مضامین

حضرت مولانا نصیر الدین ؒصاحب گوری گاواں

مولانا ثمیر الدین قاسمی مانسچٹر انگلینڈ

ولادت ۰۹۸۱ء ولادت ۲۱دسمبر ۴۶۹۱ء فاضل کانپور

میرے رفیق درس حضرت مولانا شفیق عالم صاحب بیریلپوری مد ظلہ کاحضرت مولانا نصیرالدین صاحب سے ننہالی رشتہ تھا،انہوں نے اس وقت حضرت مولانا سے کچھ ابتدئی کتابیں پڑھی تھی، جب مولانا کی بصارت جاتی رہی تھی، مولانا کے حافظہ کا یہ عالم تھا کہ وہ اس حال میں بھی بر جستہ کتابیں پڑھا تے تھے اور طلبہ ان کی جید استعدادی او رقوت حافظہ سے محوحیرت ہوتے۔
حضرت مولانا نے ۰۹۸۱ء کے ارد گرداس منصہ شہود پر قدم رکھا،آپ شیخ غیاث الدین منڈل کے چشم وچراغ اور مولاناسید قطب الدین صاحب لکھنوی کے پروردہ اور ادب یافتہ تھے،سندفراغت مدرسہ الہیات کانپور،یوپی سے حاصل کیا تھا۔
فراغت کے بعد کچھ سالوں تک ناصری گنج وغیرہ میں تدریسی خدمت انجام دی، اسکے بعد ۳۲۹۱ء میں مادر علمی شمسیہ کے دامن سے وابستہ ہوئے اور آنکھوں میں پانی اتر آنے تک اسی کی خدمت کے لئے وقف ہوگئے،چودہ سال تک پوری پابندی اور انہماک کے ساتھ تعلیمی دیتے رہے اور عہدہ صدرمدرس پر جلوہ فگن رہے، اس عرصہ میں سینکڑوں کی تعددا میں ا سے فیض یافتہ علماء تیار ہوئے،جوآج خدمت دین میں مشغول ہیں۔
آ پ کو چہ سیاست کے رمز شناس اور اس کے پیچ وخم سے واقف کار تھے، خدمت قوم کا جذبہ دل میں مو جزن تھا،چنانچہ ۶۳۹۱ء میں بہارا سمبلی کے انتخابات کے لیے آپ مہگاواں حلقے سے کھڑے ہوئے،آپ کے مدمقابل پروفیسر عبدالباری صاحب کا جھنڈالہرارہاتھا،معرکہ امیدوبیم میں دونوں حضرات نے بڑی مستعدی ونشاط کا ثبوت دیا،فلک شگاف نعروں اور مداحی قصیدوں سے علاقہ گونج اٹھا،آپ ابتداء میں بڑی پر امید تھے،بردران وطن اور اقرباء علاقہ سے نا امید ی کی کوئی وجہ بھی نہ تھی،آپکی شخصیت ہر ایک کے سامنے جانی پہچانی تھی، لیکن ریشہ دوانی کے باعث آپ ناکام ہو گئے،اسمیں آپ کو مال ومتاع کا بڑاخسارہ برداشت کرنا پڑا،آپ ممبراسمبلی منتخب ہوئے تو علاقہ بہاریں لوٹتا اور اہل وطن فیضیاب وسیراب ہوتے اورگھی کادیا جلاتے لیکن ؎
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
آپ کا جسم ورزشی تھا آپ کشتی اور لاٹھی کے فنکار استاد تھے،جنبش جسم میں بڑی پھرتی اور لچک تھی لاٹھی گھماتے تو پتھر کی رسائی بھی آپ تک مشکل سے ہوپاتی اور اگر کوئی اس وقت پتھر مارتا تو وہ پتھرلاٹھی سے ٹکرا کر نیچے گرجاتا،مولاناکو نہیں لگتا، اس فن کی شہرت ومقبولیت کے باعث دور دراز سے شائقین اس فن میں مہارت پیداکرنے آتے،محرم میں اس فن کی نمائش کرتے تو تماشیوں کی بھیڑلگ جاتی۔
۷۳۹۱ء میں آپ کی بینائی جاتی رہی آپ نے بڑے صبر وشکر کے ساتھ اس عمر کو گزارا، آخر ۲۱/دسمر۴۹۹۱ء کو سفر آخرت کا وقت موعود پیش آیا اور آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا ؎
داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی ایک شمع رہ گئی تھی سدووہ گی خموش ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: