مضامین

حکومت مغرور بھی ہے اور مجبور بھی!

فیاض احمد صدیقی رحیمی

ملک بھر میں سیکڑوں مقامات پر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف غیرمیعادی احتجاجات ہورہے ہیں- کوئی اور حکومت ہوتی تو اب تک کرسیاں چھین لی جاتیں، تختہ پلٹ ہوجاتا- لیکن یہ بھاجپا کے بہومت میں ہونے (ممبران پارلیمنٹ کی اکثریت) کا غرور ہے جو اسے گھٹنے ٹیکنے نہیں دیتا-

بہت کم سوچنے پر ہی یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ بھاجپا اپنے مقصد میں کامیاب ہو تی جارہی ہے-

جب تخت و تاج کے مالک اہل غرور و شرور ہوجائیں تو ان سے کیا امید کی جاسکتی ہے، اس مقام و منزل تک پہنچنے کے لیے بھاجپا کی سالہا سال کی انتھک کوششیں ہیں، جنہوں نے کرسی اقتدار کو حاصل کرنے کا مقصد ہی یہ لکھ رکھا ہو کہ ہمیں ملک میں مذہب کے نام پر سیاست کرنی ہے اور دیش کو ہندو راشٹر بنانا ہے، ان سے ترقی و فلاح کی توقع بے جا ہے- جیسے ٹرپل طلاق بل یونیفارم سول کوڈ کی طرف بڑھنے والا ایک قدم تھا، ٹھیک اسی طرح سی اے اے ہندو راشٹر کے آغاز کی وارننگ ہے، یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ آئین ہند کے تحفظ کے ساتھ ہندو راشٹر کا خواب کبھی پورا ہو ہی نہیں سکتا، لہذا بھاجپا پہلے پوری طرح آئین میں قطع و برید کرے گی، آپ دیکھیے کہ آج وہ سنویدھان میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہے-

مودی امت شاہ اور دیگر وزرائے بھاجپا کو لگتا تھا کہ حکومت ملتے ہی ہمارے لیے سب کچھ کرنا آسان ہوگا، لیکن اقتدار ملنے کے بعد معلوم ہوا کہ ایک طرف اتنے بڑے ملک کو چلانا اور دوسری طرف اپنے آقاؤں کی تنظیم آر ایس ایس کے خوابوں کو شرمندہء تعبیر کرنا کتنا مشکل ہے-

ہم سمجھ چکے ہیں کہ ہمارے لاکھ چلانے، شور مچانے اور احتجاج کرنے کے بعد بھی بھاجپا کے لیڈران اپنے فیصلے سے منھ نہیں موڑیں گے، کیوں کہ وہ حکومت پاکر مجبور اور اپنے مقاصد کے آگے مجبور ہیں-

فیصلہ اگر صحیح مل سکتا ہے تو امید کی ایک ہی کرن ہے، عدالت- اگر وہاں سے بھی مایوسی ہاتھ لگی تو پھر اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ ہم اور آپ بھاجپا کو کرسی اقتدار سے اتارنے تک احتجاج کرتے رہیں-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: