مضامین

حکومت کو جمعیت سے پریشانی، مسلمانوں کی گرفتاریوں کی کل تعداد: جمعیت کا دائرہ حربی یا مجلس حربی قسط نمبر(10)

محمد یاسین جہازی 9891737350

حکومت جمعیت علمائے ہند سے بہت پریشان تھی۔ اور کہیں تاریخ آزادی ہند میں جمعیت علمائے ہند کا نام نہ آجائے، اس لیے اراکین جمعیت کو جمعیت کے ٹکٹ پر نہیں؛ بلکہ کانگریس کے ٹکٹ پر گرفتار کرتی تھی۔ چنانچہ مولانا عبد الحلیم صدیقی کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی دینے کے لیے منعقد اجلاس مورخہ 6اگست 1930کو میں خطاب کرتے ہوئے مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی ؒ نے کہا تھاکہ
”حکومت جمعیت علمائے ہند کے اراکین کو جمعیت کے ٹکٹ پر گرفتار کرنے کے بجائے کانگریس کے ٹکٹ پر گرفتاری کرتی ہے۔“ (الجمعیۃ 9اگست1930)
یہ اقتباس شاہد ہے کہ مجلس حربی کے نظام کے تحت جنگ آزادی میں گرفتاری پیش کرنے میں درج بالایہ چند نام ہی نہیں ہیں؛ بلکہ ہزاروں افراد ہیں، جنھوں نے بھارت کو آزاد کرانے کے لیے فرنگی تختہ دار کو گلے لگایا اور خوشی خوشی مصائب کو برداشت کیا۔
مسلمانوں کی گرفتاریوں کی کل تعداد
مولانا احمد سعید صاحب جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے ساتویں سالانہ اجلاس منعقدہ 19و 20جولائی 1931 کے خطبہ صدارت میں جمعیت کی شرکت کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
”حضرات! گزشتہ تحریک سول نافرمانی میں جمعیت علمائے ہند نے جس استقلال اور مستعدی سے حصہ لیاہے، وہ مسلمانوں سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ جمعیت علما ہی کی مساعی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانان ہندستان کسی دوسری قوم سے شرمندہ نہیں ہیں۔ جمعیت علمائے ہند نے 6مئی 1930کو سول نافرمانی کی اسکیم اور کانگریس کی شرکت کا ریزولیشن پاس کیا تھا۔ جس وقت امروہہ میں یہ تجویز پاس کی جارہی تھی، اس وقت خوف و طمع اور ترغیب و ترہین کی تمام صورتیں جمعیت علمائے ہند کے سامنے موجود تھیں؛ لیکن اس حق گو جماعت کے ارکان نے تمام خطرات و مطامع سے بے نیاز ہوکر آزادی وطن کے راستے میں قدم بڑھایا اور دوسرے مسلمانوں کو بھی دعوت دی۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانوں نے جمعیت علما کی آواز کو سنا اور قبول کیا اور سرکاری طبقے کی مخالفانہ جدوجہد کے باوجود بارہ ہزار مسلمان جیل میں گئے۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/499)
”مولانا (اخلاق حسین)قاسمی صاحب نے 1921تا 1932کی گورنمنٹ آف انڈیا کی مختلف رپورٹوں سے اسی زمانے میں تحریک خلافت سے سول نافرمانی کی تحریک تک تمام گرفتار ہونے والے مسلمانوں کی تعداد دولاکھ ستر ہزار پانچ سو بتائی ہے۔ (مسلمانان ہند کی ڈیڑھ سو سال قربانیوں کا مستند اور معتبر تاریخی جائزہ دہلی 1965، ص/109)
نمک ستیہ گرہ میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد نوے ہزار ہے، جب کہ پولیس تشدد سے مرنے والوں کی تعداد تین ہزار ہے۔ گورنمنٹ آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مختلف صوبوں سے گرفتار ہونے والے مسلمانوں کی تعداد حسب ذیل ہے: …… کل تعداد ساڑھے چوالیس ہزار۔ (کاروان احرار، جلد 1)۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص/530-31)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: