اہم خبریں

حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی ، نیرل ۔ مہاراشٹر

جس ملک میں عدالت بھی ظالم حکمرانوں سے باز پرس نہ کر سکے ، اور آئین بھی جن کے ہاتھوں کا کھلونا بننے لگے ، عوام کے جائز مطالبات کا صلہ لاٹھی ڈنڈوں اور گولیوں سے دیا جائے ، اور ان کی صداوں کو دبانے کے لئے عوام کے پیسوں پر پل رہی پولیس فورس کو غنڈئی پر آمادہ کیا جائے ، ملک کے دانشوران کے ساتھ بد سلوکی کی فضا بنائی جائے ، حق گو افراد کو جیل میں ڈالنے کی کوشش کی جائے ، اور یہ سب ایک ظالمانہ قانون کے نفاذ کے لئے ہو تو پھر ایسے حالات میں حکومت سے لڑنا اور اس کی مخالفت کرنا ہر بھارت واسی پر فرض ہے اور یہی ملک سے محبت کی دلیل ہے ، اس صدا کو بغاوت کا نام دینے والے انگریز وں کے وہی چیلے ہیں جن کے آباء واجداد نے جنگ آزادی کے موقع پر انگریزوں کا ساتھ دیتے ہوئے بھارت کو برباد کرنے کی پوری کوشش کی تھی ، اور آج یہ آر ایس ایس کے غنڈے اپنے انہیں پوروجوں کی بتائی ہوئی فکروں کے مطابق بھارت کو برباد کرنے کی سوچ رکھتے ہیں ، جس کی کھلی کتاب ہمارے سامنے آئین مخالف ایکٹ کی شکل میں آچکی ہے ۔
کل بھی انگریزوں نے اس ملک پر تجارت کے راستہ قبضہ کیا تھا ، جس میں کسی مذہب اور دھرم کے بجائے عظیم ملک بھارت کا نقصان ہوا تھا ،آج پھر اسی کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، پچھلے پانچ سالوںمیں مودی جی نے جس کثرت سے بیرونی ممالک کا دورہ کیا وہ ملک کے فائدہ کی غرض سے نہیں بلکہ ملک کو بیچنے کے غرض سے کیا تھا ، اور لال قلعہ تک کو گروی رکھ دیا ، اس ایکٹ کے ذریعہ ایک بار پھر اس ملک کو انہیں منحوس گوروں کی گود میں ڈالنے کا ارادہ ہے ، جس میں کسی ایک مذہب اور مخصوص طبقہ کے بجائے عظیم ملک کا نقصان ہونے والا ہے ، اس لئے ملک کے نونہالوں نوجوانوں کی جانب سے بلند کی گئی آزادی کی آواز کو تھمنے نہ دیجئے ، اور اس آواز کو جس طرح سے بھی ہو سکے مضبوط کرنے میں حصہ لیجئے ،اس ملک کے عظیم سپوتوں نے جنگ آزادی کے موقع اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اور اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت زبان حال سے ہمیں حق گوئی و انصاف پسندی اور ملک کے خاطر قربانی کا جو سبق سکھایا تھا اسے عملی شکل دینے کا وقت آچکا ہے ، ہمیں ملک کے واسطہ بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ خان کی قربانی کا حق ادا کرنا ہوگا ، ان کی بوسیدہ ہڈیوں اور عظیم کارناموں کی لاج رکھنا ہو گا ، اس لئے ہم سے اس آزادی کی اس لڑائی جو کچھ سکے کر گزرنے کا جذبہ رکھیں ، اور انگریز کے چیلوں سے ڈرے بغیر آئین کے حق میں اور اپنے جائز مطالبات کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: