانا ہاشم صاحب مظاہری جوگواڑی دامت برکاتہم (خلیفۂ اجل شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلویؒ و محدّث دارالعلوم ہولکمب بری ، انگلینڈ) سے حاصل ہے ، اپنے شیخ کے ساتھ حضرت مولانا کے قرب و تعلق اور فنائیت کا یہ عالم ہے کہ : اُن کی ظاہری شکل و صورت بھی حضرت شیخ جیسی ہوگئی ہے ؛ حضرتِ موصوف نے مؤرخہ ۱۹؍ صفر المظفر ۱۴۲۹؁ھ مطابق ۹؍ مارچ ۲۰۰۷؁ء بروز جمعہ ، مسجد جنتا کالونی راندیر ، سورت میں فجر کی نماز کے بعد باہر مسجد کے برامدے کے ایک کونے میں لے جاکر پہلے سینے سے لگایا ، اور یہ کہہ کر سلاسل اربعہ میں بیعت کی اجازت مرحمت فرمائی کہ : ابھی دورانِ نماز میرے دل میں اﷲ کی طرف سے یہ بات ڈالی گئی کہ : میں آپ کو اجازت سے سرفراز کروں ، اور اجازت دے کر فرمایاکہ : معمولات اربعہ کے اہتمام اور اپنی کمتری کے استحضار کے ساتھ سلسلے کو پھیلانے کی محنتیں کرتے رہیں۔
(۳) تیسری اجازت رفیقِ محترم حضرت مفتی اکرم الدین صاحب پاتورڈوی دامت برکاتہم استاذ حدیث دار العلوم اشرفیہ راندیر ، سورت ، وخلیفہ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ سے حاصل ہے ، موصوف نے ۱۵؍ رمضان المبارک ۱۴۴۰؁ھ مطابق ۲۱؍ مئی ۲۰۱۹؁ءبروز منگل جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کی مسجد میں دورانِ اعتکاف دس بجے دِن میں تحریری طورپر اجازت مرحمت فرمائی۔
(۴) چوتھی اجازت ابھی چند دن پہلے حضرت مولانا مطیع الرحمان صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم (نائب مہتمم مدرسہ امدادیہ شاہ کنڈ، ضلع بھاگلپور، بہار ، و خلیفہ حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ و خلیفہ حضرتِ اقدس مولانا قمر الزماں صاحب الٰہ آبادی دامت برکاتہم سے حاصل ہوئی ، حضرت موصوف نے مؤرخہ : ۲۰؍ رجب المرجب ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۱۶؍ مارچ ۲۰۲۰؁ء بروز پیر ایک خط کے ذریعہ اجازت مرحمت فرمائی (فـجزاھم ﷲ خیراً) مولائے کریم مجھے اِن حضرات کے حسنِ ظن کے مطابق بلکہ اُس سے بڑھ کر بنائے ، سلسلے کی برکات سے سرفراز فرمائے اور اکابر و اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نیک نامی کے ساتھ سلسلے کی ترویج و اشاعت کی توفیق عطا فرمائے ، آمین یاربّ العالمین !
زیارتِ حرمین شریفین :
خاکسار پر یوں تو حق تعالیٰ شانہٗ کے بے شمار احسانات ہیں ، مگر ایک بڑا احسان یہ ہے کہ تہی دستی اوربے مائیگی کے باوجود چارمرتبہ حرمین شریفین (زادھما اﷲ عزاً و شرفاً) کی زیارت کا شرف عطا فرمایا : دو مرتبہ حج بیت اﷲ کی اور دو مرتبہ عمرہ کی سعادت سے سرفراز فرمایا (فللہ الـحمد والمنۃ علٰی ذالک)
(۱) پہلی مرتبہ ۱۴۱۴؁ھ مطابق ۱۹۹۴؁ء میںحج بیت اﷲکے لیے حاضری ہوئی، اُس سفر میں حرمین شریفین میں قریب پینتالیس(۴۵) دِن قیام رہا ، حج سے پہلے درمیانی مدت میں نو دِن کے لیے مدینہ منورہ حاضری ہوئی باقی ایام مکہ مکرمہ میں گزرے ، حج کے بعد مکہ مکرمہ سے براہِ جدہ ممبئی واپسی ہوئی۔
(۲) دوسری مرتبہ ذی الحجہ ۱۴۲۷؁ھ موافق جنوری ۲۰۰۷؁ء میں حج کے لیے حاضری ہوئی، حرمین شریفین میں قریب تینتالیس(۴۳) دِن قیام رہا ، شروع کے تینتیس دِن مکہ مکرمہ میں اور حج کے بعد اخیر کے نو دِن مدینہ منورہ میں گزرے ، مدینہ منورہ سے براہِ جدہ ممبئی واپسی ہوئی۔
(۳) تیسری مرتبہ ربیع الثانی ۱۴۳۱؁ھ مطابق مارچ ۲۰۱۰؁ء میں عمرہ کے لیے حاضری ہوئی حرمین شریفین میں۲۲؍ دِن قیام رہا ، شروع کے ۱۲؍ دِن مکہ مکرمہ میں اور اخیرکے دس دِن مدینہ منورہ میں گزرے ، مدینہ منورہ ہی سے براہِ جدہ ممبئی واپسی ہوئی۔
(۴) چوتھی مرتبہ ۱۱؍ صفرالمظفر۱۴۳۹؁ھ مطابق ۳۱؍ اکتوبر ۲۰۱۷؁ سے۲۴؍ صفر المظفر ۱۴۳۹؁ھ مطابق : ۱۳؍ نومبر ۲۰۱۷؁ء تک بغرض عمرہ حاضری ہوئی ، حرمین شریفین میں ۱۳؍ دِن قیام رہا ، شروع کے سات دِن مدینہ منورہ میں اور اخیر کے پانچ دِن مکہ مکرمہ میں گزرے ، مکہ مکرمہ سے براہِ جدہ دلی واپسی ہوئی۔
حدیث مسلسل بالاولیت کی تین سندیں :
یوں تو بندہ کو فقیہ الامت سیدی و مرشدی حضرت اقدس مفتی محمود حسن گنگوہی نور اﷲ مرقدہٗ سے ’’حدیث مسلسل بالاولیت ‘‘ کی اولیت کا تسلسل و اجازت ، اِسی طرح تمام کتبِ حدیث کی خصوصی و عمومی اجازت حاصل ہے ، مگر چونکہ محدثین کے یہاں علوِ اسناد وصفِ مرغوب فیہ ہے ، امام یحییٰ بن معین ؒ سے بوقت وفات دریافت کیا گیا کہ : ’’ مَاتَشْتَھِیْ ؟‘‘ اِس وقت آپ دنیا سے جارہے ہیں کیا کوئی خواہش ہے؟ توآپ نے فرمایاکہ : جی ہاں ! دو چیزوں کی خواہش ہے : ’’ بَیْتٌ خَالٍ وَ اِسْنَادٌ عَالٍ‘‘ کہ : خالی گھر (جس کے اندر صرف میں ہوں اور میرا خدا کوئی انسان نہ ہو ، تاکہ پوری توجہ صرف اﷲ کی طرف رہے) اورعالی سند ( اگر کہیں مل جائے تو اسے حاصل کر لوں ، نزہۃ النظر ، ص : ۸۸ ، حاشیہ : ۱) ، اِس لیے خاکسار کو بھی ہمیشہ علو اسناد کے حصول کا شوق و رغبت رہتی ہے ، چنانچہ دوسرے سفر حج ۱۴۲۷؁ھ کے موقع سے یمن کے مشہور محدثِ کبیر شیخ عبد اﷲ بن احمد بن محسن بن ناجی النَّاخِبی الیافعِیؒ سے – جس کی سند ہماری دیوبند والی سند سے ایک درجہ عالی ہے اور اُن دِنوں جدہ میں مقیم تھے – اپنے محسن رفقاء جناب مولانا عبد الرشید صاحب آچھودی استاذ دار العلوم ستپون بھروچ ، اور جناب قاری اسماعیل صاحب آچھودی مقیم جدہ ، کے ہمراہ ، جدہ اُن کی رہائش گاہ پر حاضرہوکر اولاً ’’حدیث مسلسل بالاولیت ‘‘ کی اولیت کا تسلسل و اجازت حاصل کی ، پھر بخاری شریف کی کتاب الاجارہ کا پہلا باب اور اُس کی حدیث سناکر بخاری شریف ، باقی صحاحِ ستہ اور حدیث کی تمام متداول کتابوں کی سند و اجازت حاصل کی اور موصوف نے اپنا ’’ ثَبَتْ‘‘ مہر لگاکر دستخط کر کے تینوں ساتھیوں کو مرحمت فرمایا ، قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ : اُس وقت شیخ کی عمر ایک سو دس سال تھی ، پھر بھی صحت مند ، اچھے خاصے ، چلتے پھرتے ، اور تندرست تھے، اس عمر میں بھی ہمہ وقت فضلاءِ محققین کی رہنمائی اور درس و تدریس میں مشغول رہتے تھے ،اُس کے چار سال بعد قریب ایک سو چودہ سال کی عمرمیں جدہ ہی کے اندر شیخ کا انتقال ہوا اور وہیں مدفون ہوئے (طَابَ اللہُ ثَرَاہُ وَجَعَــلَ الْـجَـــنَّۃَ مَثْوَاہُ ، آمین )
اُسی سفر میں حلب و شام کے مشہور و عظیم محدث شیخ محمد عَوَّامہ الحنفی خواہرزادہ شیخ عبد الفتاہ ابو غدہؒ سے – جو اُن دنوں مدینہ منورہ میں مقیم تھے اور اب ترکی کے شہر استانبول میں مقیم ہیں- اپنے استاذ زادے عزیزم مولوی وقاری محمد مدنی بن مولانا نذیر احمد مدنی صاحب پَرْسَاوالے کی معرفت ، اپنے رفقاء سفر جناب مفتی خورشید انور گیاوی صاحب استاذ دار العلوم دیوبند ، و مفتی یحییٰ صاحب بھاگلپوری مقیم پٹنہ کے ہمراہ اُن کی رہائش گاہ پر حاضر ہوکر ’’حدیث مسلسل بالاولیت‘‘ کی اولیت کا تسلسل و اجازت حاصل کی، شیخ نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہماری درخواست پر یہ حدیث سنا کر اولاً سند و اجازت مرحمت فرمائی ، پھر ایک خاص تنبیہی انداز میں ارشاد فرمایاکہ : مشائخ حدیث جس طرح درس کے شروع میں ’’ حدیث مسلسل بالاولیت ‘‘ سنانے کا اہتمام کرتے ہیں ، اِسی طرھ بلکہ آج کل کے ماحول کے پیشِ نظر اس سے بھی زیادہ اہتمام کے ساتھ ابتداءِ درس میں حدیث ’’مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْإِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ ‘‘ سنانے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ طلبہ لغویات و مَلاہی سے بچتے ہوئے حصولِ علم میں پوری محنت و لگن اور یکسوئی کے ساتھ مشغول رہیں اور رسوخ فی العلم کی دولت سے مالا مال ہوسکیں ، پھر فرمایا کہ ـ: حضرت امام مالکؒ وغیرہ اَسلاف اِس کا اہتمام فرمایا کرتے تھے ، شیخ کی ہدایت کے بعد سے یہ خاکسار بھی ابتداء درس میں اپنے طلبہ کو یہ دونوں حدیثیں سنانے کا خصوصی اہتمام کرتاہے ، حق تعالیٰ شانہٗ اِس کے خاطر خواہ فوائد مرتب فرمائے (آمین ثم آمین)
’’حدیث مسلسل بالاولیت ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ : ہر استاذ نے اپنے شاگرد کو سب سے پہلے یہی حدیث سنائی ، یہ حدیث رحمت ’’ اَلرَّاحِـمُوْنَ یَرْحَـمُھُمُ الرَّحْـمٰنُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِرْحَـمُوْا مَنْ فِی الْاَرْضِ یَرْحَـمُکُمْ مَنْ فِی السَّمَاۗءِ ‘‘ ہے، جو حضرت عبد اﷲ بن عمر و بن العاصؓ کی روایت سے ابو داؤد ، ترمذی ، مسند احمد اور شعب الایمان میں مروی ہے ، اِس میں اولیت کا تسلسل صرف مجھ ناچیزسے لے کر سفیان بن عُیینَہ تک ہے ؛ آگے نہیں ، حدیثِ پاک کا ترجمہ ہے ’’ رحم کرنے والوں پر رحمٰن جل شانہٗ رحم فرماتے ہیں ، تم زمین والوں پر رحم کرو؛ آسمان والا تم پر رحم کرے گا‘‘۔
اصلاحی خدمات :
بفضلہ تعالیٰ وعظ و خطابت کے ذریعہ امت مسلمہ کی رہنمائی اور بیعت و ارشاد کے ذریعے اصلاحی و تربیتی خدمات کا سلسلہ بھی جاری ، بہت سے طلبہ و فضلاء اپنے حسنِ ظن اور محبت و عقیدت کی بنا پر بیعت کا اصرار کرتے ہیں ، تو اپنی کمتری کا احساس کرتے ہوئے ، بزرگوں کے اعتماد کے پیشِ نظر اُنہیں سلسلے سے جوڑ لیتے ہیں ، حق تعالیٰ شانہٗ سب کو برکتوں سے مالا مال فرمائے ، آمین ثم آمین !
سماجی خدمات :
فراغت کے بعد ہی سے جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ سرگرمی کے ساتھ وابستگی رہی ہے ، جماعت کے ہر تقاضے پر لبیک کہتے ہوئے ہمیشہ تندہی کے ساتھ اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہوئےہر خدمت انجام دیتے ہیں، بندہ قریب تیس سال سے مرکزی جمعیۃ علماء ہند کی مجلس منتظمہ کا رُکن اور صوبائی جمعیۃ علماء کی مجلس عاملہ کا ممبر ہے، دس سال تک جمعیۃ علماء ضلع بھروچ کاسکریٹری رہا ، اورگذشتہ ۱۴؍ سال سے جمعیۃ علماء ضلع بھروچ کا نائب صدر ہے، حق تعالیٰ شانہٗ اِس پلیٹ فارم سے کی گئی خدمات کو قبول فرماکر دارین کے خیرو فلاح اورآخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے ، آمین ثم آمین !
تصنیفی خدمات :
حق تعالیٰ شانہٗ کا اِس بندۂ بابکار پر بڑا احسان و کرم ہے کہ اُس مالک ارض و سماء نے تدریسی و تقریری صلاحیت کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف اور تحریر کا بھی اچھا خاصا ذوق و سلیقہ عطا فرمایا ہے ، جس کی بدولت بفضلہ تعالیٰ و قتاً فوقتاً متعدد مقالات و مضامین اورطلبہ کے لیے کچھ تقریریں بھی لکھ لیا کرتے ہیں ، جن میںسے کچھ مقالات و مضامین جرائد و رسائل اور ماہناموں میں چھپے بھی ہیں ، اِن کے علاوہ اِس خاکسار کے قلم سے اب تک سات کتابیں معرضِ وجود میں آچکی ہیں ، جن میں سے اکثر زیورِ طبع سے آراستہ ہوچکی ہیں ، ایک آدھ کتاب طباعت کی منتظر ہے اور متعدد کتابیں زیر ترتیب ہیں، مولائے کریم جلدسے جلد آسانی اور سہولت کے ساتھ اُن کی تکمیل فرمائے، آمین یاربّ العالمین !
مصنفہ کتابوں کی فہرست
(۱) یتیم و مسکین کی کفالت اور تعلیم و تربیت کے فضائل (مطبوع)
(۲) ہدایاتِ نبوی ﷺ (مطبوع)
(۳) قیمتی نصائح حضرتِ اقدس مولانا ابراہیم پانڈور صاحب (مطبوع)
(۴) چہل صلوٰۃ و سلام مع تحقیق و تخریج (مطبوع)
(۵) جنت کے باغ و بَہار (مطبوع)
(۶) آئینۂ سیرت (مطبوع)
(۷) فیض الصمد ترجمہ ایھا الولد (غیرمطبوع)
(۸) جنت میں لے جانے والے اعمال (زیر ِترتیب)
( ۹) ہدایاتِ ربانی (زیر ِ ترتیب)
شاگردان :
بتیس سالہ تدریسی دور میں بے شمار طلبہ نے بندہ سے علم حاصل کیا ہے ، جن میں سے بہت سوں کے نام یاد بھی نہیں ہیں۔ بہرحال یہ مختصرسوانحی معلومات احباب کے مسلسل تقاضے اور پیہم اصرار پر بادلِ ناخواستہ سپردِ قرطاس کردیئے ہیں ، حق تعالیٰ شانہٗ بندہ کو حظوظ و شرورِ نفس سے محفوظ فرمائے ، اور قارئین و سامعین کو اِس تحریر سے فائدہ پہنچائے ، آمین ثم آمین !
محمد شوکت علی بھاگلپوری
۲۹؍ رجب المرجب ۱۴۴۱؁ھ دارالعلوم سعادتِ دارین
موافق ۲۵؍ مارچ ۲۰۲۰؁ء بدھ ستپون ، بھروچ (گجرات)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: