اسلامیات

حضور ﷺغیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

چھٹی قسط
حضور ﷺ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے، اس کی یہ ساتویں مثال ہے
حضور ﷺ کا معجزہ ہی سمجھیں کہ جس طرح مکہ فتح ہوا اور کوئی خون خرابا نہیں ہوا، اور کسی کو قتل نہیں کیا گیا، ٹھیک اسی طرح حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بیت المقدس بھی بغیر خون خرابے کے فتح ہو گیا، اور یہ تیسری مسجد کے فتح کے وقت بھی امن و امان قائم رہا، اور کسی کو قتل نہیں کیا
اور یہ ثابت ہو گیا کہ حضورؓ کے امتی بھی غیر مسلم کے لئے رحمت ہیں۔

جب صحابہ نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور وہاں کے پادریوں کو کہا گیا کہ آپ جنگ چھوڑ کر جزیہ دینا قبول کر لیں تو انہوں نے کہا کہ ہماری مقدس کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ محمد ﷺ کے صحابی اس شہر کو فتح کریں گے، جس کا نام عمرؓ ہو گا
اور جب حضرت عمر ؓ بیت المقدس پہنچے تو ان کے کپڑے پر بارہ پیوند لگے ہوئے تھے، اور ان کا غلام اونٹ پر سوار تھا، اور یہ خود پیدل چل رہے تھے، وہاں کے بڑے پادریوں نے دیکھا تو اپنی کتابوں میں ان کی علامت کو دیکھ کر پہچان گئے کہ یہی حضرت عمر ہیں، اور بہت خوشی سے بیت المقدس کی کنجی حضرت عمر ؓ کو دے دی
حضرت عمرؓ نے جب ان کی حالت زار کو دیکھا تو سب کو چھوڑ دیا، کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا، اور ایک تاریخی جملہ کہا تم نے ہمارے جزیہ کا اقرار کر لیا، تو اب اپنے اپنے گھروں کو جاو، تم سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا، جملہ یہ تھا( ارجعوا الی بلادکم و لکم الذمۃ و العھد اذا سألتمونا و اقررتم بالجزیۃ)
ترجمہ: تم نے ذمہ ہونا قبول کر لئے ہو، اور اس کا عہد کئے ہو، اور جزیہ کا اقرار کر لئے ہو اس لئے اب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاو۔ اور لوگ اپنے اپنے گھروں کو اطمینان کے ساتھ چلے گئے
حضور ﷺ تو غیر مسلم کے لئے رحمت بن کر آئے ہی تھے، انکے ماننے والے صحابی بھی غیر مسلم کے لئے رحمت بن گئے

اس کے لئے تاریخ کی ان عبارتوں کو دیکھیں
۔قال البترک الاب الکبیر۔۔۔لانا نجد فی العلم الذی ورثنا عن المتقدمین ان الذی یفتح الارض فی الطول و العرض ھو الرجل الاسمر الاحور المسمی بعمر صاحب نبیھم۔(فتوح الشام، باب ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس، جلد ۱، ص ۳۲۲)
ترجمہ: بڑے پادری اور بڑے باپ نے کہا۔۔۔پہلے لوگوں کا علم جو مجھے وراثت میں ملا ہے، اس میں یہ ہے کہ اس بیت المقدس کے طول و عرض کو جو فتح کرے گا وہ گندمی رنگ کا آدمی ہو گا، سفید مائل ہو گا اپنے نبی کا ساتھی (صحابی) ہوگا، اس کا نام عمر ہوگا
اس عبارت میں ہے کہ عیسائیوں کی کتابوں میں لکھا ہوا تھا کہ حضرت عمر ؓبیت المقدس کو فتح کریں گے، اوبیت المقدس کے لوگ ان کے ہاتھوں میں مسجد اقصی کی چابھی دے دیں گے

نیچے والی عبارت میں ہے کہ بیت المقدس کے پادری حضرات نے حضرت عمر ؓ کو دیکھا تو اپنی کتابوں کی علامتوں سے پہچان گئے کہ یہی آدمی ہے جو جنکے ہاتھ میں مسجد اقصی کی کنجی دے دینی چاہئے
۔و البترک و البطالیق علیہ فتکلم ابو عبیدۃ و قال یا ھولاء امیر المومنین قد اتی، فمسح البترک عینہ ونظر الیہ و زعق باعلی صوتہ ھذا و اللہ الذی نجد صفتہ و نعتہ فی کتابنا، و من یکون فتح بلادنا علی یدہ بلا محاولۃ ثم انہ قال لاھل بیت المقدس، یا ویحکم انزلوا الیہ و اعقدوا منہ الامان و الذمۃ و اللہ صاحب محمد بن عبد اللہ(فتوح الشام، باب ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس، جلد ۱، ص ۳۳۲)
ترجمہ : بڑے پادری اور سردار بیت المقدس کے دروازے کے اوپر تھے، حضرت ابو عبیدہ ؓ نے ان سے بات کی، کہ یہ امیر المومنین (حضرت عمر ؓ) آگئے ہیں، پادری نے اپنی آنکھ پوچھی اور حضرت عمر ؓ کو دیکھا اور بلند آواز سے کہا، خدا کی قسم ان میں وہ صفات ہیں جو ہماری کتابوں میں درج ہیں، اور یہ وہ ہیں جنکے ہاتھوں پر لا محالہ ہمارا شہر فتح ہو گا، پھر بیت المقدس والوں سے کہا، لوگوں اتر کر ان کے پاس آؤ، اور ان سے امن لینے کا، اور ذمی بننے کامعاہدہ کرو ، یہی محمد بن عبد اللہ کے صحابی ہیں (جنکے ہاتھوں پر بیت المقدس فتح ہو گا)

نیچے والی عبارت میں ہے کہ جب بیت المقدس کے لوگوں نے جزیہ قبول کر لیا تو ان کو کوئی تکلیف نہیں دی، بلکہ امن کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو جانے واپس جانے کے لئے کہا
۔قال الواقدی فلما سمعت الروم کلام البترک نزلوا مسرعین و کانوا قد ضاقت انفسھم من الحصا ، ففتحوا الباب و خرجو الی عمر بن الخطاب یسألونہ العھد و المیثاق و الذمۃ، و یقرونہ لہ بالجزیۃ،فلما نظر الیہم عمر علی تلک الحالۃ تواضع للہ و خر ساجدا علی قتب بعیرہ ثم نزل الیہم و قال ارجعوا الی بلادکم و لکم الذمۃ و العھد اذا سألتمونا و اقررتم بالجزیۃ قال فرجع القوم الی بلادھم (فتوح الشام، باب ذکر فتح مدینۃ بیت المقدس، جلد ۱، ص ۳۲۲)
ترجمہ : حضرت واقدی ؓ فرماتے ہیں کہ جب روم والوں نے بڑے پادری کی بات سنی تو وہ لوگ دوڑ کر آنے لگے، اور دوڑنے سے سانسیں پھولنے لگیں، ان لوگوں نے بیت المقدس کا دروازہ کھول دیا، اور آکر حضرت عمر ؓ سے عہد، وعدہ اور ذمہ مانگنے لگے، اور جزیہ دینے کا اقرار کرنے لگے، جب حضرت عمر ؓ نے ان کی ایسی حالت دیکھی تو تواضع کے طور پر اونٹ کے پالان پر سجدہ ریز ہو گئے، پھر ان لوگوں کے پاس آئے اور کہا: تم لوگوں نے عہد مانگا، اور جزیہ دینے کا اقرار کیا تواب تم لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ، تمہارے لئے ذمہ بھی ہے اور عہد بھی ہے، (یعنی تم لوگ ذمی بن گئے، اور میں اس عہد پر قائم ہوں)، یہ سن کر سب لوگ امن کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو گئے۔
اس عبارت میں ہے کہ جب غیر مسلم بھی جزیہ دینا قبول کر لے تو ان کی جان، مال، دین، عزت سب محفوظ ہو جاتیں ہیں، اور وہ بھی مسلمان کی طرح امن کے ساتھ اسلامی حکومت میں رہتے ہیں، صرف فرق یہ ہے کہ مسلمان کھیت کا عشر دیتے ہیں، مال تجارت کی زکوۃ دیتے ہیں، جو جزیہ سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، اور غیر مسلم جزیہ دیتے ہیں، جو زکوۃ، اور عشر سے بہت کم ہوتا ہے، اسلامی حکومت میں غیر مسلم کے لئے اتنی سہولت ہے
یہ سب باتیں غیر مسلم بھائیوں کو بتائیں تو وہ آپ کی حکومت سے ڈریں گے نہیں بلکہ آپ کی حکومت قائم ہونے کی تمنا کریں گے، جس طرح بیت المقدس والوں نے اسلامی حکومت بننے کی تمنا کی تھی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: