اسلامیات

حضور ﷺغیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

ساتویں قسط
حضور ﷺ غیر مسلموں کے لئے بھی رحمت بن کر تشریف لائے تھے، اس کی یہ آٹھویں مثال ہے
حضور ؐ غیر مسلم پر بھی اتنے شفیق تھے کہ جب ۰۱ نبوی میں دعوت دینے کے لئے طائف تشریف لے گئے تو ان لوگوں نے آپ کی بات نہیں سنی بلکہ الٹا پتھر مارا، اور پاوں لہو لہان کر دیا، آپ وہاں سے تھوڑا ہٹ کر ایک باگ میں تشریف فرما ہوئے تو حضرت جبرئیل آئے اور کہا کہ میں اللہ کی جانب سے یہ پیغام لیکر آیا ہوں کہاگر آپ چاہیں تو میں دو پہاڑوں کو ملا دیتا ہوں، اور ان کے درمیان جتنے لوگ سب ہلاک ہو جائیں گے، تو آپ نے کہا کہ میں ایسا نہیں چاہتا، بلکہ میں چاہتا ہوں یہ لوگ نہیں تو ان کی نسلیں بعد میں آکر اللہ کی عبادت کریں گی
پھر ان کفار کے لئے جنہوں نے ستایا تھا ہدایت کی دعا کی، اس لئے آپ ﷺ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے
اس کے لئے یہ حدیث دیکھیں
۔ فنظرت فاذا جبریل فنادانی فقال ان اللہ قد سمع قول قومک لک، و ما ردوا علیک و قد بعث اللہ الیک ملک الجبال لتأمر ہ بما شئت فیھم فنادانی ملک الجبال فسلم علی ثم قال یا محمد لک ما شئت فیھم ان شئت ان اطبق علیھم الاخشبین لفعلت۔۔۔قال النبی ﷺ بل ارجو ان یخرج اللہ عز و جل من اصلابھم من یعبد اللہ۔۔۔و ھکذا کانت رحمۃ رسول مع الناس،فبرغم ما لاقاہ من ثقیف و من ابناء عمر وبن عمیر لم یدع علیھم و انما دعا لھم (السیرۃ النبویۃ و الدعوۃ فی فی العہد المکی، المبحث الثالث عشرۃ عام الحزن، جلد ۱، ص ۵۶۳)
ترجمہ : میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ حضرت جبریل ؑ مجھے آواز دے رہے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ آپ ؐ کی بات اور آپ ؐ کی قوم نے جو کچھ کہا اللہ نے سن لی ہے، اور قوم نے جو کچھ جواب دیا وہ بھی سنی،، آپ کے پاس پہاڑ کے فرشتے کو بھیجا ہے، آپ قوم کے بارے میں جو کچھ چاہیں حکم دیں، اسی وقت پہاڑ کے فرشتے نے مجھے آواز دی، مجھے سلام کیا اور کہا: اے محمد ﷺ آپ جو چاہیں اپنی قوم کے بارے میں حکم دیں، اگر آپ چاہیں تو میں دونوں پہاڑوں کو ملا دوں۔۔۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ، ایسا نہ کریں، بلکہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے پیدا کریں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔۔۔لوگوں کے ساتھ (غیر مسلموں کے ساتھ) حضور ؐ کی اتنی بڑی رحمت تھی، حالاکہ ثقیف اور عمرو بن عمیر کے خاندان سے کتنے ستائے گئے تھے، پھر بھی ان کے لئے بد دعا نہیں کی، بلکہ انکے لئے دعا ہی کی۔
اس حدیث میں دیکھیں کہ پتھر مار کر لہو لہان کرنے والی قوم کے لئے بھی بد دعا نہیں کی، بلکہ دعا کی، اور اس کا اثر یہ ہواکہ بعد میں اسی قوم کے لوگ مسلمان ہوئے، اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی اور دنیا اور آخرت میں خوش و خرم ہوئے
اور میں نے خود، ۵ نومبر ۹۱۰۲ ؁ کوطائف جا کر دیکھا کہ وہ ابھی کتنی آباد ہے، اور ایک بہت بڑی مسجد عبد اللہ بن عباس بنائی گئی ہے
اس لئے آپ ﷺ غیر مسلم کے لئے بھی رحمت بن کر آئے تھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: