اسلامیات

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم: شمائل و خصائل! (پہلی قسط)

از قلم ۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164

اللہ رب العزت نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کمال سیرت میں تمام اولین و آخرین سے ممتاز،اور افضل و اعلی بنایا۔اسی طرح آپ کو جمال صورت میں بھی بے مثل و بے مثال پیدا فرمایا۔ہم اور آپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بے مثالی کو نہیں سمجھ سکتے۔وہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہ جو دن رات ،سفر وحضر میں جمال نبوت کی تجلیاں دیکھتے رہے۔انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال جہاں آرا کے فضل و کمال کی جو تصویر کشی کی ہے ۔اسکو سن یا پڑھ کرہمیں بھی یہی کہنا پڑتا ہے جو کسی مداح رسول نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔؀

1.لَمۡ یَخۡلُقِ الرَّحۡمٰنُ مِثۡلَ مُحَمَّدٖ ۔ اَبَدًاوَّعِلۡمِیۡ اَنَّهٗ لَا یَخۡلُقُ۔
2.وَاَجۡمَلَ مِنۡكَ لَمۡ تَرَ قَطُّ عیۡنِی ۔ وَاَكۡمَلَ مِنۡكَ لَمۡ تَلِدِالنِّسَاءٗ 3.خُلِقۡتَ مُبَرَّءً مِنۡ كُلِّ عَیۡبٍ ۔ كَاَ نَّكَ قَدۡ خُلِقۡتَ كَمَا تَشَاءٗ
1. یعنی اللہ تعالٰی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مثل پیدا فرمایا ہی نہیں اور میں یہی جانتا ہوں کہ وہ کبھی نہ پیدا کرے گا (حیات الحیوان ،ج نمبر 1،ص42)
2.یعنی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے زیادہ حسن و جمال والا میری آنکھ نے کبھی کسی کو دیکھا ہی نہیں اور آپ سے زیادہ کمال والا کسی عورت نے جنا ہی نہیں۔
3.یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہر عیب و نقص سے پاک پیدا کیے گئے ہیں۔ گویا آپ ایسے ہی پیدا کیے گئے جیسے حسین و جمیل پیدا ہونا چاہیے تھا۔

حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قصیدہ بردہ شریف میں رقمطراز ہیں۔؀
مُنَزَّةٌ عَنۡ شَرِیۡكِ فِیۡ مَحَاسِنِهٖ ۔ فَجَوۡهَرُ الۡحُسۡنِ فِیۡهِ غَیۡرُ مُنۡقَسِمٖ۔ترجمہ: یعنی محبوب خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خوبیوں میں ایسے یکتا ہیں کہ اس معاملہ میں ان کا شریک ہی نہیں ہے ۔کیونکہ ان میں جو حسن کا جوہر ہے وہ قابل تقسیم ہی نہیں ہے ۔اسی مضمون کی عکاسی کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ۔؀
تری خلق کو حق نے "جمیل” کہا ترے خلق کو حق نے” عظیم” کہا -:- نہ ہوا ہے، نہ ہو کوئی مثل ترا، ترے خالقِ حسن واداکی قسم۔اب بہتر اور مناسب سمجھتے ہوئے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے حلیہ مبارک کے چند گوشے پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں۔

جسم مبارک:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس کا رنگ گورا سپید تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کا مقدس بدن چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا ہے۔(شمائل ترمذی )
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ آپ کا جسم مبارک نہایت نرم و نازک تھا میں نے دیبا اور حریر (ریشمی کپڑوں) کو بھی آپ کے بدن سے زیادہ نرم و نازک نہیں دیکھا۔آپ کے جسم مبارک کی خوشبو سے زیادہ اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں سونگھی۔(بخاری ج 1/ ص503)
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ انور اس طرح چمک اٹھتا تھا کہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے۔ اور ہم لوگ اسی کیفیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شادمانی ومسرت کو پہچان لیتے تھے۔
(بخاری،ج1/ص502)

جسم انور کا سایہ نہ تھا:
آپ کے قد مبارک کا سایہ نہ تھا۔ حکیم ترمذی (متوفی 255ھجری ) نے اپنی کتاب ” نوادرالاصول "میں حضرت ذکوان تابعی سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ سورج کی دھوپ اورچاند کی چاندنی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا۔ امام ابن سبع کا قول ہے کہ یہ آپ کے خصائص میں سے ہے کہ آپکا سایہ زمین پر نہیں پڑتا تھا۔اور آپ نور تھے اس لئے جب آپ دھوپ یا چاندنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نظر نہیں پڑتا تھا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن مبارک اورابن جوزی نے بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا۔(زرقانی ج5/ص249)

مکھی،مچھر،جووں سے محفوظ:
حضرت امام فخر الدین رازی نے اس روایت کو نقل فرمایا ہے اور علامہ حجازی وغیرہ سے بھی یہی منقول ہے کہ بدن تو بدن آپ کے کپڑوں پر بھی کبھی مکھی نہیں بیٹھی، نہ کپڑوں میں کبھی جوئیں پڑیں، نہ کبھی کھٹمل یا مچھر نے آپ کو کاٹا اس مضمون کو ابوالربیع سلیمان بن سبع نے اپنی کتاب” شفاء الصدور فی اعلام نبوت الرسول "میں بیان فرماتے ہوئے تحریر فرمایا کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ نور تھے۔پھر مکھیوں کی آمد ،جووں کا پیدا ہونا چونکہ گندگی ،بدبو، وغیرہ کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔اور آپ چونکہ ہر قسم کی گندگیوں سے پاک ،اور آپ کا جسم اطہر خوشبودار تھا اس لئے آپ ان چیزوں سے محفوظ رہے ۔امام سبتی نے بھی اس مضمون کو "اعظم الموارد ” میں مفصل لکھا ہے۔( زرقانی جلد5.ص249)

مہر نبوت:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت تھی۔یہ بظاہر سرخی مائل ابھرا ہوا گوشت تھا۔ چنانچہ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے بیچ میں مہر نبوت کو دیکھا جو کبوتر کے انڈے کی مقدار میں سرخ ابھرا ہوا ایک غدود تھا۔(شمائل ترمذی ص3/وترمذی جلد2/ص 205)

قد مبارک:
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ بہت زیادہ لمبے تھے نہ پست قد بلکہ آپ درمیانی قد والے تھے اور آپ کا مقدس بدن انتہائی خوبصورت تھا جب چلتے تھے تو کچھ خمیدہ ہوکر چلتے تھے( شمائل ترمذی ص1)
اسی طرح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نہ طویل القامت تھے نہ پست قد،بلکہ آپ میانہ قد
تھے بوقت رفتار ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا آپ کسی بلندی سے اتر رہے ہیں۔آپ کا مثل نہ آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔(شمائل ترمذی ص1)

سر اقدس:
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ کا حلیہ مبارک بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا "ضَخَمُ الرَّاسِ” یعنی آپ کا سر مبارک” بڑا ” جو شاندار اور وجیہ ہونے کا نشان ہے ۔(شمائل ترمذی ص1) اس حدیث پاک کے تناظر میں اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ؀
جسکے آگے سر سروراں خم رہیں : اس سر تاج رفعت پہ لاکھوں سلام۔

مقدس بال:
حضورِ انور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک نہ گھو نگھردار تھے ،نہ بالکل سیدھے بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان تھے۔ آپ کے مقدس بال پہلے کانوں کی لو تک تھے پھر شانوں تک بصورت گیسو لٹکے رہتے تھے۔مگرحجتہ الودا ع کے موقع پر آپ نے اپنے بالوں کو اتروادیا۔آپ اکثر بالوں میں تیل بھی ڈالتے تھے اور کبھی کبھی کنگھی بھی کرتے تھے اور اخیر زمانے میں بیچ سر میں مانگ بھی نکالتے تھے ۔آپ کے مقدس بال آخر عمر تک سیاہ رہے ۔سر اور داڑھی شریف میں بیس بالوں سے زیادہ سفید نہیں ہوئے تھے( شمائل ترمذی صفحہ 4,5)
حضورِاقدس صلی اللہ وسلم نے حجۃ الوداع میں جب اپنے مقدس بال اتروائے تو وہ صحابہ کرام میں بطور تبرک تقسیم ہوے۔اور صحابہ کرام نے نہایت ہی عقیدت کے ساتھ اس موے مبارک کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور اس کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔حضرت بی بی ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اس مقدس بالوں کو ایک شیشی میں رکھ لیا تھا جب کسی انسان کو نظر لگ جاتی یا کوئی مرض ہوتا تو آپ اس شیشی کو پانی میں ڈبو کر دیتی تھیں۔اوراس پانی سےشفا حاصل ہوتی تھی۔( بخاری ج 2/ص 875)

رخ انور شریف:
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور، جمال الہی کاآئینہ،اور انوار تجلی کا مظہر تھا۔ نہایت ہی وجیہ ،پرگوشت،اورکسی قدرگولائی لئے ہوئے تھا۔حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ چاندنی رات میں دیکھا۔میں ایک مرتبہ چاند کی طرف دیکھتا اور ایک مرتبہ آپ کی چہرے انور کو دیکھتا ۔تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ وسلم کا چہرہ (چمک دمک میں) میں تلوار کے مانند تھا ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ آپ کا چہرہ چاند کے مثل تھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے حلیہ مبارکہ کوبیان کرتے ہوئے یہ کہا کہ جوآپ کواچانک دیکھتا وہ آپ کے رعب و داب سے
ڈر جاتا۔اور جو پہچاننے کے بعد آپ سے ملتا تو آپ سے محبت کرنے لگتا تھا۔(شمائل ترمذی ص2)

حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم تمام انسانوں سے بڑھ کر خوبرو،اور سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے۔ اس کے متعلق اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے کیا ہی خوب کہا ہے۔؀
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے : اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام۔

آپ کی ابرو مبارک۔
آپ کی بھویں دراز وباریک اورگھنے بال والی تھیں ۔ اور دونوں بھویں اس قدر متصل تھیں کہ دور سے دونوں ملی ہوئی معلوم ہوتی تھی اور دونوں بھووں کے درمیان ایک رگ تھی جو غصہ کے وقت ابھر جاتی تھی۔(شمائل ترمذی ص2)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ؀
جس کے سجدے کو محراب کعبہ جھکی : ان بھووں کی لطافت پہ لاکھوں سلام۔

چشمان مبارک:
آپ کی چشمان مبارک بڑی بڑی،اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں۔پلکیں گھنی اور دراز تھیں ۔پتلی کی سیاہی خوب سیاہ،اور آنکھ کی سفیدی خوب سفید تھی جن میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے۔(شمائل ترمذی ص2/ ودلائل النبوہ ص 54)
آپ کی مقدس آنکھوں کا یہ اعجاز ہے کہ آپ بیک وقت آگے ،پیچھے ،دائیں،بائیں،اوپر ،نیچے،دن،رات،اندھیرے،اجالے میں یکساں دیکھا کرتے تھے۔ (زرقانی علی المواہب جلد5ص246 وخصائص کبری جلد ص61)

چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ "اَقِیۡمُو االرُّكُوۡعَ وَالسُّجُوۡدَ فَوَ اللّٰهِ اِنِّیۡ لَاَرَاكُمۡ مِنۡ بَعۡدِیۡ۔” (مشکواۃ ص82باب الرکوع) یعنی اے لوگو ! تم رکوع وسجود کو درست طریقے سے ادا کرو۔ کیوں کہ خداکی قسم! میں تم لوگوں کو اپنے پیچھے سے بھی دیکھتارہتاہوں۔

بینی مبارک :
آپکی متبرک ناک خوبصورت،دراز،اور بلند تھی جس پر ایک نور چمکتا تھا جو شخص بغور نہیں دیکھتا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ آپ کی مبارک ناک بہت اونچی ہے حالانکہ آپ کی ناک بہت زیادہ اونچی نہ تھی۔بلکہ بلندی اس نور کی وجہ سے محسوس ہوتی تھی جو آپ کی مقدس ناک کے اوپر جلوہ فگن تھا۔(شمائل ترمذی ص2)

پیشانی مقدس:
حضرت ہند ابی ہالہ رضی اللہ تعالی عنہ آپ کے چہرہ انور کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہیں کہ”وَاسِع الۡجَبِیۡن” یعنی آپ کی مبارک پیشانی کشادہ اور چوڑی تھی ۔(شمائل ترمذی ص2)
قدرتی طور سے آپ کی پیشانی پر ایک نورانی چمک تھی
چنانچہ دربار رسالت کے شاعر مداح رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی حسین وجمیل نورانی منظر کو دیکھ کر یہ کہاہے کہ؀
مَتٰی تَبۡدُ فِی الدَّاجِیۡ الۡبَهِیۡمِ جَبِیۡنُهٗ : یَلۡحُ مِثۡلَ مِصۡبَاحِ الدُّجٰی الۡمُتَوَقِّدِهٖ ۔یعنی جب اندھیری رات میں آپ کی مقدس پیشانی ظاہر ہوتی ہے تو اس طرح چمکتی ہے جس طرح رات کی تاریکی میں روشن چراغ چمکتے ہیں۔
اللہ رب العزت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے جملہ مسلمانوں کو مالا مال فرماے ۔آمین بجاہ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔جاری ہے …

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: