اسلامیات

حضور ﷺغیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

پانچویں قسط : ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

حضور ﷺ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے، اس کی یہ چھٹی مثال ہے
۵ ہجری میں مریسیع کے مقام پر قبیلہ بنی مصطلق سے جنگ ہوئی، قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ ہار گئے، اور تمام لوگ قیدی بنا لئے گئے، قبیلے کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی حضرت جویریہ ؓبھی حضرت ثابت بن قیس ؓ کی قیدی بنیں ، لیکن حضرت جویریہ ؓنے مال کتابت دے کر آزاد ہونا چاہا، لیکن ان کے پاس آزاد ہونے کے لئے مال نہیں تھا، وہ حضور ﷺ کی خدمت میں مال مانگنے کے لئے آئیں، حضور ؐ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا، اور ان سے نکاح کر لیا
جب باقی صحابہ نے یہ سنا کہ حضرت جویریہ حضور ؐ کی بیوی بن گئیں ہیں، اور جو قیدی ہمارے پاس ہیں وہ سب اب حضور کے سالے، سالیاں، اور سسرال کے رشتہ دار بن گئے ہیں، تو سب صحابہ نے اپنے اپنے قیدیوں کو خود بخود آزاد کر دیا، حضرت عائشہ ؓ فرماتیں ہیں کہ اس وقت ایک سو گھر کے افراد آزاد ہوئے، اور اس ایک عورت کی وجہ سے تمام قبیلہ والے آزاد ہو گئے
بعد میں حضور ﷺ کی اس مہربانی کو دیکھ کر سبھی قیدی مسلمان ہو گئے تھے
آپ ؐ نے قیامت تک کے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ جب کبھی غیر مسلم تمہارے قبضے میں آئے، اورتمہارا قیدی بنے تو ان کے ساتھ ایسی ہی خیر خواہی کرو، جس سے ان کے سب لوگ آزاد ہو جائیں
اس لئے آپ ﷺ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

اس کے لئے یہ حدیث دیکھیں
۔عن عائشۃ قالت وقعت جویریۃ بنت الحارث بن المصطلق فی سہم ثابت بن قیس بن شماس ، او ابن عم لہ۔ فکاتبت علی نفسھا۔۔۔فقالت یا رسول اللہ ﷺ انا جویریۃ بنت الحارث و انما کان من امری ما لا یخفی علیک۔۔۔و انی کاتبت علی نفسی فجئتک أسألک فی کتابتی، فقال رسول اللہ ﷺ فھل لک الی ما ھو خیر منہ؟ قالت و ما ھو یا رسول اللہ؟ قال أودی عنک کتابتک و اتزوجک، قالت قد فعلت، قالت فتسامع تعنی الناس ان رسول اللہ ﷺ قد تزوج جویریۃ فأرسلوا ما بایدھم من السبی، فاعتقوھم، و قالوا أصحار رسول اللہ ﷺ، فما رأینا امراۃ کانت اعظم برکۃ علی قومھا منھا، أعتق فی سببھا مأۃ أھل بیت من بنی المصطلق۔ (ابو داود شریف، کتاب العتق، باب فی بیع المکاتب اذا فسخت المکاتبۃ، ص ۸۵۵، نمبر ۱۳۹۳)
ترجمہ : حضرت عائشۃ فرماتیں ہیں کہ حضرت جویریہ بنت حارث بن مصطلق ثابت بن قیس کے حصے میں آئیں، یا انکے چچا کے بیٹے کے حصے میں آئیں، پھر انہوں نے مال دیکر آزاد ہونے پر معاملہ طے کیا۔۔۔حضرت جویریہ کہنے لگیں، یا رسول اللہ ﷺ میں جویریہ بنت حارث ہوں، اور میرا معاملہ کیا ہوا وہ ااپ کو پتہ ہی ہے، (یعنی میں باندی بن گئی)۔۔۔میں نے مال دیکر آزاد ہونے کا معاملہ طے کیا ہے، اور آپ سے (آزاد ہونے کا مال) کتابت کا مال مانگنے آئی ہوں، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ۔ کیا اس سے اچھی بات نہ بتاؤں، تو حضرت جویریہ ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کیا ہے؟ ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے آزادگی کا مال میں دے دوں، اور تم سے نکاح کر لوں، حضرت جویریہ نے کہا کہ مجھے منظور ہے،، حضرت عائشہ ؓ فرماتیں ہیں کہ یہ بات لوگوں کو معلوم ہوئی کہ، حضور ؐ نے حضرت جویریہ نے نکاح کر لیا، تو صحابہ کے قبضے میں جتنے قیدی تھے سب کو چھوڑ دیا، اور آزاد کر دیا۔، اور صحابہ نے یوں کہا کہ اب یہ حضور ؐ کے یہ سسرال والے ہو گئے ہیں،، حضرت عائشہ فرماتیں ہیں کہ اپنی قوم کے لئے اتنی برکت والی کسی اور کو نہیں دیکھا، کہ ان کی وجہ سے بنی مصطلق کے ایک سو گھر والے آزاد ہو گئے۔

اس حدیث میں دیکھیں کہ کس طرح لڑنے والی قوم کی بیٹی سے نکاح کیا، اور اس کی وجہ سے پوری قوم کو آزاد کر دیا، اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ یہ غیر قوم کی لڑکی ہے، یا اس کی قوم نے ابھی ابھی زبردست جنگ کی ہے
اس لئے آپ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: