اسلامیات

حیض و نفاس اور جنابت کے احکام کا بیان

اکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (29) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-مئی-1919_00-جون-1976) نور اللہ مرقدہ

حیض و نفاس کی وجہ سے آٹھ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں :
اول: نماز۔ دوسرا: روزہ۔ جب عورتوں نے آں حضرت ﷺ سے اپنے دین کے نقصان کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
الیس اذا حاضت المرأۃ لم تصل ولم تصم۔ (بخاری و مسلم)
کیا یہ بات نہیں ہے کہ جب عورت کو حیض آتا ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے ، تو عورتوں نے کہا : ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمھارے دین کا نقصان ہے۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ
کانت النفساء تقعد علیٰ عھد رسول اللّٰہ ﷺ بعد نفاسھا اربعین یوما۔ (رواہ الخمسۃ الا النسائی واللفظ لابی داؤد و فی لفظ لہ : ولم یامرھا النبی ﷺ بقضاء صلوٰۃ النفاس، و صححہ الحاکم، بلوغ المرام، ص؍۲۸)
بچہ جننے والی عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بچہ جننے کے بعد چالیس دن بیٹھتی تھیں۔ اور ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو نفاس کی نماز کے قضا کا حکم نہیں کیا ہے ۔
یعنی حالت نفاس میں جو نماز چھوڑنی پڑتی ہے ، اس نماز کی پیچھے بھی قضا نہیں ہے ، وہ نماز بالکل معاف ہے ، البتہ روزہ کی قضا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : حائضہ کا کیا حال ہے کہ روزہ کی تو قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں کرتی ؟ حضرت عائشہؓ نے پوچھا: کیا تو حروریہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں، لیکن میں پوچھتی ہوں۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: زمانہ نبوت میں یہ بات پیش آتی تھی تو روزہ کی قضا کا حکم ہوتا تھا ، لیکن نماز کی قضا کا حکم نہ ہوتا تھا۔ (بخاری ومسلم)
تیسرا: قرآن پڑھنااگرچہ ایک آیت ہو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ
لاتقرأ الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن ۔ (ترمذی و ابن ماجہ)
حیض والی عورتیں اور جنابت والے قرآن کا کوئی جزو نہ پڑھے۔
یعنی تلاوت کی نیت سے قرآن کا پڑھنا درست نہیں ہے۔ اگر نعمت کے شکریہ میں الحمد للہ رب العالمین کہے، یا بری خبر پر انا للہ و انا الیہ راجعون کہے تو درست ہے ۔ اسی طرح بسم اللہ کا پڑھنا درست ہے۔
چوتھا: قرآن کا چھونا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
لایمسہ الا المطھرون۔ (الواقعۃ، آیۃ)
نہ چھوئے قرآن کو مگر پوری طہارت والا۔
یعنی جس کے لیے نماز پڑھنا درست ہے ، اس کے لیے قرآن چھونا درست ہے ۔ اس سے کم پاکی والوں کے لیے قرآن کا چھونا درست نہیں ، لہذا حائض نہ چھوئے ، نہ جنب اور نہ بے وضو ؛ البتہ رومال وغیرہ کے ذریعہ سے پکڑ کر اٹھا سکتا ہے۔
پانچواں : مسجد میں داخل ہونا۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
انی لا احل المسجد لحائض ولا جنب (ابو داؤد)
میں حیض اور جنابت والے کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا ہوں۔
یعنی ناپاک کو مسجد میں گھسنا درست نہیں ، خواہ ناپاکی جنابت کی ہو یا حیض و نفاس کی۔
چھٹا: خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
افعلی مایفعل الحاج غیر ان لاتطوفی بالبیت حتّٰی تطھری (بخاری و مسلم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آں حضرت ﷺ نے فرمایا: جو حاجی کرتے ہیں وہ تمام کام کر، مگر یہ کہ بیت اللہ کا طواف تو نہ کرے ،یہاں تک کہ تو پاک ہوجائے ۔
یعنی حیض کی حالت میں کعبہ کا طواف درست نہیں ہے، باقی تمام افعال حج کرسکتی ہے۔
ساتواں: جماع کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
فاعتزلوا النساء فی المحیض۔ (البقرۃ،۲۲۲)
حیض کی حالت میں عورتوں سے دور رہو۔
یعنی اس سے صحبت درست نہیں ہے۔
آٹھواں : ناف کے نیچے سے گھٹنے تک کے عضو سے فائدہ اٹھانا بھی درست نہیں ہے۔
ایک شخص نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
لک فوق الازار۔ (ابو داؤد)
تیرے لیے ازار کے اوپر جائز ہے۔
ازار تہہ بند کو کہتے ہیں ۔ ناف گھٹنے تک کا عضو تہہ بند کے نیچے کا حصہ ہے اور اس کے علاوہ مافوق الازار ہے ۔ مطلب ہوا ناف سے گھٹنے تک تیرے لیے حلال نہیں، باقی حلال ہے۔
اور جنابت کی وجہ سے پانچ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں:
اول: نماز۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
لاتقبل صلاۃ بغیر طھور۔ (مسلم)
پاکی کے بغیر نماز مقبول نہیں۔
یعنی ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا درست نہیں، خواہ ناپاکی حدث اصغر کی ہو یا حدث اکبر کی، یعنی بغیر وضو غسل کے نماز صحیح نہیں ہوتی۔
دوسرا: قرآن کا پڑھنا، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔
تیسرا: قرآن کا چھونا، اگرچہ ایک آیت ہو، جیسا کہ حیض میں بیان ہوا۔
چوتھا: مسجد میں داخل ہونا۔
پانچواں : خانہ کعبہ کا طواف کرنا۔اس کا تذکرہ حیض میں ہوچکاہے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا:
الطواف حول البیت مثل الصلاۃ ۔ (ترمذی وغیرہ)
بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے ۔
اور نماز کے لیے طہارت شرط ہے ، لہذا طواف کے لیے بھی طہارت شرط ہوگی، اسی لیے جب حضرت عائشہؓ کو حیض آیا تو آپﷺ نے طواف سے منع فرمایا۔
اور وضو نہ رہنے کی وجہ سے تین چیزیں حرام ہیں:
اول: نماز پڑھنا۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
لاتقبل صلاۃ من احدث حتیٰ یتوضأ۔ (بخاری و مسلم)
جس نے ہوا خارج کی اس کی نماز صحیح نہیں ، یہاں تک کہ وضو کرلے۔
یعنی ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وضو ٹوٹنے پر نماز نہیں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یاایھا الذین اٰمنوا اذا قمتم الیٰ الصلاۃ فاغسلوا، الخ(المائدہ، ۶)
ائے ایمان والو! جب نماز کا ارادہ کرو توو ضو کرو۔ (اپنے منھ، ہاتھ کو دھوؤ، سر کا مسح کرو، پاؤں کو دھوؤ۔
دوسرا: قرآن کا چھونا۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
لاتمس القرآن الا و انت طاھر۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک و قال صحیح الاسناد)
قرآن بغیر طہارت مت چھوؤ۔
یعنی وضو ہو تو قرآن چھوئے ، ورنہ نہ چھوئے۔آں حضرت ﷺ نے عمرع بن حزم کو لکھا:
الَّا یمس القرآن الا طاھر۔ (مالک، ص۷۵)
قرآن کو پاک ہی آدمی چھوئے ۔
یعنی پوری طہارت والا جس کو وضو و غسل ہو وہی چھوئے۔
تیسرا: طواف کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
الطواف حول البیت مثل الصلاۃ۔ (ترمذی)
کعبہ کا طواف جیسے کہ نماز۔
نماز بغیر وضو درست نہیں، اسی طرح طواف بے وضو درست نہیں۔ طواف کے لیے وضو کرنا واجب ہے ۔ نماز کے لیے وضو کی فرضیت قرآن سے ثابت ہے اور طواف کے لیے وضو کا ثبوت خبر آحاد سے ہے ، اس لیے فرض کے بجائے واجب ہوا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: