اسلامیات

حضور ﷺغیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

حضور ﷺ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے، اس کی یہ پانچواں مثال ہے
دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ جس قوم پر غلبہ ہوتا ہے تو ان کی نسلوں کو تباہ کر دیتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں ختم کر دیتی ہے، لیکن حضور ﷺنے کتنا بڑا کرم کیا ہے کہ اگر غیر مسلم پر غلبہ ہو اور وہ جزیہ دے تو تمام چیزیں محفوظ رہیں گی

شریعت کا یہ قانون ہے کہ اگر اسلامی حکومت میں غیر مسلم ذمی رہتے ہوں تو
۱۔۔۔ ان کے دین کی حفاظت کرنا واجب ہے۔
۲۔۔۔ ان کے مال کی حفاظت کرنا واجب ہے۔
۳۔۔۔ انکی جان کی حفاظت کرنا واجب ہے۔
۴۔۔۔ انکی عزت کی حفاطت کرنا واجب ہے
۵۔۔۔ انکے چرچوں کی حفاظت کرنا مسلمانوں کے ذمے واجب ہے
بلکہ ضرورت پڑے گی تو اس کی حفاظت کے لئے مسلمانوں کو قتال بھی کرنا پڑے گا۔

اس کے لئے حضور ؐ کا یہ عہد نامہ ہے جو اہل نجران کے عیسائی کو آپ نے لکھ کر دیا تھا
، اور یہ عہد قیامت تک کے لئے ہے
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
ہذا ما کتب محمد النبی ﷺ لاہل نجران اذا کان علیہم حکمہ…….و لنجران و حاشیتھا جوار اللہ و ذمۃ محمد النبی رسول اللہ علی اموالہم و انفسہم و ارضہم و ملتہم و غائبہم و شاہدہم و عشیرتہم و بیعہم و کل ما تحت ایدیہم من قلیل و کثیر، لا یغیر اسقف من اسقفیتہ و لا راہب من رہبانیتہ و لا کاہن من کہانتہ، لیس علیہم دنیۃ و لا دم جاہلیۃ و لا یخسرون و لا یعیرون و لا یطأ ارضہم جیش، و من سأل منہم حقا فبینہم النصف غیر ظالمین و لا مظلومین….و علی ما فی ھذا الکتاب جوار اللہ و ذمۃ محمد رسولہ ابدا حتی یاتی اللہ بامرہ۔ (کتاب الخراج لابی یوسف، قصۃ نجران و اہلہا، ص ۲۷)
ترجمہ….. یہ وہ خط جس کو حضور ؐ نے نجران والوں کو لکھ کر دیا ہے، جب نجران پر حکومت ہو تو……..نجران اور انکی اتباع کرنے والوں کے لئے اللہ کی پناہ ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے اوپر حفاظت کی ذمہ داری ہے، انکے مال کی، انکی جان کی، انکی زمین کی، انکے مذہب کی، جو غائب ہیں ان کی بھی اور جو ابھی موجود ہیں ان کی بھی، ان کے خاندان کی، انکے گرجا گھروں کی، اور انکے قبضے میں جو بھی ہیں تھوڑے، یا زیادہ، ان سب کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، نہ ان کا کوئی بشپ اس کو بدل سکتا ہے، اور نہ ان کا کوئی راہب بدل سکتا ہے، اور نہ کوئی کاہن بدل سکتا ہے،، ان لوگوں پر کوئی ذلت نہیں ہے، اور نہ ان پر زمانہ اہلیت کے خون کا بدلہ ہے، اور نہ انکو کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے، اور نہ انکو کوئی عار دلا سکتا ہے، اور نہ ان کی زمین پر کوئی فوج کشی ہو گی، اگر یہ لوگ کوئی حق مانگے تو ان کو آدھا دیا جائے گا، نہ ان کو ظلم کرنے دیا جائے گا، اور نہ یہ مظلوم ہوں گے…. اور اسی تحریر پر اللہ کا پناہ ہے اور انکے رسول محمد ﷺ کا ہمیشہ کا ذمہ ہے جب تک کہ قیامت نہ آجائے۔
اس حدیث میں ہے کہ اہل نجران جو عیسائی تھے ان کی جان، ان کا مال، ان کا دین سب محفوظ رہیں گے بلکہ نہ انکو عار دلائی جائے گی۔ اور نہ انکو کوئی نقصان دیں گے، اور اس عہد کو نہ کوئی راہب بدل سکے گا، اور نہ کوئی کاہن بدل سکے گا، یہ عہد قیامت تک رہے گا۔

اسلامی حکومت میں بھی چرچ نہیں ڈھایا جائے گا
اسلامی حکومت ہو تب بھی عیسائیوں کے چرچوں، یہودیوں کے سنیگوگ، اور ہندؤوں کے مندر نہیں ڈھائے جائیں گے ، کیونکہ شریعت نے ان کے مندر اور گرجا گھر کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے،
آپ ﷺ غیر مسلم پر بھی کتنے شفیق تھے کہ غیر مسلم کی عبادت گاہوں کو بھی ڈھانے سے روکا، اس لئے آپ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے ہیں
اس عمل صحابی میں اس کا ثبوت ہے ۔ ثم مضی الی بلاد قرقیسیاء…. اعطاہم مثل ما عطای اہل عانات علی ان لا یہدم لہم بیعۃ و لا کنیسۃ، و علی ان یضربوا لہم نو اقیسہم الا فی اوقات الصلوات، و یخرجو ا صلبانہم فی یوم عید ہم فاعطاہم ذالک، و کتب بینہ و بینہم الکتاب…..، و ترکت البیع و الکنائس لم یہدم لما جری من الصلح بین المسلمین و اہل الذمۃ، و لم یرد ذالک الصلح علی خالد ابو بکر و لا ردہ بعد ابی بکر، و عمر، و لا عثمان، و لا علی رضی اللہ عنہم (کتاب الخراج لامام ابی یوسف، فصل فی الکنائس و البیع و الصلبان، ص ۷۴۱)
ترجمہ: پھر یہ فوج قرقیساء شہر کی طرف گئی…..ان کووہی حقوق دئے جو عانات والوں کو دئے، کہ ان کا گرجا گھر منہدم نہیں کیا جائے گا، یہودیوں کی عبادت گاہ منہدم نہیں کی جائے گی، نماز کے اوقات کے علاوہ وہ گرجے کی گھنٹی بجا سکے گا، اور وہ اپنی عید کے دن اپنے صلیب کو نکالیں گے، یہ سب حقوق انکو دئے گئے، اس بات پر انکے درمیان اور خلیفہ کے درمیان تحریر لکھی گئی ….اس تحریر کی وجہ سے گرجے اور کنیسہ منہدم نہیں کئے گئے، اس لئے کہ مسلمانوں اور ذمیوں کے درمیان اس بات پر صلح ہو گئی تھی، حضرت خالد ؓ نے جو صلح کی تھی اس کو حضرت ابو بکر ؓنے رد نہیں کیا، اور حضرت ابو بکر ؓ کے بعد حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی ؓ نے بھی رد نہیں کیا۔
اس لئے حضور ﷺ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: