اسلامیات

حضور ﷺغیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

حضور ﷺ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے، اس کی یہ چوتھی مثال ہے
دنیا کا قاعدہ یہ ہے کہ اگر کسی نے کسی قوم کو ستایا ہوتوجب اس پر غلبہ ہوتا ہے تو اس پوری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں اس کے کسی آدمی کو نہیں چھوڑتے
لیکن حضور ﷺ کو نبوت ملنے کے بعد ہی سے اہل مکہ نے اتنا ستا یا کہ تمام مسلمانوں کو مکہ کو چھوڑنے پر مجبور کر دیا، ان کی تمام جائداد ضبط کرلیں، بیس سال تک جنگ کرتے رہے، اور مدینہ جا جا کر تین بڑی بڑی جنگیں لڑیں، اور پوری کوشش یہ رہی کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کر دیا جائے ، ان میں حضرت ابو سفیان ؓ سب سے آگے آگے رہے
حضور کو چھپ کر ہجرت کرنی پڑی، اور پہاروں میں جا کر اپنی جان بچانی پڑی
، ایسا بھی ہوا کہ شوہر نے ہجرت کی، اور بیوی اور بچہ مکہ میں رہے، اور برسوں اہل مکہ کی اذیت سہتے رہے، اور آخر سب مسلمانوں کو مکہ چھوڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا، انسانی تاریخ میں کسی قوم کو اتنا نہیں ستایا گیا ہے، جتنا حضور کو ستایا، اور ان کی قوم کو ستایا
اس کا حاصل تو یہ ہونا چاہئے کہ جب ان پر غلبہ اور قبضہ ہوا تو ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑتے، لیکن جب فتح مکہ کے موقع پر حضو ر ﷺ کو اہل مکہ پر فتح ہوئی تو آپ نے اعلان کر کے فرمایا کہ بدلہ لینا تو دور کی بات ہے، آج تو میں تم کو ادنی سی ملامت بھی نہیں کروں گا، اشارہ سے کنایہ سے بھی اس کا ذکر نہیں ہو گا
فرمایا، لا تثریب علیکم الیوم، آج کوئی ملامت نہیں ہے، چونکہ آپ پوری دنیا کے لئے، کافر اور غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بنکر آئے تھے اس لئے ستانے والے غیر مسلم کو بھی معاف کر دیا، اور قیامت تک کے لئے یہ پیغام دے گئے کہ جب کبھی غیر مسلم پر مسلمانوں کا غلبہ ہو تو غیر مسلم کو معاف کر دو، انسانی ہمدردی کے طور پر، اسکو ملامت تک نہ کرو

آپ ان احادیث کو غور سے دیکھیں
۔و حدیث عروۃ بمعناہ۔۔۔قال رسول اللہ ﷺ نعم من کف یدہ و اغلق دارہ فھو آمن، قالوا فبعثنا نؤذن بذالک فیھم، قال انطلقوا فمن دخل دارک یا ابا سفیان و دارک یا حکیم و کف یدہ فھو آمن۔ (سنن بیہقی، کتاب السیر، باب فتح مکۃ حرسھا اللہ تعالی، جلد ۹، ص ۲۰۲، نمبر ۱۸۲۸۱)
ترجمہ : حضور ﷺ نے فرمایا کہ، ہاں جو لڑائی سے اپنا ہاتھ روک لے گا اس کو بھی امن ہے، جو اپنا گھر کا دروازہ بند کر لے(اور لڑائی نہ کرے) اس کو بھی امن ہے، لوگوں نے حضور ؐ سے کہا، ہم اس حکم کا اعلان نہ کر دیں؟، تو آپ ؐ نے فرمایا کہ جاو، (اور اس امن کا اعلان کر دو)، اور یہ بھی اعلان کرو کہ جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امن ہے،، اور اے حکیم جو تیرے گھر میں داخل ہو جائے، اور لڑائی سے ہاتھ روک لے اس کو بھی امن ہے
اس حدیث میں دیکھیں کہ وہ حضرت سفیان ؓ جنہوں نے تمام جنگوں میں سرداری کی، اور حضور ؐ کو اور مسلمانوں کو ستانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، ان کو بھی اتنی عزت دی کہ جو کوئی حضرت سفیانؓ کے گھر میں داخل ہو جائے اس کو بھی امن ہے، اس طرح ان تمام لوگوں کو معاف کر دیا جو ابھی تک بھی مکہ میں کافر تھے
اور یہ صرف ایک مرتبہ نہیں کیا بلکہ قیامت تک کے لئے یہ طریقہ بنا دیا کہ مسلمان کسی کافر قوم پر بھی غلبہ پائے تو ان کو بالکل معاف کر دے، اور ان کی جان، مال، عزت، سب چیزوں کو بخش دے، اس لئے آپ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت ہیں

نیچے والی حدیث میں فرمایا کہ تم لوگوں نے جتنی بھی جنگیں کیں، اور جتنا بھی ستایا، اس پر ملامت تک بھی نہیں کی جائے گی، اور ان کا ذکر بھی نہیں کیا جائے گا
۔فقال رسول اللہ ﷺ اقول کما قال یوسف (لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم و ھو ارحم الراحمین(سورت یوسف ۲۱، آیت ۲۹) (سنن بیہقی، کتاب السیر، باب فتح مکۃ حرسھا اللہ تعالی، جلد ۹، ص ۰۰۲، نمبر ۵۷۲۸۱)
ترجمہ : حضور ر ﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا کہ جیسا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے لئے فرمایا، میں بھی ایسا ہی کہتا ہوں، کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہو گی اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سارے رحم کرنے والوں میں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
لغت: ثرب: کا ترجمہ ہے ملامت کرنا
حضور ؐ نے فرمایا کہ بدلہ لینا اور قتل کرنا تو دور کی بات ہے، آپ لوگوں کو اس ستانے پر ادنی سی ملامت بھی نہیں کی جائے گی، یہ غیر مسلم پر کتنا بڑا احسان ہے، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ حضور پوری دنیا کے لئے رحمت ہیں
اس اوپر والی حدیث میں ہے کہ ستانے والوں کو ملامت بھی نہیں کی جائے گی (لا تثریب علیکم الیوم

نیچے والی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ کے وقت میں صرف چار لوگوں کے قتل کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ ان چاروں نے پہلے کسی کو قتل کیا تھا، ان کا قصاص ان پر باقی تھا، اس لئے ان چار لوگوں کو قصاص کے طور پر قتل کیا جائے، باقی تمام لوگوں کو آج معاف کر دیا جائے، اتنی بڑی فتح، اور اتنی بڑی معافی، دینا اس امن و امان پر حیران ہے
۔حدثنی جدی عن ابیہ ان رسول اللہ ﷺ قال یوم فتح مکۃ آمن الناس الا ھولاء الاربعۃ، فلا یومنون فی حل و لا حرم ابن خطل و مقیس بن صبابۃ المخزومی، و عبد اللہ بن ابی سرح،و ابن نقیذ، فاما ابن خطل فقتلہ الزبیر بن العوام و اما عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح فاستأمن لہ عثمان رضی اللہ عنہ فأومن و کان أخاہ من الرضاعۃ فلم یقتل و مقیس بن صبابۃ قتلہ ابن عم لہ لحا قد سماہ وقتل علی ؓ ابن نقیذ و قینتین کانتا لمقیس فقتلت احداھما و افلت الاخری و اسلمت (سنن بیہقی، کتاب السیر، باب فتح مکۃ حرسھا اللہ تعالی، جلد ۹، ص۲۰۲، نمبر۰۸۲۸۱)
ترجمہ : حضور ﷺنے فتح مکہ کے دن سب کو امن دیا سوائے ان چار آدمیوں کے،ان کو حرم اور حل میں سے کہیں امن نہیں دیا، ابن خطل، مقیس بن صبابۃ مخزومی، عبد اللہ بن ابی سرح، اور ابن نقیذ کو، ابن خطل کو زبیر بن عوام نے قتل کیا، عبد اللہ بن ابی رباح کو حضرت عثمان ؓ نے پناہ دے دی، کیونکہ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا، اس لئے وہ قتل نہیں ہوا۔ اور مقیس بن صبابۃ اس کے چچا زاد بھائی لحا نے قتل کیا، کیونکہ انہیں کو قتل کرنے کے لئے کہا تھا،اور ابن نقیذ کو حضرت علی ؓ نے قتل کیا، اور مقیس بن صبابۃ کی دو باندیاں تھیں، ان میں سے ایک کو قتل کیا، اور دوسری بھاگ گئی اور وہ مسلمان ہو گئی تھی

اس حدیث میں ہے کہ صرف چار آدمیوں کو قصاص کے طور پر قتل کا فیصلہ ہوا، لیکن ان میں ایک، عبد اللہ بن ابی رباح کو حضرت عثمان نے پناہ دے دی تو ان کو بھی چھوڑ دیا، اور صرف تین آدمیوں کو قتل کیا گیا
کیا کمال ہے کہ بیس سال کے بعد مکہ مکرمہ کو فتح کیا، اور اس شان سے فتح کیا کہ سب کو معاف کر دیا۔
آج غیر مسلم سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہم پر غلبہ کریں گے تو ہم سب کو قتل کر دیں گے، اور اسی ڈر سے وہ آپ کے اقتدار کی مخالفت کرتے ہیں، اس لئے ان کو سمجھائیں کہ اگر ہمارا غلبہ ہو گا تو ہم سب کو معاف کر دیں گے، اور سب کو امن دیں گے، اور سب کے ساتھ عدل و انصاف کا معاملہ کریں گے، اور سب کی جان، مال اور عزت کی حفاظت کریں گے، اور ایسا کرکے دکھلائیں تو وہ دل و جان سے آپ کے ساتھ ہو جائیں گے، اور آپ کے غلبہ سے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا، اور نہ ان کے عوام آپ کی مخالفت کریں گے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: