مضامین

حیاتِ امام ربَّانی مجدِّد الفِ ثانی تاریخۡ کی زبانی!

تحریر۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔مجلس علماے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پور زونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164

تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دین اسلام پر جب بھی کوئی آفت پڑی یا اس کے آئین کو جس نے بھی مکدر کرنے کی کوشش کی۔ تو اللہ رب العزت دین اسلام کی حفاظت اور تبلیغ واشاعت کے لئے ایسے مرد قلندر کو پیدا فرماتا ہے کہ جو ایسا بلند ہمت اور باوقار ہو جو اپنی بلند و بالا شخصیت، اعلیٰ خاندانی نسبت، باوقار علمی رفعت اور پرہیبت اخلاقی و روحانی عظمت کا مالک ہو۔ بلکہ جو معاشرے میں اپنے دور کے افکار و نظریات اور عوام و خواص کے ذوق و مزاج سے پوری طرح واقف ہو اور جس کی نظر اپنے دور کی ضلالتوں اور فتنہ سامانیوں کے بنیادی سرچشموں پر عمیق ہو۔ قدرت ایسے اولو العزم افراد کی تربیت و اخلاق کی تکمیل اور ذہنی و فطری صلاحیتوں کی تعدیل و تہذیب کے خصوصی انتظامات پردۂ غیب سے ظہور میں لاتی ہے۔
دسویں صدی ہجری کا آخری دور ابتلائے اسلام کا دور تھا اور مختلف فتنوں نے سر اٹھایا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ بادشاہ وقت بھی ان کی بھینٹ چڑھ گیا اور ان فتنوں کی سرپرستی کرنے لگا۔ جس سے انہیں زبردست تقویت حاصل ہوئی حتیٰ کہ وہ فتنے اس عروج پر پہنچے کہ اسلام کے نام لیواؤں پر عرصۂ حیات تنگ ہوگیا۔ ایسے پرآشوب وقت میں اللہ تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی کی صورت میں امام انقلاب پیدا فرماتا ہے کہ جن کے وجود مسعود سے اسلام کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور تمام فتنوں کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔

آپکی آمد کی بشارت:
حضرت مخدوم علامہ شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ رات کو خواب دیکھتے ہیں کہ تمام جہان میں ظلمت پھیل گئی ہے۔ سور، بندر اور ریچھ لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں۔ اسی اثنا میں میرے سینے سے ایک نور نکلا اور اس میں ایک تخت ظاہر ہوا۔ اس تخت پر ایک شخص تکیہ لگائے بیٹھا ہے اور اس کے سامنے تمام ظالموں، زندیقوں اور ملحدوں کی بکرے کی طرح ذبح کررہے ہیں اور کوئی شخص بلند آواز میں کہہ رہا ہے۔” و قل جآء الحق و ذہق الباطل، ان الباطل کان ذھوقا “ (اور فرما دیجئے حق آگیا اور باطل مٹ گیابیشک باطل مٹنے والا ہے“)۔ اس کے بعد آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے اور صبح کو حضرت شیخ شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر پورا خواب بیان کرتے ہیں اور آپ سے تعبیر پوچھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا جس سے الحاد و بدعت کی تاریکی دور ہوگی۔ اور وقت نے ثابت کیا کہ یہ تعبیر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی اور صرف آپ کے لخت جگر نور نظر حضرت مخدوم شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے الحاد و بدعت اور شرک و کفر کو ختم کیا۔

ولادت مبارک:
آپ کی ولادت باسعادت شہر سرہند کی پاک سرزمین پر شب جمعۃ المبارک 14 شوال 971ھ بمطابق 1564ء کو ہوئی۔ آپ کا سلسلۂ نسب 32 بتیسویں پشت پر جاکر سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مل جاتا ہے۔ اس کا اظہار آپ نے اپنے مکتوب شریف میں فرمایا ہے۔ آپ کا نام مبارک ”احمد“ رکھا گیا۔ آپ دسویں صدی کے واحد بزرگ ہیں کہ جن کے اشارے احادیث نبویہ میں بھی ملتے ہیں۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ بچپن میں نہایت سرخ و سپید تھے۔ ایک مرتبہ بیمار ہوگئے اور بیماری اس قدر بڑھی کہ آپ نے ماں کا دودھ پینا چھوڑ دیا اور لمبے لمبے سانس لینے لگے۔ سب گھر والے آپ کی زندگی سے مایوس ہوکر مغموم اور پریشان ہوگئے۔ لیکن خداوند قدوس کو تو آپ سے ایک عظیم کام لینا تھا۔ ابھی تو اس سورج کو نصف النہار پر چمکنا تھا۔ اس لئے حضرت خواجہ شاہ کمال کیتھلی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے گھر تشریف لائے، گھر والوں نے آپ کی آمد کو رحمت خداوندی کا باعث جانا اور حضرت کو اٹھاکر اسی حالت میں آپ کی گود میں ڈال دیا۔ حضرت شاہ صاحب نے اپنی زبان فیض ترجمان بچے کے منہ میں دیدی۔ آپ نے اسے اچھی طرح چوسنا شروع کردیا۔ اس کے بعد حضرت شاہ کمال کیتھلی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ”مطمئن رہو، اس بچے کی عمر بڑی ہوگی، اللہ تعالیٰ اس سے بہت کام لینا چاہتا ہے۔ میں آج اس کو اپنا بیٹا بناتا ہوں۔ یہ میری طرح ہی ہوگا۔“ اسی اثنا میں آپ کو مکمل صحت یابی حاصل ہوگئی۔حضرت شاہ کمال رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کے والد ماجد کو آپ سے متعلق بہت سی بشارتیں دیں۔

تعلیم کا آغاز:
اکثر سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ حضرت مجدد نے اوائل عمر ہی میں قرآن پاک حفظ کرلیا۔ لیکن آپ کے ایک مکتوب سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دولت قلعہ گوالیار میں نظربندی کے زمانے میں حاصل ہوئی۔ اس کے بعد اپنے والد ماجد شیخ الاسلام حضرت شیخ عبدالاحد کے مکتب سے آپ نے اس وقت کے مروجہ علوم و فنون کی تحصیل شروع کردی اور مختلف علوم و فنون کی کتابیں پڑھیں۔ مزید تدریس کے لئے آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے حضرت علامہ مولانا کمال کشمیری علیہ الرحمۃ سے معقولات اور سند لی، قاضی بہلول بدخشی علیہ الرحمۃ سے مختلف تفاسیر اور احادیث شریفہ کا درس لیا۔
تحصیل علم سے فراغت:
تحصیل علم سے فارغ ہونے کے بعد حضرت مجدد آگرے تشریف لے گئے اور وہاں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ کے حلقہ درس میں فضلائے وقت شریک ہوتے تھے۔ یہ سلسلہ کافی عرصہ تک چلا۔ آپ کے والد ماجد مخدوم حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ آپ سے بڑی محبت رکھتے تھے، وہ آپ کے فراق میں بے چین ہوگئے اور باوجود ضعف و کبرسنی سرہند شریف سے آگرے آگئے اور حضرت مجدد کو اپنے ساتھ ہی سرہند شریف لے گئے۔ سرہند شریف جاتے ہوئے راستے میں جب تھانیسر پہنچے تو وہاں کے رئیس شیخ سلطان کی لڑکی سے حضرت مجدد کا عقد مسنونہ ہوگیا۔

بیعت و خلافت:
حضرت مجدد نے ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم یعنی معرفت الٰہیہ کے لئے بھی سعی فرمائی اور متعدد شیوخ سے مختلف سلاسل طریقت میں اجازت و خلافت حاصل فرمائی۔ سلسلۂ چشتیہ میں اپنے والد ماجد حضرت شیخ عبدالاحد رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی۔ سلسلۂ قادریہ میں حضرت شاہ سکندر رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی اور سلسلۂ نقشبندیہ میں خواجۂ خواجگان حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ سے اجازت و خلافت حاصل فرمائی۔

حج بیت اللہ شریف:
آپ کو حج بیت اللہ شریف اور زیارت روضۂ اقدس رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا شوق مدت سے دامنگیر تھا۔ لیکن والد ماجد کی کبرسنی کے باعث اس ارادے کو ملتوی رکھا۔ لیکن جب 27 جمادی الآخر 1007ھ بمطابق 1598ء میں اسی سال کی عمر مبارک میں والد ماجد واصل بحق ہوئے تو اس کے دوسرے سال آپ نے قصدِ حج فرمایا اور سرہند شریف سے روانہ ہوئے۔ جب دہلی پہنچے تو مولانا حسن کشمیری نے جو آپ کے دوستوں میں سے تھے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بہت تعریف و توصیف فرمائی تو آپ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا اور حضرت خواجۂ خواجگان محمد باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ خواجہ صاحب کی طبیعت مبارک بڑی غیور تھی۔ وہ خود کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں فرماتے تھے۔ لیکن یہاں معاملہ برعکس تھا۔ کیونکہ طالب خود مطلوب اور مرید خود مراد تھا۔ یعنی حضرت خواجہ صاحب نے استخارہ میں جس طوطی کو دیکھا تھا اور اس کی وجہ سے آپ نے ہندوستان کا سفر فرمایا تھا، اس وقت حضرت مجدد صاحب کی صورت میں آپ کے سامنے موجود تھا۔ اسی لئے حضرت خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ ”ہم نے پیری مریدی نہیں کی بلکہ ہم تو کھیل کرتے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم و احسان ہے کہ ہمارے کھیل اور دکانداری میں گھاٹا نہیں رہا، ہم کو شیخ احمد جیسا صاحب استعداد شخص مل گیا“۔ یہی وجہ ہے کہ خود مرشد برحق نے بڑھ کر مرید و مراد صادق سے فرمایا کہ آپ کچھ عرصہ ہمارے پاس قیام فرمائیں۔ حضرت مجدد بخوشی رضامند ہوگئے۔ مجدد صاحب کی اعلیٰ فطری استعداد اور قوی النسبت مرشد کی خصوصی توجہ سے وہ روحانی احوال و مقامات جو برسوں کے مجاہدے سے حاصل ہوتے ہیں دنوں میں حاصل ہوگئے۔ روحانی منازل میں آپ کی اس استعداد کو دیکھ کر مرشدِ روشن ضمیر کو یقین ہوگیا کہ یہی وہ طوطئ خوشنوا ہے کہ جس کی خوشنوائی سے ہندوستان کیا بلکہ پورے عالم اسلام کے چمنستان میں تازہ بہار آئے گی۔
حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ نے تمام روحانی نسبتیں اور بشارتیں حضرت مجدد صاحب کو تفویض فرمادیں اور اپنے حلقے سے متعلق طالبین کو ہدایت کی کہ وہ اب میری بجائے مجدد صاحب کی طرف رجوع کریں اور آپ کو سجادگی و ارشاد و تربیت کی اجازت عطا فرمائی۔ دسویں صدی ہجری کے اختتام کا ہندوستان بڑی تیزی سے ایک ہمہ پہلو دینی، تہذیبی اور ذہنی ارتداد کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس شیطانی تحریک کی پشت پر اپنے دور کی مضبوط ترین سلطنت اور فوجی طاقت کے ساتھ اپنے وقت کے متعدد ذہن افراد کی علمی اور ذہنی کمک بھی موجود تھی۔ ان حالات میں اگر کوئی ذہنی، روحانی اور علمی میدان میں طاقتور شخصیت راستہ روکنے کے لئے کھڑی نہ ہوتی تو اسلام کی حقیقت ختم ہوجاتی۔ ہندوستان کے اس وقت کے حالات کا اندازہ آپ کے ایک مکتوب سے ہوتا ہے جو آپ نے ایک مرید جو کہ دربار اکبری سے وابستہ تھے حضرت سید فرید بخاری علیہ الرحمۃ کے نام لکھا ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ
”عہد اکبری میں نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کفار عالب تھے اور اعلانیہ دار الاسلام میں کفر کے احکامات جاری کرتے تھے اور مسلمان اپنے دین پر عمل کرنے سے عاجز تھے۔ وہ اگر ایسا کرتے تو قتل کردیئے جاتے۔ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اگرچہ رب العالمین کے محبوب ہیں، مگر عہد اکبری میں آپ کی تصدیق کرنے والے ذلیل و خوار تھے اور آپ کے منکر صاحب عزت و افتخار۔ مسلمان زخمی دلوں کے ساتھ اسلام کی زبوں حالی پر تعزیت اور اس کی بربادی پر ماتم کررہے تھے۔ اور اسلام کے دشمن طنز و استہزاء سے ان کے زخموں پر نمک چھڑک رہے تھے۔“
اس خط سے اکبر کی حکومت کے دور میں اسلام کی زبوں حالی کا نقشہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔ اور اسی موضوع پر آپ کے متعدد مکتوبات شریف ہیں۔ یہ مکتوب جہاں اکبر کے دور کی عکاسی کرتا ہے تو وہیں ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ ہندوستان میں اسلامی معاشرے کی باگ ڈور ہمیشہ تین طبقوں کے ہاتھ رہی ہے، وہ اگر ہدایت پر رہے تو معاشرے میں تعمیر و ترقی اور نیکی و بھلائی کو فروغ حاصل ہوا، وہ بگڑے تو پورے معاشرے میں فساد پھیل گیا۔
چند ادارے:
1۔ دار العلوم یعنی مکاتیب و مدارس۔
2۔ خانقاہی یعنی روحانی و باطنی علوم و معارف کے مرکز۔
3۔ حکومت کہ جس کے ہاتھ میں ملک کی پوری سیاسی قوت تھی۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے ان تینوں اداروں یا طبقوں کی اصلاح فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں اسلامی تشخص کو بچانے کا کام حضرت شیخ احمد فاروقی سرہندی کی جامع کمالات شخصیت سے لیا۔ آپ کے اصلاحی کام کا سب سے اہم اور بنیادی نکتہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی ابدیت و ضرورت پر امت مسلمہ میں اعتقاد بحال کرنا اور اسے مضبوط و مستحکم کرنا تھا۔ یہی آپ کا سب سے بڑا انقلابی کارنامہ ہے جو اس سے قبل کسی مجدد نے نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ کی نصرت و تائید آپ کی شامل حال تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان پر تجدید کی کنجی سے وہ بھاری بھرکم قفل کھول دیتے جو یونانی اور ایرانی فلسفے اور مصری و ہندوستانی اشراقیت نے ایجاد کئے تھے۔
وصال باکمال:
کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ وصال کی رات اپنے لخت جگر کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین فرماتے رہے۔آپ نے یہاں تک وصیت فرمائی کہ میری تجہیز وتکفین میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال رکھنا اور یہ بھی وصیت فرمائی کہ میری قبر گمنام جگہ بنانا۔حضرت محمد سعید نے حضرت کا سانس تیز چلتا ہوا دیکھا،توعرض کی،آپ کا حال کیسا ہے؟فرمایا ہم اچھے ہیں۔وہ دو رکعت نماز جو ہم نے پڑھ لی ہے ۔وہ ( انشاءاللہ)کافی ہے ۔اسکے بعد آپ ذکر الٰہی میں مشغول ہو گئے اور لمحہ کے بعد جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔اپکا وصال مبارک سہ شنبہ بوقت چاشت29/ صفر المظفر کو ہوا۔(خطبات غوث ورضا)

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
حشر میں شان کریمی ناز برداری کرے
آسماں تیری لحد پرشبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: