مضامین

حکومت مغرور بھی ہے اور مجبور بھی !

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

🖋️Faiyazsiddiqui536@gmail.com
______====_____

محترم قارئین :
حکومت کی کسان مخالف پالیسیوں کے خلاف کسانوں کا بےمثال احتجاج اپنے پورے شباب پر ہے اور یہ احتجاج تقریباً {71} /ویں دن میں داخل ہو گیا ہے اور کسان بھائیوں نے انتباہ دیا ہے کہ وہ حکومت سے آر پار کی لڑائی لڑنے کے لئے پر عزم ہیں۔ کسانوں کے اس پر امن آندولن کو ملک کے ہر انصاف پسند حلقوں سے حمایت مل رہی ہے اور بیرون ملک بھی کسانوں کے احتجاج کی حمایت میں ریلیاں اور مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ حکومت نے کسانوں کے احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کرکے دیکھ لیے ہیں حتیٰ کہ پوری گودی میڈیا کو ان کے پیچھے لگا دیا گیا اور انہیں بدنام کرنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن کسان ہے کہ پوری مضبوطی کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے ہیں۔ حکومت کے دو ستون وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ اپنی دھن میں مگن ہیں اور ان میں ایک سادھو بنا من کی بات پورے ملک گھوم گھوم کر کہنے لگا ہوا ہے اور دوسرا بنگال میں بھائی گیری میں لگا ہوا ہے اور بنگالیوں کو ڈرا دھمکا کر آنے والے انتخابات میں اقتدار میں لانے کی جان توڑ کوشش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ دونوں کی نگاہ میں کسانوں کے احتجاج کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے حالانکہ پورا ملک کسانوں کے احتجاج سے پوری طرح متاثر ہے ۔ کیون صرف اور صرف اس لئے کہ وہ کالا قانون جو کسانوں کے خلاف ہے، ملک کے خلاف ھے، آئین کے خلاف ہے، عوام کے خلاف ہے، جس کے نفوذ میں کسانوں کا‌ مرنا یقینی ہے ، بچوں کا مرنا یقینی ہے، بوڑھوں کا مرنا یقینی ہے، جس کے نفوذ میں ملک کی تباہی یقینی ہے، اس قانون کو واپس لیا جائے، کیونکہ اگر اس قانون کو لاگو کیا گیا تو ملک کا کسان پریشان ہو جائے گا، اور اگر اسکی پریشانی بڑھ گئی تو وہ یہ دنیا چھوڑ جاے گا، اور اگر وہ یہ دنیا چھوڑ گیا تو ملکی معیشت برباد ہو جائے گی جسکا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ملک کا وہ طبقہ جسکا شمار غربت میں ہوتا ہے، جسکا تعلق غریب گھرانے سے ہے وہ بھوکا مرے گا، اسکا بچہ بھوکا مرے گا، ملک کا بوڑھا بھوکا مرے گا، ملک کا جوان بھوکا مرے گا۔ کیوں اس لئے کہ وہ قانون ہی ایسا ہے جو جان لیوا، جو بڑا ہی خطرناک ہے، وہ ایک ایسا قانون ہے جو کسانوں کی محنت پر پانی پھیرتا ہے، وہ ایک ایسا قانون ہے جو کسانوں کی جھولی کو کھالی کرانا چاہتا ہے، وہ ایک ایسا قانون ہے جو فصلوں کی تباہی کا سبب بنتا ہے، وہ ایک ایسا قانون ہے جسکا اثر پورے ملک پر پڑتا ہے – – – – – – – – –
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
زرعی شعبے میں لائے گئے تین اصلاحی قوانین کے خلاف آج ملک کا کسان سڑکوں پر اتر چکاہے۔ان کسانوں کو خدشہ ہے کہ ان قوانین کی آڑ میں حکومت ایم-ایس-پی پر فصلوں کی سرکاری خرید اور موجودہ منڈی نظام سے پلا جھاڑ کر زراعت بازار کی نجی سازی کرناچاہتی ہے۔سرکار کا موقف یہ ہے کہ ان تینوں قوانین سے زراعتی اشیاء کی فروخت کے لیے ایک نیا متبادل نظام تیار ہوگا جو موجودہ منڈی اور ایم-ایس-پی نظام کے ساتھ ساتھ چلتارہے گا۔اس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔پہلا قانون:کسانوں کو طے شدہ منڈیوں کے علاوہ بھی اپنی زرعی اشیا کو کہیں بھی فروخت کرنے کی رعایت دی گئی ہے۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے کسان منڈیوں میں ہونے والے استحصال سے بچیں گے۔کسانوں کی فصلوں کے زیادہ خریدار ہوں گے اور ان کی فصلوں کو اچھی قیمت ملے گی۔دوسراقانون: معاہدہ زراعت سے متعلق ہے جوبونے سے پہلے ہی کسانوں کو اپنی فصل طے شدہ معیاراور قیمت کے مطابق فروخت کرنے کا معاہدہ کرنے کی سہولت دیتاہے۔ تیسرا قانون:لازم اشیاقانون میں ترمیم سے متعلق ہے جس سے غلہ،خوردنی تیل، تلہن، دلہن،آلو اور پیاز سبھی زراعتی پیداوار اب حکومت کے اختیار سے مستثنیٰ ہوں گی۔ان پر کچھ خصوصی حالات کو چھوڑ کر اسٹاک کی حد بھی مقرر نہیں کی جائے گی۔ بہر حال ان تمام دعوؤں کے باوجود کسانوں کے شبہات اور خدشات کودور کرنے میں حکومت اب تک ناکام رہی ہے۔حکومت نے اگر یہ قوانین زرعی ماہرین اور کسان تنظیموں سے مشورہ کرکے بنائے ہوتے تو یہ حالات نہ پیدا ہوتے ابھی منڈیوں میں فصلوں کی خرید پر ۸ء ۵ فیصد پر ٹیکس لگایا جارہاہے لیکن اس نظام میں منڈیوں کے باہر کوئی ٹیکس نہیں ملے گا۔اس سے منڈیوں سے تجارت باہر جانے اور کچھ دنوں بعد منڈیاں بند ہونے کاخدشہ بے بنیاد نہیں ہے ۔لہٰذا نجی اور سرکاری منڈی دونوں ہی نظاموں میں ٹیکس کے بندوبست مساوی ہونے چاہیے۔کسان نجی زمرے کے ذریعے بھی کم سے کم ایم – ایس – پی – پر فصلوں کی خرید کی قانونی گارنٹی چاہتے ہیں ۔ایم -ایس -پی سے کم فصلوں کی خرید قانونی طور پر ممنوع ہونی چاہیے۔کسانوں کا مطالبہ ہے کہ تنازعہ حل کرنے کیلئے اُنہیں عدالت جانے کی بھی چھوٹ ملنی چاہیے۔سبھی زرعی اشیاء کے تاجروں کارجسٹریشن لازمی طور پر کیاجاناچاہیے۔چھوٹے موٹے کاشتکاروں کے حقوق اورزمین کے مالکانہ حق کا پختہ تحفظ ہوناچاہیے۔آلودگی قانون اوربجلی ترمیم بل میں بھی مناسب بندوبست کرکے کسانوں کے حقوق کی حفاظت کی جانی چاہیے – ملک میں کسانوں کی تنظیمیں بھی ان پر احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ غیر منصفانہ ہیں اور ان سے کسانوں کا استحصال ہوگا۔قانونی اصطلاحات کی خاص معاشی ماہرین نے جزوی طور پر ان کا خیرمقدم کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا یہ طریقہ کار درست نہیں ہے اور اس سے متوقع نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔کسان کا مطالبہ ہے کہ وہ دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں یکجا ہو کر اپنا پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ دہلی کے مضافاتی علاقے براری جائیں پھر ان سے بات چیت ہوسکتی ہے۔نئے زرعی قوانین کے خلاف دہلی ہریانہ کی سنگھ بارڈر پر کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔ اسی کے ساتھ سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان کسان دہلی،اترپردیش، غازی پور اور غازی آباد سرحد پر اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت کسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے انہیں سنگھو اور ٹکڑی سرحدوں سے دہلی کے براری میدان میں آنا ہوگا۔ ہریانہ حکومت نے کسانوں کو دہلی آنے سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی اور اب وہاں کی کھاپ برادری نے بھی کسانوں کی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے خبردار کسانوں کی تاریخ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کھاپ برادری نے کسانوں کی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔کھاپ برادری دہلی کے نواح میں جانوں پر مشتمل بہت با اثر برادری ہے۔ ایگریکلچرل پروڈیوسس مارکیٹنگ کمیٹی قانون,(Agriculture Producess Marketing Committee Law):- بھارت میں تقریبا 55 برس پرانے ایگریکلچر پروڈیوسس مارکیٹنگ کمیٹی کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی 7000 سے زائد سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹ کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کی استحصال (Exploitation) سے بچانا ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ کمیشن ایجنٹوں کا خاتمہ ہو جانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ ہوگا ۔تاہم زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں کیونکہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے وہاں کسانوں کا یہ نقصان ہو رہا ہے۔ نقصان کیسے؟(How the Damage):- کسان نیوز چینل کی چیف ایڈیٹر سر ہرویر سنگھ نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا اس طرح کا نظم صرف اور بہار میں ہے لیکن اس سے نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ مکی کے 1765 روپے فی کوئنٹل کم از کم سرکاری قیمت کے مقابلے میں بہار کے کسانوں کو مکی کی اپنی فصل 900 روپے فی کوئنٹل فروخت کرنی پڑی ہرویر سنگھ کہتے ہیں کہ اگر بھارت میں اپنی عضوعات خود فروخت کرنے کا یہ نظام مثالی ہوتا تو بہار کے کسان ہر سال برباد نہیں ھوتے۔ کسانوں میں غربت(Poverty amongs Farmer):- بھارت میں تقریبا 85 فیصد کسان کافی غریب ہیں ۔ان کے پاس پانچ ایکڑ سے بھی کم زمین ہے اور ان کے لئے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے سلسلے میں بڑے خریداروں سے معاملہ طے کرنا مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام میں کمیشن ایجنٹ مشکل گھڑی میں کسانوں کی مالی مدد کرتے ہیں تاہم بڑی کمپنیوں سے اس طرح کسی انسان ہمدردی کی امید رکھنا فضول ہے۔ بھارت میں حکومت زرعی پیداوار کے ہر سال ایک کم از کم قیمت( ایم ایس پیM.S.P) طےکرتی ہے۔جس سے کسانوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے مودی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایم ایس پی ختم نہیں کریں گی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نۓ ذرعی قوانین میں اس کا ذکر نہیں ہے۔کسانوں کی طرف سے ان قوانین کی مخالفت کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ ماہرین کی رائے(Expert Opinion):- زرعی امور کے ماہر ہرویر سنگھ کہتے ہیں ایم ایس پی لفظ کہ اس قانون میں کہی ذکر ہی نہیں ہیں۔ میری پچھلے دنوں وزیر زراعت سے بات چیت ہوئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ایم ایس پی کوئی قانون نہیں ہے یہ ایک اسکیم ہے’ ہرویر سنگھ کے مطابق چونکہ یہ ایک اسکیم (schem) ہے اس لئے حکومت جب چاہے کسی اسکیم کو صرف دو سطری حکم سے ختم کرسکتی ہے۔ 130 کروڑ آبادی والے بھارت میں تقریباً 50 فیصد افراد زراعت پر منحصر ہیں جن کا کہنا ہے کہ لوگ فی الحال ذراعت کو اپنا کام سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جب بڑی کمپنیاں اس کاروبار سے وابستہ ہو جائیں گی تو ان لوگوں کی حیثیت یومیہ مزدور جیسی ہو جائیں گی۔یہ بھارت کے سوشل سیکورٹی اور فوڈ سیکورٹی دونوں کے لیے ہلاکت خیز ہوگا—

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: