مضامین

حقوق العباد کی اہمیت

شمشیر عالم مظاہری ۔ دربھنگوی امام جامع مسجد شاہ میاں روہوا ویشالی بہار ۔

۔

قارئینِ کرام ۔
اسلام جامع کامل اور عالمگیر مذہب ہے اس کے مقاصد میں سر فہرست دنیا سے ظلم کا خاتمہ، غریبوں کی مدد، مظلوموں کا تعاون، سماجی برائیوں کا خاتمہ، انصاف، مساوات، اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے،
شریعتِ مطہرہ میں ہر شخص کو اس بات پر متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے فرائض ادا کرے حقوق کے مطالبے پر زور نہیں دیا گیا آج کی دنیا حقوق کے مطالبے کی دنیا ہے ہر شخص اپنا حق مانگ رہا ہے اور اس کے لئے مطالبہ کر رہا ہے تحریکیں چلا رہا ہے مظاہرے کر رہا ہے ہڑتال کر رہا ہے گویا کہ اپنا حق مانگنے اور اپنے حق کا مطالبہ کرنے کے لئے دنیا بھر کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کے لیے باقاعدہ انجمنیں قائم کی جارہی ہیں لیکن آج (ادائیگی فرض) کے لئے کوئی انجمن موجود نہیں کسی بھی شخص کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ جو فرائض میرے ذمے عائد ہیں وہ ادا کر رہا ہوں یا نہیں؟ مزدور کا کہتا ہے کہ مجھے میرا حق میں ملنا چاہئے سرمایہ دار کہتا ہے کہ مجھے میرا حق ملنا چاہئے لیکن دونوں میں سے کسی کو یہ فکر نہیں ہے کہ میں اپنا فریضہ کیسے ادا کروں مرد کہتا ہے کہ مجھے میرے حقوق ملنے چاہئیں اور عورت کہتی ہے کہ مجھے میرے حقوق ملنے چاہییں اور اس کے لیے کوشش اور جد وجہد جاری ہے لڑائی ٹھنی ہوئی ہے لیکن کوئی خدا کا بندہ یہ نہیں سوچتا کہ جو فرائض میرے ذمے عائد ہو رہے ہیں وہ میں ادا کر رہا ہوں یا نہیں؟
اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ کرے اگر ہر شخص اپنے فرائض ادا کرنے لگے تو سب کے حقوق ادا ہوجائیں اگر مزدور اپنے فرائض ادا کردے تو سرمایہ دار اور مالک کے حقوق ادا ہو گئے اگر سرمایہ دار اور آجر اپنے فرائض ادا کردے تو مزدور کے حقوق ادا ہو گئے شوہر اگر اپنے فرائض ادا کرے تو بیوی کا حق ادا ہو گیا اور اگر بیوی اپنے فرائض ادا کرے تو شوہر کا حق ادا ہو گیا شریعت کا اصل مطالبہ یہی ہے کہ تم اپنے فرائض ادا کرنے کی فکر کرو ۔
حقوق العباد کا معاملہ جتنا سنگین ہے ہمارے معاشرے میں اس سے غفلت اتنی ہی عام ہے ہم لوگوں نے چند عبادات کا نام دین رکھ لیا ہے یعنی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، ذکر، تلاوتِ قرآن، تسبیح، وغیرہ ان چیزوں کو تو ہم دین سمجھتے ہیں لیکن حقوق العباد کو ہم نے دین سے خارج کیا ہوا ہے اسی طرح معاشرتی حقوق کو بھی دین سے خارج کر رکھا ہے اس میں اگر کوئی شخص کوتاہی یا غلطی کرتا ہے تو اس کو اس کی سنگینی کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔
رب ذوالجلال نے انسانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ۔
مفہوم۔ کیا ایسا ہے کہ تم زمین کے اندر فساد مچاؤ اور رشتہ داریوں کے حقوق کو ضائع کرو یہ وہ لوگ ہیں جن کے اوپر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے اور ان کو بہرا اور اندھا بنا دیا ہے ۔ قطع رحمی کرنے والے کے لیے اللہ تعالی نے اتنی سخت وعید فرمائی ہے ۔
دوسری جگہ رب ذوالجلال کا ارشاد ہے ۔
مفہوم ۔ ڈرو اس اللہ سے جس کے نام کا واسطہ دے کر تم دوسروں سے اپنے حقوق مانگتے ہو اور رشتہ داریوں کے حقوق پامال کرنے سے ڈرو چنانچہ جب کوئی شخص دوسرے سے اپنا حق مانگتا ہے تو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر مانگتا ہے کہ اللہ کے واسطے میرا یہ حق دے دو اور اس بات سے ڈرو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری طرف سے کسی رشتہ دار کی حق تلفی ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالی آخرت میں تمہیں عذاب دے ۔
بات دراصل یہ ہے کہ، شریعت، حقوق کی ادائیگی کا دوسرا نام ہے شریعت میں اللہ کا حق ادا کرنا ہے یا اللہ کے بندوں کا حق ادا کرنا ہے پھر اللہ کے بندوں میں بھی مختلف لوگوں کے مختلف حقوق ہیں مثلاً والدین کے حقوق ہیں اولاد کے حقوق ہیں بیوی کے حقوق ہیں شوہر کے حقوق ہیں رشتہ داروں کے حقوق ہیں پڑوسیوں کے حقوق ہیں ہم سفروں کے حقوق ہیں اس طرح پوری شریعت حقوق سے عبارت ہے ان حقوق میں سے کسی ایک کا بھی حق ادا ئیگی سے رہ جائے تو شریعت پر عمل ناقص ہے اگر کسی نے اللہ تعالی کا حق تو ادا کردیا لیکن اللہ کے بندوں کا حق ادا نہ کیا تو دین کامل نہ ہوا اور دین پر عمل ادھورا رہ گیا ۔
تمام انسان آپس میں رشتہ دار ہیں ۔
اگر دیکھا جائے تو سارے ابن آدم اور سارے انسان آپس میں رشتہ دار ہیں کیونکہ تمام انسانوں کے باپ ایک ہیں یعنی حضرت آدم علیہ السلام جن سے ہم سب پیدا ہوئے بعد میں آگے چل کر شاخیں ہوتی چلی گئیں خاندان اور قبیلے تقسیم ہوتے چلے گئے کوئی کہیں جا کر آباد ہوا اور کوئی کہیں اور دور کی رشتہ داریاں ہو گئیں جس کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کو رشتہ دار نہیں سمجھتے ورنہ حقیقت میں تو سارے انسان ایک دوسرے کے قرابت دار اور رشتہ دار ہیں البتہ کسی کی رشتہ داری قریب کی ہے کسی کی رشتہ داری دور کی ہے لیکن رشتہ داری ضرور ہے ۔
ایسا شخص کعبہ کو ڈھانے والا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما روایت فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے طواف کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بیت اللہ! تو کتنی حرمت والا ہے کتنے تقدس والا ہے تو کتنا عظیم الشان ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ اے عبداللہ! کیا دنیا میں کوئی چیز ہے جس کی حرمت اور جس کا تقدس بیت اللہ سے زیادہ ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کا یہ متعین جواب تھا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ کون سی چیز اس سے زیادہ حرمت والی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہیں ایک چیز بتاتا ہوں جس کی حرمت اس بیت اللہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے وہ ہے ایک مسلمان کی جان اس کا مال اس کی آبرو اگر ان میں سے کسی چیز کو کوئی شخص نا حق نقصان پہنچاتا ہے تو وہ شخص کعبہ کو ڈھانے والے کی طرح ہے ۔
در حقیقت مفلس کون ہے ۔
حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا کہ بتاؤ مفلس کسے کہتے ہیں مفلس کے معنی کیا ہیں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفلس تو اس کو کہتے ہیں جس کے پاس دینار و درہم نہ ہوں یعنی جس کے پاس روپیہ پیسہ نہ ہو دولت نہ ہو وہ مفلس ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حقیقی مفلس نہیں حقیقی مفلس کون ہے میں تمہیں بتاتا ہوں حقیقی مفلس وہ ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو نیکیوں سے اس کا میزان عمل کا پلہ بھرا ہوا تھا بہت سی نیکیاں لے کر آیا تھا نمازیں پڑھی تھیں روزے رکھے تھے تسبیحات پڑھی تھیں اللہ کا ذکر کیا تھا تعلیم کی تھی تبلیغ کی تھی دین کی خدمات انجام دی تھیں بہت ساری نیکیاں اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں لے کر آیا تھا ۔لیکن جب نیکیاں پیش ہوئیں تو معلوم ہوا کہ نیکی تو بہت کی تھی نماز بھی پڑھی تھی روزہ بھی رکھا تھا زکوٰۃ بھی دی حج بھی کیا سب کچھ کیا لیکن بندوں کے حقوق ادا نہ کئے کسی کو مارا کسی کو برا کہا کسی کا دل دکھایا کسی کو تکلیف پہنچائی کسی کی غیبت کی کسی کی جان پر حملہ آور ہوا کسی کا مال کھایا کسی کی آبرو پر حملہ کیا یہ اللہ کے بندوں کے حقوق ضائع کئے نمازیں پڑھی تھیں روزے رکھے تھے عبادتیں کی تھیں قرآن کریم کی تلاوت کی تھی سب کچھ کیا تھا لیکن لوگوں کو اپنے ہاتھ سے زبان سے اور مختلف طریقوں سے تکلیف پہنچائی تھی اب جب اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش ہوا وہاں تو عدل ہے انصاف ہے اس لیے جن کے حق مارے تھے ان سے کہا گیا کہ تم اس سے اپنا حق وصول کرو کس کا پیسہ کھایا تھا اس سے پیسے وصول کرو اب وہاں کوئی پیسے تو ہیں نہیں نہ روپیہ نہ پیسہ نہ دولت وہاں دنیا کی سب کرنسیاں ختم ہوچکیں وہ حق کیسے ادا کرے؟
باری تعالی فرمائیں گے یہاں کا سکہ روپیہ پیسہ نہیں یہاں سکہ تو نیکیاں ہیں وہ نیک اعمال ہیں جو اس نے دنیا کے اندر کئے تھے لہذا اسی کے ذریعہ تبادلہ ہو گا چنانچہ جس کے پیسے کھائے تھے اس سے کہا جائے گا اس کی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں سے لے لو اس نے بہت ساری نفلیں نمازیں پڑھی تھیں وہ سب ایک صاحبِ نے حق کو مل گئیں دوسری نماز یں دوسرا صاحب حق لے گیا روزے تیسرا صاحب حق لے گیا حج چوتھا صاحب حق لے گیا اور جتنے نیک اعمال کئے تھے ایک ایک کر کے لوگ لے جاتے رہے یہاں تک کہ ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی وہ نیکیوں کا ڈھیر لے کر آیا تھا وہ سارا کا سارا ختم ہوگیا اب کچھ باقی نہیں کچھ لوگ پھر بھی کھڑے ہیں کہ پروردگار ہمارا حق تو رہ گیا ہے ہمارے بھی پیسے کھائے تھے ہمیں بھی برا بھلا کہا تھا ہماری بھی غیبت کی تھی اس سے ہمارا بھی بدلہ دلوائیے لیکن اس کے پاس نیکیوں کا ذخیرہ تو ختم ہو گیا بدلہ کیسے دلوائیں اللہ تعالی فرمائیں گے کہ اب راستہ یہ ہے کہ تمہارے جو گناہ ہیں اس کے نامہ اعمال میں ڈال دیئے جائیں تم نے غیبت کی تھی تم سے وہ گناہ معاف وہ گناہ اس کو دے دیا جائے تم نے کوئی اور نا جائز کام کیا تھا اس ناجائز کام کا گناہ تمہارے نامہ اعمال سے مٹا کر اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے اس طرح نیکی کرنے والا بندہ دوسرے کے گناہوں کو لے کر جہنم میں چلا جائے گا اور دوسرے لوگ اس کی نیکیوں کو لے کر جنت میں چلے جائیں گے تو نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ نیکیوں کا ڈھیر لے کر آیا تھا لیکن بندوں کے حقوق کا مطالبہ ہوا تو بجائے اس کے کہ وہ نیکیاں باقی رہتیں اور لوگوں کے گناہ بھی اسکی گردن پر ڈال دیئے گئے فرمایا حقیقت میں مفلس وہ ہے جو نیکی لے کر آیا تھا اور گناہوں کا بوجھ لے کر جا رہا ہے ۔ اس لیے یہ حقوق العباد بڑے ڈرنے کی چیز ہے لوگوں کے حقوق مارنا خواہ پیسے کی شکل میں ہو یا عزت کی شکل میں ہو یا جان کی شکل میں ہو یہ اتنا خطرناک معاملہ ہے کہ اور گناہ توبہ سے معاف ہو جاتے ہیں لیکن حقوق العباد توبہ سے معاف نہیں ہوتے اگر کوئی شخص شراب پئے، معاذ اللہ، زنا کرے جوا کھیلے کوئی اور گناہ کرے اور کتنے ہی بڑے سے بڑے گناہ کئے ہوں اللہ تبارک و تعالی کے حضور حاضر ہو کر سچے دل سے توبہ کرے تو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو ایک مرتبہ گناہوں سے تائب ہوجائے تو ایسا ہے جیسے اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں سب معاف فرما دیتے ہیں لیکن اگر بندوں کے حقوق مارے مثلاً ایک پیسہ بھی کسی نے کسی کا ناجائز کھا لیا کسی کو برا بھلا کہہ دیا کسی کا دل دکھا دیا یہ ایسا گناہ ہے کہ اس کی معافی کی کوئی شکل نہیں یہ توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا جب تک کہ وہ صاحب حق معاف نہ کرے جس کا حق سلب کیا ہے اس واسطے اس معاملے میں بہت ہی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے ۔کسی کا کوئی جانی حق یا کسی کا کوئی مالی حق اپنے ذمے واجب ہو اور اب تک ادا نہ کیا ہو تو اس کو ادا کریں یا معاف کرائیں یا کسی کو تکلیف پہنچائی ہو اس سے معاف کرائیں حدیث شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ وسلم نے باقاعدہ صحابہ کرام کے مجمع میں کھڑے ہو کر یہ اعلان فرمایا کہ اگر میں نے کسی کو کوئی تکلیف پہنچائی ہو یا کسی کو کچھ صدمہ پہنچا ہو یا کسی کا کوئی حق میرے ذمے ہو تو آج میں آپ سب کے سامنے کھڑا ہوں وہ شخص آکر مجھ سے بدلہ لے لے یا معاف کر دے لہذا جب حضور صلی اللہ وسلم معافی مانگ رہے ہیں تو ہم اور آپ کس شمار میں ہیں ۔
ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی شخص نے دوسرے شخص پر ظلم کر رکھا ہے چاہے وہ جانی ظلم ہو یا مالی ظلم ہو آج وہ اس سے معافی مانگ لے یا سونا چاندی دے کر اس دن کے آنے سے پہلے حساب صاف کر لے جس دن نہ درہم ہو گا اور نہ دینار ہوگا کوئی سونا چاندی کام نہیں آۓ گا ۔ (اصلاحی خطبات)
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے بیٹھ گیا پھر عرض کیا یارسول اللہ میرے پاس کچھ غلام ہیں جن کی حالت یہ ہے کہ بسا اوقات وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں میری چیزوں میں خیانتیں بھی کرتے ہیں میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں ان کی ان حرکتوں پر کبھی انہیں گالیاں دیتا ہوں اور کبھی مارتا بھی ہوں پس کیا حال ہوگا میرا قیامت کے دن ان کی وجہ سے یعنی اللہ تعالیٰ میرا اور ان کا فیصلہ کس طرح فرمائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تمہارے ان غلاموں نے تمہاری جو خیانت اور نافرمانی کی ہوگی اور تم سے جو جو جھوٹ بولے ہوں گے اور پھر تم نے ان کو جو سزائیں دی ہوں گی قیامت کے دن ان سب کا پورا پورا حساب کیا جائے گا پس اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں کے بقدر ہی ہوگی تو معاملہ برابر پر ختم ہو جائے گا نہ تم کو کچھ ملے گا اور نہ تمہیں کچھ دینا پڑے گا اور اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں سے کم ثابت ہوگی تو تمہارا فاضل حق تمہیں وہاں ملے گا اور اگر تمہاری سزا ان کے قصوروں سے زیادہ ثابت ہو گی تو تم سے اس کا بدلہ اور قصاص ان کو دلوایا جائے گا جب اس شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب سنا تو آپ کے پاس ایک طرف کو ہٹ کر رونے اور چلّانے لگا قیامت کے اس محاسبہ اور پھر وہاں کے عذاب کے خوف سے جب اس پر گریہ غالب ہوا تو وہ ادب کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے اٹھ گیا اور ایک طرف کو ہٹ کر بے اختیار رونے لگا اور چلانے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم قرآن مجید میں اللہ تعالی کا یہ ارشاد نہیں پڑھتے ۔
مفہوم ۔ اور ہم قائم کریں گے قیامت کے دن انصاف کی میزانیں پس نہیں ظلم ہوگا کسی نفس پر کچھ بھی اور اگر ہوگا کسی کا عمل یا حق رائی کے ایک دانے کے برابر حاضر کریں گے ہم اس کو بھی اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے اس شخص نے عرض کیا یارسول اللہ سب کچھ سننے کے بعد میں اپنے لئے اور ان کے لئے اس سے بہتر کچھ نہیں سمجھتا کہ لوجہ اللہ آزاد کرکے ان کو اپنے سے الگ کردوں میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان کو آزاد کر دیا اور اب وہ آزاد ہیں ۔(ترمذی شریف)
اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو ایک دوسرے کے گلے شکوے ختم کر کے محبت بھری زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: