اسلامیات

حیوانات کے حقوق اور احکام (قسط ا)

مفتی امانت علی قاسمی  استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند

اسلام نے نہ صرف انسانوں کے حقوق اور ان کے عظمت کی تعلیم دی ہے،بلکہ ہر ذی روح جاندار کے حقوق بھی بیان کئے، اسلام ایک جامع نظام حیات پیش کرتا ہے یہ کیوں کر ممکن تھا کہ اسلام حیوانات کے حقوق سے غافل رہے، اسلام سے پہلے نہ صرف انسانوں کے حقوق پامال کئے جارے تھے؛بلکہ حیوانات کے حقوق کا کوئی تصور ہی نہیں تھا، اسلام کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے حیوانات کے سلسلے میں مکمل اصول دئے ، جانوروں کو اگرچہ ا للہ تعالیٰ نے انسانوں کے تابع اور انسانوں کے نفع کے لئے پیدا کیا ہے، لیکن جانور کے ساتھ ہم دردی، پیمار ومحبت اور نرمی اور اس کے حقوق کی رعایت کی بہت زیادہ تعلیم دی ہے،اس وقت دنیانے میڈیکل اورحیات انسانی کے بہت سے شعبوں میں خوب ترقی کرلی ہے جس کے اثرات انسانوں کے ساتھ حیوانات میں بھی محسوس کئے جارہے ہیں، بہت سے جانور میڈیکل ریسرچ کا میدان بن رہے ہیں اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سی قوموں میں گوشت خوری کی لت نے جانوروں پر بہت منفی اثر ڈال دیا ہے اس وقت پوری دنیا میں جانوروں کو بچانے کو کوششیں کی جارہی ہیں، کیوں کہ بعض جانوروں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں اور اس کا منفی اثر ماحول پر پڑرہا ہے، حکومتیں جانوروں کے تحفظ کے لئے بہت سے قوانین بناتی ہیں ، اسلام نے بھی جانوروں کے تعلق سے مختلف حقوق واحکام دئے ہیں، موجودہ حالات میں جانوروں کے جو حقوق ومسائل ہیں اسلام کے وسیع اصول کے تناظر میں اس کو دیکھنے اور اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اس پس منظر میں فقہ اکیڈمی انڈیا نے سوال نامہ بعنوان ’’حیوانات کے حقوق واحکام‘‘ کے جوابات پیش خدمت ہیں:

چارہ خور جانوروں کو لحمی غذائیں دینا:

آج کل چارہ خور جانورمثلا مرغی، گائے،بکری وغیرہ کی جلد نشو ونما کے لئے جو غذائیں تیار کی جارہی ہیں اس میں لحمی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں، بعض غذاؤں میں دم مسفوح شامل کیا جاتا ہے، اس سلسلے میں اسلام کا یہ اصول پیش نظر رہنا چاہئے کہ جانور انسانوں کے منافع اور مصالح کے لئے ہیں،اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو حضرت انسان کا خادم اور ما تحت بنایا ہے دوا اور غذاء کے ذریعہ اس کی جلد نشوونما یہ کوئی ناجائز عمل نہیں ہے،آگے یہ مسئلہ آرہا ہے  کہ انجکشن کے ذریعہ اس کے گوشت میں اضافہ کرنا درست ہے، اسی طرح اگر کیمیکل اور دوسرے اجزاء ملا کر اس کی غذاء میں لحمی ا جزاء شامل کردیا جائے اور وہ مذبوحہ اور حلال جانور کے اجزاء ہوں اور چارہ خور جانورکے کھانے کے قابل بنادیاجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،اور نہ ہی یہ اس کی فطرت کے خلاف ہے، اس لئے کہ حلال چیزوں سے انتفاع کیا جارہا ہے اور جانور کو انسان کے نفع اور مصلحت کے قابل بنایا جارہا ہے، لیکن اگر اس کی  غذامیں دم مسفوح یا مردار یا حرام جانور کے اجزاء شامل ہوں اور اس کو تغییر ماہیت کے مرحلہ سے نہ گزارا گیا ہو تو ایسی غذائیں دیناناجائز ہیں، اس لئے کہ حرام چیزوں سے انتفاع بھی حرام ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: